میرے ہم نوا ۔۔۔قسط چودہ
میرے ہم نوا ۔۔۔۔قسط چودہ
ان تمام سے مل کر محتشم ابوالکلام کے پاس جا کر ٹہر گۓ تھے ۔
" چلیں ۔ ہم بھی اب جاتے ہیں ۔ " محتشم اپنے ابو کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوۓ تھے ۔
" خدا حافظ بیٹے ۔ آتے رہو ۔یہاں پر ۔اچھا لگے گا ۔ " ابوالکلام انکے اور انکے والد سے گلے مل کر کہہ رہے تھے ۔
" جی ۔ماموں ضرور ۔ " وہ مسکراتے سب سے ہاتھ ملا کر اب جانے کے لیۓ قدم بڑھا رہے تھے ۔ دراز قد اور وجیہہ سے محتشم کے لیۓ ہر نظر میں پسندیدگی تھی ۔ ۔ ہر نظر میں ستائش تھی ۔ ابوالکلام کافی دیر تک انہیں جاتا دیکھتے رہے تھے جنکے دیکھنے کو اکبر سیٹھ نے بہت غور سے دیکھا تھا ۔
********
" امی ۔کیا صالحہ خالہ بہت خوبصورت تھیں ۔" امینہ رابعہ بیگم کے قریب بیٹھی تھی ۔ وہ کل کی دعوت کو ہی ڈسکس کر رہے تھے ۔
" ہاں ۔ اسکی خوبصورتی کے تو چرچے ہی چرچے تھے ۔ بے مثال حسن کی مالک تھی وہ ۔ " رابعہ بیگم کل پہنے گۓ کپڑے تہہ کر رہی تھیں ۔
" اوہ ۔اچھا تبھی محتشم بھائ بھی اتنے خوبصورت ہیں ۔ " امینہ نے اپنی انگلی اپنے گال پر رکھتے کہا تھا ۔
" امینہ ۔۔" اکبر سیٹھ کی کرخت آواز بر امینہ تو اچھلی رابعہ بیگم بھی گھبرا گئیی ۔ تہہ کرتے ہاتھ ایک دم سے رک گۓ۔
" کیوں اور کوئ کام نہیں ہے ۔جو ایک غیر مرد کی تعریف کیۓ جا رہی ہو ۔ جاؤ ۔اپنا کام کرو ۔ " انکے سختی سے کہنے پر امینہ بری طرح خجل ہوئ تھی ۔ اسے بالکل بھی پتا نہیں تھا کہ اکبر سیٹھ انکی باتیں سن رہے ہیں ۔
" جی ۔ابو ۔ " وہ شرمندہ سی باہر چلی گئ تھی ۔
" اور تم ۔۔۔" انہوں نے رابعہ کو گھورا ۔
" اپنے بھائ سے کب بات کروگی ۔ اشعر اور تہذیب کے رشتے کو لیکر ۔ "
" تو وہ ڈگری پاس تو کر لے ۔ کچھ نوکری لگے تو رشتہ کا ذکر کروں گی تو اچھا بھی لگے گا ۔ میں خود جلد از جلد بات کرنا چاہ رہی پھی ۔ " رابعہ حقیقتاً یہ رشتہ جلد پکا کر نا چاہ رہی تھیں ۔
" کم عقل عورت ۔ اسکی کامیابی نا کامیابی سے پہلے بات اپنے حق میں کر لو ۔ ورنہ کہیں ایسا نا ہو کہ ہم ہاتھ ملتے رہ جائیں ۔اور کوئ اور ۔۔۔" انہوں نے جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑی تھی ۔
" کوئ اور ۔۔اس بات سے کیا مطلب ہے آپ کا ۔" رابعہ بیگم کو حیرت کا جھٹکا لگا تھا شوہر کی اس بات پر ۔
" یہ سب چھوڑو ۔ کل بچیوں کو بلاؤ ۔اور ان سے مشورہ بھی کر لیں گے اور اشعر کے لیۓ تہذیب کا رشتہ بھی پکا کر لیں گے ۔ہو سکے تو شادی کی تاریخ وغیرہ بھی طۓ کر لیں گے ۔ " انکے منصوبہ پر رابعہ بیگم ایک لحظہ انہیں دیکھتی رہ گئیں تھیں ۔
**********
" یہ محتشم تو کافی مہذب اخلاق یافتہ نکلا۔۔ مجھے امید ہی نہیں تھی کہ اتنے اچھی عادت و اطوار ہو نگے اس بچے کے ۔ " شمیم آرا دوسری صبح اپنے زیورات رکھتے ابوالکلام سے کہہ رہی تھیں ۔جو اخبار کا مطالعہ کر رہے تھے ۔
" بے شک ۔قابل تعریف اور مثل ہیرا چمک رہا تھا سب کے بیچ ۔ " ابوالکلام کے چہرے پر بے پناہ ستائش تھی ۔ انہوں نے اخبار ایک جانب رکھ دیا تھا ۔
" اکرام صاحب نے تہذیب کے لیۓ اپنی پسندیدگی بھی ظاہر کی ہے ۔ وہ محتشم کے لیۓ تہذیب کا نام اشارتاً کہہ گۓ ہیں ۔ " انہوں نے بیوی کی سمت دیکھا تھا جو یہ بات سن کر حیرت و استعجاب سے انہیں دیکھ رہی تھیں ۔
" سچ میں ۔"
"اکبر بھائی تو آس لگا کر بیٹھے ہیں کہ تہذیب ان کی ہی بہو بنے گی ۔ "
" محتشم جیسے قابل لڑکے پر اشعر جیسے جاہل کو فوقیت دینا نری حماقت ہے ۔ " وہ بات کرتے کچھ دیر رکے ۔
" ور میں احمق نہیں ہوں ۔"
" لیکن اکبر بھائ مان لیں گے ۔اس رشتہ کو ۔ " ان کے وسوسے اپنی جگہ درست تھے ۔
" ہم نے کوئ بڑی منگنی نہیں کی تھی نا ہی زبان دی تھی ۔انہوں نے اپنی خواہش ظاہر کی تھی اور ہم ہنس کر خاموش ہو گۓ تھے ۔ اس پر اتنا ہنگامہ ۔ باقاعدہ تو کچھ رسم نہیں کی تھی ۔ " ان کی بات میں وزن تھا اس لیۓ شمیم آرا بھی خاموش ہو گئ تھیں ۔
************
جاری ہے۔
آپکی رائے اور حوصلہ افزائی کی منتظر
نازنین فردوس ۔۔حیدرآباد دکن
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں