میرے ہم نوا ۔۔چھٹی قسط

 میرے ہم نوا ۔۔۔۔۔چھٹی قسط 

وعلیکم السلام " نظیر صاحب نے خوش دلی سے کہا اور انکے گلے لگ گۓ جبکہ طہ نے صرف سلام پر اکتفا کیا تھا ۔

" آیۓ بھائ صاحب ۔ " شمیم آرا  آگے بڑھیں تھیں ۔صابرہ بیگم کے گلے لگ کر انہوں‌نے مسکرا کر کہا تھا ۔

 اب وہ سب لا ؤنج میں آگۓ تھے ۔

اربیہ کو بھی لے آتیں صابرہ ۔" شمیم آرا نے صوفہ پر بیٹھ کر کہا تھا ۔

" بھابھی وہ تو اسکول گئ ہے ۔ چار بجے تک آۓ گی۔" اپنے دوپٹے کو سلیقے سے سر پر جماتے صابرہ نے کہا تھا ۔

" تہذیب کہاں ہے ۔ نظر نہیں آرہی " صابرہ کو اپنی بھتیجی یاد آگئ ۔

" آرہی ہے ۔ آپ بتائیں کیا منگواؤں ۔ " ٹھنڈا یا گرم " شمیم آرا نے سب کو دیکھ کر پو چھا تھا ۔

" اب کچھ دیر سے کھانا ہی لگادو ۔ تہذیب کو کیا ہوا ابھی تک آئ نہیں " ابوالکلام نے بیوی کو پوچھا ۔

" میں بلاتی ہوں ۔اور ساتھ اختری کو کھانے کے لۓ بھی کہتی ہوں ۔

" وہ اٹھیں تھیں ۔ جبکہ اب مرد حضرات اب باتوں میں مشغول تھے ۔

":اسلام علیکم پھوپھو ۔ " تہذیب کچھ جھجھکتی اندر آئ تھی اسکے پیچھے شمیم بھی آگئ تھیں ۔

" وعلیکم السلام " صابرہ بیگم نے اپنی بھتیجی جو اب انکی بہو بھی بن چکی تھی ۔ بے ساختہ محبت سے بلائیں لینے لگیں ۔ نیلے سوٹ جس پر سفید اور سرخ کڑھائ کی گئ تھی ہم رنگ دوپٹہ لیۓ تہذیب انکے پرجوش انداز پر جھینپ گئ تھی ۔

" یہاں بیٹھو ۔میرے پاس ۔ " انہوں نے اپنے قریب بٹھایا تھا ۔ 

" طبعیت کیسی ہے اب ۔اس دن تو رو رو کر ہلکان ہو گئ تھیں ۔ " اس بات پر طہ کی بے ساختہ نظر اٹھ گئ تھی ۔

" اب تو بس ٹھیک ہوں ۔ اربیہ نہیں آئ۔ " طہ کی خود پر نظریں محسوس کر کہ وہ نروس سی ہو گئ تھی ۔

" ابھی تو اسکول گئ ہے اگلی بار آؤں گی تو لیکر آؤں گی ۔ " انہوں نے مسکرا کر کہا تھا ۔

" اچھا چلیں پھوپھو ۔ کھانا لگ چکا ہے ۔آپ پہلے کھانا کھالیں ۔ " تہذیب جلدی سے اٹھ کر انہیں ہاتھ پکڑ کر اٹھانے لگی تھی ۔

" کھانے میں کیا بنایا ہےآپ نے  ۔ " بالکل غیر متوقع سوال طہ کی جانب سے آیا تھا ۔ تہذیب کو کوئ جواب نہیں بن پڑا ۔چونکہ وہ اکثر کچن کے کاموں سے لاتعلق  رہتی تھی۔

" قورمہ ،روٹی اور بریانی بنائ ہے طہ " شمیم آرا نے جلدی سے کہا تھا بلکہ تہذیب کی مدد کی تھی جو خاموش سی کھڑی تھی ۔

" اگر یہ جواب آپکی بیٹی  کی طرف سے آتا تو خوشی ہوتی ۔ " وہ خشک لہجہ میں انکی بیٹی کی لاعلمی جتا گیا تھا ۔

" ابوالکلام اور نظیر صاحب اٹھ گۓ تھے ۔ شمیم آرا نےکچھ کھسیانے سے انداز میں تہذیب کو دیکھا تھا جس کا چہرہ پل میں غصہ سے سرخ ہو گیا تھا ۔

" چلیں امی ۔ورنہ دیر ہو جائے گی ۔ " طہ ماں کو دیکھتا خود بھی اندر کی جانب قدم بڑھا چکا تھا۔ ۔

تہذیب نے اپنے آپ کو بہت ضبط کیا تھا جبکہ غصہ تھا کہ ابل کر آرہا تھا ۔

" پتا نہیں خود کو کیا سمجھتا ہے ۔ اکھڑ ،تند خو اور آدم بیزار "  وہ اپنے کمرے میں چلی گئ تھی ۔ 

وہ سب کھانے بیٹھ گۓ تھے ۔  شمیم آرا میزبانی نبھا رہی تھیں ۔

" تہذیب نہیں آرہی کیا کھانے " صابرہ کو اسکی کمی بے حد کھلی ۔

" وہ نماز پڑھ رہی ہیں ۔ " تبھی اختری نے آکر اطلاع دی تھی ۔ 

طہ کی نظریں بے ساختہ گھڑی پر جا ٹکی تھیں ۔ ابھی عصر نہیں ہوئ تھی ۔ 

" نماز کا وقت ابھی شروع بھی نہیں ہوا ۔ " وہ طنزیہ مسکراتے کھانے پر جھک گیا تھا ۔جبکہ شمیم آرا نے ایک سوچتی نظر اس پر ڈالی تھی۔ جبکہ صابرہ ،نظیر صاحب اور ابوالکلام نے اس پر توجہ نہیں کی تھی ۔اب وہ سب خاموشی سے کھانے میں مشغول تھے ۔

****

" سنا ہے اشعر اور مراد وغیرہ آۓ تھے ۔کیا کہہ کر گۓ وہ دونوں ۔" کھانا ہو تے ہی وہ سب پھر سے ڈرائنگ روم میں آگۓ تھے ۔ 

" " وہ سب طیش میں تھے خاص طور پر اشعر ۔" ابوالکلام نے بات شروع کی ۔

" دونوں باپ بیٹوں کو پتا نہیں زعم کس بات کا ہے ۔ وہ آج کل بات کم دھمکیاں  زیادہ دے رہے ہیں ۔ سمجھ نہیں آرہا ان کے ساتھ کیا سلوک روا رکھیں ۔ میں جتنے اخلاق سے پیش آرہا ہوں انکی ہٹ دھرمی ہے کہ بڑھتی جا رہی ہے ۔ کچھ دن پہلے رابعہ اور اکبر آۓ تھے ۔ میں نے کہہ دیا کہ اب میں نے تہذیب کا نکاح کر دیا ہے کچھ دنوں بعد رخصتی کر دوں گا ۔بس ہتھے سے اکھڑ گۓ ۔ بڑے غصہ سے چلے گۓ اور بعد میں اشعر آگیا ۔ اسکی دھمکیاں الگ ،زبان ناشائستہ ۔اسکی باتوں کو سن کر تو اسکے منہ پر طمانچہ مارنے کو کر رہا تھا ۔مگر ضبط کر تے صرف چلے جانے کے لۓ کہا ۔

" اوہ پھر ۔۔" نظیر صاحب نے انہیں تشویش سے دیکھا ۔

" پھر کیا ۔ اول فول بکتا جھکتا جلا گیا ۔لیکن اسکے آنے سے اتنا تو سمجھ آگیا کہ وہ اپنی ذلالت سے باز نہیں آۓ گا ۔ اس لیۓ میں نے سوچ لیا ہے ۔ " وہ رکے ۔

" جو رخصتی چھ مہینے بعد ہو نی ہے وہ اگلے مہینہ میں ہی کردوں ۔ میرے سر پر ایک بوجھ ہٹ جائگا ۔راتوں کی نیند حرام ہو گئ ہے ۔ ان باپ بیٹے کی وجہہ سے ۔" وہ اپنی بات مکمل کر کےبیٹھ گۓ تھے۔ 

" اگلے مہینہ رخصتی ۔" طہ کو جھٹکا لگا تھا ۔اسے اندازہ نہیں تھا 

" ہاں ۔ اب کیا کر سکتے ہیں ۔ " انہوں نے چاۓ نظیر صاحب کو بڑھا ]تھی  جو عابد لا یا تھا ۔

" ماموں ۔آپ شروع سے خود ہی فیصلہ کرتے آرہے  ہیں ۔ ابھی بھی آپ نے کہا کہ رخصتی اگلے مہینے ہوگی اور اب ہمیں یہ بات ماننی ہو گی ۔ " 

" لیکن ہمارے اپنے مسائل ہیں جس کے بارے میں آپ نے سوچنا بھی گوارا نہیں کیا ۔ " طہ نے انکی بات سے شدید اختلاف کیا ۔

" طہ ۔ تم جو کہہ رہے ہو وہ درست ہے ۔ لیکن میرے لۓ تو اس وقت راستے مسدود نظر آ رہے ہیں ۔مجھیے تمہارے گھریلو مسا ئل کا علم ہے لیکن یہ فیصلہ کرنے میں میں بھی مجبور ہوں ۔ " انہوں نے اپنے ازلی اطمینان سے کہا ۔

" ماموں ۔ اگلے تین مہینہ میں رخصتی کی کوئ گنجائش نہیں ہے ۔ مجھے ابھی اربیہ کی شادی کرنی ہے ۔اسکی شادی تک میں رخصتی نہیں کرنا چاہتا ۔" اس نے اب دو ٹوک لہجہ اختیار کیا تھا ۔

" تمہاری بات ٹھیک ہے لیکن ۔۔۔۔" "  اربیہ کی شادی کو لیکر فکر مند مت ہو ۔ مجھ سے جتنا ہو سکے میں مدد کے لیۓ تیار ہوں ۔ " انہوں نے پیشکش کی تھی جس پر طہ کی رگیں غصہ سے تن گئ تھیں ۔

" مجھے آپ کی کوی مدد نہیں چاہیۓ ۔ " " لیکن اتنی جلدی میں یہ رخصتی نہیں کرنا چاہتا ۔ " 

" اور رہی بات اشعر وغیرہ کی تو میں اسے ہینڈل کر لوں گا ۔میرے کچھ دوست ہیں جو پولس ڈبارٹمنٹ میں ہیں ۔ میں ان سے بات کرتا ہوں ۔ اپ فکرمند نا ہوں۔ " اس نے اپنا چاۓ کا کپ ٹیبل پر رکھ دیا تھا ۔ اب پیر پر پیر جماۓ وہ پر اعتماد سا تھا ۔

نظیر صاحب جو اب تک ان ماموں بھانجے کی گفتگو میں خاموش تماشائ تھے ۔

" طہ ۔ اگر بھائ صاحب  رخصتی چاہتے ہیں تو اس میں کوئ حرج بھی نہیں ۔ "

"

" پتا نہیں ۔ اس بارے میں ہم گھر جا کر سوچ کر بتائیں گے ۔ " طہ کو بولنا پڑا ورنہ وہ صاف انکاری تھا ۔

" ہاں یہ ٹھیک ہے ۔تم لوگ اس پر غور تو کرو ۔ میں نہیں چاہتا کہ تم بھی عجلت میں فیصلہ کرو ۔ مگر حالات کے تقاضے کی بنا پر میں یہ کہنے پر مجبور ہو گیا ہوں ۔ " انکے لہجے میں درد تھا ۔

************







تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ