میرے ہم نوا ۔۔۔قسط پندرہ
میرے ہم نوا ۔۔۔۔قسط پندرہ
وہ برآمدے میں کرسی ڈالے ہاتھ میں کتاب لیۓ بہت غور و خوض سے پڑھ رہی تھی ۔ اپنا پسندیدہ شاعر کا کلام پڑھتے وہ اکثر اپنے آس پاس کی دنیا سے یو نہی کٹ جاتی تھی ۔ ہلکے نیلے رنگ کے کرتے پر سفید دوپٹہ کندھوں سے ہوتے نیچے جھول رہا تھا ۔ جب اسے کسی کے کھنکھا رنے کی آواز آئ تھی ۔ اس نے چونک کر سر اٹھا یا تھا تو محتشم دونوں ہاتھ باندھے کھڑے تھے ۔
محتشم بھائ آپ ۔ اسلام علیکم ۔ " وہ کرسی سے اٹھ گئ تھی ۔ ایک بجے کا وقت تھاا عام طور پر اس وقت کوئ نہیں آتا تھا ۔اس لیۓ ابوالکلام بھی آرام کر رہے ہو تے تھے ۔
" جی ۔ کافی غور و خوض سے پڑھی جا ری تھی کتاب " انہوں نے کتاب کو دیکھا ۔ جس پر فیض احمد فیض لکھا نظر آ رہا تھا ۔
" فیض کی بڑی مداح ہو نگی آپ تو ۔ " وہ مسکراتے اسے دیکھ رہے تھے ۔
" جی ۔فیض احمد فیض کو کون پسند نہیں کرے گا ۔ آپ بھی پڑھتے ہیں کیا ۔ " وہ اب جانے کے لیۓ قدم بڑھا نے لگی تھی ۔
" میں تو ہر اچھے شاعر کا مداح ہوں ۔اگر وہ نامور نا ہو ۔تب بھی ۔ " وہ اسکے ہاتھ سے کتاب لے چکے تھے ۔
" پڑھ سکتا ہوں ۔ " انکے سوالیہ انداز پر تہذیب نے اثبات میں سر ہلا یا تھا ۔
" اسلام علیکم ۔ " ان دونوں کو پیچھے سے آواز آئ تھی ۔ وہ دونوں ہی پلٹ گۓ۔
" طہ ۔ وعلیکم السلام " محتشم نے خو شی دلی سے جواب دیا تھا۔
" تم یہاں کیسے "
" ماموں سے کچھ بات کرنی تھی ۔ ماموں تو گھر پر ہیں نا ۔" وہ پوچھ رہا تھا ۔
" میں بھی ماموں سے ہی ملنے ایا تھا ۔ابا نے کہا تھا کہ جا کر بات کر آؤں ۔ " محتشم نے بھی اپنے آنے کی وجہہ بیان کی ۔
" ابو جی اندر ہی ہیں ۔ میں جا کر بولتی ہوں ۔ " تہذیب نے جواب دیا تھا ۔
۔" کونسی کتاب ہے یہ " طہ نے انکے ہاتھ میں کتاب دیکھ کر پوچھا تھا ۔
" فیض احمد فیض کی ہے ۔ مجھے پسند ہے تو پڑھنے لے جا رہا تھا ۔ " تہذیب نے قدم آگے بڑھادیۓ تھے ۔ وہ ان دونوں کے بیچ مخل نہیں ہونا چاہتی تھی ۔
" تمہارا پسندیدہ شاعر کونسا ہے ۔ " محتشم نے بھی اندر کی طرف قدم بڑھا دیۓ تھے ۔
" ساحر ۔لدھیانوی " طہ نے جواب دیا تھا ۔
" اوہ ۔ ساحر ۔بہت کمال کا شاعر ۔۔۔" اس کا یہ شعر بہت مشہور ہے ۔ " ایک شہنشاہ نے بنا کر تاج محل
ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق
یہ شعر کافی پسند ہے مجھے ۔" طہ کی اس بات پر تہذیب بے ساختہ پلٹ کر بولنے پر مجبور ہو گئ تھی ۔
یہ ایک بیہودہ سا شعر ہے ۔ بادشاہ اور غریبوں کے جذبات کی تو بات نہیں تھی ۔ ایک محبوب نے اپنی محبوبہ کے لیۓ ایک عمارت تعمیر کی تھی ۔ امیر غریب کا تو ذکر ہی نہیں تھا ۔ کہ محبت کو ایری غریبی میں تولنے والا یہ شعر شاعر کی احساس کمتری کو واضح کرتا ہے ۔"
" جی ۔ لیکن اپنی محبت کا اظہار اسے دولت سے نہیں کرنا چاہیۓ تھا۔ " ۔ " نجانے کیوں طہ کو تہذیب کی یہ بات پسند نہیں آئ تھی ۔
" " اس نے اپنی محبوب بیوی کے لیۓ تاج محل بنا یا تھا تو اسکی قدر تو کرنی چاہیۓ ۔ تہذیب نے اپنی بات مکمل کی تھی ۔
" تہذیب آپ ایک بات بھول رہی ہیں ۔ " محتشم نے دبی دبی مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھا تو وہ سوالیہ انداز میں انہیں دیکھنے لگی ۔
":کیا ۔"
" شاہ جہاں نے بے شک اپنی محبوب بیوی کے لیی تاج محل بنا یا تھا مگر اسکے مرنے کے بعد ۔تو ۔۔۔" انکی بات ادھوری رہ گئ تھی ۔طہ بے ساختہ ہنسا تھا ۔اور تہذیب خجل ۔
" لیکن پھر بھی ۔بیوی کے لیۓ کون تاج محل بناتا ہے ۔ "
" صحیح کہہ رہی ہیں ۔" بیوی" کے لیۓ" تاج محل " کون بناتا ہے " محتشم کے برجستہ انداز پر وہ چڑ کر اندر چلی گئ تھی جبکہ وہ دونوں ہنسنے لگے تھے۔
********
وہ دونوں بات کرتے اندر مہمان خانہ میں چلے گۓ تھے۔ ۔کچھ دیر بعد ابوالکلام آ گۓ تھے۔
" تم دونوں ایک ساتھ ۔۔۔" وہ حیران تھے ۔
" جی ۔ میں یہاں آفس کے کام سے آیا تھا تو خیریت معلوم کر نے آگیا تھا ۔" محتشم نے کرسی سے ٹیک لگا لی تھی ۔
" میں تو رخشی آپا کے مسئلہ کی وجہہ سے آ یا ہوں " طہ نے کچھ دیر رک کر کہا تھا تو اپنے چشمہ ناک پر ٹھیک کرتے ابوالکلام نے اسے بغور دیکھا ۔
" رخشی کا مسئلہ ۔لیکنکیا ۔" انکی بات پر محتشم بھی متوجہ ہو گۓ تھے ۔
" ماموں ۔رخشی آپا کی ساس آپا کو بہت تنگ کر رہی ہیں دراصل فہد بھائ کو آفس جانے کے لیۓ گاڑی کی ضرورت ہے انہوں نے کچھ انتظام کر لیا ہے مگر کچھ رقم کم پڑ رہی ہے تو وہ ہم سے تقاضا کر رہے ہیں ۔ ابا نے اسی سلسلے میں مجھے بھیجا تھا ۔ ابا کی دوکان تو جیسے تیسے چل رہی ہے گھر کا خرچ ہی مشکل سے پورا ہو تا ہے اور میری بھی ابھی پڑھائ مکمل نہیں ہوئ ہے ۔ " وہ بنا رکے بول رہا تھا ۔
" کتنی رقم چاہیۓ " ابوالکلام کے چہرے پر کچھ ناراضگی در آئ تھی ۔
" دس ہزار ۔ " طہ نے کچھ جھجھک کر بتایا تھا ۔
" دس ہزار " ابوالکلام نے دہرایا ۔
" جی ۔"
" رخشی پڑھی لکھی لڑکی ہو تے ہوۓ سسرال وا لوں کے جائز نا جائز مطالبہ پورے کر نے کے لیۓ تم لوگوں پر زور ڈالتی ہے ۔ اس سے مجھے ایسی حماقت کی توقع نہیں تھی ۔ " انکی اس بات پر طہ کے چہرے پر غصہ جھلکنے لگا تھا ۔
جاری ۔
آپکی آرا اور حوصلہ افزائ کی منتظر
نازنین فردوس ۔۔۔حیدرآباد دکن
"
"
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں