رم جھم بارش ۔۔۔۔۔ پانچویں قسط

 رم جھم بارش ۔۔۔

میری ندرت سے بات طۓ ہو گئ ۔اور شادی دو سال بعد ۔منگنی وغیرہ کا میں قائل نا تھا اور نا ہی دھوم دھڑاکا کرنا تھا ۔

"میں سادگی سے نکاح کروں گا ۔"  میں نے کہہ دیا تھا ۔ 

"نکاح سادگی ہی سے ہوگا لیکن ماموں کی ایک شرط ہے" ۔ بابا نے اس دن بیٹھک میں کہا ۔ 

"شرط ۔کیسی شرط" ۔میں چونک گیا ۔

"وہ" ۔بابا رکے ۔ 

"چونکہ انہیں کوئ اولاد نرینہ نہیں ہے تو وہ تمہیں اپنا گھر داماد بنانا چاہ رہے ہیں ۔" ہچکچاتے ہوۓ انہوں نے اپنی بات مکمل کی تھی۔ 

"کیا ۔گھر داماد ۔" میرے تو تن بدن میں آگ لگ گئ ۔ 

"گھر داماد یا گھر کا کتا" ۔مجھے شدید غصہ آیا ۔ 

"میں گھر داماد نہیں بن سکتا ۔  مجھے یہ شادی ہی نہیں کرنی" ۔میں جیسے انتظار میں تھا ندرت سے منگنی توڑنے کے لئے۔ 

"مذاق سمجھ رکھا ہے" ۔بابا مجھ پر پہلی بار چلاۓ۔ 

"مصلحت بھی کوئ چیز ہو تی ہے ۔ تمہارے ماموں کی عمر ہو رہی ہے مامی بلڈ پریشر کی مریضہ ہیں ۔ خدانخواستہ کچھ ایمیرجنسی ہو تو گھر میں کوئ مرد ہی موجود نہیں ۔ اس لیۓ تمہارے ماموں نے بڑی عاجزی سے مجھ سے کہا کہ وہ تمہیں اپنا بیٹا بنانا چاہتے ہیں ۔" وہ رکے ۔

 "اور میں نے رضامندی دے دی ۔" 

انکی اس بات پر میں لب بھینچ کر رہ گیا۔

"یہ ضرور ندرت صاحبہ نے فرمائش کی ہو گی "۔ میرا لہجہ کڑوا ہوا ۔

"نہیں ۔تمہاری مامی کی ۔ وہ بچی کو ابھی گھرداری میں نہیں ڈالنا چاہ رہیں ہیں ۔"

"یہ تو کوئ بات نہیں ۔ وہ اپنی بیٹی کو رخصت کرنا  نہیں چاہ رہیں مگر میری رخصتی  چاہ رہی ہیں ۔‌اور دو سال مل تو رہے ہیں ۔سیکھ لیں گھرداری ۔۔۔۔۔"

"تو سیکھ تو رہی ہے ۔لیکن کم عمر ہے ۔اس لیۓ تھوڑا وقت دینا ہو گا"۔ بابا ایک کے بعد اسکے حق میں دلائل دے رہے تھے ۔

"اس لیۓ کچھ دن رہ لو ماموں کے پاس ۔تب۔ تک وہ بھی کسی نا کسی کو اپنی دیکھ ریکھ کے لیۓ بلالیں گے ۔"

"رشید تھا ناں وہاں" ۔مجھے یاد آیا ۔ 

وہ  باہر جا رہا ہے ۔ ۔ اسی کی وجہہ سے وہ تھوڑا پریشان ہیں "۔‌

"میں سوچ کر بو لوں گا" ۔ میں وہاں سے اٹھ کر آگیا ۔

دن پر لگا کر اڑ رہے تھے ۔میں نئ نوکری اور اسکے نت نۓ مسائل میں گھرا اکثر اپنی زندگی کے بارے میں سوچنا ہی چھوڑ چکا تھا ۔میرے لیۓ پیسہ کمانے سے زیادہ اپنی جاب بچانا زیادہ اہم ہو گیا تھا ۔

ایسے میں‌ابا کا بھی ریٹایرمنٹ ہو گیا اور پیچھے گھر کی ذمہ داری بھی مجھ پر آگئ تھی ۔ 

ہر مہینہ گھر کے لیے پیسہ بھیجنا ،خود کی نوکری خرچہ چلانا  یہ سب سنبھا لتے  میں بے انتہا مصروف ہو گیا تھا۔ایسے ہی ایک دن‌ماموں نے فون کیا اور آنے کے لیۓ کہا ۔ میں بھی اتوار کی چھٹی کی وجہہ سے   فری ہی تھا اس لیۓ چلا گیا ۔

"کیوں برخوردار ۔آپ تو راستہ ہی بھول گۓ ۔" ماموں نے مجھے گرم جوشی سے گلے لگایا تھا ۔

"نہیں ماموں ۔بس ۔ایسے ہی مصروفیات بہت بڑھ گئ ہیں ۔ چونکہ میں پورے ایک سال بعد گھر آیا تھا ۔اور اب تو گھر کا  ہونے والا داماد  بھی تھا تو میری زیادہ خاطر ہو رہی تھی ۔ 

ماموں مجھ سے نوکری کے مسایل ڈسکس کرنے لگے ۔مامی نے ڈھیر سارے لوازمات کے ساتھ چاۓ بھجوائی تھی ۔

ماموں کے ساتھ بات کرتے کرتے میں نے چاۓ کا ایک گھونٹ لیا تو مجھے اچھو لگ گیا ۔ 

کیا ہوا ۔ماموں پریشان مجھے دیکھنے لگے۔ 

جی کچھ نہیں ماموں ۔ میں نے کچن کی طرف ایک نظر ڈالی اور خاموش ہو گیا ۔ نجانے کب تک مجھے یہ کالی مرچ والی  جاۓ پلائ جاۓ گی۔ 

"دیکھ لوں گا ۔ندرت ۔تمہیں بھی ۔ بلکہ گن گن کر بدلہ نا لیا تو ۔۔۔۔۔۔۔"  میں گھونٹ گھونٹ چاۓ پیتے جیسے سلگ رہا تھا۔

*************************************************  اس وقت جب میں بابا سے شادی کی بات کرنے کے لیۓ پہنچا تو بابا پریشان سے بیٹھے تھے۔ 

"کیا ہوا ۔"

"وہ ندرت آگے پڑھنا چاہ رہی ہے ۔ شادی آگے بڑھانے کے لیۓ کہہ رہے ہیں ۔ "

"کیا"" ۔مجھے غصہ سے سمجھ نہیں آیا کہ میں کیا کہوں ۔

"ہاں "۔بابا بھی کچھ پریشان لگ رہے تھے ۔شاید انہیں بھی اس قسم کی فرمائش کی امید نہیں تھی ۔

"شادی ہو گی تو بس اسی مقررہ تاریخ پر ۔ورنہ نہیں ہو گی"۔ میں نے زور سے میز پر ہاتھ مارا ۔ 

"اور اگر ندرت پڑھنا ہی چاہتی ہے تو اب تک کیا‌ جھک مار رہی تھیں ۔" 

"آپ جاییں اور میرا فیصلہ سنادیں ۔میں پندرہ دن کے لیۓ آیا ہوں ۔اور ندرت کو شادی کے بعد میرے فلیٹ میں رہنا ہو گا ۔میں نہیں رہوں گا ماموں کے پاس  رہی ماموں مامی کی دیکھ بھال تو وہ میں میرے فلیٹ میں رہ کر بھی کر سکتا ہوں ۔ آتے جاتے رہوں گا اور کیفیت بھی لے لوں گا ۔ میں نے اپنی ساری بات کہہ دی اور جواب کا انتظار کیۓ بنا میں باہر نکل گیا ۔

اور پھر بابا نے کہا کہ ماموں مان گۓ ہیں ۔ اگلے جمعہ نکاح تھا ۔

میں نے نکاح سے لیکر ہر تقریب میں سادگی ہی کو ترجیح دی تھی۔ اور کئ یتیم خانوں مدرسوں میں تناول طعام وغیرہ کا بندوبست کر وایا تھا ۔میرے اس اقدام سے ماموں کو دلی مسرت ہوئ تھی ۔ وہ ہر جگہ میری تعریف کرتے نظر آرہے تھے ۔ 

نکاح میں حسب معمول کم لوگوں کو مدعو کیا گیا تھا میری طرف سے ہمارے خاندان کے کچھ لوگ اور دوست احباب نے شرکت کی تھی ۔جبکہ ماموں کا حلقہ احباب وسیع تھا ۔لیکن بغیر کسی بد نظمی کے نکاح کی تقریب منعقد ہوئ ۔ میں نے روایتی دلہے والی شیروانی ہی زیب تن کی تھی ۔   جو زیادہ قیمتی نہیں  تھی ۔ 

"دلہا بن کر تم کسی جاہ و جلال والے شہزادے سے کچھ کم نہیں لگ رہے" ۔ بابا ہنستے ہوے مجھ سے گلے ملتے کہہ رہے تھے۔

میں ہنس پڑا تھا ۔خوشی کا موقع تھا ۔‌

"پتا نہیں ماموں کی شہزادی کیسی لگ رہی ہوگی "۔ میں مسکراتے ہوۓ سوچ رہا تھا ۔ 

باقی آئندہ 



 

۔

۔۔

ا

 

 


 


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ