تیرے لیۓ قسط 12 completed

 

"بڑی مما ۔بڑی مما "۔۔۔اریشہ اپنے کمرے میں لیٹی تھی جب پری وہاں آئ تھی ۔اسکے پیچھے پیچھے دو سال کی افرح بھی تھی ۔

"ارے کیا ہوا ۔آپ دونوں کو ۔ "اس نے افرح کو گود میں لے  لیا تھا ۔

"بڑی مما ۔ ہم دونوں میں سے کون‌زیادہ کیوٹ ہے "۔ پری نے آنکھیں پٹپٹائیں۔

"مجھے سوچنے دو" ۔ اس نے ہنستے ہوے کہا ۔پھر اپنی ایک انگلی افرح کی جانب کی  ۔ 

"یہ ۔  ہرے "چھوٹی  افرح تالیاں بجا نے لگی ۔ 

"جائیے ہم نہیں بولتے آپ سے" ۔ پری ناراض ہوئ۔  

ا"ارے آپ تو ہم سب سے زیادہ کیوٹ ہو "۔ اریشہ نے اسے روکا ۔"اچھا ۔ اور ہم ایک بات بتائیں۔ ۔" پری جلدی سے اسکے قریب آگئ۔ 

"آپ بھی بہت کیوٹ ہو ۔ "اس نے اس کے کان میں کہا ۔۔

"ہماری مما سے بھی زیادہ ۔‌"

بری بات ۔مما کو ایسے نہیں بولتے ۔" اریشہ نے تنبیہہ کی ۔

"وہ ہمیں ڈانٹتی رہتی ہیں ہمیشہ ۔ وہ ہم سے پیار نہیں کرتیں "۔ پری کو اب رویوں کی سمجھ آنے لگی تھی۔ 

"وہ آپ سے بہت پیار کرتی ہیں ۔مما جو ہیں ۔ہر مما اپنے بچوں سے پیار کرتی ہے ۔ آی سمجھ "۔ اس نے اسے لپٹا لیا ۔

ا"اچھا ۔اب یہ بتاؤ ۔آپ کو بھائ چاہیۓ یا بہن ۔ "

"بہن" ۔‌پری زور سے بولی ۔ 

"کیوں بھئ ۔بہن تو ہے آپ کے پاس "۔ 

"بھائ آیا تو مما تو ہمیں گھر کے باہر ہی کر یں گی۔۔ وہ تو بس بیٹا بیٹا کرتی ہیں" ۔پری نے اپنی سمجھ کے مطابق بات کی تھی ۔‌

"اچھا ایسے مت کرو ۔ دعا کرو کہ مما کی خواہش پوری ہو جاۓ۔ "اس نے دونوں کو اپنی گود میں لے لیا ۔ 

ا"اچھا ۔بڑی مما ۔‌"ان دونوں نے تابعداری سے کہا تبھی رحیمہ  کی آواز آئ۔ 

"باجی ۔ مجھے چاۓ چاہیۓ ۔ سر میں درد ہو رہا ہے ۔ "

ا"ور پانی بھی چاہیۓ۔ "

کچھ دیر بعد اریشہ اسے چاۓ بنا کر لے گئ تھی تو وہ بےزار سی چھت گھور رہی تھی ۔ 

"لو رحیمہ ۔" اس نے چاۓ کا کپ اسے تھمایا ۔ 

"یہ دونوں کیا کہہ رہی تھیں ۔ "

"ہم لوگ تمہیں بیٹا ہو جانے کی دعا کر رہے تھے ۔"

ا"اونہہ آپ نے کب دعا کرنی ہے میرے لیۓ ۔ آپ تو میرے مرنے کی دعا کر رہی ہونگی۔ "وہ کافی چڑ ی ہوئ لگ رہی تھی ۔ 

"ایسا نہیں ہے رحیمہ ۔ میں تو دن رات تمہارے لیۓ۔ بیٹے کی دعا کر رہی ہوں ۔ اچھا ہے ۔ بقول تمہارے تمہاری فیملی مکمل ہو جاۓ گی ۔‌"اس نے  نرمی سے کہا۔ مگر رحیمہ پر کچھ خاص اثر نا ہوا۔

 ۔" ۔آپ کو بنا محنت کے بیٹیاں مل گئیں ۔‌آپ نے کونسی تکلیف اٹھائ" ۔ وہ برابر کچوکے لگاتی رہتی تھی ۔ جس کا مظاہر ہ اس نے ابھی ابھی کیا تھا ۔

اریشہ نے اس کے لہجے کو نظرانداز کیا تھا ۔

ا"اچھا دوائیاں کھالیں تم نے۔ "

"نہیں ۔پانی دیں مجھے اور ٹیبلٹس بھی "۔ وہ حکمیہ کہتی خود بیڈ سے تھوڑا اونچا ہو کر بیٹھ گئ تھی۔ 

ا"اچھا ۔یہ لو ۔" اس نے اسے دوائیاں تھمانی چاہی تھیں مگر اچانک آنکھوں کے آگے اندھیری سی چھا گئ ۔ اس نے اپنے آپ کو سنبھالا اور خود کمرے میں آ گئ تھی ۔

ادھر کچھ دنوں سے اس کی طبعیت بھی بہت خراب رہ رہی تھی ۔ رحیمہ کا خیال کرتے کرتے وہ خود اپنے آپ سے لا پرواہ ہو گئ تھی ۔ 

آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے پڑ گۓ تھے ۔ چہرہ زرد سا ہو گیا تھا ۔ کھانا بھی وہ بس براۓ نام ہی کھا رہی تھی ۔ رحیمہ نے اسے دنیا سے ہی بد دل کر دیا تھا ۔ 

فوزان دو بیٹیوں کا باپ بن کر کچھ اور ذمہ دار ہو گیا تھا ۔‌وہ اپنی پرو موشن کے لیۓ کوشش کر رہا تھا ۔

ایسے میں اریشہ پر پورے گھر کی ذمہ داری پڑ گئ تھی۔

وہ اپنے آپ کو کہاں دیکھتی۔ 

*********


رحیمہ کے لیۓ یہ آخری موقعہ تھا چونکہ ڈاکٹر نےکہہ دیا تھا کہ صرف تین ہی آپریشن ہو سکتے ہیں ۔اور اب وہ شدت سے بیٹے کی آرزو مند تھی ۔ 

اریشہ نے فوزان کو بھی بلا لیا تھا ۔

وہ رحیمہ سے زیادہ اریشہ کو دیکھ کر پریشان ہو گیا تھا ۔

"کیا ہو گیا ہے تمہیں اریشہ ۔ کیسی برسوں کی بیمار لگ رہی ہو تم "۔ وہ اس کے کمہلاۓ چہرے کو دیکھ کر بو لا تھا ۔

آ"آپ بھی ۔ مجھے لگتا ہے کہ شاید اب میرا وقت بھی آ گیا ہے ۔‌رحیمہ کو بیٹا ہو جاۓ تو آپ کی فیملی مکمل ہو جاۓ گی۔ پھر میرا کیا کام "۔ وہ زبردستی مسکراتے کہہ رہی تھی۔ 

"میری زندگی تمہارے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی اور تم فیملی کی بات کر رہی ہو ۔" اس کے لہجے میں بھی دکھ تھا ۔

وہ ایک کھو کھلا سا قہقہہ لگا کر خاموش ہو گئ تھی ۔ 

وہ دونوں رحیمہ کو لیۓ ہاسپٹل آگۓ تھے ۔ 

ااور رحیمہ نے ایک بار پھر بیٹی کو جنم دیا تھا ۔ 

اور اسے جیسے ہی ہو ش آیا وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی ۔ 

"رحیمہ ۔پاگل ہو کیا .کیوں رو رہی ہو ۔ اللہ تعالی کی نعمتوں پر ایسے روتے نہیں "۔ وہ ساتھ کھڑی اسے سمجھا رہی تھی ۔ جبکہ فوزان بس خاموش کھڑا رہ گیا تھا ۔

"میں اسکی صورت بھی نہیں دیکھو ں گی "۔ وہ چلانے لگی تھی ۔ 

ا"اگر اب تم نے ایک لفظ بھی  میری بیٹی  کے خلاف کہا ناں تو میں ۔۔"۔۔۔فوزان اپنی لال لال آنکھوں کے ساتھ اسے گھورنے لگا تو وہ خاموش ہو گئ تھی۔ 

تبھی اریشہ کو چکر سا آ گیا تھا ۔ اس نے چکراتے سر کے ساتھ بیڈ کو پکڑ لیا تھا ۔ فوزان اسے دیکھ کر پریشان ہو گیا ۔ 

"اریشہ "۔‌اس نے اسے تھا ما ۔

"سر گھوم رہا ہے میرا فوزان "۔وہ نقاہت سے کہتی اس کا ہاتھ  تھامے باہر آگئ تھی۔ 

"چلو ۔ وہاں ڈاکٹر کے کیبن میں ۔ دیکھ لیں گی وہ تمہیں "۔ وہ اسے لے کر ڈاکٹر کے پاس لے آیا تھا ۔

ڈاکٹر کو اس نے اس کی کیفیت بتائ تھی اور خود باہر رکھی ایک کرسی پر بیٹھ گیا تھا ۔

زندگی کی بھا گ دوڑ میں وہ اریشہ سے غافل ہو گیا تھا ۔ اگر اسے کچھ ہو گیا تو ۔۔۔۔۔یہ سوچ کر ہی اس کا دل ہو لنے لگا تھا ۔

آج کل نت نئ بیماریوں کا چلن عام ہو گیا ہے ۔ وہ اپنے آپ کو کوس رہا تھا کہ اس نے اریشہ کے کندھوں پر بہت بوجھ ڈال دیا تھا ۔

"کیسے اتنا خود غرض ہو گیا میں ۔ کیسے ۔ یا اللہ اسے کچھ نا ہو ۔ بس ۔" وہ دل ہی دل میں دعا کرنے لگا تھا ۔ 

ا"اریشہ کے شوہر کون ہیں ۔ڈاکٹر بلا رہی ہیں ۔" اندر سے ایک نرس نے پکارا تھا ۔ وہ چونک کر اٹھا اور دھڑکتے دل کے ساتھ اندر گیا تھا ۔

" آپ نے اپنی وائف کا کبھی چیک اپ نہیں کروایا ۔ " ڈاکٹر اسے حیرانی سے دیکھ رہی تھی۔

"جی ۔ کبھی ضرورت نہیں پڑی ۔ کیا کچھ سیریس ہے ۔ " فوزان نے دھڑکتے دل سے پوچھا تھا ۔ 

"آپ کی وائف تو ماں بننے والی ہیں ۔ یہ رہی انکی رپورٹ "۔ ڈاکٹر رپورٹ ٹیبل پر رکھ کر کہہ رہی تھی ۔ 

"جی ۔"۔۔اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا ۔

اریشہ نے بھی اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا تھا ۔

"جی ۔ تین ماہ  ہو گۓ ہیں ۔آپ کو پتا نہیں چلا"۔ وہ اریشہ سے پو چھ رہی تھی ۔ 

"نہیں ڈاکٹر ۔آپ کو غلط فہمی ہو ئ ہے ۔ آج سے سات آٹھ سال پہلے میں نے تمام ٹسٹ کر واۓ تھے تب ڈاکٹر نے کہا تھا کہ میں کبھی ماں نہیں بن سکتی ۔" وہ رک رک کر بتا رہی تھی ۔ نا اسے یقین آیا تھا نا فوزان کو ۔ 

۔

"جی ۔آج کل سائنس نے اتنی ترقی کی ہے کہ ہم یہ تو  بتا سکتے ہیں کہ کون ماں بن سکتی ہے اور کون نہیں ۔اور آپ بیٹا جنم دیں گی یا بیٹی ۔ اس کا وقت بھی بتا سکتی ہیں ۔ لیکن ۔۔"۔ڈاکٹر رکی ۔ 

"ہم خدا نہیں ۔ہماری اندازے غلط بھی ہو سکتے ہیں اور غلطیاں بھی ہو جاتی ہیں ۔ جب بات خدا کی آتی ہے اور اس کی قدرت کی تو ہر چیز ممکن ہو جاتی ہے ۔ یہ تو بہت معمولی بات ہے "۔ڈاکٹر کے چہرے پر  مسکراہٹ تھی ۔

"روم نمبر بارہ میں جو مریضہ ہیں وہ آپکی مسز ہی ہیں ناں ۔" وہ پوچھ رہی تھی ۔

"جی ۔ ڈاکٹر ۔  اولاد کی خاطر میں نے دوسری شادی کی تھی" ۔ فوزان حیرت کے جھٹکے سے باہر آ کر بولا تھا ۔ 

ڈاکٹر نے بھنویں اٹھا کر حیرت کا اظہار کیا تھا ۔ 

"کوائٹ امیزنگ ۔ ویسے آپ ان کا  سکین وغیرہ کر والیں اچھا رہے گا ۔ گڈ لک"۔ ڈاکٹر نے اپنی بات ختم کی تھی ۔ 

ایک لمحے کے لیۓ ان دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تھا ۔دونوں کے لیۓ وہ ایک پل وہیں تھم گیا تھا ۔ وہ اسی کیفیت میں باہر آۓ تھے۔ 

"اریشہ ۔سنا تم نے ڈاکتر نے کیا کہا ۔" فوزان کو اجانک ہو ش آیا تھا ۔ 

"مجھے بلکل بھی یقین نہیں آرہا ۔" اریشہ اپنے آپ میں کھوئ  کھوئ بول رہی تھی۔ ۔ 

"اریشہ ۔پاگل تمہیں پتا کیسے نہیں چلا "۔ وہ ہنسنے لگا تھا ۔

"پتا نہیں ۔مجھےکیوں نہیں سمجھ آیا "۔اس نے اپنے دونوں ہاتھوں میں چہرا چھپا لیا تھا ۔

"میں گھر میں سب کو فون کرتا ہوں "۔ وہ فون جیب سے نکال کر سب کو خوش خبری سنا رہا تھا ۔ 

اریشہ بھاگ کر رحیمہ کے وارڈ میں چلی گئ تھی۔

  


 ۔ 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ