تیرے لیۓ قسط 3
تیرے لیۓ ۔۔قسط آٹھ
"امی ۔۔مجھے یہ سونا گھر کاٹ کھانے کو آ رہا ہے ۔ وہ رونے لگی تھی ۔
" مجھے اس آنگن میں فوزان کے بچوں کی کلکاریاں سننے کی خواہش ہے "۔
"لیکن اریشہ ۔ہم نے تم پر کوئ دباؤ نہیں ڈالا ۔ میرے اپنے پوتے پوتیاں ہیں اور ایک فوزان کی اولاد نا ہو تو ہمیں کوئ فرق نہیں پڑتا ۔تم کیوں اتنی حساس ہو رہی ہو ۔" وہ اب اپنے مہربان لہجے میں تسلی دے رہی تھیں ۔
ا"امی ۔کیا یہ میرے لیۓ آسان ہے "۔ اس نے ان کی گود میں رکھا سر اٹھا یا تھا۔
ا"ایک جاں نثار بیوی کے لیۓ اس سے بڑی آزمائش کیا ہو گی کہ ۔۔۔۔۔"وہ کہہ بھی نا سکی ۔ حلق میں گولہ سا اٹک گیا تھا۔۔
امی ششدر اسے دیکھ رہی تھیں ۔۔
ا"امی ۔۔ساری زندگی فوزان نے سر اٹھا کر زندگی جی ہے اور اب میری وجہہ سے ۔۔۔۔"۔وہ پھر رک گئ۔
"کیا فوزان کی ذات پر سوال نہیں اٹھاۓ جائیں گے۔ اور مجھے یہ سب کیسے برداشت ہو گا ۔آپ تو سمجھیں ۔
ایک لمبی عمر اس طرح رہنا ہم دونوں کے لیۓ ایک سزا بن جائیگا۔ فوزان کب تک میری وجہہ سے ایسی ویران زندگی گزاریں گےاور کیوں ۔جب اللہ تعالی نے راستہ بتا دیا ہے تو ہم کیوں نا اس پر عمل کریں ۔میں بس بے اولادی کے ایک شرعی حل پر عمل کرنے کی کوشش میں ہوں ۔ فوزان کہتے ہیں میں خود غرض ہو گئ ہوں ۔لیکن کوئی میرے دل سے پوچھے کہ میں نے کن کانٹوں پر چل کر یہ فیصلہ کیا ہے ۔
میں تو اپنے راستے میں کانٹے بچھارہی ہوں اور اس پر چلنا بھی چاہتی ہوں ۔چاہے میرے پیر زخمی ہوں لیکن فوزان کے لیۓ اسکی نیک نامی بر قرار رکھنے کے لیۓ میں اس آزمائش سے بھی گذر جاؤں گی ۔" اس کا لہجہ اتنا حتمی تھا کہ امی اسے شدید حیرت سے دیکھنے لگیں ۔ ۔اس کے اندر کی تڑپ کو وہ بھانپ گئیں ۔
صحیح ہی کہہ رہی تھی وہ ۔اتنا بڑا فیصلہ اس نے فوزان کی خاطر ہی لیا تھا ۔فوزان کی زندگی میں بہار لانے کے لیۓ خود جیسے کسی پت جھڑ میں بسنے جا رہی تھی۔
ایک عورت اپنے شوہر کا بٹوارہ کبھی برداشت نہیں کرتی ۔لیکن اریشہ ۔۔۔۔۔وہ اسے بس دیکھ کر رہ گئیں۔۔ ۔
"اریشہ ۔۔۔میںتمہارے ساتھ ہوں ۔"انہوں نے اپنی گود میں رکھا اسکا سر اٹھا یا۔
"میں فوزان کو سمجھاؤں گی ۔ تم صحیح کہہ رہی ہو ۔آخر اس میں برائ کیا ہے ۔ان کی بات پر اریشہ کی آنکھوں میں آنسو آگۓ۔انکی گود میں سر رکھے وہ بری طرح رو رہی تھی
*********
۔" فوزان ۔۔۔"۔امی کی پکار پر وہ رک گیا ۔وہ اپنا آفس بیگ لیۓ اب نکلنے کی تیاری کر رہا تھا ۔
"ناشتہ کر لو ۔ "
"امی میں آفس میں کھا لوں گا "۔وہ انہیں منع کرتا قدم بڑھا نے لگا تھا ۔
"رکو فوزان ۔ناشتہ کیے بغیر میں تمہیں جانے نہیں دوں گی ۔" ان کا انداز اور لہجہ دونوں ہی تحکمانہ تھے۔
ان کے انداز پر وہ رک گیا تھا۔
"اریشہ "۔ انہوں نے ساتھ ہی اسے آواز دی تھی۔
"فوزان کے لیۓ ناشتہ لے آؤ۔" وہ فوزان کے ساتھ ہی بیٹھ گئی تھیں ۔
"فوزان ۔ میں نے اریشہ سے بات کر لی ہے۔ اور مجھے بھی اس کی بات سے اختلاف نہیں ہے ۔" وہ دھیرے دھیرے کہہ رہی تھیں ۔
"امی "۔وہ مارے حیرت کے اٹھ کھڑا ہوا ۔
آ"آپ بھی اس کا ساتھ دے رہی ہیں ۔ کیوں ۔ "
"دیکھو فوزان ۔زندگی بہت طویل اور بہت اونچ نیچ لیۓ ہوۓبھی ہو تی ہے۔ آخر اس طرح تو تم ساری زندگی بنا اولاد کے نہیں رہ سکتے۔ آخر تمہارے بڑھاپے کآ بھی تو سہارا ہو نا چاہیے ۔ تم آج جوان ہو ۔ لیکن کیا ہمیشہ جوان رہو گے۔ کبھی نا کبھی زندگی کے کسی نا کسی موڑ پر تمہیں بھی اولاد کی کمی کھٹکے گی۔ جب کیا کروگے۔
میں بھی اس بچی سے ملی ہوں ۔جانتی ہوں ۔اس کی سوتیلی ماں اس سے کس طرح کا سلوک روا رکھتی ہے ۔اگر تم اسے اپناؤگے تو نیکی ہی کماؤ گے۔ اللہ نیکی کا صلہ ضائع نہیں کرے گا ۔اس لیۓ جو اریشہ کہہ رہی ہے وہ مان جاؤ ۔" انہوں نے اپنی بات مکمل کی تھی۔
ا"اریشہ روٹی پکڑے بس فوزان کو دیکھ رہی تھی۔ اس کے تاثرات بہت پیچیدہ سے لگ رہے تھے۔
ا"امی ۔میںاب آفس جا رہا ہوں ۔ شام میں بات کروں گا ۔" وہ بنا اریشہ کو دیکھے باہر چلا گیا تھا۔
***************
امی اور اریشہ کی ضد نے فوزان کو ہاں کرنے پر مجبور کر دیا تھا ۔امی اور اریشہ آج رحیمہ کے گھر بات کرنے آئ تھیں اور اپنا مدعا پیش کیا تھا ۔ رحیمہ کا باپ تو سن کر خوش ہو گیا تھا ۔
آخر فوزآن میں برائ کیا تھی ۔ جوان تھا ۔اچھا کماتا بھی تھا ۔شادی شدہ بھی ہو تو اسے کوئ اعتراض ہی نہیں تھا ۔
"جی ۔ہمیں منظور ہے لیکن بیاہ کے بعد رحیمہ صرف آپ کی ذمہ داری ہوگی۔ ہم شادی کے بعد اس کا کسی قسم کا خرچ وغیرہ برداشت نہیں کر سکتے۔ اس لیۓ آپ کو پہلے ہی بتا رہی ہوں ۔ آپ اسے اچھا رکھیں یا برا ۔ وہ بس آپ کی مرضی ۔ ہمارا کوئ لینا دینا نہیں" ۔ رحیمہ کی سوتیلی ماں کی اس بات پر وہ لوگ ایک دوسرے کو بس دیکھ کر رہ گئی تھیں ۔ ۔
"جی ۔ٹھیک ہے۔ رحیمہ ہماری ذمہ داری ہو گی۔ میں اسے بہن بنا کر لے جا رہی ہوں ۔سوکن نہیں "۔ اریشہ نے ہی بات کی تھی۔
نکاح اگلے جمعہ طۓ پایا تھا ۔امی نےفوزان کو اطلاع دی تو وہ سن کر خاموش ہو گیا تھا ۔وہ ابھی بھی اریشہ سے بات نہیں کر رہا تھا ۔
***********
۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں