میرے ہم نوا ۔۔۔تیسری قسط

 گھر پہنچنے تک اکبر سیٹھ نے اپنے غصے کو بہت کنٹرول کیا تھا لیکن جیسے ہی امینہ  نے دروازہ کھولا تو وہ جس غصہ سے اندر گئے تھے ۔اور اندر سے بی انتہا غصہ میں اسے پکارا تھا وہ دہل کر رہ گئ تھی ۔اور خاموش ماں کو دیکھتی باپ کے کمرے تک گئ تھی ۔

" جی ا بو " 

" ایک گلاس ٹھنڈا پانی لاؤ۔ " انکی آواز میں جو تیزی و تندی تھی وہ محسوس کر سکتی تھی ۔ مرے مرے قدموں سے واپس ہال میں آئ تو ماں کو دوپٹہ منہ مں لئے روتے دیکھا ۔

پہلے ابو کو پانی کا گلاس دے کر وہ واپس امی کے قریب آ ٹہری تھی ۔ 

": کیا ہوا امی ۔آپ تو ماموں کے پاس گئ تھیں ۔کیا کہا ماموں نے " انکے کندھے پر ہاتھ رکھنے کی دیر تھی کہ رابعہ بیگم کے رکے آنسو تیزی سے بہنے لگے ۔ اور امینہ  اس افتاد پر پریشان تھی ۔ 

" امی آپ بتائیں گی کچھ ۔کیا ہوا ۔ " وہ انہیں سنبھالتے خود بھی رونے لگ پڑی تھی ۔

" اب رو کر کیا کروگی۔ کہا تھا ۔جاکر بات کر آؤ ۔اپنے بھائ پر دبا ؤ بنا کر رکھو ۔مگر اس کم عقل عورت کو سمجھ نہیں آیا ۔اپنی ہی کہے جا رہی تھی ۔میری باتوں کو نظر انداز کیئے جا رہی تھی ۔ دیکھ لیا نتیجہ اپنی سستی و کاہلی کا ۔ " اکبر انکے رونے کی آواز سے باہر آۓ تھے ۔اور انکے رونے سے اور زیادہ طیش میں آگۓ تھے ۔ 

" لیکن ابو ۔ہوا کیا ۔ " امینہ  ابھی تک سمجھ نہیں پائ تھی کہ ہوا کیا ہے ۔ 

تمہارے ماموں نے تہذیب کا نکاح کر دیا ہے ۔ اور وہ بھی کس کے ساتھ ۔جانتی ہو ۔ وہ رکے تھے۔" اس کنگال طہ کے ساتھ ،جسکے پاس نا اپنا ذاتی گھر ہے نا مستقل نوکری ، آخر اشعر پر اس طہ پر فوقیت دے کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں وہ ،کہ اشعر ایک ناکارہ انسان ہے ۔ میرے بیٹے کی عزت وقعت کم کر دی انہوں نے ۔ " انکے تاثرات سے جہاں امینہ  ڈر گئ وہیں رابعہ بیگم بھی خاموش ہو گئ تھیں ۔ 

" میں نےثمینہ اور شاہینہ  دونوں کو فون کر کے بلا یا ہے ۔وہ لوگ آتے ہونگے ۔" میں بھی دیکھتا ہوں ابوالکلام اتنی آسانی سے کیسے بچ نکلتے ہیں ۔ اب تو بات عزت پر آ کر ٹہر گئ ہے ۔ ہونہہ ۔بڑے اصول اور قائدے کی بات کرتے تھے ۔اور خود اصول سے ہٹ کر کام کیا ۔ہے ۔" 

" انکی بڑبڑاہٹ جاری تھی ۔اربیہ ماں کو لیۓ کمرے میں لے آئ تھی ۔جہاں وہ اسے ساری روداد سنانے لگی تھیں ۔ اور بولتے بولتے وہ ذونے بھی لگتی  تھیں ۔ انکے بھی ذہن سے یہ بات نہیں جا رہی تھی کہ بھائ نے ایک تو انکے بیٹے پر طہ کو فوقیت دی تھی بلکہ اتنا بڑا قدم اٹھاتے ان سے ایک بار بھی بوچھنے کی زحمت گوارا نہیں کی تھی ۔

انہوں نے تہذیب کو اپنے اشعر کے لیۓ بچپن میں ہی مانگ لیا تھا ۔اور ہمیشہ تہذیب کو بہو کے طور پر ہی دیکھا تھا اور آج وہ خواب اس طرح چکنا چور ہوا تھا کہ وہ اپنے آنسو ؤں کو روک نا پائیں 

تھیں۔

دوگھنٹے میں اکبر منزل میں انکی دونوں بیٹیاں اور داماد آگۓ تھے اور اب وہ سب ابوالکلام کی اس عجلت میں کیۓ گیۓ نکاح کو موضوع بحث بنا رہے تھے ۔

" یوں تو طہ اور ماموں کی کبھی بنی نہیں اور اب اپنی بیٹی کا ہاتھ اسکے ہاتھ میں دے دیا  یقین ہی نہیں آ رہا ۔۔ " ثمینہ نے حیرانی سے کہا ۔وہ سب اس شاک سے باہر نہیں نکل پارہے تھے ۔

" اونہہ ۔ملی بھگت ہے اور طہ کو تو دیکھو چاندی ہی چاندی ہے ۔ کیسا جھپٹا مارا ہے ۔ آخر ماموں نے نہیں پوچھا تو کیا صابرہ خالہ ا امی کو بتا نہیں سکتی تھیں ۔اور اشعر کو تو دودھ کی مکھی کی طرح نکال پھینکا ۔ برسوں کی منگنی توڑ دی اور کوئ ٹھوس جواز بھی نہیں ۔ " شاہینہ پر بھی غصہ غالب تھا ۔

" اگر طہ سے شادی کرنی تھی تو محتشم کو کیوں بیچ میں گھسیٹ لاۓ تھے۔یہ بھی سمجھ نہیں آرہا ۔ " شاہینہ کے شوہر نے بھی اس بحث میں اپنا حصہ ڈالا تھا ۔

" محتشم کو تو پوچھو مت ۔وہ کہاں ہے یہ اب تک پتا نہیں چل رہا ۔ " ثمینہ کے شوہر کی بات پر اکبر تلملا ۓ تھے ۔

" مجھے یہ سمجھ نہیں آرہا ۔میں نے تم لوگوں کو اس لیۓ تو  نہیں بلایا کہ تم لوگ محتشم وغیرہ کو ڈسکس کرتے رہو ۔ اب آگے کیا کرنا ہے ۔ابوالکلام شاید  شادی کی دعوت بھی  رکھے گا ۔  اس کے بارے میں سوچو ۔ " 

" ابو اس دعوت میں جانے کا تو سوچ بھی نہیں سکتے کہ آخر ہمارے بھائ کے ارمانوں کا خون کیا ہے ماموں نے۔،اسکے خواب چھینے اور اب اپنی خوشیوں کی  ہمیں دعوت دیں گے ۔ " 

" ہاں ،ہم میں سے اب کوئ بھی اس دعوت میں شرکت نہیں کرے گا ۔ " اکبر سیٹھ کی بلند آواز پر سب نے اثبات میں سر ہلایا تھا ۔

" دعوت ۔کیسی دعوت ۔" باہر لوہے کی پھاٹک کو کھولتا اشعر نے اکبر  سیٹھ کا آخری جملہ سن لیا تھا ۔وہ ان سب کو دیکھ کر حیران رہ گیا تھا ۔ 

" آپ سب کس دعوت کی بات کر رہے ہیں ۔ " اسے دیکھ کر سب کو سانپ سونگھ گیا تھا ۔

***********************************************۔" کیا کہا اکبر بھائ نے ۔" شمیم آرا اپنے شوہر کے قریب کرسی پر بیٹھی تھیں جبکہ ابوالکلام کچھ کاغذات کو الٹ پلٹ کر رہے تھے ۔یہ جمعہ کی شب تھی ۔ان لوگوں نے کھانا کھالیا تھا ۔تہذیب بھی ابھی یہاں سے اٹھی تھی 

" کیا کہتے۔ میں نے نکاح کر دیا یہ سن کر تو اکبر کے ہو ش اڑ گۓ تھے ۔ " اسکے مطابق وہ ہم پر احسان کرنے آیا تھا کہ اسکے بیٹے سے وہ تہذیب کے لیۓ رشتہ کرنے  کی بات کر رہا تھا ۔ مگر مجھے نا اسکا احسان لینا ہے نا اس سے کسی قسم کا رشتہ ہی رکھنا ہے ۔ " انکی سخت طبعیت سے شمیم آرا کو یہی توقع تھی ۔

" مجھے ڈر ہے کہ آگے وہ لوگ کچھ نا کچھ ہنگامہ ضرور کریں گے ۔ وہ خاموش بیٹھنے والوں میں سے نہیں ہیں ۔ " شمیم آرا نے اپنا خدشہ ظاہر کیا تھا ۔۔

" میں ان سب باتوں کے لیۓ تیار ہوں ۔ اور ایک دو دن میں صابرہ کے پاس بھی جاؤں گا ۔وہاں بھی مل بیٹھ کر سوچیں گے کہ آگے کیا کرنا ہے ۔" انہوں نے سارے کاغذات واپس فائل میں ڈالنے شروع کیۓ تھے ۔

" وہ سب تو ٹھیک ہے لیکن اشعر کو پتا چل گیا تو ۔ " یہ ایک ایسی بات تھی جس پر ابوالکلام یک لخت خاموش ہو گۓ تھے ۔ 

********************************************

 " تہذیب آپی سچ میں ہماری بھابھی بن گئیں۔ " اظہار کچھ حیران ہو رہا تھا ۔

" ابھی بنی تو نہیں۔ہیں جب سچ میں بن جائیں تو خوش ہو لینا ۔" امی کے بجائے اربیہ  نے جواب دیا تھا ۔

" نکاح کے بعد اب باقی کیا رہتا ہے ۔ تہذیب آپی تو اب ہماری پکی والی بھابھی بن گئیں ۔ ہرے " اظہار نے خوشی سے نعرہ لگایا ۔

" ارے یوں مت چلاؤ ۔ بھیا ڈانٹ دیں گے ۔" امینہ طہ سے دو  سال اور اظہار طہ سے چار سال چھوٹا تھا ۔

" امی " امی " وہ کچن میں چلا گیا ۔جہاں امی روٹی بنا رہی تھیں ۔

" " بھیا مان کیسے گۓ ۔" 

" تمہارے ابا کے آگےکسی کی چلی ہے ۔ بس مان گیا ۔ " وہ روٹی توے پر ڈالتے ہوۓ بھی جواب دے گئیں۔ ۔ 

" اب مامںوں انکے سسر بن گۓ ہیں ۔ " اظہار کے لہجے میں شرارت تھی ۔

" تو " امی کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا کہنا چاہ رہا ہے ۔ 

" اب یا تو خوب جمے گی سسر داماد کی یا پھر ۔۔۔" اس نے مسکراتے بات ادھوری چھوڑی تو امی نے اسے گھورا ۔

" فضول باتیں مت کرو ۔ اگر اسکے سامنے  ایسی الٹی سیدھی باتیں کیں تو دیکھنا دو دن تک کھانا نہیں دوں گی ۔ " انہوں نے اسے دھمکی دی تو وہ منت بھرے لہجے میں کہہ اٹھا ۔

" اچھا نہیں کہوں گا مگر آپ پلیز کھانا نا دینے  کی بات مت کرنا ۔باہر کھا نہیں سکتا کہ جیب خالی ہے ۔" اس لۓ ایسا غضب مت کریں ۔اسکے انداز پر امی  چہرہ موڑ کر ہنس پڑیں ۔

اچھا ۔اب جاؤ ۔ابا آ ۓ کہ نہیں دیکھ لو ۔ " وہ اسے باہر بھیج کر خود جلدی جلدی روٹی بنانے لگیں تھیں ۔

رخشی آپا کو بتا دیا کہ نہیں ۔اربیہ  کھانا نکال رہی تھی ۔ابا اور طہ بھی دالان میں آ کر بیٹھ گۓ تھے۔

" ہاں ۔فون پر بتا یا تھا" ۔میں نے ،نظیر صاحب نے طہ کو دیکھ کر جواب دیا تھا ۔جو خلاف توقع خاموش سا تھا ۔

" وہ آۓ گی کچھ دنوں میں اگر بچوں کے ایگزام ہو جائیں تو ،" نظیر صاحب نے اپنی بات مکمل کی تھی ۔

"  پتا نہیں اسکے سسرال والوں کا کیا رد عمل ہو اس اچانک نکاح کو لیکر " اربیہ دسترخوان بچھا چکی تھی ۔ امی باہر آکر تخت پر بیٹھ کر اپنی تشویش ظاہر کر رہی تھیں ۔

" میں نے فہد بھائی سے  وسے بات کر لی ہے امی ۔آپ پریشان نا ہوں ۔ " طہ نے پلیٹ اپنی جانب کھسکا لی تھی ۔ 

"ویسے اکبر بھائ جان کو پتا چلے گا تو وہ ہنگامہ کھڑا کر دیں گے ۔ " نظیرصاحب نے  بھی تشویش ظاہر کی ۔ 

" ہنگامہ تو وہ کھڑا کر چکے ہیں ۔ سارے خاندان میں بات پھیلادی ہے ۔اور ہمارے بھی خوب لتے لیۓ جا رہے ہیں کہ اس طرح چپ چپاتے شادی کی ہے ۔ اور مجھے جتنا بدنام کر سکتے ہیں کر رہے ہیں ۔ " طہ بہت سکون سے روٹی کا نوالہ بناتے یوں بول رہا تھا جیسے خبر سنا رہا ہو ۔ " اسکی بات پر نظیر صاحب کا منہ میں جاتا لقمہ والا ہاتھ رک گیا اور امی پانی پیتی رک گئیں ۔ 

" کیسے پتا چلا تمہیں ۔ " نظیر صاحب نے بیٹے کو فکرمندی سے دیکھا ۔

" پتا چل ہی جا تا ہے ۔ جب وہ خود چاہتے ہوں کہ ہمیں پتا چلے ۔ " سب یہی کہہ رہے ہیں کہ میں نے ماموں کی جائیداد  ہڑپ کر جانے کا سنہری موقعہ حاصل کر لیا ہے۔ ۔ " طہ نے اپنی بات پوری کی ۔

" یہ تو بہت غلط ہے اکبر بھائ ہم پر اس طرح کے الزامات نہیں لگا سکتے ۔ " نظیر صاحب کو دکھ ہوا تھا ۔

" ابا ۔اب ان سب باتوں کے لیۓ ہمیں تیار رہنا ہو گا ۔ لگتا ہے اس شادی سے مجھے بدنامی بہت ملنے والی ہے ۔ " طہ ہنسا ۔

لیکن وہ سب خاموش رہے تھے ۔ یہاں تک کے اظہار نے بھی ایک لفظ نہیں کہا تھا ۔ عام طور پر جب طہ گھر میں ہو تا تو اظہار تو کیا سب ہی بہت احتیاط سے رہتے تاکہ وہ کسی بات پر ناراض نا ہو جاۓ۔ طہ اس گھر کا بڑا اور ذمہ دار بیٹا تھا ۔ سارے گھر کی ذمہ داری اس نے اپنے کندھوں پر اٹھائ ہوئ تھی۔اس لیۓ سب اس کا لحاظ کر تے تھے۔

*****************************************"



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ