تیرے لیۓ ۔۔۔قسط 8 completed
تیرے لیۓ ۔۔۔قسط تیرہ
ا" میں آفس جا رہا ہوں ۔ کچھ منگوانا ہے تو بول دو "۔ وہ شوز کے لیز باندھ رہا تھا ۔
اریشہ پلیٹ میں سیب کاٹ کر رحیمہ کو دے رہی تھی۔ اور اسے کھانے کے لیۓ اصرار بھی کر رہی تھی ۔
"مجھے تو کچھ نہیں منگوانا" ۔اریشہ نے سیب کاٹ دیے تھے اور کچن میں چلی گئ تھی ۔
ا"اور تمہیں ۔۔ "وہ جوتوں کے لیز باندھ کر سیدھا کھڑا ہوا تھا ۔وہ رحیمہ سے مخاطب تھا ۔
رحیمہ جو بڑی مجبوری سے سیب کھا رہی تھی اس کے مخاطب ہو نے پر بری طرح نروس ہوئ ۔
"ہاں ۔ اگر تمہارا دل کچھ کھانے کو چاہ رہا ہے تو ۔۔"وہ نرمی سے بولا ۔
"مجھے تو جی بس کھٹا کھانے کو جی چاہ رہا ہے" ۔وہ بڑی بے چارگی سے بولی تھی۔
"کیا ۔"وہ بے ساختہ ہنسا تو ہنستا چلا گیا تھا ۔
"کیا ہوا آپ کو اتنا کیوں ہنس رہے ہیں "۔ اریشہ کچن سے واپس آئ تو اسے یوں ہنستا دیکھ کر پو چھ بیٹھی تھی ۔
"کچھ نہیں ۔بس اس نے اتنے ٹیپیکل انداز میں کہا کہ مجھے کھٹا کھا نا ہے تو مجھے ہنسی آگئ۔" وہ ابھی بھی ہنسے جا رہا تھا ۔ رحیمہ تو بول کر پچھتا رہی تھی ۔
"ہاں تو لے آئیں ۔ ہر قسم کے اچار ۔لیموں کا ،ٹماٹر کا ،ترکاری کا' مرچی کا اور ہاں آم کا اچار نا بھولیں ۔ اریشہ نے تنبیہی انداز میں کہا تو وہ ہنسی دباتا چلا گیا تھا ۔
"باجی "رحیمہ اس سے مخاطب تھی ۔
"یہ اتنا کیوں ہنس رہے تھے" ۔
"کچھ نہیں ۔ خوش بہت ہیں موصوف ۔باپ جو بننے جا رہے ہیں "۔ اس کے چہرے پر بھی مسکراہٹ تھی ۔
ا"اچھا "۔رحیمہ حیران ہوئ یہ سوچ کر کہ وہ اس کی وجہہ سے خوش تھا کیونکہ ماں وہ بن رہی تھی ۔اریشہ نہیں۔
یہ خوشی میں دے رہی ہوں ۔ یہ احساس ہی اسے خوش کر گیا تھا ۔ ہنستا ہوا فوزان اسے بہت اچھا جو لگا تھا ۔
ا"اچھا چلو اب تم آرام کر لو ۔ ساری دوائیں کھالی تم نے ۔" اریشہ نے اسے کہا ۔
"جی کھا رہی ہوں "۔اس نے اپنی دوائیں اٹھائ تھیں ۔اور پانی کے لیۓ اٹھ رہی تھی ۔تو اریشہ نے اسے روکا ۔
"ٹہرو میں لاتی ہوں ۔" وہ کچن میں گئ اور کانچ کے گلاس میں پانی لے آئ ۔
رحیمہ نے گلاس لیا اور ساری دوائیں کھائیں۔
"شکریہ باجی ۔ آپ کتنی اچھی ہیں ۔ اگر میری ماں ہوتی تو شاید وہ بھی اتنا نا کرتی "۔اس کے لہجہ میں بے حد ممنویت تھی ۔
ا"ایسا کچھ مت سوچو ۔ اللہ تعالی نے تمہیں ہمارے گھر بھیجا ہے تم ہمارے گھر میں خوشیاں لیکر آئ ہو ۔ اس سے بڑھ کر ہمیں اور کیا چاہیۓ۔" وہ بہت محبت سے کہہ رہی تھی ۔
"مجھے اپنے گھر میں کبھی نا اتنی محبت ملی نا عزت ۔ "وہ آج اعتراف کر رہی تھی ۔
"تم اب اس گھر کی عزت ہو ۔ سمجھیں ۔ کوئ تمہیں اب بے عزت نہیں کر سکتا ۔ تمہارا نام اس گھر سے جڑا ہے ۔اس لیۓ اچھا سوچو ۔ خوش رہو ۔" وہ اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہہ رہی تھی ۔ رحیمہ کے آنکھ میں بس تشکر کے آنسو آگۓ تھے
***********۔
اب اریشہ پر ایک طرح سے دوہری ذمہ داری پڑ گئی تھی ۔ ایک جانب اسے اپنی جاب دیکھنی تھی تو دوسری جانب رحیمہ کی اور امی کی دیکھ بھال ۔ دونوں کا حال تقریباً ایک جیسا ہی تھا ۔
آامی چلنے پھرنے سے قاصر تھیں اور رحیمہ کو چلنے پھرنے
سے منع کیا گیا تھا ۔
ااس کی صبح فجر سے ہوتی تھی۔ وہ نماز اور قرآن کی تلاوت کر کے کچن میں گھستی تھی۔ فوزان جب بھی ہوتا اس کا ناشتہ اور لنچ اسے ساتھ ہی بنانے ہوتے تھے۔ وہ روٹی اور دو سالن بناتی جبکہ امی کو اسے صبح دودھ دینا ہو تا تھا ۔اب اس میں رحیمہ بھی شامل تھی۔
خود وہ ایک کپ کافی کے ساتھ اپنی صبح کرتی تھی ۔جیسے ہی ناشتہ ہو تا اسے کام والی شمو کے پیچھے لگ کر گھر صاف کروانا ہو تا تھا ۔ ملازماؤں کے ساتھ جب تک سامنے ٹہر کر کام نا کر وایا جاۓ وہ ٹھیک سے کام نہیں کرتے ۔یہ اس کا ماننا تھا ۔ جیسے ہی گھڑی نو بجاتی ۔وہ اسکول کے لیۓ تیار ہونے چلی جاتی ۔وہ چار بجے تک آ جاتی تھی ۔تب تک اس نے شمو کو رکنے کے لیے کہہ دیا تھا ۔ وہ امی کو رحیمہ کو دوبہر کا کھانا کھلا دیتی تھی اور چھو ٹے موٹے کام نبٹا لیتی ۔
اریشہ کے آنے تک وہ رکتی تھی پھر وہ بھی اپنے گھر چلی جاتی۔
مغرب تک فوزان آتا تو وہ رات کا کھانا بنا رہی ہو تی تھی ۔رات کا کھانا وہ سب ساتھ کر لیتے ۔اس کے بعد فوزان اپنے آفس کا کام لیپ ٹاپ پر کرتا اور وہ اپنے اسکول کے کام کر لیتی ۔ دس بجے تک وہ اتنا تھک جاتی کہ وہ اکثر بیٹھے بیٹھے سو جاتی ۔
اس کی حالت دیکھ کر فوزان نے اس کا ہاتھ بٹانے کی کوشش کی تھی ۔اور اسے دن میں تارے نظر آۓ تھے ۔
وہ گھر کے چھوٹے چھوٹے کاموں کو نظرانداز کر لیا کرتا تھا اب سمجھ آ رہا تھا کہ وہ کتنے زیادہ ہوتے ہیں اور کتنی تھکاوٹ ہوتی ہے ان چھو ٹے موٹے کاموں کو کر کے ۔
ایسے میں وہ اسے کبھی کافی بنا کر دے دیتا ۔اریشہ بس اسے تشکر آمیز نظروں سے دیکھتی رہ جاتی ۔
اس نے رحیمہ کے لیۓ بی پی مانیٹر بھی منگوالیا تھا ۔وہ روز صبح شام اس کا بی پی چیک کرتی ۔ اور اس کے مطابق ہی وہ اسے غذا دے رہی تھی ۔
اب رحیمہ کا ساتواں مہینہ تھا وہ دن بہ دن وزنگین کر رہی تھی۔ اس کے پیروں پر سوجن آرہی تھی ۔ جس کے لیۓ اریشہ اسے روز ٹب میں گرم پانی رکھ کر دیتی تاکہ کچھ آرام ہو ۔
رحیمہ کا ہر مہینہ چیک اپ بھی اریشہ ہی کی ذمہ داری تھی۔ وہ ان دنوں میں اپنے آپ کو بھی بھولی ہو ئ تھی۔
نوے مہینے تک ان دونوں کی دھڑکنیں تیز ہونے لگی تھیں ۔اریشہ نے رحیمہ کے ساتھ ہی اپنا بیڈ لگا لیا تھا ۔وہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر رحیمہ کو دیکھتی رہتی کہ کہیں کچھ ایمیرجنسی نا ہو حالانکہ کہ ڈاکٹر نے کہا تھا کہ ڈلیوری نارمل نہیں ہو گی۔ آبریشن ہوگا لیکن اریشہ کو پھر بھی دھڑکا سا تھا کہ پتا نہیں وہ یہ سب کیسے سنبھال پاۓ گی۔
رات کے تین بجے تھے جب رحیمہ نے ہلکے ہلکے درد کی شکایت کی ۔وہ جو اسکی آواز سے اٹھ بیٹھی تھی جلدی سے فوزان کو بلا لائ تھی
اب وہ دونوں اسے کار میں لیۓ ہاسپٹل کی جانب رواں تھے۔ رحیمہ کو ڈاکٹر نے ایڈمٹ کر لیا تھا ۔
"کل صبح ان کا آپریشن ہو گا" ۔وہ کہتی چلی گئ تھیں ۔
اسے روم میں شفٹ کر کے وہ دونوں باہر آگۓ تھے ۔
آ"آرام کر لو اب ۔کچھ دیر سونا ہے تو سو جاؤ ۔" فوزان وہیں ایک بنچ پر بیٹھ گیا تھا ۔
"اب کہاں نیند آۓ گی"۔ وہ بھی ساتھ ہی بیٹھ گئ۔
"اس کی سو تیلی ماں کو بتا دیا تھا ۔اس نے تو بلکل پلے ہی جھاڑ لیۓ ایک بار آ کر دیکھا تک نہیں "۔ فوزان کو اچانک ان دونوں کے اکیلے پن کا احساس ستا گیا تھا ۔ اس کی اپنی دونوں بہنیں سسرالوں میں تھیں ۔وہ کسی کو بھی بلا نہیں پایا تھا جبکہ رعنا وغیرہ کے لیۓ یہ زبردستی کی خدمت تھی ۔ کہ خود ہی دعوت دے لی ہے ۔خود ہی کر لیں ۔والا انداز تھا ۔
"میں نے انہیں اطلاع دے تو دی ہے ۔لیکن مجھے انہوں نے پہلے ہی کہا تھا کہ وہ یہ سب ذمہ داری نہیں اٹھائیں گی"۔ اس نے اپنے بیگ سے۔ چھوٹی پاکٹ سایز پنج سورہ نکالی تھی ۔ اور دوپٹہ لیۓ پڑھنے بھی لگی تھی۔
فوزان نے کچھ نہیں کہا تھا ۔بس خاموش ہو گیا تھا ۔
*********
اگلی صبح آٹھ بجے کے قریب ڈاکٹر نے رحیمہ کو آپریشن تھیٹر شفٹ کیا تھا اسکے ساتھ اریشہ اسکا ہاتھ پکڑے تھی ۔ رحیمہ بار بار روۓ جا رہی تھی ۔کہ تجربہ نہیں تھا ۔
وہ اسے تسلی دے کر باہر آگئ تھی۔ اس کے اپنے چہرے پر بھی فکر تھی ۔
"یہ کافی لو ۔اریشہ "۔ وہ اسے کپ تھمارہا تھا ۔
وہ کپ لیۓ پھر سے بیٹھ گئ لیکن دل مارے اضطراب کے جیسے تیز تیز دھڑک رہا تھا ۔
ا"ایک گھنٹے بعد نرس باہر آئ تھی۔ آسکے ہاتھ میں بچہ تھا ۔
"مبارک ہو جی ۔بیٹی ہوئ ہے ۔" وہ فوزان کو دیتی کہہ رہی تھی۔
اریشہ بھی لپک کر آگئ تھی ۔
بے حد خوبصورت سرخ سرخ گالوں والی بیٹی کو دیکھ کر فوزان اس کی طرف لپکا ۔اور بے ساختہ اس کے ماتھے پرلب رکھ دیۓ۔
ا"اریشہ یہ لو ۔تمہاری بیٹی۔" وہ اسے اس کے گود میں دے رہا تھا ۔اس نے اسے گود میں لیا تو ایسے لگا جیسے زندگی مکمل ہوگئ ۔
آآنکھ سے ایک تشکر کا آنسو ٹپکا ۔
"میری بیٹی۔ فوزان "۔اس کے لب کانپے۔
"ہاں تمہاری بیٹی۔ کیونکہ اس کے پیچھے تم نے ہی بہت محنت کی ہے"۔ وہ مسکراتے کہہ رہا تھا ۔
"ہاں ۔میری بیٹی ۔"اس نے اسے اپنے گالوں کے ساتھ لگا یا ۔
"بہت پیاری ہے۔" وہ روتے روتے ہنسنے لگی۔
"چلیں رحیمہ کو دیکھ آتے ہیں" ۔ وہ بچی کو لیۓ اندر گئ تھی ۔فوزان بھی اس کے پیچھے تھا ۔
"کیسی ہو رحیمہ "۔وہ اس کے بیڈ کے قریب ٹہر ی تھی ۔
"جی باجی اچھی ہوں ۔بس کمر میں بہت تکلیف ہے ۔" وہ کراہی تھی ۔ فوزان نے چونک کر اسے دیکھا تھا ۔
"ہاں ۔وہ انجکشن لگاتے ہیں تو ہوتا ہے ۔ فکر مت کرو ۔وقت کے ساتھ درد کم ہو جاے گا "۔ وہ بچی کو گود میں ہی لیۓ ہوۓ تھی ۔
"دیکھی اپنی بیٹی ۔" اس نے صورت بتانی چاہی۔
"جی ۔نرس نے سب سے پہلے دکھائ تھی"۔اس کی آواز میں بھی تکلیف محسوس ہو رہی تھی ۔
فوزان جو اسے چپ چاپ دیکھ رہا تھا ۔اس کے قریب آکر کہا تھا ۔
"تھینک یو ۔ "اس نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھاتھا ۔ رحیمہ چونک کر کر اسے دیکھ رہی تھی ۔ اسکا یہ انداز اس نے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ شاید اس کی تکلیف محسوس کر تے ہوۓ اس کا دل نرم پڑا تھا ۔ یہ کیسا احساس تھا جو اسے کبھی محسوس نہیں ہوا ۔ یوں جیسے فوزان کی محبت آہستہ آہستہ اندر اتر رہی ہو ۔
اریشہ نے بچی بے بی کاٹ میں ڈال دی تھی ۔
"کیا نام سوچا ہے" ۔ فوزان پوچھ رہا تھا۔ ۔
"فریحہ ۔جس میں آپکے نام کا ف بھی ہو گا اور ہم دونوں کے نام سے ملتا ہوا بھی ۔کیسا ہے ۔ "
"بہت اچھا ۔میںاسے پری کہوں گا ۔" وہ پھر بے بی کاٹ کی طرف چلا گیا تھا ۔ جیسے بار بار دیکھ کر بھی دل نا بھرا ہو ۔
وہ اس کی بے قراری دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔
۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں