تیرے لیۓ ۔۔قسط 6 complete
تیرے لیۓ ۔۔۔قسط 6
امی ناشتہ کی ٹیبل پر بیٹھی تھیں جب انہوں نے سیڑھیوں سے اریشہ اور رحیمہ کو آتے دیکھا۔
وہ رحیمہ کا ہاتھ پکڑے مسکراتے اتر رہی تھی ۔
رحیمہ میرون جوڑے میں سر پر دلہن کے انداز میں دوپٹہ ڈالے آرہی تھی ۔ انہوں نے اریشہ کو دیکھا ۔وہ ہلکے رنگ کے کاٹن کے کپڑوں میں ملبوس سادگی کا پیکر بنی ہوئ تھی ۔اس کے چہرے پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں نمی سی محسوس ہوئ تھی انہیں ۔ ان کا دل بے اختیار بھر آیا ۔لیکن انہوں نے ضبط کر لیا ۔
"آو ۔آؤ ۔بیٹی بیٹھو ۔ "انہوں نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔
رحیمہ جھجھکتی بیٹھ گئ تھی۔
"فوزان کو بھی بلا لیتیں ۔" انہوں نے اریشہ کو مخاطب کیا ۔
"وہ باہر گۓ ہیں امی ۔آئیں گے تو ناشتہ دے دوں گی۔ آپ شروع کریں ۔" وہ نظریں چراتی بیٹھی تھی۔
"اچھا ۔لو بیٹی ۔کیا کھاؤ گی۔" اب وہ رحیمہ کو پوچھ رہی تھیں ۔
رحیمہ کے حلق میں نجانے کیوں گولے پھنسنے لگے تھے ۔
اسے گذرے دن یاد آگۓ۔ جب اسے کھانا کھانے کے لیۓ کئ گالیاں سننی پڑتی تھیں ۔اکثر اسے باسی روٹی ملتی آخری بچے ہوۓ سالن کے ساتھ ۔
سب کے ساتھ تو اس نے کبھی کھایا ہی نہیں تھا ۔اس کو اتنی محبت اور عزت سے کبھی کسی نے کھانے کے لیۓ نہیں کہا تھا ۔
ا"اریشہ اکثر تمہارا ذکر کرتی تھی ۔"امی اس کے پلیٹ میں قورمہ ڈالتے کہنے لگیں ۔
"جی ۔"
" ۔ اکثر تمہارے لیۓ پریشان بھی رہتی تھی"۔ وہ جیسے اس کی معلومات میں اضافہ کر رہی تھیں ۔
"باجی کبھی کبھی مجھے ساتھ ہی کھانا کھلا لیتیں اور کبھی کبھی پیسے بھی دیا کرتیں ۔ باجی بہت اچھی ہیں ۔وہ اریشہ کو دیکھتی بہت دھیمیے لہجہ میں کہہ رہی تھی۔
امی مسکرا کر اریشہ کو دیکھنے لگیں ۔
"ہاں ۔اچھی تو بہت ہے اور ہمدرد بھی ۔" اریشہ اپنی تعریف پر جھینپ سی گئ ۔
ا"اور لو رحیمہ ۔یہ چکھ کر دیکھو" ۔وہ کباب وغیرہ اسے دینے لگی تھی۔ تبھی فوزان آگیا تھا ۔
"اریشہ ۔میرا بیگ پیک کر دینا ۔مجھے دو دن بعد شہر کے لیۓ نکلنا ہے ۔" وہ سنجیدگی سے کہتا اوپر جا رہا تھا ۔
"ٹھیک ہے ۔ناشتہ تو کر لیں۔ "اس نے جلدی سے کہا ۔
"نہیں کچھ دیر سے کروں گا ۔" وہ سپاٹ سے لہجے میں کہتا اوپر چلا گیا تھا ۔
وہ جو اسے دیکھ کر کھڑی ہو گئ تھی ۔ بیٹھ گئ اور خاموشی سے ناشتہ کرنے لگی۔ ایک نا محسوس سی خاموشی در آی تھی ۔ وہ دونوں ہی ایک دوسرے سے کترا رہے تھے۔ ایک عجیب سی دیوار انکے بیج آگئ تھی۔
فوزان دو دن گذار کر چلا گیا تھا ۔وہ اکثر ہفتہ دو ہفتہ کے لیے جاتا رہتا تھا۔
اریشہ رحیمہ کی دل بہلای کے لیۓ اس کے ساتھ رہتی ۔اسے لیۓ کچن میں نے نۓ ڈشز بنانا سیکھاتی۔ وہ ہر روز اسے کچھ نیا کرنے کے لیے دیتی اور اس کی بھر پور حوصلہ افزائ کرتی تھی۔
فوزان واپس آیا تو اس کی روٹین وہی تھی ۔اس کا کام اور یہاں کی آفس میں جانا اور رات دیر گۓ آنا ۔ اریشہ نے اپنا کمرہ نیچے سٹ کر لیا تھا جبکہ رحیمہ کو اس نے اوپر والا کمرا دیا تھا۔ وہ جان بوجھ کر فو زان سے کتراتی ۔اس نے اپنے آپ کو فوزان سے بلکل الگ کر لیا تھا ۔
ا"اریشہ میرے کپڑے تو نکال دو۔ "وہ سیڑھیوں کے پاس ٹہرا اسے آواز دے رہا تھا ۔
ا"اچھا جاؤ۔ رحیمہ فوزان کے کپڑے تو نکال دو "۔ وہ خود کچن میں کھڑی اسے اوپر بھیج چکی تھی۔
رحیمہ الماری کے پٹ پکڑے پریشان سی تھی ۔
وہ واش روم سے آیا تو اسے دیکھ کر ٹھٹھک گیا ۔
"تم کیوں آگئیں"۔اسے دیکھ کر ایک عجیب سی کوفت فوزان کو ہوتی تھی
"وہ باجی نے کہا تھا ۔کپڑے نکالنے کو ۔"وہ اس کے لہجے سے گھبرا کر بولی۔
ا"اپنی باجی ہی کو بھیجو ۔اگرتمہیں آتا تو میں اسے کیوں آواز دیتا" وہ ناگوار سے انداز میں بیڈ پر بیٹھ گیا تھا ۔
رحیمہ اس کے انداز پر پھر سے نیچے بھاگ۔ گئ تھی۔
"باجی ۔وہ تو آپ کو بلا رہے ہیں "۔اس کی آواز پر اریشہ نے اسے دیکھا ۔وہ کچھ خاموش سی کھڑی تھی۔
ا"چھا ۔میں دیکھ کر آتی ہوں" ۔وہ اوپر چلی گئ۔
فوزان اپنے کپڑے خود ہی نکال چکا تھا ۔
"رہنے دو ۔ کل سے میں خود ہی نکال لوں گا" ۔وہ اپنے شرٹ کے بٹن لگاتا بولا ۔
"میں رحیمہ کو سمجھادوں گی۔ کل سے وہ خود نکالے گی۔" وہ خاموشی سے کہتی پلٹ گئ۔
"کیا یہ ضروری ہے ۔" وہ پیچھے سے بولا تھا ۔
"ہاں ۔آپ آئندہ سے اس سے اچھے طریقہ سے پیش آئیں "۔ وہ اپنی بات مکمل کرتے نیچے اتر گئ تھی۔یہ دیکھے بنا کہ اسکی بات سے فوزان کے چہرے پر کتنے اداس رنگ بکھر گۓ تھے ۔۔
********
اریشہ اپنے رحیمہ اور فوزان کے بیچ ایک باہم تعلق بنا نا چاہتی تھی۔ وہ درمیان کی دیوار ڈھانے میں مصروف تھی ۔ کیونکہ فوزان نے نکاح تو کر لیا تھا ۔اور حقوق بھی ادا ہو رہے تھے ۔لیکن انکے بیچ جو خاموشی تھی وہ اسے سرگرم گفتگو میں بدلنا چاہتی تھی۔ اور وقت کے گذرتے فوزان نے اپنے اور رحیمہ کے بیچ جو اجنبیت تھی اس کو دور کرنے کی کوشش کی تھی ۔ کسی نا کسی حد تک اس نے رحیمہ کے وجود کو قبول کر لیا تھا ۔
اس وقت وہ ٹی وی لاؤنج میں صوفہ پر بیٹھا تھا۔تبھی اس کا سیل بجا تھا ۔
ا"السلام علیکم بھابھی۔ جی سب خیریت ۔ہاں سب ٹھیک ہے ۔"وہ فون کان کو لگاۓ بات بھی کر رہا تھا اور ریموٹ سے چینل بھی بدل رہا تھا ۔
"کیا کس کی دعوت ۔اچھا اچھا عقیقہ کی۔ کب ہے ۔ اوکے ."
"ہاں ٹھیک ہے ۔وہ ۔۔۔۔"۔شاید فون پر رعنا بھابھی تھیں اریشہ کو پوچھ رہی تھیں ۔
"وہ تو کچن میں ہے ابھی بلاتا ہوں ۔" اس نے اشارہ سے اریشہ کو آنے کے لیے کہا تھا ۔وہ جو متوجہ تھی ۔فورا آگئ۔ اور فون لے لیا تھا ۔
ا"اریشہ کل تم اور فوزان ہمارے گھر مدعو ہو ۔بڑے بچہ کا عقیقہ رکھا ہے ۔ دوپہر سے ہی آجاؤ تم دونوں ۔" وہ جلدی جلدی کہتی فون رکھ رہی تھیں کہ اریشہ نے انہیں ٹوک دیا ۔
"بھابھی آپ نےر حییمہ کو نہیں بلایا ۔ وہ بھی ہمارے ہی گھر کا حصہ ہے اب ۔"
بھابھی کچھ پل خاموش ہو گئی تھیں۔
ا"اریشہ ۔۔۔ٹھیک ہے تم سب آجانا امی تو شاید نا آئیں ۔ میں ان کے لیۓ کھانا بھجوادوں گی۔ ٹھیک ہے ۔ "
"جی شکریہ ۔بھابھی"۔ اس نے فون رکھ دیا تھا ۔
"رحیمہ کل دعوت ہے بھابھی کے پاس۔ ہم سب جائیں گے۔اس نے رحیمہ کو دیکھ کر کہا تو رحیمہ خوش ہو گئ۔
"سچ باجی ۔"
"ہاں کل کے لیۓ تیاری کر لو "۔ اس نے اسے دیکھ کہا ۔فوزان خاموشی سے اٹھ کر چلا گیا تھا اور وہ دونوں کل کے لیۓ اپنے کپڑے منتخب کرنے میں مصروف ہو گئیں ۔
**********
صبح وہ اور رحیمہ کچن میں تھیں ۔فوزان ٹیبل پر اخبار لیۓ بیٹھا تھا ۔تب اچانک رحیمہ نے منہ پر ہاتھ رکھا اور واش بیسن کی طرف بھاگی تھی۔
۔
۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں