میرے ہم نوا ۔۔۔۔قسط چھبیس 26
میرے ہم نوا ۔۔۔قسط چھبیس 26
وہ دونوں یہونہی کھڑے تھے جب ابوالکلام اور شمیم آرا انکے پاس آۓ تھے ۔
" طہ پارٹی کا ارینجمنٹ وغیرہ بہت اچھا ہے ۔ سب بے حد تعریف کر رہے تھے ۔ " ابوالکلام مسکراتے اسے دیکھ رہے تھے جبکہ شمیم آرا تہذیب سے باتیں کرنے میں مصروف تھیں ۔
" جی شکریہ ۔ ماموں ۔اپنے کولیگز کے سامنے اپنی ساکھ برقرار رکھنے کے لیۓ اتنا تو کرنا پڑتا ہے ۔" وہ اپنے سابقہ پر اعتماد لہجہ میں بول رہا تھا ۔
" کافی خرچہ آیا ہو گا ۔ تمہیں اگر کچھ رقم چاہیۓ مطلب اگر کبھی ضرورت محسوس ہو تو بلا جھجھک پو چھ لینا ۔ " انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں کہا تو طہ نے انہیں بہت غورسے دیکھا تھا ۔
" نہیں ماموں ۔میں نے کچھ رقم سیو کی ہو ئ تھی تو وہی کام آگئ ۔ " انہیں جواب دیتے وہ سوچ رہا تھا ۔ کبھی کسی زمانہ میں اس نے کبھی رقم مانگی بھی تو یہی ابوالکلام اکثر خشک انداز میں بات ٹال دیتے تھے ۔ وہ بالکل منع بھی نہیں کرتے تھے مگر خوشدلی سے دیتے بھی نہیں تھے ۔
آج وہ ان کا داماد بن بیٹھا تو ان کا انداز ہی بدل گیا ۔ واہ ۔ وہ کچھ سوچ کر خود ہی مسکرا اٹھا تھا ۔
" خیر ۔ اب ہم بھی اب چلتے ہیں ۔ خیال رکھنا تم دو نوں اپنا ۔ " اب ابوالکلام انہیں خدا حافظ کہہ رہے تھے ۔
" اب کب آؤ گی تم تہذیب ۔ " شمیم آرا بیٹی کے گلے لگتے پوچھنے لگی تھیں ۔
" میں دو دن میں چھوڑ دوں گا یا اظہار کے ساتھ بھیج دوں گا ۔آپ فکر مند نا ہوں ۔ " تہذیب سے پہلے طہ نے ہی انکی بات کا جواب دیا تھا ۔ تہذیب بس اسے دیکھ کر رہ گئ تھی ۔
" اچھا ۔ اب ہم بھی وہاں بھائ صاحب وغیرہ سے مل کر چلے جائیں گے ۔ ٹھیک ہے ۔ " وہ اب بیٹی کو بغور دیکھ رہی تھیں جسکا چہرہ بے تاثر تھا ۔اس کے اس انداز پر تو وہ کافی متردد ہوئیں اور جانے کے بجائے الٹا کرید کرید کے سوال کرنے لگیں تب تہذیب کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا ۔اس نے جلدی سے کہا تھا ۔
" ٹھیک ہے امی ۔ میں جب آؤں گی تو میرے لیۓ ہر چیز خاص ہو نی چاہیۓ ۔ اور خالص میرے لیے ہونی چاہئے ۔ " اس نے اپنا لہجہ بشاش رکھا تھا ۔ جس پر کسی حد تک دونوں مطمئن سے ہو گۓ تھے ۔
طہ اب اپنے دوستوں کی جانب بڑھ گیا تھا ۔ جہاں وہ خلاف توقع بہت خوش باش سا لگ رہا تھا ۔
تہذیب کو یہ کافی حیرت انگیز سی بات لگی تھی ۔ ورنہ اس نے اسے ہمیشہ سنجیدہ ہی دیکھا تھا ۔
" موصوف مسکراتے بھی ہیں ۔ حیرت ہے ۔ "
وہ بس سوچ کر رہ گئ تھی ۔
*********
" پتا نہیں تہذیب خوش بھی ہے یا نہیں ۔ ہم نے طہ کے ساتھ اسکی شادی کر کے غلطی تو نہیں کی ۔" شمیم آرا گھر آکر اسی سوچ می فکر میں مبتلا تھیں جس کا اظہار بھی انہوں نے ابوالکلام کے سامنے کر دیا ۔
"وہ خوش ہے یا نہیں میں اس بارے میں اتنا نہیں جانتا لیکن طہ کو دیکھ کر کہہ سکتا ہوں کہ طہ سب سے بہتر رشتہ تھا میری بیٹی کےلیۓ۔ آج اسکے کولیگز مینیجر سے بات کی تھی میں نے ۔ وہ سب ہی اسکی بے حد تعریف کر رہے تھے ۔ شرافت اور دور اندیشی جیسی صفات سے مزین ہونے سے ساری کولیگز اور افس میں چھا یا ہوا ہے ۔ ہر شخص کی زبان پر اسکی تعریف ہی تھی ۔ میں کافی مطمئن ہوں ۔تہذیب کے مستقبل کو لیکر ۔" شمیم آرا کے شک کو ابوالکلام نے اپنی تفصیلی بیان سے جیسے دھونے کی کوشش کی تھی ۔
" مگر ۔۔۔"
" اشعر سے تو لاکھ درجے اچھا ہے ۔ " ابوالکلام نے جیسے پتھر مارا تھا ۔
دراصل بچپن سے ہی شمیم آرا کو اشعر بہت پسند تھا ۔ خوبصو رت گورا چٹا دراز قد اشعر کو وہ ہمیشہ ہی بطور داماد کے ہی دیکھتی تھیں ۔ وہ جب بھی گھر آتا اسکی خصوصی خاطر داری بھی کرتی تھیں ۔جس سے اکبر سیٹھ اور اشعر کو یہ غلط فہمی ہو گئ تھی کہ وہ تہذیب کے لیۓ اسے پسند کرتے ہیں ۔ جس سے انکے حوصلے کافی بلند ہو گۓ تھے ۔
لیکن عمر کے ساتھ ساتھ اشعر بدتمیز بد اخلاق اور پڑھائ میں نکما ہو گیا تو خود شمیم آرا بھی اشعر کے لیۓ ناپسندیدگی محسوس کر نے لگی تھیں ۔ لیکن یہ بات ابوالکلام سمیت سب کو معلوم تھی کہ وہ اشعر کو کافی پسند کرتی ہیں ۔ یہی بات ابوالکلام نے اب جتائ تھی ۔
جاری ہے ۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں