میرے ہم نوا ۔۔۔۔۔چوتھی قسط

 میرے ہم نوا ۔۔۔۔چوتھی قسط 

کسکی شادی کی بات ہو رہی ہے ۔ " اشعر بڑا گیٹ پار کر کے اندر آ تھا اس نے آخری جملہ سن لیا تھا ۔

وہ سب جہاں تہاں خاموش ہو گۓ تھے ۔رابعہ بیگم نے اپنے بیٹے کو دیکھا تھا اور ایک ہو ک اٹھی تھی انکے دل میں ۔ 

" امی ۔۔آپا آپ سب ایسے اچانک خاموش کیوں ہو گۓ ۔ اور آج کیاکوئ خاص  بات ہے جو سب کے سب جمع ہیں ۔ " وہ ہنستے ہو ۓ اپنی بہن کی گود سے اسکے بیٹے کو لیکر کہہ رہا تھا ۔

"  ہم تو خیر ایسے ہی جمع ہیں تم سناؤ نوکری کا کچھ ہوا " سب سے پہلے  ثمینہ نے نارمل انداز میں بات شروع کی تھی ۔

" اتنی آسانی سے مل جاتی تو کیا بات تھی ۔ ہونہہ ۔ جہاں جاتا ہوں ۔ ڈگری میں فیل ہونے کی وجہہ سے رد کر دیا جاتا ہوں ۔ " اسکے لہجے میں کوفت تھی ۔

" ہاں تو  لوگ کامیابی دیکھتے ہیں اگر ڈگری کامیاب ہوتے تو یوں ملتی نوکری یوں ۔ "' شاہینہ کا شوہر مراد گویا ہوا ۔

" اگر ڈگری پاس ہوتا تب بھی آسانی سے نہیں مل جاتی نوکری ،جوتے گھس جاتے ہیں ۔ تب نوکر ی ملتی ہے ۔ " وہ اپنی ناکامی کو ایسے ہی کور کر لیا کر تا تھا ۔

"ایسے ہی رویہ کی وجہہ سے تہذیب تمہارے ہاتھ سے چلی گئ ۔ " مراد کی اس بات پر سب کے سب پہلو بدل کر رہ گۓ۔ 

"چلی گئ ۔کیا مطلب ۔" وہ چونکا ۔بجے کو اس نے واپس بہن کو دے کر  ماں کے قریب چلا گیا ۔

" امی ۔۔کیا تہذیب کی بات طۓ ہو گئ ہے " اسکے لہجے کی شدت کو صرف رابعہ بیگم ہی محسوس کر پارہی تھیں ۔

" اشعر ۔اگر بات طۓ ہو بھی جاۓ تو ہم کیا کر سکتے ہیں بیٹا ۔" ان کے کمزور لہجے سے انکی بے بسی  ظاہر ہو رہی تھی ۔

" کیا کہنا چاہ رہی ہیں آپ ۔ " وہ چلایا ۔

" تمہارے ماموں نے تہذیب کا نکاح کر دیا ہے ۔ " اکبر سیٹھ نے بنا کسی جھجھک کہ اس پر حقیقت آشکار کر دی ۔

" طہ ۔طہ رحمن کے ساتھ ۔۔ " بس اس جملہ کو سننا تھا ۔اشعر نے ایک لمحہ میں سارا گھر  ہلا ڈالا ۔

" نہیں ۔ماموں ایسا نہیں کر سکتے ۔وہ میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے ۔میں انکے گھر کو جلا کر راکھ کر دوں گا ۔ اور اس طہ کو ۔اس طہ کو تو میں اپنے پیروں تلے کچل کر رکھ دوں گا ۔ " 

" کیا سمجھتا ہے وہ ۔ ایک نکاح کرنے سے تہذیب اسکی ہو جاۓ گی ۔ نہیں ۔میں نہیں ہونے دوں گا ۔ میں ابھی کے ابھی ماموں سے بات کروں گا ۔ اور انہیں پوچھوں گا آخر مجھ میں ایسی کیا کمی رہ گئ کہ اس طہ کو اپنا داماد قبول کر لیا اور مجھے نہیں ۔ " وہ جیسے انگارے چبارہا تھا ۔

" ہاں ۔ان سے سوال جواب کرنے کا حق بنتا ہے تمہارا ۔"اکبر سیٹھ کو جلتی پر تیل کیسے ڈالتے ہیں پتا تھا ۔ 

" اشعر ۔خاموش ہو جاؤ ۔ " تم تو سمجھداری کا مظاہرہ کرو ۔ " 

" وہ انکی بیٹی ہے ۔ وہ جو بھی فیصلہ کریں گے ۔وہ ہمیں ماننا ہو گا ۔ " رابعہ بیگم نے ایک شکایتی نظر اپنے شوہر پر ڈال کر اشعر کو دیکھا ۔

" آپکی وجہہ سے آج یہ دن دیکھ رہا ہوں ۔اگر آپ مضبوطی سے میرا کیس لڑتیں تو شاید آج ایسے نا ہوتا ۔ " وہ ماں سے بھی بدگمان ہوا ۔

" سارا قصور تمہاری ماں کا ہے ۔یہ اپنے بھائ سے لڑ کر بھی فیصلہ اپنے حق میں کر والیتی تو آج یوں نا رو رہی ہو تی ۔ "  اکبر سیٹھ کے لہجے میں تنفر جھلک رہا تھا ۔ 

رابعہ بیگم جو آنسووں کو روکے بیٹھی تھیں اب زور زور سے رونے لگیں ۔جس پر ثمینہ شاہینہ گھبرا کر ماں کے قریب آئیں ۔ 

" امی ۔آپ اب ایسے تو نا روئیں ۔ " 

" ابا ۔اب ماموں کے نا مانے کی غلطی امی کے کھاتے میں کیوں  ڈال رہے ہیں ۔ اب کیا کرتیں امی پیر پڑ جاتیں ۔ماموں کے ۔ آپ کو تو پتا ہے ماموں کی ضد ۔اگر وہ کسی بات کے لیے ناں کہتے ہیں تو وہ ہاں میں کبھی نہیں بدلتی " ثمینہ نے تیز تیز سانس لیتی رابعہ کو اپنے دونوں ہاتھوں سے تھاما ۔شا ہینہ پانی لائ تھی ۔اب وہ دونوں انہیں پلا رہی تھیں ۔

 " ماموں کو تو میں ابھی بتاتا ہوں انکی ضد  ہے تو میری بھی ضد ہے ۔ میں بھی دیکھوں گا تہذیب رخصت ہو کر کیسے طہ کے گھر جاتی ہے ۔ " اشعر غصہ سے اٹھا تھا ۔ اسکے ہاتھ میں گاڑی کی چابیاں تھیں ۔

" خاموش بیٹھو ۔اشعر ۔اب اور ہنگامہ مت کرو ۔ " ثمینہ نے ڈانٹا ۔

" مگر اشعر نے انکی بات  سنی ان سنی کرتے باہر کی جانب قدم بڑھا دۓ تو ثمینہ نے اس کا ہاتھ پکڑا ۔

" اشعر ۔میرے بھائ ۔دیکھ نہیں رہے ۔امی کی طبعیت خراب ہو رہی ہے ۔اور تم اس طرح کے تماشے لگاؤ گے تو اوہ اور دل پر لے لیں گی ۔ " 

" مجھے نہیں پتا ۔ میں نے بھی ٹھان لیا ہے ۔ " اس نے ثمینہ کا ہاتھ زور سے جھٹکا دیا ۔

" " جاؤ اشعر ۔ تمہارے ماموں کو بھی پتا چلنا چاہیۓ کہ ہم اتنی آسانی سے ہار نہیں مانتے ۔" اکبر سیٹھ جو بہت دیر سے خاموش دیکھ رہے تھے ۔ بولے تو جہاں رابعہ کو غشی آنے لگی وہیں مراد اور قدیر دونوں اشعر کے پیچھے گۓ 

" اشعر ہم بھی آرہے ہیں تمہارے ساتھ ۔ " 

شاہینہ اور ثمینہ ماں کو سنبھالنے میں لگی تھیں ۔ وہ باپ کی فطرت سے بخوبی واقف تھیں جنکی خودغرضی اور لالچی فطرت  انہیں کبھی چین نہیں لینے دیتی تھی ۔

*************************!

 جس انداز میں دروازہ دھڑ دھڑ ایا گیا ۔اس بنگلہ میں موجود نفوس چونک اٹھے تھے ۔ ابوالکلام اور شمیم آرا کی بے ساختہ نظریں  دروازہ کھولنے جاتے عابد پر تھیں ۔ وہ لان کے ایک گوشہ میں چاۓ پی رہے  تھے۔ 

دستک اگر دوست کی ہو تو پہچانی جاتی ہے اور اگر دستک دشمن کی طرف سے ہو تو ٹھٹھکا کر خون جما دیتی ہے ۔ کبھی کبھی صرف دستک سے دوست دشمن کا پتا چل جا تا ہے ۔ 

" اسلام علیکم ماموں ۔ " اشعر اور اسکے ساتھ کھڑے مراد اور قدیر کو دیکھ کر ابوالکلام کے چہرے پر تردد چھا یا تھا ۔لیکن ابوالکلام کی یہ خوبی تھی کہ انکے چہرے سے  انکے جذبات کا اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا تھا ۔

وعلیکم السلام ۔ آؤ بیٹھو ۔ مراد ،قدیر " انہوں نے اشعر کو کلی نظرانداز کیا تھا ۔شمیم آرا اندر چلی گئیں تھیں ۔

"  لگتا ہے ۔ماموں۔ آپ کو آج کل میں نظر ہی نہیں آرہا ۔" اشعر نے ایک خالی کرسی کو بدتمیزی سے اپنی طرف گھسیٹ کر کہا تھا 

" ہاں ۔کچھ لوگوں کو نظرانداز کرنا ضروری ہو تا ہے "' ابوالکلام نے اتنا کہہ کر اپنی توجہ مراد کی جانب کی تھی ۔۔" 

کیسے ہو مراد ۔ ثمینہ کیسی ہے ۔ " 

" آپ کو رشتہ داریاں سوجھ  رہی ہیں تو مجھ سے پوچھیں میں بتاتا ہوں کون کیسے ہیں ۔‌امی کی طبعیت خراب ہو گئ ہے گھر میں بھونچال آ چکا ہے اور آپ ۔" مراد سے پہلے اشعر شروع ہو گیا تھا ۔

" کیوں کیا ہوا رابعہ کو ۔ " انہوں نے تحمل سے پوچھا ۔

آپکی وجہہ سے امی کا بی  بی بڑھ رہا ہے ۔آپ کے غلط فیصلے اور ضد کی وجہہ سے ۔" 

" کیوں ۔میرےکسی بھی فیصلے سے رابعہ کا بی پی کیسے بڑھے گا ۔ صحیح اور غلط تو بعد کی بات ہے ۔" اب ابوالکلام نے بھی راست اشعر پر اپنی نگاہیں جمائیں ۔

" آپ کو نہیں لگتا آپ نے تہذیب کا نکاح مجھ سے کرنا تھا ۔آپ نے برسوں کی منگنی توڑ دی اور اب طہ ۔۔" وہ رکا تھاکہ طہ کے نام پر منہ تک کڑوا ہو گیا تھا۔

" طہ کو آپ نے اپنا داماد بنا یا ۔کیوں ۔ " غصہ سے اس نے سامنے ٹیبل پر ہاتھ مارا تھا ۔جس کی وجہہ سے ٹیبل پر دھری جیزیں گر گئیں ۔

" یہ میرا اپنا ذاتی فیصلہ ہے ۔ اس کے لیۓ میں تمہارا جوابدہ نہیں ہوں ۔ ": انہوں نے اسی سابقہ سکون سے جواب دیا ۔

" ہیں آپ میرے جوابدہ ۔ آپ نے منگنی توڑی  کیوں ۔جبکہ پندرہ سال پرانی منگنی تھی ۔ آپ بات سے مکر گۓ اور اب کیسے کہہ سکتے ہیں کہ آپ جواب دہ نہیں ۔ " اشعر غصہ کی زیادتی میں اپنے ساتھ آۓ اپنے دونوں بہنویوں کو تک بھول چکا تھا ۔

 " اگر تم اب یہاں  یہ سب پوچھنے آ ۓ ہو تو تم جا سکتے ہو ۔ ا شعر ۔ ۔ تمہاری جتنی عمر ہے اتنی عمر میں ہم اپنے بڑوں سے سر اٹھا کر بات بھی نہیں  کرتے تھے نظریں جھکا کر ان کا صرف حکم سنتے تھے ۔ " 

" جو منگنی کبھی باقائدہ کی ہی نہیں گئ اس کو بنیاد بنا کر مجھ سے سوال جواب کرنے والے تم ہو کون ۔ ایک ایسا شخص جو ایک ڈھنک کی ڈگری بھی حاصل نہیں کر سکا ۔ ایک قابل عزت ملازمت ڈھونڈنے میں ناکام، اور اپنے بزرگوں کا احترام کرنے سے قاصر ،میں کیوں تم کو جواب دوں ۔ " 

ابوالکلام کی آواز میں جو طیش تھا اس سے شمیم آرا اور اندر بیٹھی تہذیب بھی گھبراگئ تھی ۔ مراد اور قدیر کی نظریں جھک گئیں تھیں ۔

" اپنے ساتھ آۓ ان دونوں کو تو بولنے کا موقعہ دیتے ۔ کیا نمونے بنا کر لا ۓ تھے انہیں ۔" 

اب آئندہ میری بیٹی کا نام بھی تمہارے زبان پر نہیں آنا چاہیۓ ۔  ورنہ ۔۔" ان کا انداز دھمکی بھرا تھا ۔

" ورنہ کیا ۔‌‌۔ ۔۔۔ میں بھی دیکھوں کا۔طہ کیسے رخصت کر کے لے جا تا ہے تہذیب کو ۔ " آخر میں تہذیب پر زور دیکر وہ بولا تھا۔

" اب تم خود سے جاؤ گے یا میں ملازم کو آواز دوں ۔ " انکے سخت انداز پر اشعر کا خون کھول اٹھا اور وہ گالی گلوج پر اتر آیا تھا ۔ مراد اور قدیر نے اسے اپنے ہاتھوں سے پکڑا اور زبردستی اسے گھسیٹ کر باہر لے جانے لگے تھے ۔  

جاری ہے ۔۔


۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ