تیرے لیۓ ۔۔۔قسط 11 completed

 تیرے لیۓ ۔۔۔قسط سولہ 
دو ہفتے گزر گۓ اور فوزان آ گیا ۔‌رحیمہ پارلر جا رہی تھی ۔پہلی بار  فوزان نے اسے چونک کر کچھ حیران ہو کر دیکھا تھا ۔
اس نے سرخ لباس پہنا تھا ۔جس پر بڑے بڑے پھول بنے تھے ۔
بال کھلے چھوڑ دئیے تھے۔چہرے پر ایک لٹ آوارہ انداز میں جھول رہی تھی۔ سرخ لپ اسٹک اور مختلف رنگوں کے نیل پالش سے رنگے ناخن ۔۔۔۔۔۔ وہ اسے سر سے پیر تک دیکھ کر رہ گیا تھا ۔ 
"کہاں جا رہی ہو ۔تم ۔" 
"پارلر ۔ "اس نے اس کی نظروں کو محسوس کر لیا تھا ۔اٹھلا کر کہا 
"ناجاؤں کیا ۔" اس نے ایک ادا سے اس کی طرف دیکھ کر پو چھا تھا ۔
"چلی جاؤ۔ اتنے چاؤ سے تم نے جوائن کیا ہے ۔" اس نے خود کو تلخ ہونے سے روکا ۔اور خود نیچے جانے لگا ۔
"کہاں جا رہے ہیں آپ ۔ "اس کی بے رخی سے وہ جل گئ۔ 
"پری کے پاس "۔‌وہ کہتا نیچے اتر  گیا تھا ۔‌
"ہونہہ۔پری کے پاس ۔ یہ نہیں کہا کہ اپنی لاڈلی کے پاس جا رہے ہیں ۔ سب جانتی ہوں "۔اس کے انداز میں زمانے بھر کی کھو لن تھی ۔ 

*******
اس نے کمرے کے دروازہ کو ہلکے سے دھکیلا تھا ۔ اور خود اندر چلا گیا ۔‌
اریشہ بیڈ پر ایک طرف کو پشت کیۓ لیٹی تھی۔ قریب میں پری تھی جس کو وہ ہلکے ہلکے تھپک کر سلا رہی تھی ۔ 
آنکھیں کھلی تھیں لیکن دماغ غیر حاضر سا لگ رہا تھا ۔
"اریشہ ۔ پری سو گئ ۔کیا ۔" وہ تھوڑا اور آگے آیا تھا ۔وہ اس کی آواز سن کر اٹھ بیٹھی تھی۔ 
"آپ ۔۔ہاں ابھی سوئ ہے۔ "اس کی آواز مدھم تھی۔ چہرہ بھی اترا اترا سا تھا ۔ 
"میں جب بھی آتا ہوں ۔سوتی  ہوئ ہی  ملتی ہے" ۔وہ پری کے قریب بیڈ پر بیٹھ گیا ۔ 
وہ مسکرائ تھی ۔ 
آ"آپ آتے ہی دو چار دن کے لیۓ ہیں  ۔اب  کچھ دن رکیں گے تو پتا چلے گا ۔ کتنا تنگ کرتی ہے وہ ۔"

۔ اس نے ہنس کر کہا تھا ۔
"ہوں ۔۔ امی کب تک آئیں گی ۔" اس نے پری کے ہاتھ  پر اپنا ہاتھ رکھا تھا ۔
"کل تک آ جائیں گی ۔ آپی نے فون کیا تھا مجھے ۔" وہ اپنے بکھرے بالوں کا جوڑا بناتی اٹھی تھی ۔ 
"بہت بدل نہیں گئ یہ "۔ وہ اسے دیکھ کر رحیمہ کے بارے
میں سوال کر رہا تھا ۔
"پار لر جا رہی ہے تو ۔کچھ سیکھ کر تو آۓ گی "۔ پھیکی سی ہنسی کے ساتھ اس نے جواب دیا تھا ۔
آ"آپ کو اچھی نہیں لگی یہ تبدیلی ۔" اس نے ہنس کر پو چھا تھا ۔
"دل تو چاہ رہا تھا کہ کھینچ کر ایک دوں ۔ مگر ۔۔۔پھر تمہاری بات یاد آگئ کہ اپنی عمر کے حساب سے کر رہی ہے ۔اس لیۓ اگنور کیا "۔ وہ چھت کو دیکھتے بات کر رہا تھا ۔ اس کی آنکھوں میں نا پسندیدگی واضح تھی ۔‌وہ چپ رہی 
"اور تم ۔۔۔"۔وہ بیڈ سے اٹھ کر اسے دیکھنے لگا ۔
"یوں کل وقتی ملازمہ کا حلیہ بناۓ کیوں بیٹھی ہو ۔ "
"بس اب پری ہی میری زندگی کا مچور ہے وہ بڑی   ہو رہی ہے ۔اور میرے لیۓ اب اس سے زیادہ تو کوئ اہم نہیں۔ "اس نے پری کے سر پر اپنا ہاتھ پھیرا تھا ۔
ا"اور مجھے خوشی ہے کہ تم اس کے پاس ہو" ۔‌اس کے بھی لہجے میں اطمینان تھا ۔ 
آ"آپ کھانا کھائیں گے "۔اس نے اپنا سبز دوپٹہ کندھوں پر ڈالا تھا ۔
"ہاں ۔تمہارے ہاتھ کی بنی دال اور  آلو میتھی  قیمہ اور روٹی۔ بس" اس نے ہاتھ اپنے سر کے نیچے رکھ دیے تھے ۔ 
"ٹھیک ہے بنا لیتی ہوں ۔" وہ جانے لگی تھی۔ کہ اس کی آواز پر رک گئ۔ 
"اریشہ ۔ کیا اس نے تمہارے ساتھ کوئ بد تمیزی کی ۔" 
اور اس کا دل چاہا ۔
سارے رکے ہوۓ گلے  شکوے وہ اس کے گوش گذار کر دے ۔ کیسے رحیمہ نے طعنوں سے اس کا دل چھلنی کر دیا ہے ۔ 
اور وہ دن بہ دن کیسے بکھرتی جا رہی ہے ۔ مگر۔۔۔۔ 
جب اس نے فوزان کو دیکھا تودل نے کہا ۔ نہیں ۔وہ تھک ہار کر آیا ہے ۔ ذہنی سکون چاہتا ہے ۔
اس کو بے آرام کر کے کیا ملے گا ۔
اس کا دل بے چین ہو گا ۔
محبت میں سکون ہو نا چاہیۓ ۔بے سکونی نہیں ۔
دل نے اسے خاموش کر دیا تھا  ۔‌
"میں اس کی بڑی بہن کی طرح ہوں ۔ فوزان وہ مجھے کیوں کچھ کہے گی" ۔ وہ جاتے جاتے کہہ گئ ۔ تو اس نے آنکھیں کھولی  تھیں ۔‌
"کچھ لوگ اپنی اوقات دکھا دیتے ہیں ۔‌ انہیں نظر انداز کرنا چاہیۓ۔" وہ کہہ رہا تھا اور اسے دیکھ رہا تھا ۔
اب کیا کہتی وہ ۔ اور کیا شکوہ کرتی ۔ وہ تو دل کے اندر اترا ہوا انسان تھا ۔ بنا کہے ہی سمجھ گیا تھا ۔ 
وہ بنا کچھ کہے باہر چلی گئ تھی ۔ 

*********

شام میں کھانے کی ٹیبل پر وہ سب بیٹھے تھے ۔
فوزان اپنی پسند کے کھانے کو ٹی وی دیکھتے ہوۓ انجواۓ کر رہا تھا ۔ 
رحییمہ  پارلر سے آتے آتے چکن پیک کر لائ تھی ۔ فوزان نے اسے چھوا بھی نا تھا ۔رحیمہ نے چکن اس کے سامنے رکھا تو وہ یہ کہتے اٹھ گیا تھا ۔
"مجھے بازاری کھانوں کی عادت نہیں ہے ۔" اور کھانا ختم کر کے چلا گیا تھا۔۔
رحیمہ کو یہ انداز  سر سے پیر تک زہر کر گیا تھا ۔‌اس نے ایک کھولتی نظر اریشہ پر ڈالی تھی اور خود پلیٹ میں چکن  ڈالے کھانے لگی تھی ۔ 

**********


پری دو سال کی ہو گئ تھی ۔ وہ چلنے لگی تھی اور اریشہ سے زیادہ مانوس تھی ۔ رحیمہ کے رویۓ میں کوئ تبدیلی نہیں آئ تھی ۔‌وہ اب پارلر میں آئ بیگمات کے گھروں میں جا کر میک اپ وغیرہ کر کے آتی تھی ۔ اسکا اٹھنا بیٹھنا بڑے گھرانوں کی چھچھوری عورتوں میں ہو گیا تھا جنکے لیۓ زندگی صرف عیش پرستی  ہی تھی۔ 
فوزان جب بھی آتا ۔اریشہ کو دیکھ کر بوجھل دل لیۓ جاتا ۔ اس نے رحیمہ سے کوئ باز پرس نہیں کی تھی ۔اور نا اریشہ نے اس سے کچھ شکوہ کیا تھا ۔ 
رحیمہ دونوں کی شرافت کا نا جائز فایدہ اٹھا رہی تھی ۔ ایسے میں دوسری بار اس کی پریگننسی کنفرم ہو ئ تو فوزان نے سر پکڑ لیا تھا ۔
ا"اففوہ ۔ اتنی جلدی نہیں ہونا  چاہیۓ تھا ۔ "
"کیوں ۔ایسا کیا انوکھا ہوا ۔جو آپ ایسے کہہ رہے ہیں ۔‌"رحیمہ تڑخ کر بولی تھی ۔‌
"تمہاری پریگننسی کبھی بھی آسان نہیں رہی  رحیمہ ۔ ڈاکٹر نے پہلے ہی کہہ دیا ہے  ۔ہر پریگننسی میں تمہیں بیڈ رسٹ دینا ہو گا ۔" وہ چڑ کر بو لا تھا ۔
"تو ۔"وہ چٹخی۔ 
ا"اب اریشہ کتنا کرے گی ۔ اور کیسے ۔پری تو ابھی تین سال کی بھی نہیں ہو ئ۔ میرا خیال تھا اگر وہ تین سال کی ہو جاۓ اور اسکول جانے لگے تب یہ سب سوچتے "۔ وہ پریشان ہو گیا تھا 
"تو باجی کا احسان کیوں لیں ۔ایک کل وقتی ملازمہ رکھ لیں گے ۔" اس نے بڑے اطمینان سے کہا تھا ۔
"دس  پندرہ ہزار لیتی ہے کل وقتی ملازمہ ۔ "فوزان نے غصہ سے  اس بے حس لڑکی کو دیکھا تھا ۔‌
"تو کیا ہو ا ۔لوگ تو‌ایک دن میں  ہزاروں خرچ کر ڈالتے ہیں ۔ عیاشی کی لیے۔ آپ تو اولاد پر خرچ کریں گے ۔ "
اس کی بات پر فوزان نے اس پر  چبھتی نظر ڈالی تھی اور خاموش ہو گیا تھا ۔
اریشہ نے سنا تو اس نے ہمیشہ کی طرح اپنی خدمات پیش کی تھیں ۔ 
"میں سب سنبھال لوں گی ۔ اور پری کو تو میں اسکول لے کر چلی جاؤں گی ۔"
"شمو کو کہوں گی ۔میرے آنے تک وہ گھر پر رہے گی" ۔ اس کی بات پر فوزان نے اسے تشکر آمیز انداز میں دیکھا تھا۔ ۔
"میں تم پر بوجھ نہیں ڈالنا چاہتا ۔‌"
"بوجھ نہیں ہے ۔اولاد ہے ۔" اس نے جیسے تصحیح کی ۔
"آپ بے فکر رہیں۔ آپکے دس  بچے بھی ہوں تو ان سب کے لیے میں حاضر رہوں گی۔ "
"پتا نہیں کس مٹی کی بنی ہو تم ۔ "وہ اسے تو صیفی نظروں سے نہارتا اٹھا تھا ۔

**********

اایک بار پھر رحیمہ بستر نشین ہو گئ تھی ۔اب پارلر جانا بھی اس نے چھوڑ دیا تھا ۔ دن بھر مزے سے حکم دیتی رہتی ۔ 
"باجی ۔یہ کر دو ۔ مجھے دودھ چاہیۓ۔ مجھے سیب کاٹ کر دیں ۔" اور بے شمار کام وہ اسے جان بوجھ کر کہتی۔ 
پہلی ڈلیوری میں وہ اس کے احسانوں تلے دب گئ تھی اور اب اس پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہی تھی ۔  چند سال ہی میں وہ اپنی سوتیلی ماں کا مکمل روپ لے چکی تھی ۔ 
وہ اس سے بالکل اپنی سوتیلی ماں کا سلوک دہرا رہی تھی ۔ 
اریشہ خاموش تھی تو بس اپنی بے بسی کو لیکر ۔ وہ ڈرتی تھی کہ کہیں رحیمہ اسے  بانجھ ہونے کا طعنہ نا دے ۔ 
اسے  اپنا آپ بے کار وجود لگنے لگا تھا ۔ کیوںکہ وہ فوزان کو اولاد کا سکھ نہیں دے پائ تھی ۔
امی کو بھی رحیمہ کا رویہ کھلنے لگا تھا ۔انہوں نے دبی زبان میں اریشہ کو کہا بھی کہ فوزان سے بات کر لو ۔اریشہ نے یونہی ہنس کر بات ٹال دی تھی ۔ 
ایک بار پھر اس کی حالت پھر کی جیسی  ہو گئ  تھی ۔گھر اسکول دواخانہ  اور کچن ان سب کے بیچ اسکی صحت کو جو نقصان پہنچ رہا تھا وہ کسی کو بھی نظر نہیں آرہا تھا ۔ اس بار بھی اس نے رحیمہ کی خدمت میں کوئ کسر نہیں چھوڑی تھی ۔ 
وہ اس بار بھی روز اس کا بی پی دیکھتی ۔ 
اس کے لیے اس کی پسند کا کھانا بناتی ۔اس کے چھوٹے چھوٹے کام بھی اس نے ہی کرنے تھے ۔ 
پری کو بھی سنبھالتی۔ رحیمہ نے پری کو بھی خود سے دور کر دیا تھا ۔‌وہ اپنی سگی ماں سے زیادہ اریشہ سے مانوس تھی 
فوزان کاکام کا بوجھ بہت بڑھ گیا تھا ۔ اسکے باس نے تین مہینے میں ایک بار جانے کی اجازت دی تھی ۔ اس لیے وہ بھی فون پر ہی بات کر پارہا تھا ۔ 

*******

نواں مہینہ شروع ہوا تو اریشہ نے آپی کو بلا لیا تھا کیونکہ فوزان کے باس نے چھٹی دینے سے منع کیا تھا ۔ 
آپی اور اریشہ ہی رحیمہ کو ہاسپٹل لائ تھیں ۔ 
ڈاکٹر نے آپریشن کے بعد بیٹی کی مبارک باد دی تھی ۔ 
"بیٹی "۔رحیمہ نے غصہ سے اریشہ کو دیکھا تھا ۔
"ہاں بیٹی بہت پیاری ہے ۔ بالکل فرشتوں جیسی۔ "اریشہ اسے بچی تھمارہی تھی۔ تب اس نے منہ پلٹا لیا تھا ۔ 
"نہیں باجی ۔مجھے تو بیٹا جاہیۓ۔ اس منحوس کو لے کر میں کیا کروں "۔تو اریشہ اسے بس تاسف سے دیکھ کر رہ گئ تھی۔۔
آپی تو رحیمہ کے انداز دیکھ کر دنگ رہ گئ تھیں .
"کتنی بدل گئ ہے یہ اریشہ ‌۔"
"جانے دیں آپی ۔"
ا"امی نے بتا یا تھا مجھے ۔کہ یہ تمہارے ساتھ اچھا نہیں رہ رہی ۔ مگر میں سمجھی امی وہم کر رہی ہیں ۔ رحیمہ تو بہت دبو قسم کی لڑکی لگی تھی ۔نکاح والے دن "۔وہ جیسے یاد کر ہی تھیں ۔ 
"اب اسے دنیا والے نۓ نۓ سبق پڑھا رہے ہیں ۔ اور وہ پڑھ رہی ہے ۔" اس نے باہر بنچ پر بیٹھ کر کہا تھا ۔
ا"اور فوزان ۔۔۔"۔وہ کچھ نہیں کہتا ۔ انہوں نے اسے غور سے دیکھا ۔
"آپی ۔فوزان کی طبعیت کیسی ہے آپ کو پتا ہے نا ۔ وہ مقابل کو موقعے دیتے ہیں  سنبھلنے کے ۔۔ فی الحال تو وہ اپنے کام کو لیکر بزی ہیں۔ ۔ اس لیۓ نظرانداز کر رہے ہیں" ۔
"اچھا ۔ لیکن اب اس پر  کنٹرول ر کھو ۔ کیسے کہہ رہی تھی ۔ مجھے بیٹا چاہیۓ "۔ انہوں نے اسکی نقل اتاری تھی ۔ 
اریشہ بس خاموش ہو گئ تھی

**********


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ