تیرے لیۓ ۔4 complete

 تیرے لیۓ قسط نو 

جیسے ہی سب کو معلوم ہوا وہ سب ششدر رہ گۓ ۔‌

ا"اریشہ ۔یہ کیا پاگل پن کر رہی ہو ۔ اپنے ہی پیروں پر کلہاڑی مارنا شاید اسے ہی کہتے ہیں "۔ رعنا نے اس کو پکڑا ۔

"مجھے تو سمجھ ہی نہیں آ رہا ۔ آپ کیا کرنے جارہی ہیں ۔‌مطلب فوزان بھائ کی شادی اور خود آپ کریں گی"۔‌اس کی نند بھی حیران حیران سی لگ رہی تھی ۔‌

"بہت پچھتاؤ گی ۔اریشہ یہ بےکار کی ضد کیوں باندھ لی ہے "۔‌ایک اور نند نے بھی اس کے لتے لیۓ تھے ۔مگر وہ دھیمے مسکراتے ہوے اپنا کام کرتی رہی ۔ نا کسی کو کچھ کہا نا جواب دیا ۔یہاں تک کہ جمعہ آگیا ۔وہ لوگ صبح صبح ہی رحیمہ کے گاؤں نکل گۓ تھے۔اریشہ تو وہاں پہلے سے ہی موجود تھی ۔وہ رحیمہ کو خود دلہن بنا رہی تھی۔ 

کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی۔

میں اپنے ہاتھوں سے اسکی دلہن سجاؤں گی۔‌

سپرد کر کے اسے روشنی کے ہاتھوں میں 

میں اپنے گھر کے اندھیروں میں لوٹ آؤں‌گی۔‌

وہ رحیمہ کو تیار کر رہی تھی ۔‌

 گہرے سرخ رنگ کی قمیض جس پر باریک نفیس سا کام تھا ۔اورسرخ ہی باٹم تھا جسکے پائنچوں پر قمیض کے ہم رنگ ورک تھا ۔‌اور سرخ‌دوپٹہ جسے اس نے خود پن اپ کیا تھا ۔‌

"بہت بیاری لگ رہی ہو" ۔ اس نے آئینہ میں رحیمہ کو سراہا تو وہ شرماگئ۔ 

"باجی ۔آپ ۔۔۔"وہ پتا نہیں کیا کہنے جا رہی تھی ۔لیکن خاموش ہو گئ۔ 

"رحیمہ ۔اب آج سے تم میری ذمہ داری ہو ۔اور میں تمہیں اپنی بہن سے بڑھ کر چا ہوں گی۔ تمہیں اگر کسی سے بھی شکایت ہو تم مجھے بتا دینا ۔‌میں ہمیشہ تمہارے ساتھ رہوں گی"۔ وہ اسسے ٹہر ٹہر کر سمجھا رہی تھی ۔ 

"جی ۔"رحیمہ نے سر جھکا لیا تھا ۔

"آؤ ۔ باہر چلتے ہیں ۔" اس نے اس کا ہاتھ تھاما اور ہال میں آآگئ ۔۔یہاں سب انکے منتظر تھے۔ نکاح کے لیۓ فرشی نشست رکھی گئ تھی ۔‌

اس کی نندیں ،جیٹھانی ،اور دوسرے مہمان بس اریشہ کو دیکھ رہے تھے ۔

ا"اتنا صبر ،اور ایسی ہمت ۔۔"۔وہ آج بہت اونچے مقام پر کھڑی نظر آرہی تھی۔ 

جیسے ہی مولوی صاحب آۓ اور اپنے سوال دہرانے لگے ۔ 

"بتائے  محمد ۔فوزان ولد محمد غفران صاحب سے آپ کو نکاح قبول ہے "۔ رحیمہ ساکت ہو گئ تھی ۔

"رحیمہ "۔ اریشہ نے اس کے کان میں جھک کر کہا ۔ 

"بولو ۔ہاں قبول ہے" ۔ یہ کہتے ہوۓ اس کا لہجہ کانپا ۔

"جی ۔قبول  ہے "۔رحیمہ کی لرزتی آواز سے سب نے سکون کی سانس لی ۔ 

آ"پ کو فوزان ولد غفران سے نکاح قبول ہے ۔" 

"جی ۔‌"رحیمہ نے دھیرے سے کہا تھا۔ 

اور قاضی صاحب نے آخری بار دہرایا تھا ۔‌اور تیسری بار بھی رحیمہ نے "جی "کہا تھا ۔اس کی پر سکون آواز نے اریشہ کا دل کا سکون جیسے چھین لیا ۔‌

"رحیمہ  کا "جی" ۔اس کی جیت تو بن گیا مگر کہیں اریشہ کے لیۓ ہار تو نہیں بنے گا ۔‌یہ وہاں موجود سب کے ذہنوں میں آنے والا سوال تھا ۔

"مبارک ہو رحیمہ" ۔اس کی آواز سے لرزش جھلک رہی تھی۔ 

اسے گلے لگا کر مبارک باد دیتے دیتے اس کے حلق میں کئ آنسو اٹک گۓ تھے۔ وہ اپنے آپ کو چھپاتی وہاں سے جلدی سے  ہٹ گئ تھی۔ 

نکاح ہو گیا تھا اور اب رخصتی کی تیاری ہو رہی تھی۔ رحیمہ اپنے باپ ،سہیلیوں کے گلے لگی دھواں دھواں دار رو رہی تھی۔ جبکہ اریشہ ساس امی  کے سینے سے  لگی پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی ۔‌

وہ سب بھی وہیں تھیں ۔ 

صبح سے جتنے ضبط کے پہرے اپنے آپ پر اس نے بٹھاۓ تھے وہ سب ڈھے گۓ تھے۔ ۔

اب سارے بندھ ٹوٹ گۓ تھے اور بلک بلک کر روتی اریشہ کو سنبھالنا سب کے لیۓ  مشکل ہو رہا تھا وہ سب اسے تاسف و  ہمدردی سے دیکھ رہی تھیں ۔ 

امی کے سینے سے لگی وہ ہچکیوں پر آگئ تھی۔ 

"بیٹا ۔اتنی ہمت کی ہے تو آگے کیوں ہمت ہار رہی ہو ۔‌میں ہوں ناں ۔تمہارے ساتھ۔ "اس کی ساس اسے گلے لگاۓ حوصلہ دے رہی تھیں ۔ 

"کمال ہے ۔اریشہ ۔تم نے واقعی میں کمال ہی کر دیا ۔" رعنا نے اسے گلے لگا یا تھا ۔

"میں نے تم جیسی با ہمت‌اور صابر عورت آج تک نہیں دیکھی۔ ہم تم جیسے کبھی نہیں بن سکتے  کبھی بھی نہیں." ۔ رعنا کی آواز بھی بھرا گئ تھی ۔ 

"بھابھی ۔اللہ آپ کے صبر اور نیت۔ کا پھل ضرور دے گا ۔" اس کی دونوں نندوں نے اسے گلے لگا کر کہا تو وہ نم نم آنکھوں سے مسکرا اٹھی۔

رحیمہ کو گاڑی میں بٹھا دیا گیا تھا ۔فوزان بھی انکے ساتھ ہی تھا ۔وہ بہت سنجیدہ اور خاموش تھا ۔ 

اریشہ نے چور نظروں سے فوزان کو دیکھا تو دل کٹ سا گیا تھا ۔پہلی بار اسے بہت بڑے خسارے کا احساس ہوا تھا۔ 


 ۔   


 

 


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ