میرے ہم نوا ۔۔۔۔دوسری قسط

 میرے ہم نوا ۔۔۔دوسری قسط 

" عابد ۔عابد "ایک بڑے سے لیونگ روم میں ابوالکلام اپنے آنکھوں پر چشمہ دھرے ہاتھ میں قرآن لیۓ بیٹھے تھے۔ 

" جی ۔صاحب جی ۔" عابد باہر لان میں تھا انکی آواز پر فوراً آیا تھا ۔ انکے غصہ سے سب کو خوف آتا تھا ۔

" باہر لان کی صفائ ہو گئ ۔" انہوں نے تحکم سے پو چھا ۔

" جی وہی کر رہا تھا ۔کئ پودے سوکھ رہے تھے اور جنگلی گھاس بھی ادھر ادھر اگی ہو ئ تھی ۔صبح فجر سے اکیلا لگا ہوں ۔ ابھی دو گھنٹے تک ہو جائگا ۔ " اس نے جلدی سے تفصیل سنادی تھی تاکہ وہ جان جائیں کہ وہ بھی بیکار نہیں بیٹھا تھا ۔

" اکیلے کیوں ۔ رحیم یا اختری کو ساتھ لے لیتے ۔دو گھنٹے لان میں لگا دوگے تو اوپر چھت کا کام کب کروگے ۔ وقت دیکھ رہے ہو ۔ اگر دن ڈھل گیا تو رات میں چھت کی صفائ مشکل ہو گی ۔ " 

" جی ۔وہ اختری آپا تو بھابھی کے ساتھ کچن کی صفائ میں لگی ہیں ۔اور رحیم کو تو تہذیب بی بی نے بازار بھیجا ہے ۔ " وہ بول کر اب خاموش کھڑا تھا ۔

 " ٹھیک ہے ۔اب تم جاؤ ۔ جلدی سے لان کا کام نبٹا کر آؤ ۔پھر دیکھتے ہیں چھت کا کام آج ہو سکتا ہے۔ کہ نہیں ۔ " انہوں نے اسے جانے کا اشارا کیا اور خود قرآن کی تلاوت میں مصروف ہو گۓ۔ ۔

آج جمعہ تھا اور وہ ابھی جمعہ کی نماز پڑھ کر گھر آگۓ تھے ۔ یہ ان کا معمول تھا کہ ہر جمعہ انکے گھر میں صفائ کا خاص انتظام کیا جاتا ۔ تھا ۔ ان کا کھر جو کافی بڑے رقبہ  پر بنا ہوا تھا جس میں دو کشادہ ہال اور چار کمرے ایک بڑا لان جس میں انہوں نے اپنی پسند کے کئ پودے اور بیلیں وغیرہ لگائ ہوئ تھیں ۔انکے لیونگ روم میں  دو بڑے صوفے ڈالے گۓ تھےاور ایک منقش دیوان بھی رکھا گیا تھا ۔بہترین فرنیچر سے آراستہ یہ بنگلہ  انکے خوشحال مالی حالات کا غماز تھا ۔ایک وال مونٹڈ پچاس انچ کی ٹی وی بھی تھی جس پر وہ اکثر ملکی و غیر ملکی خبریں دیکھتے تھے ۔

شمیم آرا بھی آج اختری وغیرہ کو لیکر گھر کے کونے کونے کی صفائ میں لگ جاتی تھیں ۔ سارے گھر کو پونچھا لگا یا جاتا اور خوشبؤوں سے مہکا یا جاتا تھا ۔ 

ابوالکلام خود بھی جمعہ کے دن ذکر اذکار میں لگ جاتے تھے ۔قرآن کی تلاوت بھی ہو تی تھی اور نعت وغیرہ بھی پڑھتے تھے ۔

*********************************************

وہ اپنے بڑے سے جہازی سائز کے بیڈ پر اوندھی لیٹی تھی ۔ اسکے ہاتھ میں ایک بڑا مگر پرانا البم تھا جس میں اسکی بچپن کی تصویریں تھیں ۔ آج اسے صفائ کے دوران اختری دے کر گئ تھی ۔وہ البم  کو یونہی پلٹا رہی تھی کہ ایک تصویر پر اسکی نظر پڑ گئ۔ یہ اس کے بچپن کی تصویر تھی ۔وہ سات آٹھ سال کی تھی ۔ ہ شاید اسکی خالہ ذاد بہن کی شادی کے موقعہ پر لی گئ تصویر تھی ۔جس میں وہ دلہن کے ساتھ کھڑی تھی ۔ جبکہ اسکے دائیں جانب اشعر کھڑا تھا ۔

کسی نے اشعر کو آواز دی تھی تبھی کسی نے طہ کو اسکے قریب کھڑا کر دیا تھا اور تصویر کے لیۓ مسکرانے کے لیۓ کہا تھا ۔ایک تصویر کلک ہوئ تھی تبھی اشعر آیا تھا اور طہ کو دیکھ کر غصہ سے اسے تہذیب کے قریب سے ہٹنے کے لۓ کہا تھا ۔

" میں خود سے یہاں نہیں ٹہرا ہوں ۔ مجھے محتشم بھائ نے یہاں ٹہرایا ہے ۔ " طہ کی غصیلی آواز اسے سنائ دی تھی ۔

" اونہہ محتشم بھائ ۔نے ٹہرایا ہے ۔ تمہیں پتا نہیں وہاں باہر بابا اور ماموں تمہیں پوچھ رہے ہیں ۔ جاؤ ۔ وہاں باورچی کے پاس جا کر ٹہرو ۔ اگر کچھ منگوانا ہو ا تو لانے کے لیۓ جانا پڑے گا ۔ " اشعر کی حقارت بھری نظریں طہ پر ہی تھیں ۔ 

" کوئ ضرورت نہیں طہ ۔ ابھی وہاں ایسا کچھ کام نہیں ہے ۔تم اطمینان سے تصویر لے سکتے ہو ۔ " محتشم نے طہ کو دیکھ کر نرمی سے کہا تھا ۔ انکی بات پر اشعر غصہ   کے گھونٹ پی کر رہ گیا تھا ۔ جبکہ طہ صرف خاموش رہا تھا ۔

اب اسکی نظریں بے دھیانی میں محتشم بر جا ٹہریں تھیں ۔

وہ بہت صاف رنگت والے تھے ۔ بڑی بڑی سیاہ آنکھیں اور سیاہ ہی بال ۔انکے چہرے پر ہمیشہ ایک نرمی ہو تی تھی ۔ مسکراہٹ انکی شخصیت کا خاصہ تھی ۔ 

اسکی انگلیاں بےساختہ اس چہرہ پر جا کر رکی تھیں ۔لیکن ایک خیال کی شدت نے اسے اپنا ہاتھ پیچھے کرنے پر مجبور کر دیا ۔

" یہ میں کیا کر رہی ہوں ۔ " وہ اب ایک نامحرم ہے اور اب اسے اس کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہیۓ۔

اور اب محرم ۔۔اسکی نظر طہ پر پڑی تو جانے اس سے جڑی کتنی تلخ یادیں یاد آنے لگیں کہ وہ ایکدم ہی وحشت میں گھر گئ ۔

اب بہت سی باتوں کا وقت گذر چکا تھا لیکن وہ اب بھی ایک سوال کو لیکر پریشان تھی کہ آخر ابو کو طہ میں کیا نظر آیا تھا کہ انہوں نے اس طرح اس کو طہ کے نکاح میں دے دیا۔ 

اس نے نکاح نامہ بھی دیکھا تھا اور شرائط نامہ بھی ۔اور شرائط پر تو وہ خون کے گھونٹ پی کر رہ گئ  تھی۔ 

" اسے طہ کی دوسری شرط پر اعتراض تھا۔آخر وہ کون ہو تا تھا اسے اسکی باپ کی جائداد سے بے دخل کرنے والا ۔وہ اپنے باپ کی اکلوتی اولاد تھی ۔ تو ساری جائداد کی وارث اسے ہی ہونا تھا ۔ پھر وہ اس حق سے اسے کیسے دستبردار کر سکتا ہے اور 

آخر میں" طلاق کے حق" پر اس کا حلق تک کڑوا ہو گیا تھا ۔

ہر طرح سے پر کاٹ کر یہ کیسے آزادی کا پروانہ دیا جا رہا تھا ۔جسکی خوشی ہی نا تھی ۔۔

آکہیں طہ نے محض ابو سے انتقام کی خاطر تو مجھ سے شادی نہیں کی۔ انہیں نیچا دکھانے اور اور شاید ذلیل کرنے کے لییۓ ،" اتنا سوچنا تھا کہ تہذیب کی آنکھیں پھر سے آنسووں سے بھر گئیں ۔ اسے پھر سے نکاح والا دن یاد آگیا ۔ نکاح ہو تے ہی وہ لوگ گھر واپس آ گۓ تھے۔ ابو الکلام کا ارادہ رخصتی تو بعد میں ہی کرنا تھا ۔وہ جب واپس گاڑی میں بیٹھ رہے تھے تو اسکی نظر دروازے سے ٹیک لگاۓ ہاتھ باندھے طہ پر پڑی تھی ۔اسکے چہرے پر جو پتھریلے تاثرات تھے وہ اسے کسی خوش فہمی میں مبتلا ہو نے نہیں دے رہے تھے ۔ 

" کاش اتنا سب نا ہوتا ۔جو کچھ اب تک ہوا تھا لیکن اب آگے ایک خوشگوار احساس بھی تو چھو کر نہیں گذر رہا تھا ۔

********************************************* ابوالکلام اس وقت دوپہر کا کھانا کھا کر آرام کر رہے تھے ۔شمیم آرا اپنے گھر یلو کاموں میں اختری کے ساتھ مصروف تھیں ۔

" میں اگلے چھ مہینے میں تہذیب کی رخصتی بھی کر دوں گا ۔" انہوں نے شمیم آرا کو دیکھ کر کہا ۔

وہ جو پرانے کپڑوں کولیۓ بیٹھی تھیں انکی بات پر چونک گئیں ۔

" " اتنی جلدی ۔۔۔صرف چھ مہینے میں  ۔" وہ خود ہی حساب کر کے پریشان ہو گئیں تھیں ۔

" ہاں ۔یہ مبارک  کام جتنی جلد ہو ۔اتنا بہتر ہوگا ۔" 

" خاندان میں اتنے عجلت میں نکاح کا کیا جواز بتائیں گے ۔" لوگ سول تو کریں گے ۔" شمیم آرا کو لوگوں کی فکر ہی پڑی تھی ۔

" " کیا لوگوں نے نہیں دیکھا ۔اس شادی کو لیکر کتنے ہنگامے اب تک ہو چکے ہیں ۔ اشعر سے منگنی توڑنا اور اسکی ہنگامہ آرائ ۔یہ سب ایک بیٹی کے باپ کے لیۓ کم تکلیف دہ نہیں تھا ۔اب اور کیا سوال کریں گے لوگ اور کیوں ۔۔  " انکا لہجہ میں حد درجہ کی تلخی محسوس ہو رہی تھی ۔

" لیکن پھر بھی ۔۔" انہیں سمجھ نہیں آیا کہ وہ اکبر سیٹھ کا نام لیں تو کیسے لیں ۔ 

تبھی عابد اندر آیا تھا ۔

" وہ مہمان آۓ ہیں ۔ " 

" مہمان ؟ کون مہمان " ان کا ماتھا ٹھنکا ۔

" جی ۔اکبر سیٹھ اور انکی اہلیہ رابعہ آپا ۔آئ ہیں ۔ " عابد کی اس بات پر شمیم آرا نے بے ساختہ اپنے شوہر کو دیکھا تھا ۔جہاں اس وقت سکون ہی سکون تھا ۔

" انہیں مہمان خانہ میں بٹھاؤ ۔ میں آ رہا ہوں ۔ " وہ اس متوقع آمد سے جیسے باخبر تھے ۔ 

عابد واپس لوٹ گیا تھا اور ابوالکلام اپنے کرتا برابر کرتے اٹھ کھڑے ہوۓ تھے ۔ 

" کچھ دیر سے مہمانوں کے لۓ چاۓ بھجوا دینا ۔ " وہ کہتے مہمان خانہ کی جانب بڑھے تھے ۔ 

اس وقت انکے لان میں دھوپ اتر رہی تھی ۔ ہلکی ہلکی دھوپ میں بھی تیزی تھی ۔اور شمیم آرا کو ویسی ہی تیزی ابوالکلام کے قدموں میں نظر آئ تھی ۔ 

*******************************************

 اس وقت مہمان خانے کے اس صوفہ  یہ پر رابعہ اور اکبر سیٹھ نے اپنی نشست سنبھالی تھی ۔ رابعہ بیگم بار بار اپنی ہاتھوں کی انگلیاں مروڑ رہی تھیں ۔ وہ جس اضطراب سے گذر رہی تھیں یہ وہی جانتی تھیں ۔جبکہ اکبر سیٹھ بڑے کر وفر سے بیٹھے تھے ۔عابد دو کانچ کے گلاسوں میں پانی رکھ گیا تھا ۔جس میں کا ایک گلاس وہ تھامے ہوۓ تھے ۔اور ر دیوار پر لگی آرائشی چیزوں کو بغور  دیکھ رہے تھے ۔ 

" اسلام علیکم " ابوالکلام نے اندر داخل ہو کر باآواز بلند سلام کیا تو اکبر سیٹھ نے بھی باآواز بلند ہی جواب دیا تھا ۔

 " وعلیکم السلام " جبکہ رابعہ نے جھک کر بھائ کے قریب جا کر آداب کیا تھا 

آ" آج جمعہ کو کیسے نکل پڑے آپ لوگ ۔ " ابوالکلام نے اپنا لہجہ متوازن رکھا تھا ۔گو کہ انکے اندرون اضطراب کا دریا رواں تھا ۔

" مبارک کاموں کے لییۓ جمعہ سے بڑھ کر کوئ دن نہیں ہو تا ۔ " وہی اکبر سیٹھ کی خوبی کہ اپنے مدعے پر وہ فوراً آ جاتے تھے ۔ 

" مبارک کام ۔۔ کونسے مبارک کام کے لیۓ آۓ ہیں آپ لوگ " ابوالکلام نے انہیں حیرانی سے دیکھ کر استفسار کیا۔ رابعہ  اپنی مضطرب سانسیں سنبھالنے میں  لگیں تھیں ۔

" بھئ آپ کو بھولنے  کی بیماری تو نہیں تھی مگر آپکی یادداشت وقت کے ساتھ کمزور پڑتی جا رہی ہے ۔اس لیۓ میں یہ یاد دہانی کر دوں کہ تہذیب اور اشعر کی منگنی کو کئ سال ہو چکے ہیں۔اب اس کو نکاح تک لے جانے کا وقت آ گیا ہے ۔ " بلا کے ڈھیٹ تھے اکبر سیٹھ ۔‌ابولکلام کے چہرے کا رنگ بدل گیا تھا ۔عضلات تن سے گۓ تھے ۔

یاد داشت میری نہیں آپکی کمزور ہو رہی ہے ۔ کیونکہ ہم  وہ منگنی ایک مہینہ پہلے توڑ چکے تھے اور  اس بات  کا سب کو علم ہے ۔

" " جی ۔لیکن اس منگنی کو توڑنے کی کوئ ٹھوس وجہہ نہیں بتائ تھی آپ نے ۔‌اور اسکے علاوہ جب آب نے جس شخص سے تہذیب سے نکاح کا سوچا تھا وہ تو اب غائب ہے ۔اس کا کوئ اتا پتا بھی نہیں ۔‌تو ہم یہی چاہ رہے ہیں کہ آپ اس رشتہ کو دوبارہ سے وہیں جوڑیں جہاں سے یہ رشتہ ٹوٹا تھا ۔‌ " ان کے لہجے میں یہ زعم بھی تھا کہ اب ابوالکلام اس رشتہ سے انکار کر ہی نہیں سکتے ۔

 " ہم ایک بار پھر سے اشعر کا رشتہ لےکر آئے ہیں ۔" اکبر سیٹھ کی اس بات سے جہاں ابوالکلام کا چہرہ غصہ سے سرخ ہوا وہیں رابعہ بیگم نے اپنی نظریں  جھکا لی تھیں ۔

،" " ہم اس نازک وقت میں جبکہ تہذیب کا متوقع خاو ند گمشدہ ہے ۔آپ کی مدد کرنا چاہ رہے ہیں ۔ " آخر میں انکے انداز میں  غرور درآیا تھا ۔ " آپ کی پیشکش کا شکریہ اکبر بھائ ۔ لیکن یہ اب ممکن نہیں رہا ۔ " انہوں نے اپنے ازلی بردباری سے کہا ۔

" کیوں ممکن نہیں ۔" اکبر سیٹھ نے عجلت میں پوچھا تھا ۔

" کیونکہ میں نے تہذیب کا نکاح کردیا ہے صابرہ کے بیٹے طہ کے ساتھ " 

ایک دم سے انکے سروں پر بجلی سی گر پڑی تھی ۔ وہ دونوں جیسے شاک میں آگۓ تھے ۔

" طہ کے ساتھ ۔ " یہ اتنا غیر متوقع بات تھی کہ وہ گنگ سے رہ گۓ تھے ۔

" جن نامساعد حالات کا ہمیں سامنا کرنا پڑا تھا اس وجہہ سے ہم نے یہ انتہائ قدم اٹھا یا ہے ۔جلد ہی   اسکی رخصتی بھی کر دی جائگی۔ آپ لوگ دعوت میں ضرور تشریف لائیں ۔ " میں دعوت نامہ بھجواد وں گا ۔ 

ابوالکلام کے لہجہ سے انکی اعصابی مضبوطی ظاہر ہو رہی تھی ۔ رابعہ نے بے ساختہ اپنی نظریں شوہر کی طرف کیں تھیں جہاں دو قدم پر قافلہ لٹ جانے والا تاثر تھا ۔ 

 آتنے میں عابد چاۓ لایا تھا ۔

" اب آۓ ہیں تو چاۓ ضرور پی کر  جائیں ۔ " انکی اس بات پر اکبر سیٹھ کے چہرے پر زردی چھاگئ تھی ۔  ایسا لگ رہا تھا کہ وہ  اس صدمہ سے نکل نہیں پائیں گے۔

*************************★*******************

" ":



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ