دی ڈارک ڈیمن ہاؤس قسط چھ

 دی ڈارک ڈیمن‌ہاؤس ۔۔۔تالا چابی 

قسط چھ 

اسکے بعد کچھ نہیں لکھا ہو ا تھا ۔ ان تینوں نے سر اٹھا یاتھا ۔۔ یہ آ ادھوری کہانی تھی ۔اسے انہیں مکمل کرنا تھا ۔

آگے اس لوئس فیملی کے ساتھ کیا ہوا ہو گا ۔ پال کی آنکھیں ابھی بھی اس کتاب پر جمی تھیں ۔

یہ تو کہہ نہیں سکتے ۔لیکن میں نے اس گھر کے بارے میں جو کچھ پڑھا ہے وہ یہی ہے کہ یہ لوگ کہیں غائب ہو گۓ ۔‌نا انکے مرنے کی خبر ہے نا انکے کہیں جانے کی ۔ البتہ یہ لوگ راتوں رات امیر بن گۓ تھے ۔۔ جارج کی نگاہیں بھی اسی کتاب پر تھیں ۔

باغ ۔۔۔ہمیں اس بنگلہ میں موجود اس باغ کو

 کھودنا چاہیۓجس کا اس کتاب میں ذکر ہے ۔ ہنری نے ان دونوں کی توجہ باغ کی طرف کی تو وہ دونوں جیسے ہو ش میں آۓ۔ 

چلو باہر چلتے ہیں ۔ جارج ان دونوں کو لے کر باہر آ یا تھا ۔ یہ باغ جو اب مکمل جل چکا تھا ۔اس بنگلہ کے عقبی حصہ میں تھا ۔اس کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا جیسے ابھی ابھی آگ کی لپیٹ میں آ یا ہو ۔‌یہاں وہاں باغ کی جلی ہوئ باقیات بکھری پڑی تھیں ۔ 

ان تینوں کو اب اس باغ کی کھدائ کرنی تھی ۔ جارج کو پھاؤڑا مل گیا تھا جبکہ۔ پال کو دو موٹی موٹی لوہے کی سلاخیں وہاں رکھی ہوی ملی تھیں ۔

پال تم اس طرف سے شروع کرو اور ہنری تم میرے ساتھ آؤ ۔جارج نے پال کو ہاتھ کے اشارے سے بتایا ۔پال ایک سلاخ کو لیکر جا رہا تھا جب جارج نے اسے روکا ۔

رکو ۔پال ۔اس نے اپنی تھیلی سے تین لاکٹ نکالیں جس پر صلیب کا پنڈنٹ تھے ۔ اس نے ان دونوں کو ایک ایک لاکٹ پہننے کے لیۓ دیا اور خود بھی ایک لاکٹ اپنے گلے میں ڈالی ۔

یہ ہماری حفاظت کرے گی ۔ 

وہ دونںں سر ہلاتے آگے بڑھے اور کھدائ شروع ہوئ ۔

تقریباً دو گھنٹے ان لوگوں نے کھدائ کی تھی اور اب وہاں زمین کافی نرم ہو  گئ تھی

جارج کچھ ملا تمہیں ۔ پال چلایا ۔

نہیں پال ۔۔۔۔جارج نے مایوسی سے سر ہلایا ۔ صبح سے دوپہر ہو نے کو آ رہی ہے ۔کوی نتیجہ نہیں ۔ہنری کے بھی لہجے سے   ناامیدی جھلک رہی تھی۔ 

شایداس باغ میں اب  کچھ نا ہو ۔ پال کھودتے ہو ۓ  بولا تھا ۔

نہیں ۔اگر یہاں ڈیمن ہے تو خزانہ بھی ہو گا ۔‌اور جب تک ہم خزانہ کو نہیں ڈھونڈیں گے ۔تب تک ڈیمن‌ہم سے آنکھ مچولی کھیلتا رہے گا۔‌

جارج نے ایک زور کی آواز کی ساتھ پھاوڑا زمین پر مارا تھا۔

تبھی اسکے مارتے ہی چھن چھن جیسی آواز آئ تھی ۔ وہ تینوں ہی چونک گۓ تھے۔

جارج نے جلدی جلدی مٹی ہٹانی شروع کی تھی جبکہ ہنری اور پال اس کا ساتھ دینے لگے ۔

کچھ دیر بعد انہیں وہ چاندی کا صندوق نظر آ یا تھا ۔

اس ملگجے سے باغ میں وہ صندوق چمک رہا تھا ۔ جسے دیکھ کر انکی آنکھیں خیرہ ہو گئ تھیں ۔۔ ان تینوں نے اسے اٹھا یا اور باہر نکالا ۔ 

صندوق کے باہر آ نے کی دیر تھی سارا ماحول یکایک سرد ہو گیا ۔اور وہ تینوں کانپنے لگے تھے ۔

جارج ۔اس پر تو تالا لگا ہوا ہے ۔ پال نے تالے کی جانب اشارہ کیا جہاں ایک سیاہ سانپ نما تالا تھا ۔ جس پر بالکل سانپ جیسی دھاریاں بھی تھیں ۔

اس کی چابی کہاں ہو گی ۔ جارج نے اس تالے کو بہت غور سے دیکھا ۔

ہر تالے کی چابی ہو تی ہے ۔یاد کرو جان نے اس صندوق کو کھو لا تھا ۔مطلب اسکی چابی تھی ۔پال نے اسے یاد دلایا ۔

تو جارج سر ہلانے لگا ۔

پال ۔جان نے صندوق منتر سے کھولا تھا ۔ہمیں وہ منتر پتا نہیں لیکن‌اس صندوق کی چابی یہیں کہیں ہو گی ۔ جارج کی نظریں اس صندوق پر ٹکی تھیں جو پراسرار چمک لیے ہوۓ تھا ۔

شاید ان کمروں میں ۔۔۔ہنری بولا تو وہ دونوں بھی اٹھے ۔

ہاں ہو سکتا ہے ۔لیکن وہ کمرے بھی مقفل ہیں ۔انہیں کیسے کھولیں گے ۔ پال کو بھی خیال آیا ۔

وہ کتاب ۔۔جارج نے ہنری کی جانب دیکھ کر کہا تو ہنری وہ کتاب اٹھا لایا ۔اور اس کتاب میں  اپنے پاس موجود اس الو کے  پرکو  رکھا ۔‌اب ان تینوں کی نظریں اس کتاب پر تھیں ۔

اب کتاب پر لفظ بننے شروع ہو رہے تھے ۔

صبح دم اندھیرا ۔۔۔اندھیرا صبح دم ۔

ان تینوں نے پڑھا اور اٹھے۔اب ان تینوں کا رخ ان کمروں میں سے ایک کمرے کی طرف تھا ۔

یہاں پورے گیارہ کمرے قطار میں تھے ۔ 

جارج ایک کمرے کے سامنے گیا اور اس نے وہ منتر پڑھا ۔

صبح دم اندھیرا ۔۔۔اندھیرا صبح دم ۔

ایک جھٹکے سے دروازہ کھلا تھا ۔ وہ تینوں اندر جانے کے لیۓ لپکے مگر اس سے پہلے ان پر ایک خونخوار بلی نے حملہ کر دیا ۔ ایک کالی بلی جس کی گردن پر بال تھے ۔ 

آہ آہ ۔۔ جارج کی آنکھ پر اس بلی کا پنجہ پڑا تھا ۔وہ چیخ مار کر نیچے بیٹھ گیا تھا ۔جبکہ پال اور ہنری کے ہاتھ اور پیر زخمی ہو گۓ تھے ۔ 

جارج تم ٹھیک ہو ۔ پال جھک کر جارج کو پوچھ رہا تھا ۔

ہاں ۔ دیکھو ۔وہاں اندر کوئ چابی ہے ۔ جارج نے اپنی آنکھ پر ہاتھ رکھا تھا ۔جبکہ اسکی آنکھ سے خون ٹپکنے لگا تھا ۔

اس سے پہلے کہ وہ آگے بڑھتے  ۔وہ بلی اب  ان پر غرانے لگی تھی ۔اسکی غراہٹ سے اسکے غصہ کا اندازہ ہو رہا تھا ۔ 

جارج یہاں کوئ چابی مجھے  دکھائ نہیں  دے رہی ۔ ہنری اپنے آپ کو اس بلی سے بچاتا بولا ۔ 

وہ ایک نظر میں پورے کمرے کا جائزہ لے چکا تھا ۔

تو پھر سوچ کیا رہے ہو بھاگو یہاں سے۔ ۔۔جارج باہر کی جانب بھاگتے چلایا تو وہ بھی اس کمرے کے دروازہ کو بند کرتے باہر آگۓ تھے ۔‌

باہر آ کر ان  تینوں نے سکون کی سانس لی تھی ۔

اب ۔۔ہنری نے اپنی سانسیں درست کی تھیں ۔

اب ہر کمرہ چیک کرتے جائیں گے ۔ جارج کی بات پر ہنری خوف سے پیلا پڑھ گیا ۔

یار کیوں ظلم کرتے ہو ۔ابھی میری شادی بھی نہیں ہوئ۔ 

شادی سے پہلے ہی میری بیوی بیوہ ہو جاۓ گی۔

پال تم اس کمرےمیں دیکھو میں اسکے آگے والے کمرہ کو  دیکھتا ہوں ۔ جارج پال کو ہدایتیں دینے لگا ۔

اور تم ۔۔۔جاؤ گے یا اپنی بیوہ کا سوگ مناتے بیٹھوگے۔ اسکے سخت رویہ پر ہنری منہ بنا کر بولا ۔

خبردار جو میری ہونے والی بیوی کو بیوہ کہا تو ۔۔۔۔

اب تمہاری آنکھ کیسی ہے ۔جارج ۔پال اسکے نزدیک آ کر بو لا ۔

ٹھیک ہے ۔ اس نے اپنی آنکھ پر رومال باندھ لیا تھا ۔

چلو اب ۔۔ ۔۔۔ 

اب وہ تین الگ الگ کمروں میں جا رہے تھے ۔اتنا تو سمجھ میں آ گیا تھا کہ یہاں کمرہ کھلتا تو ہے مگر اسکے ساتھ ہی خطرہ کا در بھی ساتھ ہی کھلتا ہے ۔

جارج نے جیسے ہی منتر پڑھا کمرہ کھل گیا تھا لیکن اسکے سامنے دو خونخوار کتے بھونکنے لگے تھے ۔

جارج نےان کتوں سے لڑنے کے لیے اپنی تھیلی سے ایک نوکیلی چاقو نکالی تھی۔اور وہاں  کتوں پر حملہ کرنے کے انداز میں کھڑا ہوا تھا ۔ کتے اسے دیکھ کر غرانے لگے تھے لیکن وہ اپنی جگہ سے ہلے  نہیں ۔

جارج نے اس چاقو کی نوک ان کتوں کی جانب رکھ دی  تھی اور اس نے اس کمرے میں چابی ڈھونڈنی چاہی  مگر چابی کہیں  دکھائ  نہیں دی تھی۔ اس نے اس کمرے کو بندکیا تھا ۔ اور آگے بڑھا۔ اس کے پیچھے پال بھی تھا اور ہنری بھی ۔وہ لوگ بھی ایک ایک کمرے میں چابی کو ڈھونڈ رہے تھے ۔ یہاں تک کے اب وہ تینوں اس آخری گیارھویں کمرے کے سامنے کھڑے تھے ۔

صبح دم اندھیرا ۔۔اندھیرا صبح دم 

اس کمرے کا دروازہ کھلا ۔ وہ تینوں چو کنے آ گے بڑھ رہے تھے ۔جب ان پر اوپر سے کسی نے  حملہ کیا ۔ وہ تینوں دھڑام سے گر گۓ تھے ۔ جب اپنے آپ کو سنبھال کر انہوں نے اپنے حملہ آور کو دیکھا تو ایک بہت بڑی  مکڑی تھی جسکے پیر اس کمرے کی دیواروں تک  جا  رہے تھے ۔

اتنی بڑی مکڑی ۔۔۔ہنری نے تھوگ نگلا۔

جارج مسلسل اس مکڑی کو دیکھ رہا تھا ۔

مکڑی نے ہنری کو پکڑ لیا ۔ اور اسکے اطراف جالا بننے لگی ۔ 

جارج نے پورے کمرے کی جانب نظر دوڑائ تو اسے وہاں ایک دیوار پر چابی لٹکی ہوئ نظر آئ تھی۔ جس پر ویسی ہی دھاریاں تھیں جیسی اس تالے پر تھیں ۔

ہنری یہ لو۔ اس نے چاقو ہنری کی طرف پھینکا اور خود چابی لینے دوڑا ۔

ہنری نے چاقو کیچ کر لیا اور اب وہ اس مکڑی کے پیروں پر اس چاقو سے حملہ کر نے لگا ۔

مکڑی چاقو کے پے درپے واروں سے اپنا توازن برقرار نا رکھ پائ تھی ۔ 

لیکن اس نے جارج کو اپنے ایک پیر سے گرانے کی کوشش ضرور کی تھی ۔ 

پال ایک جانب اس مکڑی کے ایک اور پیر پر سلاخ سے حملہ کر رہا تھا ۔

مکڑی کا پیر درمیان میں آنے سے جارج بری طرح گر پڑا مگر اسے کسی بھی طرح وہ چابی لینی تھی۔ اس نے اپنی پوری قوت لگائ تھی اور دیوار پر ٹنگی اس چابی کو اتار لیا تھا اور باہر کی سمت بھا گا ۔

ہنری اور پال مکڑی کے آٹھوں پیروں کے ساتھ نبرد آزما تھے ۔جارج نے بھاگتے ہوۓ آواز دی ۔

چابی مل گئ ہے یہاں سے نکلو ۔۔

پال اور ہنری نے مکڑی کے جال کو پوری قوت سے کاٹا اور باہر نکل گۓ۔ 

باہر آتے ہی جارج نے دروازہ بند کیا تھا ۔

اب تینوں اس چابی کو لیۓ جہاں صندوق رکھا تھا وہاں بھاگے ۔  صندوق کے پاس پہنچ کر وہ تینوں لمبی لمبی سانسیں لینے لگے ۔

جارج نے چابی اس تالے میں لگائ ۔‌ اور چابی گھمانے لگا ۔ اس سے پہلے کہ  تا لا کھلتا ۔سارے ماحول میں تاریکی چھا گئ۔اور گھپ اندھیرے نے انہیں چاروں طرف سے گھیر لیا ۔ 

اب وہ تینوں اندھیرے کو گھورتے رہ گۓ۔ 

جارج ۔ موم بتی جلاؤ ۔ ہنری نے پکارا ۔

جارج نے موم بتی لگائ اور ایک بار پھر سے چابی تالے میں ڈالی تھی ۔

لیکن اس بار بھی تالا کھلنے سے پہلے ہی موم‌بتی بجھ گئ۔ اب اصول کے مطابق وہ موم بتی جلا نہیں  سکتے تھے۔جارج نے صندوق کھولنے کا ارادہ ترک کیا تھا ۔

پال ۔اب ہم اسے کل کھو لیں گے ۔

اسکی آواز ابھری۔چلو اب اپنے کمرے میں جاتے ہیں ۔یہ کہہ کر وہ اٹھا تب اسے پتا چلاکہ اسکے پیر کسی چیز سے  بندھے ہوۓ ہیں ۔ 

پال ۔ہنری ۔تم لوگ کہاں ہو ۔ اس نے زور سے پکارا ۔

جارج ۔ہم یہیں ہیں لیکن ہمارے ہاتھ اور پیر باندھ دیۓ گۓ ہیں ۔ پال کی پریشان آواز پر جارج کچھ بول نا سکا ۔

ہمیں یہاں اب صبح تک انتظار کرنا پڑے گا ۔پال ۔۔۔میرے بھی ہاتھ پیر بندھے ہوۓ ہیں ۔

پتا نہیں اس گھر کی یہ دوسری رات کیسی گذرے گی۔ ہنری کی فکر مند آواز پر وہ دونوں بھی آگے کا سوچ کر پریشان تھے۔

جاری ہے ۔

یہ قسط کیسی لگی ۔کمنٹ ضرور کریں ۔



 


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ