میرے ہم نوا ۔۔۔۔ پہلی قسط

 میرے ہم نوا ۔۔۔

قاضی صاحب کب تک آئیں گے ۔طہ ۔۔" نظیر صاحب نے اپنے اکھڑے اکھڑے بیٹے سے پوچھا ۔جو کمرے کی ایک دیوار سے لگ کر کھڑا تھا ۔

" ابا ۔قاضی صاحب آدھے گھنٹے میں آ جائیں گے ۔ آپ آرام سے بیٹھ جائیں ۔ " اس نے  اپنے قریب رکھی  کرسی انکے  کے آگے کی تھی جس پر ۔ نظیر صاحب بیٹھ گۓ ۔تھے 

" قاضی صاحب کے آتے ہی نکاح ہو جائگا الیکن اس نکاح سے پہلے میری کچھ شرائط ہیں ۔اگر ماموں کو اعتراض نا ہو تو میں پڑھ سکتا ہوں ۔  اس نے اپنے ماموں پر ایک نظر ڈالی تھی۔ 

جو اس با ت پر اپنی کرسی پر پہلو بدل کر رہ گۓ تھے۔

جبکہ نظیر صاحب بے ساختہ اٹھ کھڑے ہوۓ تھے۔

 " شرائط ۔۔۔یہ کیا مذاق ہے ۔طہ ۔ اب کیا شریفوں کے گھر میں شرائط پر نکاح ہونگے ۔ انکا چہرہ   غصہ کی شدت سے  سرخ ہو گیا تھا۔۔ 

" یہ میری زندگی کا بہت اہم موڑ ہے اور میں اسے اپنی شرطوں پر ہی طۓ کروں گا ۔" اسکے بے لچک انداز پر جہاں نظیر صاحب چپ ہو ۓ تو وہیں ابو اکلام نے اپنے اس اکھڑ بھانجے کو بغور دیکھا تھا۔۔

" مجھے تمہاری ہر شرط منظور ہے ۔۔" انکے انداز میں بلا کی رسانیت نرمی تھی ۔

" منظور کرنے سے پہلے ساری شرائط پڑھ لیں ۔ اس کے بعد ہی  ہامی بھریں ۔‌" یہ کہتے ہوۓ اس نے اپنی پتلون کی سیدھی جیب میں ہاتھ ڈالا اور ایک کاغذ نکالا ۔

" یہ شرائط نامہ نکاح نامہ کے ساتھ ہم دونوں کے ساتھ رہےگا ۔" اس نے پرسکون سے ابوالکلام کو وہ کاغذ دیا اور خود بہت اطمینان سے کرسی  پر بیٹھ گیا ۔

لرزتے ہاتھ سے ابوالکلام صاحب نے وہ کاغذ کھولا تھا ۔جس میں طہ نے ترتیب وار اپنی تین شرطیں لکھی تھیں ۔

پہلی شرط ۔۔۔میں تہذیب سے جس ماحول میں نکاح کر رہا ہوں اس میں مجھ سے تمام حقوق و فرائض ادا کرنے مشکل ہیں ۔اس لیۓ میں اسے صرف نکاح کہوں گا ۔رخصتی نہیں ۔اس بارے میں میں سوال۔ جواب کا مجاز نہیں ہوں گا ۔ ہاں ۔بعد میں میں باقاعدہ ایک تقریب منعقد ہو گی جس میں اپنے اور تہذیب کے رشتے کو واضح کروں گا ۔ لیکن یہ بات صرف گھر والوں تک محدود رہے گی کہ یہ صرف ایک نکاح ہے ۔رخصتی نہیں ۔

اس کے علاوہ تہذیب کو میرے گھر میں میرے طور طریقے سے رہنا ہو گا ۔ میں امیرانہ ٹھاٹ باٹ افورڈ نہیں کر سکتا ۔اس لیے اسے میرے گھر میں میرے ہی جیسی  طرز زندگی گذارنی ہو گی ۔تہذیب ہفتہ میں صرف ایک بار والدین سے ملاقات کے لیۓ جاسکتی ہے ۔رہنےکی اجازت نہیں ہو گی ۔تین مہینے میں ایک بار وہ ایک  رات والدین کے گھر  گذار سکتی ہے۔

دوسری شرط ۔۔۔مجھے ابوالکلام صاحب کی جائداد سے کو ئ سروکار نہیں ہوگا اور نا ہی مجھے یا تہذیب کو جائداد میں حصہ وغیرہ چاہیۓ ۔آپ اپنی جائداد کے کلی مختار  ہونگے۔ 

تیسری شرط ۔۔۔۔میں طلاق کا حق تہذیب کو  دیتا ہوں وہ جب چاہے اس رشتہ کو ختم کرسکتی ہے ۔ میری جانب سے کوئ رکاوٹ نہیں ہو گی۔ 

ابوالکلام صاحب جیسے جیسے پڑھتے جارہے تھے ۔انکے چہرے پر ایک عجیب سی  مسکراہٹ آ تی جا رہی  تھی ۔ 

انہوں نے کاغذ  نظیر صاحب کی طرف بڑھا یا ۔تھا ۔

اس کاغذ پر آپ کے دستخط بھی ہونے چاہیۓ ۔ کرسی سے ٹیک لگاۓ اس نے یاد دہانی ضروری سمجھی تھی۔۔

" کیا یہ ضروری ہے ۔ مجھے تم پر اور تمہیں مجھ پر بھروسہ ہو نا چاہیۓ ۔"  ابوالکلام صاحب  کے لہجے سے انکی اندرونی کیفیت  کا اندازہ لگنا مشکل لگ رہا تھا ۔

" بات بھروسہ کی نہیں بات اصول کی ہے اور ہر کام اصول سے ہی ہونا چاہیۓ ۔جس طرح آپ کو ہر  کام اصول سے کرنا پسند ہے ۔ میں بھی ہر کام اصول سے ہی کرنا پسند کرتا ہوں ۔"

ااس کے سخت گیر انداز پر جہاں ماموں کے چہرے پر ایک رنگ آ کر گذر گیا ۔وہیں نظیر صاحب کے چہرے پر بھی ناگواری کے تاثرات آ گۓ تھے۔

" طہ ۔۔ابولکلام نے اس کاغذ کے ٹکڑے پر دستخط کر دیں تھیں ۔اور اسکی طرف بڑھا رہے تھے ۔

" میں سوچ رہا تھا کہ تم نجانے کیسی شرائط لکھو گے ۔اور میں اسے قبول کر پاؤں گا بھی کہ نہیں ۔ مگر شرائط کافی معقول ہیں ۔ " آخری بات کہتے انکے جہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آگئ تھی ۔جسے طہ نے نظرانداز کیا تھا ۔اس نے کاغذ اپنے جیب میں واپس رکھ دیا تھا ۔

اب کمرے میں گہری خاموشی چھا گئ تھی ۔ انکے اس چھوٹے سے کمرے میں سکوت بھی بولتا نظر آ رہا تھا ۔اب وہ تینوں قاضی صاحب کے آنے کا انتظار کر رہے تھے ۔ جو اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ نکاح کی کاروائ مکمل کرنے کچھ ہی دیر میں یہاں پہنچنے والے تھے۔ 

######

اسی کمرے سے لگے ایک اور  کمرے میں تہذیب اپنی ماں کے ساتھ بیٹھی تھی ۔اسکے قریب اسکی پھپھیو صابرہ بھی بیٹھی تھیں ۔ ابھی ابھی قاضی صاحب نے نکاح پڑھا یا تھا ۔ اور ایجاب و قبول کرتے  ہوۓ روتے روتے اسکی  ہچکیاں بندھ گئ تھیں ۔ امی کے گلے لگ کربھی  وہ بہت روئ تھی ۔ جبکہ امی خود بھی اپنے آنسو ؤں کو قابو کرنے میں لگی تھیں ۔

" تہذیب ۔بیٹا ۔بس کر دو اب ۔کتنا رؤ گی ۔ آنکھیں دیکھو تمہاری گہری سرخ  ہو گئیں ہیں ۔ اپنے آپ کو سنبھالو ۔ " صابرہ اسے تسلی دینے کی کوشش کرنے لگی تھیں ۔

" آپا  آپ بھی کمال کرتی ہیں ۔جن حا لات میں اور جس طرح یہ نکاح ہوا ہے ۔ ایسے حالات میں کوئ لڑکی نارمل کیسے رہ سکتی ہے ۔ مجھے تو یہ سمجھ نہیں آرہا کہ آگے ہم خاندان والوں کا سامنا کیسے کریں گے ۔اور سب کو کیا کہیں گے ۔ اس طرح نکاح کا کیا جواز ہو گا ۔" شمیم بیگم کے انداز سے ایک مغرورانہ جھلک محسوس ہو رہی تھی ۔ انکی قیمتی ساڑی سے انکی امارت ثپک رہی تھی ۔۔ ۔

" بھابھی ۔یہ نکاح تو بھائ کی مرضی سے ہوا ہے ۔ اور اب اس میں شرمندگی کیسی ۔ " صابرہ نے اپنے لہجہ کی عاجزی کو برقرار رکھا ۔

" مجھے اشعر سے ایسی امید نہیں تھی ۔وہ اس حد تک جا سکتا ہے کہ خاندان کی عزت کے بارے میں سوچنا بھی گواراہ نا کیا ۔۔" بولتے بولتے شمیم آرا کی آواز بھرا گئ۔ 

" میں چاۓ بنا کر لاتی ہوں ۔مردانہ میں بھی چا ۓ بھجوانی ہے ۔" صابرہ یکلخت یاد آنے پر اٹھیں اور باورچی خانہ کی جانب چلی گئیں ۔اب کمرے میں شمیم آرا اور تہذیب رہ گئ ۔تھیں ۔

" دیکھو تہذیب ۔اب رونا دھونا بند کرو ۔ اور حالات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لو ۔میں یہ نہیں کہہ رہی کہ تم اپنی آپ کو ان کے غربت ذدوں  کے طریقے پر زندگی گذارو مگر تمہیں اب اسی گھر کو اپنا گھر سمجھنا ہے ۔ " شمیم آرا اپنے مخصوص مزاج کے تحت بات کر رہی تھیں ۔ تہذیب نے کوئ جواب نہیں دیا تھا ۔

بس خاموشی سے اپنے ہاتھ کی لکیروں کو دیکھتی جا رہی تھی ۔اس وقت وہ عجیب کشمکش میں مبتلا تھی ۔بچپن سے اسکا نام جس شخص کے ساتھ منسلک تھا وہ رشتہ اچانک ختم ہوا تھا اور پھر ایک اور نام کے ساتھ اسکے رشتے کی بات ہونے لگی تھی ۔ابھی وہ اس نۓ رشتے کو قبول کرتی کہ اس کا نکاح ایک ایسے شخص سے کر دیا گیا جسے وہ کبھی پسند  بھی نہیں  کرتی تھی  کجا یہ کہ اسکے ساتھ زندگی بھر کا ساتھ ۔کیا زندگی اور اس سے جڑے رشتے اتنے نا پائدار ہوتے ہیں کہ ایک پل میں کوئ آپ کی زندگی سے بے دخل ہو جا تا ہے ۔اور ایک پل میں ایک دوسرا اجنبی آپ کی زندگی کا مالک بن جا تا ہے ۔سوچتے سوچتے اس کا سر چکرانے لگا تھا ۔اس چھوٹے سے کمرے میں  زور زور سے چکراتے پنکھے کے ساتھ اسے اپنی زندگی بھی چکراتی نظر آنے لگی تھی۔ 

##########

۔ " تم بھائ صاحب کے گھر گئیں تھیں۔رابعہ ۔۔۔" اسہ سرد آواز پر   رابعہ کے ہاتھوں سے چاولوں کی پلیٹ گر گئ تھی۔وہ اس موضوع سے بچنا چاہ رہی تھیں ۔اور خود کو مصروف کرنے کی کوششوں میں مصروف تھیں ۔ 

" گھر کے کام کاج ہی بہت ہیں ۔جب سے حنا کی شادی کی ہے ۔کاموں کو لیکر میں تو ہلکان ہو ئ جا رہی ہوں ۔حنا نے گھر اتنے اچھے انداز میں سنبھالا تھا کہ اسکے بغیر گھر کا سارا نظام ہی الٹ پلٹ ہو گیا ہے ۔ " انہوں نے جلدی جلدی ایک کپڑا لے کر چاول سمیٹنے شروع کۓ تھے۔ 

" اسی لیۓ کہا تھا بھائ صاحب کے پاس جا کر اپنا مدعا پیش کر دو اب اس گھر کو بہو کی اشد ضرورت ہے ۔ ۔ آخر اتنےسالوں کی منگنی یوں ٹوٹ نہیں سکتی ۔" اکبر سیٹھ کی یہ خوبی تھی یا خامی ،وہ ہمیشہ گھوم پھر کر واپس اپنی بات پر آ جاتے تھے ۔

" منگنی تو ٹوٹ ہی گئ اب پھر کیا گڑے مردے اکھاڑنا ۔  " رابعہ بیگم کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ سامنے جو مرد  ہے وہ اتنا کینہ پرور کیوں ہے ۔

" ہاں ۔کوشش کی تھی انہوں نے ۔مگر محتشم کی گمشدگی سے ہمارے پاس ایک اور موقعہ ہے اس ٹوٹے رشتے کو جوڑنے کا ۔" انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں بھر سے وہی رٹ لگا دی ۔

" آپ کو کیا لگتا ہے انہوں نے منگنی کیوں توڑی ہو گی ۔ " اب رابعہ بیگم کے صبر کا پیمانہ بھی ٹوٹ گیا تھا ۔ انکے انداز میں واضح جھنجھلاہٹ تھی ۔

" یہ تو وہ بتائیں گے ۔ لیکن منگنیاں یوں نہیں ٹوٹتیں ۔صرف اس بات بر منگنی توڑ دینا کہ اشعر نے پڑھائ چھوڑ دی ۔ کافی نہیں ہو گا ۔ " آخر میں انکے سخت انداز کو محسوس کر کے رابعہ نے چپ سادھ لی تھی ۔

" کل جمعہ ہے ۔نماز کے بعد تم اور میں بھائ صاحب کے یہاں جائیں گے ۔ تیار رہنا ۔"

"مگر ۔۔" 

مجھے لگ رہا ہے کہ تم پر اپنی بھائ کی محبت غالب آ رہی ہے ۔ لیکن یہ سوال کرنا تو واجب الجواب ہے کہ آخر ہر کام اصول سے کرنے والے اتنی پرانی منگنی  کو یوں ختم کر کے بے اصولی  کیسے کر سکتے ہیں ۔

مجھے اس سوال کا تشفی بخش جواب چاہیۓ۔ اور بھائ صاحب میرے جوابدہ ہیں ۔کل ہم جائیں گے اور فیصلہ اپنے حق میں کر کے ہی لوٹیں گے۔ " وہ اپنے مخصوص تخت پر بیٹھے اپنا فیصلہ سنا رہے تھے ۔ اور رابعہ بیگم کا دل حلق میں آ گیا تھا ۔

******

باقی آئندہ 




تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ