تیرے لیۓ ۔۔قسط9 complete
گھر میں پری کیا آئ ۔در ودیوار میں روشنی سی ہو گئ ۔ گھر جو تین نفو س کے ہو تے ہوۓ بھی ویران خاموش لگتا تھا اب پری کے آنے سے گونجنے لگا تھا ۔
امی کی گود میں وہ کھلکھلاتی تو رحیمہ کے پاس ہنستی ،فوزان سے منہ بنا بنا بات کرتی یا پھر گلا پھا پھاڑ کر روتی ۔انکو وہ ہر زاویہ سے اچھی لگتی ۔
گھر میں پری نہیں زندگی دوڑنے لگی تھی ۔
رحیمہ کو ابھی تین مہینے کا بیڈ رسٹ تھا ۔اور اریشہ ابھی بھی تندہی سے اس کی خدمت میں لگی تھی ۔ اب تو رحیمہ کے ساتھ پری کا بھی اضافہ تھا ۔
فوزان کی بہنیں بھائیوں نے بھی آ کر بچی کو دیکھ لیا تھا اور اب سب اریشہ کی تعریفیں کرتے نا تھک رہے تھے کہ اس کے ایک قدم نے گھر کو لازوال نعمت سے بہرہ مند کیا تھا ۔
********
اریشہ ۔اریشہ ۔فوزان اسے پکار رہا تھا ۔
"باجی قریبی مارکٹ گئ ہیں ۔" رحیمہ نے لیٹے لیٹے ہی کہا ۔ تھا ۔
"اوہ اچھا ۔یہ بچی کے پیپرز رکھ دینا ۔سرٹیفیکٹ ہیں" ۔وہ لفافہ اسے دے کر پری کے پاس چلا گیا ۔
"سو گئ کیا" ۔ وہ اسے جھک کر دیکھنے لگا ۔
"نہیں ۔"
ا"اچھا ۔ دیکھوں تو "۔ وہ اسے اٹھا نے لگا ۔
پری اسے دیکھ کر مسکرانے لگی تھی ۔ فوزان اس کی مسکراہٹ پر جیسے فدا ہو گیا اور وہ بھی اس سے اشاروں سے بات کرنے لگا تھا ۔رحیمہ اسے بڑی دلچسپی سے دیکھ رہی تھی۔
اے ۔۔ کہیں میرے کپڑے خراب نا کرنا ۔ ہاں ۔۔۔۔وہ اسے جیسے وارننگ دے رہا تھا ۔ رحیمہ بے ساختہ ہنس پڑی ۔
"نہیں باجی نے وہ ۔۔۔وہ پیمپر پہنا دیا تھا ۔ "
"چلو جی شکر خدا کا ۔"۔ وہ اسے گول گول گھمانے لگا تھا ۔کچھ دیر تک کھیل کر وہ اسے لٹا کر جا رہا تھا تو بے ساختہ رحیمہ پکار بیٹھی۔
"سنیۓ"۔ وہ رکا ۔
"کیا آپ کچھ دیر رک نہیں سکتے" ۔ وہ اس کی پشت پر نظر جماۓ ہوۓ تھی۔ فوزان کی جیسے تمام حسیات نے اس کے لہجہ کو شدت سے محسوس کیا تھا ۔ وہ پلٹا نہیں تھا لیکن اسے رحیمہ کی آنکھوں میں چھپا جذبہ بنا دیکھے ہی نظر آ گیا تھا ۔
"نہیں ۔ ابھی کام ہے مجھے"۔ وہ اسکے ہر جذبہ کو رد کرتاچلا گیا تھا ۔ کچھ تھا جو چھن سے ٹوٹا تھا رحیمہ کے اندر ۔وہ بس خاموش ہو کر رہ گئ۔
*******
شام میں وہ اریشہ کے کمرے میں تھا ۔
"کیا ہوا ۔ "وہ اسے دیکھ کر بریشان ہو گئ تھی۔
"کچھ بات کرنی تھی ۔تم سے ۔"۔ وہ جیسے تذبذب میں تھا ۔
"جی ۔کہیے۔ "
"اریشہ دیکھو ۔ میں سوچ رہا تھا کہ ۔۔۔۔۔"وہ اپنی بات پر خود ہی اٹک گیا ۔اریشہ اس کی پریشانی سمجھ نہیں پا رہی تھی ۔اسے بغور دیکھ رہی تھی۔
"رحیمہ کم عمر ہے ابھی ۔ تو کیوں نا ہم فری کو اپنے پاس رکھ لیں ۔اور۔اور رحیمہ ۔۔۔کو ۔۔۔۔"۔اٹکتے اٹکتے اس کے الفاظ ادا ہو رہے تھے ۔
ا"اور رحیمہ کو کیا ۔۔" وہ سوچ میں پڑ گئ
"وہ کم عمر ہے ۔اپنی زندگی ایک نۓ سرے سے شروع کر سکتی ہے اگر ہم بچی کو لیکر ۔"۔اس سے پہلے کہ وہ بات مکمل کرتا ۔ اریشہ نے اسے روک دیا ۔
"نہیں ۔ابھی کچھ نہیں ۔آپ یہ سوچ بھی کیسے سکتے ہیں ۔ فوزان ۔" وہ دکھ سے اسے دیکھ رہی تھی ۔
"اریشہ ۔میںاسے خرچہ دیتا رہوں گا۔ میں نہیں چاہتا وہ ہمارے بیچ آۓ۔ وہ آگے پرابلم کرے گی۔" وہ اب رسانیت سے کہہ رہا تھا ۔اسے قائل کرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔
"وہ ہمارے بیچ آ چکی ہے ۔ بلکہ "وہ رکی ۔
"وہ خود نہیں ہم لاۓ ہیں اسے بیچ میں ۔ اب وہ ہماری زندگی میں داخل ہو چکی ہے۔ اس کو اب اپنی زندگی سے ہم نکال نہیں سکتے ۔"
ااس کا لہجہ حتمی تھا ۔
ا"اور فوزان ۔آپ نے پری کے بارے میں سوچا ۔" وہ اب اسے دوسرے رخ پر توجہ دلا رہی تھی ۔
"وہ ماں کے بغیر کیسے رہے گی۔ ماں کا نعم البدل کوی نہیں ہوتا ۔ کیا وہ رحیمہ کی طرح بن ماں کے زندگی گذارے ۔ "
"کیا ہم اس کے بچپن کو خراب کر دیں گے ۔ ماں کے رہتے اسے ماں کی محبت سے محروم کریں گے۔" اسکی آواز بھرائ ۔
فوزان کے دل کو جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا ہو ۔
"پری" ۔ وہ رکا ۔
وہ اسے کیسے بھول گیا۔ وہ اپنی بیٹی کے ساتھ کیا کرنے جا رہا تھا ۔ وہ جیسے اپنے آپ پر لعنتیں کرنے لگا ۔
"تھینک یو اریشہ ۔ تم نے مجھے ایک غلط فیصلہ سے بچا لیا ۔لیکن اریشہ یہ اتنا آسان نہیں ۔ مجھے لگ رہا ہے کافی مشکل ہو گی۔آگے "۔ وہ الجھا ہوا لگ رہا تھا ۔
"فوزان ۔ ہر راستہ میں کانٹے ہو تے ہیں ۔ کنکر پتھر ہو تے ہیں اس سے بچ کر چلنا ہی ہماری کامیابی ہے ۔ رحیمہ مجبوری میں ہی سہی مگر اب وہ ہماری زندگی میں داخل ہو گئ ہے ۔ اب ہمیں جو بھی کرنا ہے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر طے کرنا ہے ۔ یہ راستے یونہی طے ہونے ہیں ۔ شاید یہی ہماری قسمت تھی ۔ "وہ بھی آزردہ تھی ۔اس کی الجھن بھی سمجھ رہی تھی اور اسے حوصلہ بھی دے رہی تھی ۔
ا"اگر آپ انصاف کو لیکر پریشان ہیں تو میں آپ کی اس کوشش میں کبھی دخل نہیں دوں گی "۔ اس نے رخ موڑا تھا ۔آواز پھر بھرا گئ تھی ۔
"مسئلہ تمہارا نہیں مسئلہ میرا ہے میں یہ سب کیسے مینیج کروں گا "۔اس کے لہجے میں تھکن تھی ۔
"ہو جاے گا سب ۔ جیسے اب تک ہو تا آرہا ہے ۔ آپ بس پریشان نا ہوں "۔ اس نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر جیسے اپنے ساتھ ہونے کی یقین دہانی کی تھی ۔ فوزان کے چہرے پر پھر بھی تفکر تھا ۔
***********
رحیمہ کے تین مہینے ہو گۓ اور وہ بھی گھر کی ذمہ داریوں میں حصہ لینے لگی تو اریشہ کو بھی کچھ آرام ملا تھا ۔ وہ پری کو لیۓ اس کے ساتھ کھیلتی رہتی ۔ جب اسے بھوک ہوتی وہ تبھی رحیمہ کو دیتی ۔ رحیمہ بھی خوش تھی ۔ وہ منٹوں میں کام نمٹاتی اور دونوں پھر جی بھر کر پری کے ساتھ کھیلتے ۔
فوزان نے بھی اپنے کام بڑھا لیے تھے ۔ وہ آفس سے دو گھنٹے لیٹ آ رہا تھا ۔ پوچھنے پر اس نے بتا یا کہ وہ اوور ٹائم کر رہا ہے ۔
"اوور ٹائم لیکن کیوں ۔" اریشہ تھوڑا پریشان ہوئ ۔
"میرا ارادہ ایک پلاٹ لینے کا ہے ۔اگلے کچھ مہینوں میں ۔" وہ صوفہ پر بیٹھا تھا ۔
"پلاٹ۔ کس لیۓ۔ "
"پری کے لیۓ ۔ مجھے اس کے نام ایک پلاٹ رکھنا ہے ۔ "
ا"اففوہ ۔آپ کو تو ابھی سے فکر ہو گئ کہ بیٹی ہو گئ تو اس کی شادی کرنی پڑے گی ۔" وہ ہنسنے لگی تھی ۔
"نہیں لیکن میرے خیال میں یہ غلط بھی نہیں ہے ۔ابھی سے کوششش کروں گا تو آگے کچھ سالوں میں کامیاب ہوں گا ۔"
اس کے لہجے میں دوراندیشی محسوس ہو رہی تھی ۔
ا"اچھا ۔ لیکنپلاٹ کتنے کا آۓ گا "۔ اب وہ بھی سنجیدہ ہو گئ ۔
"یہی کوئ پچیس لاکھ میں ۔"
"پچیس لاکھ "۔اریشہ کو حیرت ہوئ ۔
"ہاں اور وہ بھی شہر سے تیس چالیس کلو میٹر دور کا پلاٹ ہے یہ" ۔وہ اسے بتا رہا تھا ۔
"لیکن پلاٹ لینا ہے تو میرے پاس بھی کچھ کیش ہے اگر لینا چاہیں تو وہ بھی لے سکتے ہیں ۔ "
"نہیں ۔میں یہ اقساط میں خریدنا چاہتا ہوں ۔ کیش گھر میں ہو نا چاہیۓ ۔"اس نے رد کر دیا تو وہ بھی خاموش ہو گئ۔
"ہر مہینہ کتنی رقم کی قسط بھرنی ہے ۔" وہ اسے سوالیہ دیکھ رہی تھی ۔
"دس ہزار ۔ آگے شاید کم ہوں۔ ویسے بھی انسٹالمنٹ میں لیںتو زیادہ رقم ہی دینی پڑتی ہے "۔ وہ اسے سمجھا رہا تھا۔ اریشہ بھی سوچ میں گم تھی ۔
"مگر اپنی صحت پر بار نا ڈالیں ۔ آپ کو اپنی صحت کا خیال بھی رکھنا چاہیے "۔ وہ اسے اب نرمی سےآ گا ہ کر رہی تھی ۔
"ہاں ۔ فکر مت کرو ۔ویسے بھی میں پروموشن کے لیے بھی کوشش کر رہا ہوں ۔اگر پروموشن ہو گئ تو مجھے بنگلور میں شفٹ ہونا پڑے گا ۔ "
"آپ بنگلور چلے جائیں گے ۔"
"ہاں ۔لیکن مہینہ دو مہینہ میں آ جاؤں گا ۔ جیسے پہلے آیا کرتا تھا ۔ "وہ اب اسے تسلی دے رہا تھا جو اس کے جانے کا سوچکر افسردہ ہو گئ تھی ۔
***************
وہ ٹی وی لاونج میں بیٹھی تھی جب فوزان نے رحیمہ کو تیار ہو نے کا کہا تھا ۔
"پری کو کپڑے پہنا کر یہاں لاؤ ۔ اور تم جلدی سے تیار ہو جاؤ۔" وہ اسے ہدایت دے کر بیٹھا تھا ۔
"کہاں جانا ہے "۔ اریشہ بھی وہیں صوفہ پر ٹک گئ تھی ۔
"بری کو ویکسین لگوانے جانا ہے ۔ ہر مہینہ ایک ویکسین ہے ۔"وہ ٹی وی آن کر چکا تھا ۔
"اوہ اچھا ۔ ٹھیک ہے ۔"
وہ بھی ٹی وی دیکھنے لگی تھی ۔
کچھ دیر بعد رحیمہ پری کو لیۓ آئ تھی ۔ فوزان بھی اٹھ کھڑا ہوا اور پری کو گود میں لے لیا ۔
"ہم جا کر آتے ہیں باجی ۔" رحیمہ مسکرا کر بولی تو اس نے بھی خوشدلی سے سر ہلا یا تھا ۔
"اچھا ۔جاؤ۔"
وہ دونوں چلے گۓ تو امی نے اسے آواز دی تھی ۔ وہ بھی وہیں لیٹی تھیں ۔
"جی امی ۔" وہ انکے قریب گئ ۔
"بیٹا ۔ کچھ اپنے آپ پر بھی دھیان دیا کرو ۔ کیا حالت بنا لی ہے تم نے ۔" وہ اسے افسوس سے دیکھ رہی تھیں ۔
"ارے امی ۔آج تو ویسے بھی چھٹی تھی ۔بس اس لیۓ"۔ وہ ہلکا سا ہنس کر بو لی ۔
"کچھ نہیں اپنے آپ کو بنا سنورا کر رکھو بیٹے ۔ ایسے نہیں رہا کرو ۔" وہ اسے درپردہ کیا سمجھانا چاہ رہی تھیں ۔ وہ سمجھ گئ تھی ۔
"جی ٹھیک ہے"۔ وہ انہیں لٹا کر خود اپنے بیڈ روم میں آگئ تھی ۔ اور آئینہ میں اپنے آپ کو دیکھا ۔ وہ حسین تھی ۔ لیکن یہ حسن اب ماند پڑتا جا رہا تھا ۔
بال الجھے الجھے سے رہنے لگے تھے ۔
وہ اپنے آپ سے لا پرواہ ہو تی جا رہی تھی ۔
"امی ۔ ہم دونوں کے لیۓ اب یہ ساری چیزیں بے معنی ہو گئ ہیں ۔ اگر میں ایسی رہوں یا بن سنور کر ۔ فوزان کو اس سے فرق نہیں پڑتا ۔۔"۔ اسکے لبوں پر مسکراہٹ آگئ ۔
ڈریسنگ سے پھر بھی کنگھا لیا ۔ سوچا بال ہی سنوار لے ۔
"نہیں بس ایسے ہی ٹھیک ہوں" ۔بلآخر اس نےخود ہی فیصلہ کر لیا ۔کنگھا وہیں رکھ کر وہ آئینہ کے قریب سے ہٹ گئ تھی۔ ۔
۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں