دی ڈارک ڈیمن ہاؤس ۔۔۔ ۔قسط پانچ ۔
دی ڈارک ڈیمن ہاؤس ۔۔
۔۔۔قسط پانچ ....راز ہے خزانہ
اب تینوں پورے بنگلہ کا جائزہ لینے کے لیۓ نکلے تھے ۔ بنگلہ دایرہ نما بنا ہوا تھا ۔اور اوپر جانے کی سیڑھیاں ندارد تھیں ۔ سارے بنگلہ میں ایک ویرانی سی چھائ ہوی لگ رہی تھی۔یہ بنگلہ سفید اور سیاہ رنگ کے امتزاج سے رنگا گیا تھا اور اس کا سفید رنگ سیاہ میں مد غم ہو تا محسوس ہو تا تھا ۔
اس کے اندر بے شمار کمرے تھے ۔ اور ہر کمرا مقفل تھا ۔
اگر اس بنگلہ میں کوئ راز تھا بھی تو وہ اسے کھوجنے میں دقت محسوس کر رہے تھے ۔
وہ تینوں کندھے اچکاتے ایک کمرے کے آگے ٹہر گۓ ۔
مجھے نہیں لگتا کہ ہم کچھ کھوج پائیں گے۔ ہنری کی آواز ابھری تھی جبکہ جارج اور پال سنجیدگی سے ہر ایک چیز کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے تھے۔تبھی پال کی نظر اس ہال کے باہری دروازہ کی سیدھی جانب پڑی ۔ وہاں ایک محراب بنی ہوی تھی ۔اس محراب میں ایک کتاب رکھی ہوئ تھی ۔ پال نے جارج کو اس کتاب کی طرف اشارہ کیا ۔جارج کو بھی اس میں دلچسپی پیدا ہو ئ اور وہ بھی اس کتاب کو لینے بڑھا ۔
اس نے جیسے ہی اس کتاب کو اٹھانا چاہا ۔یکایک ان الوؤں نے ان پر حملہ کر دیا" ۔دفع ہو ۔"
الو ان دونوں کے کان میں چیخے تھے مگر جارج نے بڑی پھرتی سے کتاب اٹھالی اور پال نے ان الووں کو اپنے پاس موجود چھڑی سے مارا تھا ایک الو بچ گیا تھا مگر دوسرا الو بری طرح زخمی ہو گیا ۔
جارج نے اس کتاب کو کھولا۔
مگر یہ ایک خالی کتاب تھی جس پر کسی نےایک حرف بھی نہیں لکھا تھا ۔
وہ دونوں مایوس ہوگۓ ۔
یہ تو خالی کتاب ہے ۔اس سے ہمیں اس گھر کیا سراغ ملے گا ہاں ۔صحیح کہہ رہے ہو ۔پال بھی مایوس ہو گیا تھا ۔ تبھی وہاں ہنری آ یا تھا ۔ اسکے کندھے پر وہی زخمی الو بیٹھا تھا ۔ہنری نے شاید اسکی مرہم پٹی کر دی تھی ۔
ہنری نے بھی وہ کتاب اٹھالی اور اس نے اپنے پاس موجود ایک پر اس کتاب میں رکھا ۔ اور پھر اس نے جارج کو دی ۔
یہ کیا ہے ۔جارج نے اسے گھورا ۔
کچھ نہیں ۔ یہاں ایک الو زخمی ہوا تھا تو میں نے اسکی مرہم پٹی کر دی ۔اور اسے اڑا دیا ۔مگر اڑتے اڑتے اس الو کا ایک پر گر گیا تومجھے لگا اسے اس کتاب میں ہونا چاہیۓ۔۔
ہنری عام سے اندازمیں بولتا جا رہا تھا جبکہ جارج اس کتاب کو حیرانی سے دیکھ رہا تھا ۔جس پر اب الفاظ اابھرنے لگے تھے۔جارج ان ابھرنے والے الفاظ کو پڑھ رہا تھا۔
کسی کا راز خزانہ ہے ۔سیاہ جلد کی اس کتاب میں جلی حروف میں ابھرتا ہوا یہ فقرہ انہیں اس راز کی تہہ تک پہنچنے میں مدد دینے والا لگ رہا تھا۔
اب وہ تینوں اس کتاب پر جھکے تھے ۔جس پر الفاظ اس طرح ابھر رہے تھے جیسے کہ اب کوئ اسے بیٹھ کر لکھ رہا ہو ۔
جان ۔ جان ۔اب بس کرو آخر کیا کر رہے ہو تم ۔یہ لارا کی آواز تھی ۔ پچیس چھبیس سال کی بہت پر کشش نقوش کی مالک لڑکی اس وقت اپنے شوہر کو پکار رہی تھی ۔جو باغیچہ میں کدال لئے صبح سے مصروف تھا ۔
آ رہا ہوں ڈارلنگ ۔تم چائے تو بناؤ ۔ اسکی آواز باغیچہ سے آ رہی تھی ۔
اوہ ہو ۔ جب سے ہم یہاں آۓ ہیں تم بس باغیچہ کی کھدائ کۓ جا رہے ہو ۔ کیا کوئ خزانہ ہے وہاں ۔۔۔۔وہ اس کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑی تھی جہاں سے باغیچہ صاف صاف نظر آ رہا تھا ۔
ہا ہا ہا ۔۔۔اگر کہوں کہ ہاں تو یقین کروگی ۔۔۔وہ پسینے میں شرابور اپنے چہرے پرآ یا پسینہ پونچھتے بو لا تو لارا ہنسی تھی ۔
یہ جوک کا ٹائم نہیں ہے ۔جان۔ جلدی اندر آؤ۔ میں نے چاۓ بنا لی ہے ۔وہ چیخی تھی ۔
آرہا ہوں ۔ابھی ۔فیم کہاں ہے ۔ اس نے اپنی تین سالہ بیٹی کا نام لیا تھا ۔
فیم ابھی سو گئ ہے ۔
اوکے ۔آرہا ہوں ۔ایسا کرو چاۓ یہیں لے آؤ ۔ لارا کو اسکی آواز آئ تو اس نے تاسف سے سر جھٹکا ۔
اوہ ہو جان ۔اب اس کو کیا کہوں ۔ وہ کچن میں گئ تھی اور چاۓ لے کر باغیچہ میں چلی آئ۔
انہیں اس گھر میں شفٹ ہوۓ تین دن ہو ۓ تھے ۔
اسکی چد شدید خواہش تھی کہ ایک بہت خوبصورت بنگلہ کی وہ مالکن بنے جس میں باغ بھی ہو اور ۔۔اور جان نے کی بنگلہ دیکھنے کے بعد اسکے لیۓ یہ گھرپسند کیا تھا ۔
بے حد طویل و عریض رقبہ پر پھیلا بنگلہ جان کو پہلی نظر میں بھا یا تھا ۔
اس کی قیمت بھی کافی زیادہ تھی ۔جسے اس نے بہت لوگوں سے قرض لے کر قیمت ادا کی تھی ۔آفس سے بھی اس نے لوناپلائ کیا تھا ۔ اور اب اس بنگلہ میں وہ شفٹ ہوۓ تھے ۔اس نے چاۓ بنا کر اسے دی اور خود بھی وہیں بیٹھ گئ۔
تمہاری طبعیت اب کیسی ہے ۔لارا ۔چاے کا کپ لیۓ وہ بھی بیٹھ گیا تھا ۔
ٹھیک ہے ۔آخری دنوں میں تو کجھ نا کچھ چلتا رہتا ہے ۔ وہ بے زار سی بولی ۔ وہ نویں مہینہ میں تھی ۔
رائٹ ۔ وہ چاۓ ختم کر چکا تو پھر سے باغ کی طرف جانے لگا تو پیچھے سے لارا پکار بیٹھی ۔
آخر مجھے بتاؤ گے کہ تم کیا ڈھونڈ رہے ہو ۔
لارا ۔مجھے چرچ کے پوپ نے بتا یا تھا کہ ۔۔۔۔اس گھر کے باغیچہ میں خزانہ دفن ہے اور اس گھر سے مجھے بے پناہ دولت ملے گی۔۔ ۔ایک ایسا خزانہ جس کے بارے میں صرف سنا گیا ہے ۔ لیکن سب کو اسکی کھوج ہے ۔ جب میں نے پوپ کو یہ گھر بتایا تو انہوں نے کہا کہ یہاں باغ سے آوازیں آ رہی ہیں ۔ اس باغ میں بہت بڑا خزانہ ہو گا ۔ تب سے میں اس کو ڈھونڈ رہا ہوں ۔ وہ اپنی کدال سے زمین کو ایک جانب مارتے بول رہا تھا ۔
لارا حیرت سے اسکو دیکھ رہی تھی ۔
یہ سچ نہیں ہو سکتا۔ پوپ کو غلط فہمی ہوئ ہوگی ۔لارا نے کہا ۔
تبھی جان کی ایک زوردار آواز سنی تھی جیسے اسکی کدال سے کوئ چاندی کی چیز ٹکرائ ہو ۔
لارا ۔اس نے ایک چیخ ماری ۔۔۔
یہاں ہے خزانہ ۔۔۔۔۔
اس آواز کے ساتھ ہی زمین میں جیسے بھونچال آ گیا تھا ۔ یکایک زمین سے بہت بھیا نک آوازیں آنی شروع ہو ئ تھیں ۔ ایسی آوازیں جسے سن کر روح کانپ جاۓ ۔
آسمان کو کالی بدلیوں نے گھیر لیا تھا ۔ بجلیاں کڑکنے لگیں اور تیز و تند ہواؤں نے جیسے اس بنگلہ کا راستہ دیکھ لیا تھا ۔
لارا نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا تھا جہاں دل دوگنی رفتار سے دھڑک رہا تھا ۔
جان ۔۔۔۔۔میری طبعیت ۔۔۔وہ اپنا جملہ بھی مکمل نا کر پارہی تھی ۔
لارا ۔۔اس نے کدال پھاؤڑا وہیں پھینک دیا تھا اور خود اسکے پاس آ گیا ۔
لارا ۔۔لارا ۔کیا ہوا ۔۔۔لارا کی آنکھیں بند ہو گئ تھیں اور وہ تیز تیز سانسیں لینے لگی تھی ۔
جان اسی وقت اسے لیۓ ہاسپٹل لے گیا تھا ۔
اور ایک گھنٹہ بعد ڈاکٹر نے بیٹے ہونے کی نوید دی تھی ۔ لارا بھی آب ٹھیک تھی ۔جان بھی واپس گھر چلا گیا تھا
####
یہ کیا ہوا جان ہمارے گھر کو ۔۔۔۔ وہ پورے بنگلے پر ایک نظر ڈال کر بو لی تھی ۔
جان بھی کچھ پریشان سا لگ رہا تھا ۔ مگر اس نے کہا کچھ نہیں ۔باغ ویران ہو گیا تھا ۔ سارے بنگلہ پر ایک خاموشی چھائ تھی ۔
جان بتانا چاہتا تھا کہ اس کے جانے کے بعد بہت کچھ اس نے بھگتا تھا ۔
اس نے جیسے ہی اس چاندی کے منقش صندوق کھولا تھا ۔ یکایک زمین پر تباہی جیسی آ گئ تھی۔
سارے گھر میں عجیب آوازیں گونجنے لگی تھیں ۔
اماوس کی رات کے اس نے جب صندوق نکالا تو اس پر ایک بہت بڑا سانپ اپنا پھن پھیلاۓ بیٹھا تھا ۔
جان نے ایک لکڑی لی تھی اور اسکی مدد سے وہ اسے ہٹانے لگا تھا
مگر سانپ شدید غصہ میں اپنا پھن مارتا جا رہا تھا ۔
جان نے بھی ہمت نہیں ہاری ۔تھی۔ اس نےبھی لگاتار سانپ پر حملہ جاری رکھا تھا ۔
سانپ کے آخری وار پر ایک زوردار آ گ نکلی تھی جس سے جان ڈر کر پیچھے ہٹا تھا ۔اور اس آگ کے ساتھ ہی سانپ غائب ہوا تھا ۔لیکناسکے ساتھ سارا باغ بھی جل گیا لارا کے گلاب کے پودے یک مشت جل کر راکھ ہو گۓ ۔
یہاں سے وہاں تک آگ لگ گئ تھی ۔ اور ہر چیز جلنی شروع ہو ئ تھی ۔
جان پانی ڈالتا جا رہا تھا لیکن آگ بجھی نہیں مسلسل جلتی رہی ۔ یہ آگ پورے دن رہی تھی۔
جان نے صندوق میں موجود ہیروں سے بنا وہ نکلس نکالا تو اسکی آنکھیں خیرہ ہو گئیں تھیں ۔ اس صندوق میں جو زیور تھے اس میں ہیرے جڑے تھے ۔ایک ایک زیور کی قیمت کروڑوں میں تھی ۔
اور اب جب اس نے وہ ہیروں کا نکلس لارا کو دیا تو وہ اتنی قیمتی سٹ کو دیکھ کر متحیر رہ گئ تھی۔
اتنا قیمتی ہار جان ۔یہ کہاں سے آ یا ۔
مجھے خزانہ مل گیا ۔جان نے سپاٹ سے لہجے میں یہ دھماکہ خیز خبر سنائ تو لارا کو لگا وہ مذاق کر رہا ہے ۔
خزانہ ۔۔۔۔لیکنخزانہ یونہی نہیں ملتا جان ۔ہر خزانہ کی قیمت ہوتی ہے ۔اور اس خزانہ کی قیمت کیا ہے ۔
اسکے لہجے میں ڈر و خوف بولنے لگا تھا ۔
جان نے نظریں چرائیں ۔
ہر راز ایک خزانہ ہے ۔ لارا ۔آو میں تمہیں وہ راز بتاؤں ۔
ہر راز کی قیمت ہوتی ہے اس راز کی قیمت ہم خود ہیں ۔اسکے لہجہ کے غیر معمولی پن نے لارا کو پتھرا دیا تھا۔
کونسا راز ،کیسی قیمت جان ۔۔۔وہ ڈر کر بے دم سی نیچے بیٹھ گئ تھی ۔
یہی کہ اس خزانہ کو لینے کے بعد میرے ساتھ کیا ہوا ۔
لارا ۔میں تمہیں سب کچھ بتانا چاہتا ہوں ۔
جب میں نے وہ صندوق کھو لا تو اسکے ساتھ ہی ایک زوردار بھونچال سا آ گیا تھا ۔ اور میں نے دیکھا ایک بہت بڑا سیاہ ناگ اس پر بیٹھا ہے ۔ میں نے پوپ کے بتاۓ گۓ منتر پڑھنے شروع کۓ ۔جس پر وہ ناگ آگ بگولہ ہو گیا اور اس نے اپنے پھنسے مجھے نقصان پہنچانا چاہا مگر میرے پڑھے گۓ منتر زیادہ طاقتور تھے ۔وہ کمزور پڑنے لگا تو اس نے ایک آگ کے گولہ کے ساتھ اپنے آپ کو غائب کر لیا ۔
میں نے موقعہ غنیمت جانا اور صندوق اندر لے آیا ۔ اندر ہال میں جب میں نے صندوق رکھا تو اچانک ایک گھپ اندھیرا ہو گیا اور ماحول کافی ہیبتناک ہو گیا ۔
میں مسلسل منتر پڑھتے پڑھتے اس صندوق کو کھولنے لگا تو وہ اچانک میرے سامنے آ گیا ۔
اور لارا وہ جب میرے سامنے آیا تو میں اسکی ہیبت سے سارے منتر بھول گیا ۔
اس کا سیاہ رنگ ،سفید آنکھیں اور اونچا قد ۔لمبے کالے ہاتھ اور نکلی ہوی باہر زبان ۔۔میں اسکو دیکھ کر اگر خوفزدہ تھا ۔تو صحیح تھا ۔وہ سچ میں خوفناک تھا ۔ خوف کا دوسرا نام تھا وہ ۔
وہ مجھے دیکھ کر ہنسا ۔
ویلکم مسٹر جان ۔۔آپ کو لگا کہ آپ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ہاں ۔۔۔کیا لگا آپ کو ۔۔۔اسکی سرد سانپ کی پھنکار سی آواز سن کر میں تو پتھر بن گیا ۔میں نے یہ گھر خریدا ہے اس لیۓ اس گھر کا اور اس خزانہ کا مالک میں ہوں ۔
میری بات پر وہ قہقہہ لگا کر ہنسا پھا ۔
میں یہاں پچھلے دو سو سال سے رہ رہا ہوں ۔ تو میں ہی اس گھر کا مالک ہو ں ۔ہےنا ۔
اسکی بات پر جان نے اسے دیکھا۔تھا ۔ تم کون ہو ۔۔اسکی بات پر اسے ہنسی کی ڈراونی آواز آئ تھی۔
مسٹر جان لوئس ۔میں وہ ہوں جسے دنیا ڈیمن کہتی ہے اور ڈیمن سے لوگوں کو ڈرنا چاہیۓ ۔
آپ کو بھی ڈرنا چاہیۓ ۔سمجھے ۔آخر میں ایک خوفناک قسم کی نظر سے اس نے دیکھا تھا ۔ جان اس ایک نظر سے اندر تک لرز کر رہ گیا تھا ۔
جان لوئس اب اس خزانہ کی بات کرتے ہیں ۔ اس کی سیاہ گہری رنگت چمکنے لگی تھی۔
خزانہ چاہیۓ تو میں وہ خزانہ تمہیں دے دوں گا ۔۔۔۔لیکن اس نے بات ادھوری چھوڑی ۔جان کے حلق میں سانس اٹکنے لگی تھی ۔
لیکنمیں اسکی قیمت لوں گا ۔ہاہاہا ۔۔۔قیمت ۔۔۔۔ڈیمنہمیشہ بھاری قیمت مانگتا ہے ۔۔۔۔
جان کو کاٹو تو بدن میں لہو نہیں ۔۔۔
تو میں وہ سارا۔ خزانہ تمہیں دے دوں گا لیکن تمہیں یہ گھر چھوڑنا ہو گا ۔۔یہ گھر ڈیمن کے نام پر کرنا ہو گا ۔
لیکنتم تو کہہ رہے تھے کہ تم یہاں دو سو سال سے رہ رہے ہو ۔ اور میرےرہنے نا رہنے سے تمہیں کچھ فرق نہیں پڑنے والا۔
مجھے کھیل پسند ہے ۔ اس لیۓ میں یہ کھیل کھیلنا چاہتا ہوں ۔ہاہاہا ۔۔وہ ہنس ہنس کے خوف میں مبتلا کر رہا تھا ۔
تو تمہاری بات کا مطلب کیا ہے ۔
تم مجھے یہ گھر دے دو اس کا خزانہ تمہارا ہوا ۔بولو منظور ہے ۔تمہیں یہ گھر چھوڑنا ہو گا ۔ ورنہ ۔۔۔اور اس ورنہ کے آگے کیا تھا وہ نہیں جانتا تھا ۔۔
جاری
قسط کیسی لگی کمنٹ ضرور کریں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں