میرے ہم نوا ۔۔۔۔ساتویں قسط

میرے ہم نوا ۔۔۔ساتویں قسط 

 " کیا ہوا ۔پہذیب ۔کھانے پر کیوں نہیں آئیں ۔ " شمیم آرا اسکے کمرے میں‌آئ تھیں ۔جہاں ہر چیز تتر بتر  کر دی گئ تھی ۔

"  وجہہ آپ کو پتا ہے ۔امی " وہ اپنی چیزیں پھینک کر اپنا غصہ نکال رہی تھی ۔ 

" اب ایسا بھی کیا غصہ تہذیب ۔ اس نے تو ایک بات ہی کی تھی ۔ " شمیم آرا  اسکے قریب بیٹھ کر سمجھانے کا فرض نبھانا چاہتی تھیں ۔

" امی ۔بات صرف ایک بات ہی کی تو   تو نہیں ہے ۔ وہ مجھے تذلیل کرنے کا کوئ موقعہ چھوڑتا نہیں ۔ اور آپ کہہ رہی ہیں کہ ۔۔بات صرف اتنی ہے ۔" اس نے ڈریسنگ سے اپنا کنگھا اتھایا تھا اور غصہ سے دور پھینک دیا ۔

" عادت ہے اسکی نظر انداز کردو ۔‌" وہ بیٹی کے سامنے بے بس ہو جاتی تھیں ۔

" امی ابو کو  میری شادی طہ سے نہیں کرنی چاہیۓ تھی ۔ مجھے نہیں لگتا یہ  شادی کامیاب ہوگی ۔" 

" فضول باتیں مت کرو ۔ ابھی دن ہی کتنے ہوۓ ہیں ۔ وقت کے ساتھ بہت کچھ بدل جاتا ہے " وہ اپنی مزاج کے بر خلاف اسے سمجھا رہی تھیں 

۔ کچھ نہیں بدلتا ۔‌وقت کے ساتھ ۔‌۔۔مجھے اس رشتہ کو لیکر بہت تحفظات ہیں امی ۔آپ ابو کو بتا دیں ۔ " اب وہ ماں کے سامنے عاجزی سے کہہ رہی تھی ۔

" اب کچھ نہیں ہو سکتا تہذیب ۔تمہارے ابو اب تمہاری رخصتی کرنا چاہ رہے ہیں ۔ شاید اگلے مہینے تک ۔ " انکی بات پر تہذیب کو سانس لینی بھی مشگل لگ رہی تھی ۔ 

" رخصتی ۔اگلے مہینے تک ۔۔۔" اس کا سانس اٹکنے لکا تھا۔

*****************

"اگر بھائ رخصتی کے لیۓ کہہ رہے ہیں تو اس میں کیا حرج ہے ۔" صابرہ بیگم کو اس طرح دو ٹوک  انکار بھی اچھا نہیں محسوس ہوا تھا ۔

" امی ۔ تین کمروں کے اس گھر میں کیا شادی اور کیا رخصتی ہو گی ۔ اور ویسے بھی اربیہ کی شادی تک میں رخصتی وغیرہ کا سوچنا بھی نہیں چاہ رہا ۔ " وہ گھر پہچ گۓ تھے ۔ اور۔ اب اسی بات کو ڈسکس کر رہے تھے ۔

" ہاں وہ تو ٹھیک ہے  ۔اربیہ کا تو رشتہ پکا ہے اگلے سال اسکی شادی تو کرنا ہی ہے ۔ میں تو یہی سوچ رہا تھا کہ تم دونوں کے ایک ہی فنکشن میں اربیہ کی شادی اور تمہارا ولیمہ کر دیں گے ۔ " 

" لیکن اب ابوالکلام نے رخصتی کا کہا ہے تو اسے ماننے میں کوئ ممانعت بھی نہیں ۔ " نظیر صاحب بھی صابرہ بیگم کے ہم خیال تھے۔

" پتا نہیں اکبر بھائ اور اشعر کیا کر بیٹھیں اس لیۓ بہتر یہی ہے کہ انکی تجویز مان لی جاۓ ۔ " اب صابرہ بیگم نے حتمی لہجے میں کہا تھا۔

" امی ۔۔ میں ابھی کسی بھی ہنگامے کے لیۓ تیار ہی نہیں ہوں ۔ " وہ بہت اکتایا ہو ا تھا ۔

" طہ ۔ کسی بھی متوقع بد نظمی سے بچنے کے لیۓ ہم تہذیب کو اپنے گھر لے آئیں گے۔ہماری بہو ہمارے گھر ہو گی تو پھر فکر کی بات ہی نہیں ہو گی ۔ " اب نظیر صاحب بھی اپنی را ۓ دے رہے تھے ۔

" صحیح کہا ۔ اپنی بہو اپنے گھر ہو بس ۔" صابرہ بیگم نے جیسے ٹپہ لگا دیا ۔

" آپ دونوں نے تو فیصلہ ہی کر لیا ۔" طہ نے شکایتی انداز میں انہیں دیکھا تھا ۔وہ دونوں ہنسنے لگے ۔

تمہیں ہماری خوشی عزیز ہے کہ نہیں ۔" 

" چلیں آپ ماموں کو کہہ دیں مگر میرے پاس بہت کم رقم ہے ۔" وہ اب اپنی مالی حالت کا بتا رہا تھا ۔

" چلو جو بھی ہو ۔ سب مینیج کر لینا ۔ " 

***********

ابوالکلام کو نظیر صاحب نے کہلوا دیا تھا کہ وہ جیسا چاہتے ہیں ویسا ہی ہو گا ۔

" لیکن ابھی اس بات کو مخفی رکھو ۔ ہاں ایک ہفتہ پہلے ہم سب کو مطلع کر دیں گے " جواب میں انہوں نے کہا تھا ۔

گھر میں سب اس خوشی کی خبر کو لیکر پر جوش تھے ۔

" " امی ۔ آپ بھیا کو کونسا کمرہ دیں گی ۔ " اظہار کی بات پر اربیہ نے اسے گھورا تھا ۔

" جو وہ لینا چاہے " امی نے سادگی سے کہا تھا ۔

" تمہیں کیوں فکر لاحق ہو رہی ہے ۔ اپنی پڑھائ پرتوجہ دو ۔ " طہ اپنے حساب کے کھاتے لیکر بیٹھا تھا ۔

" مہر کتنا رکھیں گے آپ تہذیب آپی کا " اظہار  اپنی معلومات آزمارہا تھا ۔ اربیہ نے ایک بار پھر گھورا تھا مگر وہ انجان اپنے سوال کرنے لگا ۔

" نقد گیارہ ہزار ۔۔" طہ نے کچھ سوچ کر کہا تھا ۔

" واؤ۔ امی ۔آپ کا کتنا مہر تھا ۔ " اظہار کا دوسرا سوال امی سے تھا جو وہیں بیٹھیں دالیں صاف کر رہی تھیں ۔

" نقد پانچ سو روپیے ۔ مگر وہ زندگی بھر ادھار ہی رہا ۔ " امی کی بات پر نظیر صاحب گلا کھنکار کر رہ گۓ۔

" کیوں ۔ابا نے اب تک مہر نہیں دیا " اربیہ بھی حیرانی سے اظہار کے سوال کر نے پر باپ اور ماں کے چہرے دیکھنے لگی تھی۔

" جو ادھار ہو تا ہے وہ کبھی چکا یا نہیں جاتا ۔" امی کی یہ دکھتی رگ ہو تی تھی ۔

" دے دوں کا ۔کہیں بھاگی جا رہی ہو تم " بچوں کے سامنے نظیر صاحب کچھ کھسیا سے گۓ تھے ۔طہ کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئ تھی ۔

اور بھائ ۔رونمائ کا کیا سوچا آپ نے ۔"  

جاری 

*************

قسط کیسی لگی کمنٹ میں ضرور بتائیں ۔ میں مانتی ہوں قسط چھوٹی ہو رہی ہے مگر وقت کی کمی ہے اس لیۓ اس پر اکتفا کر لیں ۔ ہاں البتہ وقت پر قسط اپ لوڈ ہو گی ۔ان شاء اللہ 

"۔ 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ