تیرے لیۓ قسط 5 completed

 تیرے لیۓ ۔۔۔قسط 5 

گھر بہنچنے تک گاڑی میں وہ ،رحیمہ فوزان اور امی ہی رہ گئ تھیں ۔سب سے پہلے اس نے رحیمہ کو اس کے کمرہ میں پہنچایا تھا ۔امی تو لباس تبدیل کر کے سونے چلی گئ تھیں ۔ اس نے فوزان کو دیکھا تو وہ نجانے کہاں تھا ۔

اس نے اندر دونوں کمرے دیکھ لیۓ ۔ہال بھی دیکھ لیا ۔ 

"کیا اوپر چلے گۓ "۔ آس نے ایک نظر اوپر ڈالی تھی ۔ 

پھر پر سوچ سی وہ اپنے کمرے میں جا رہی تھی کہ فوزان اس کے سامنے آ گیا ۔‌

"رک جاؤ ۔اریشہ "۔ اس کی آنکھیں سرخ ہوئ جا رہی تھیں ۔ 

آ"آپ ۔ اوبر نہیں گۓ ابھی ۔ جاییۓ ۔رحیمہ کیا سوچے گی۔" وہ خود کو مضبوط بناتی اس طرح کہہ رہی تھی جیسے یہ سب نارمل ہو اس کے لیۓ۔ 

"آج جو کچھ کیا تمہارے لیۓ کیا ۔ تمہاری مرضی تمہاری خواہش پر اپنی محبت بھی تقسیم کر لی۔ اب اتنا تو پوچھ لو ۔۔

دل کٹ گیا ہے اسے کیسے رفو کروگے۔ ۔ 

اس دل کے زخم کیسے بھروگے۔

ایسے اجنبی بن کر تڑپاؤگی تو کیسے 

برداشت کروگے ۔ بولو اریشہ ۔ 

آج کچھ پل مجھے بھی دو تو میں اپنے زخمی دل کی داستاں سناؤں "۔ وہ اس کے ہاتھ تھامے اسے دیکھ رہا تھا ۔

وہ جو آج اس کے ساتھ مکمل اجنبی بن کر اسے نظر انداز کر کے اپنا کمرا بند کر دینا چاہ رہی تھی۔ وہیں لب بستہ ٹہری رہی۔ 

سچ کہہ رہا تھا وہ ۔‌

"فوزان" ۔اس نے دھیرے سے کہا ۔

"آپ سچ کہہ رہے ہیں ۔دلوں کے یہ زخم ابھی تازہ ہیں ۔آج ہم دونوں اس مقام بر ہیں کہ ہم دونوں ایک ہی تکلیف ایک ہی وقت میں محسوس کر رہے ہیں ۔یہی ہماری محبت کی معراج ہے ۔" وہ رکی۔ 

"آج تک ہمارے بیچ کوئ تیسرا نہیں آیا ۔ اور میں آنے بھی نہیں دوں گی ۔لیکن میں نے رحیمہ کو اپنی چھوٹی بہن بنا یا ہے اس کو کوئ تکلیف نہیں پہنچنی چاہیۓ ۔ بس اتنی گذارش ہے آپ سے"۔ وہ اپنی آنکھوں میں التجا لیۓ کھڑی تھی ۔ فوزان اسے چپ چاپ دیکھ رہا تھا ۔ 

رات اپنے فسوں کے ساتھ دھیرے دھیرے گذر رہی تھی ۔ 

ا"اریشہ ۔میری طرف دیکھو" ۔‌وہ اس پر نظریں جماۓ بولا ۔تو نظر چراتی اریشہ کو اسے دیکھنا پڑا ۔ 

اور وہاں ان آنکھوں میں اس کے سوا کوئ نہیں تھا ۔

ایسے لگ رہا تھا ان دونوں کے پاس سارے الفاظ ختم ہو گۓ ہوں ۔ اور خاموشی کی گفتگو آنکھوں سے جاری ہو۔‌

کچھ نا کہو ۔ کچھ بھی نا کہو ۔

کیا کہنا ہے ۔کیا سننا ہے ۔

سمے کا یہ پل تھم سا گیا ہے ۔

اور اس پل میں کوئ نہیں ہے 

بس ایک تم ہو ۔بس ایک میں ہوں ۔‌

کچھ نا کہو ۔ کچھ بھی نا کہو ۔۔

نجانے کتنے پل گذر گۓ ۔‌بلآخر اریشہ نے نظریں جھکالیں ۔ اور آہستگی سے پلٹ گئ۔ 

اآپ جائیں فوزان "۔‌

"بہت ظالم ہو ۔اریشہ "۔ وہ دھیرے سے بولا ۔

"ہاں ظالم تو ہوں ۔آپ کے ساتھ ساتھ خود پر بھی تو ظلم کیا ہے میں نے ۔"

وہ دھیمے سے گلو گیر لہجے میں  بولی ۔

"تم مضبوط بننے کی کوشش تو کر رہی ہو ۔مگر میں جانتا ہوں ۔تم بکھر رہی ہو۔ ٹوٹ رہی ہو ۔ مجھے کسی اور کو سونپ کر تم مجھ سے دور نہیں جاسکتیں "۔وہ اس کی آنکھوں میں تکتے جذب سے کہہ رہا تھا ۔ 

"تم مجھے ہارنا چاہتی ہو ۔" ان آنکھوں میں سوال تھا ۔

"ہاں میں آپ کو ہار کر آپ کو جیتنا چاہتی ہوں "۔اس نے اپنی آنکھوں  میں پورے جذبے سموۓ تھے ۔ 

"آپ کیا مجھے ہرانا چاہتے ہیں ۔" اس نے پھر آنکھوں سےسوال کیا ۔

"نہیں ۔میں وعدہ کرتا ہوں ۔میں تمہیں کبھی ہارنے نہیں دوں گا ۔"

"اور میں بھی ۔میری جیت میری ہار آپ ہیں فوزان بس آپ" ۔اس نے کہا اور پلٹ گئ۔ 

 

پھر دروازہ پر ٹہر کر اس نے دیکھا ۔فوزان اپنے دونوں ہاتھو ں کو بہت ہسختی سے جکڑے  اپنا اضطراب چھپا نے کی کوشش کر رہا تھا۔

"میں  تھک گئ ہوں فوزان ۔ "اس کی آواز میں التجا تھی ۔وہ اسے اپنا مان رکھنے پر مجبور کر رہی تھی ۔ فوزان  یکدم پلٹ گیا تھا ۔اور بنا اسے دیکھے  چلا گیا تھا یوں کے پلٹا تو پتھر ہو جانے کا ڈر ہو ۔ اور اریشہ دروازہ کے پیچھے ٹیک لگا ۓ روۓ جا رہی تھی۔ اگر اس روتی اریشہ کو فوزان دیکھتا تو وہ اوپر جا ہی نہیں سکتا تھا۔

 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ