رم جھم گرے ساون چوتھی قسط
رم جھمگرے ساون
چوتھی قسط
میری یہ بات سن کر ماموں ایک لمحہ خاموش ہو گۓ تھے ۔
آگے کیا ارادہ ہے ۔ گورنمنٹ جاب کے لیۓ ٹرآئ کروگے۔ یا۔۔۔ "انہوں نے بات ادھوری چھوڑی ۔
نہیں گورنمنٹ جاب کا ملنا لوہے کے چنے چبانا جیسا ہو گیا ہے ۔ اس لیۓ پرائوٹ میں ہی کوشش کروں گا ۔
ہمممم ۔ویسے بھی ہر کسی کو نہیں ملتی گورنمنٹ جاب ۔۔۔انلہجہ کچھ فخریہ سا تھا۔
لیکن مجھے گورنمنٹ جاب پسند بھی نہیں ۔سرکاری ملازمتوں کا مسلہ ہی یہ ہوتا ہے کہ حلال رزق کم ہو تا ہے اور حرام وافر مقدار میں مل جاتا ہے ۔اور مجھے حرام رزق نہیں حلال رزق ہی چاہیۓ ۔میں نے مضبوطی سے اپنا نقطہ نظر پیش کیا لیکن ۔۔۔۔۔ماموں نے اس بات کو ذاتی چملہ سمجھا۔ان کا چہرہ سرخ ہوا۔
"تم جو روٹی کا لقمہ لے رہے ہو ۔وہ حق حلال کی کمائ کا ہے ۔میرا کردار بے داغ اور نوکری شفاف ہے ۔اس میں کوی دو راۓ نہیں ۔
آپ کو شاید غلط فہمی ہوئ میں نے آپ کو یا آپکی نوکری کو کچھ نہیں کہا بس ایک عام سی بات تھی ۔مجھے حقیقتاً انکے سامنے شرمندگی محسوس ہوئ تھی ۔
وہ چپ رہے ۔
یہ ۔۔۔میں نے ایک روٹی کا نوالہ توڑا تھا ۔
اگر حرام ہوتا تو میں ہر گز اس کو نا توڑتا ۔ میری اس بات سے انکے چہرے کے تاثرات بدل گۓ اور وہ مجھ سے ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے ۔دراصل اگر خاندان میں کسی کو گورنمنٹ جاب ملی تھی تو وہ ماموں ہی تھے ۔وہ ایک قابل اور بہت زیادہ محنتی طالبعلم تھے ۔گریجویشن میں انہوں نے ڈسٹنکشن لیا تھا اور چونکہ اس زمانہ میں سرکاری ملازمت قابلیت کی بنا پر مل جاتی تھی ۔ سفارش سے نہیں ۔تو محکمہ آب میںان کا تقرر ہو گیا تھا۔ اور جتنی چادر اتنے پیر والے فارمولہ پر چلتے تھے اس لیۓ انکی زندگی چینسے گذر رہی تھی۔ میرے آنے سے انکے بجٹ میں کچھ فرق نہیں پڑا تھا لیکن میں خود بھی ان پر بوجھ بننا نہیں چاہتا تھا ۔
میں بھی گریجویشن کے فائنل ایر میںآ گیا تھا ۔میرا ارادہ کالج ٹاپ کرنے کا تھا اس لیۓ میں ساری دنیا بھول کر پڑھائ میں غرق تھا ۔اب نا مجھے ندرت سے کوئ مطلب تھا نا مامی۔ سے نا ماموں سے ۔ویسے بھی گریجویشن ہوتے ہی میں ماموں کا گھر چھوڑ کر کسی بھی اپارٹمنٹ میں رہ سکتا تھا بس نوکری ملنے کی دیر تھی ۔ میںپڑھائ کے ساتھ ساتھ روزآنہ اردو انگریزی اخبارات بھی کھنگال رہا تھا ۔جہاں جہاں مجھے نوکری مل سکتی تھی ۔ان پر ٹک لگا کر محفوظ بھی کرتا جارہا تھا ۔ امتحانات کے ختم ہونے کی دیر تھی اور مجھے انٹرویوز کی تیاری بھی کرنی تھی۔
ادھر آمتحانات ختم ہوۓ ادھر ابا کا فون آیا ۔
"کیا کر رہے ہو ۔میاں "۔
جی گھر آنے کی تیاری کرہا ہوں ۔
اور انٹرویوز ۔
انٹرویوز دے کر ہی گاؤں آؤنگا ۔ پندرہ دن لگ جائیں گے۔
میں نے پھر تفصیل سے بتا یا ۔
"ہممم ۔ندرت کیسی لڑکی ہے" ۔ابا نے اچانک پوچھا ۔
"وہ۔۔۔۔ مجھے بلکل بھی پسند نہیں" ۔میرے منہ سے بے ساختہ نکل گیا ۔
"تمہاری پسند نا پسند سے کیا تعلق" ۔نجانے کیوں مجھے محسوس ہوا وہ مسکراۓ تھے ۔۔اور مجھ پر گھڑوں پانی پڑ گیا تھا ۔
"وہ لڑکی ٹھیک ٹھاک ہے بس الہڑ سی محسوس ہو تی ہے "۔ میں نے نپے تلے اناز میں کہا تھا ۔
"ہمممم ....چلو ۔انٹرویز ہو تے ہی گاؤں کے لیۓ نکلو۔
باقی باتیں بعد میں کریں گے۔"
"جی" ۔میں نے فون رکھ دیا ۔
سارے انٹرویوز ختم کر کہ میں ماموں مامی سے ملکر گاؤں کے لیۓ نکل کھڑا ہوا تھا پورے تین سال بعد میں مستقل طور پر گاؤں جا رہا تھا تو اسکی خوشی ہی الگ تھی۔۔مجھے اپنا گاؤں ،گاؤں کی ہوائیں بہت پسند تھیں یہاں تو ذرہ ذرہ بھی مجھ سے محبت سے ملتا تھا اور میں گاؤں کے ہر ذرہ کو چومتا تھا ۔
دیڑھ مہینے کے اندر میرا گریجوشن کا رزلٹ بھی آ گیا ۔میں نے کالج ٹاپ کیا تھا ۔میری خوشی کی انتہا نا تھی ۔آخر یہ میرا دیرینہ خواب تھا ۔ کچھ دنوں بعد مجھے ایک کمپنی کا
اپائٹمنٹ لیٹر بھی مل گیا تھا ۔یہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی تھی ۔جس میں میں سیلز مینیجر کے طور پر اپائنٹ ہوا تھا۔
مجھ سمیت گھر کے تمام افراد ہی خوش تھے ۔ خاندان میں بھی مجھے عزت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا تھا ۔
ماموں نے میری دعوت رکھی تھی ۔
خاندان کے سب لوگ ہی مدعو تھے سب خوش گپیوں میں مصروف تھے ۔
ماموں نے مجھے پھول پہناۓ اور شال اڑھائ تھی ۔
میں نے جھک کر قدم بو سی کی تھی ۔
"برخوردار ۔ہمارے گھر رکنے میں کیا ممانعت تھی ۔۔" دراصل میں نے بابا کو بتا دیا تھا کہ میں اب ماموں کے پاس نہیں رہ سکتا اس لیۓ فلیٹ کرایہ پر لے لیا تھا ۔
"دراصل ماموں ۔کمپنی سے یہ فلیٹ قریب ہے ۔اور آفس کے کچھ کولیگ بھی یہیں ہیں ۔ تو بس اس لیۓ ۔ ۔۔۔" میں نے نرمی سے کہا ۔
وہ مطمئن انداز میں خاموش ہو گۓ ۔
میں اپنے دوسرے تمام کزنز کے ساتھ بیٹھا تھا ۔ وہ سب اپنی اپنی ہانک رہے تھے ۔
"کیوں فصیح ۔ماموں نے کچھ الٹی سیدھی باتیں کی ہیں ناں ۔ تبھی تو تم انکے گھر نا رہ کر فلیٹ میں رہ رہے ہو "۔ یہ میرا خالہ ذاد رحمن تھا ۔
"نہیں ایسی تو کوئ بات نہیں ۔ یہ فلیٹ میری کمپنی سے قریب ہے ۔آنے جانے کی سہو لت رہی گی مجھے ۔ اس لیۓ میں نے یہ فلیٹ لیا ہے ۔" میں نے جلدی سے کہا ۔جبکہ نعمان رحمن مجھے معنی خیزی سے گھورنے لگے تھے ۔
"اور ندرت کے بارے میں کیا خیال ہے ۔ "
"ندرت ۔وہ تو ویسی ہی ہے جیسی پہلے "۔ مجھے ندرت کا ذکر اس انداز میں عجیب لگا ۔
"اچھا اب زیادہ بھولے مت بنو ۔ جب رشتہ داری کچھ زیادہ قریبی ہو نے لگتی ہے تو اسی طرح ہو تا ہے "۔ یہ سالار تھا ۔ انکی باتوں سے میرا سر ایکدم چکرا گیا ۔
"مطلب ۔ "
وہ سب ہنسنے لگے ۔
اور میں ان سب کو ہونق بنے دیکھ رہا تھا ۔مطلب پوچھ رہا تھا ۔
"ہم نے سنا ہے تمہاری اور ندرت کی بات طۓ ہو گئ ہے "۔ یہ ایک پٹاخہ بم تھا جو مجھ پر اچانک پھوڑا گیا تھا۔
"کیا بکواس ہے "۔ میں بے ساختہ اٹھ کھڑا ہوا ۔ اور ابو کی تلاش میں نظریں دوڑائیں ۔
ابو مردانے میں تو موجود نہیں تھے ۔شاید اندر گۓ ہوں ۔
میں وہیں کھڑا آنگن کے اس حصہ میں اپنے آپ کو کوس رہا تھا کہ اتنا بے خبر کیسے رہ گیا۔ ۔
"بابا ۔یہ سب کیا ہے ۔اور آپ یہ کیسے کر سکتے ہیں" ۔ جیسے ہی وہ مجھے تنہای میں ملے ۔میں نے ان پر سوالوں کی بوچھاڑ کر دی۔
"کیوں ۔ اس میں کیا غلط ہے" ۔ وہ اطمینان سے مجھے دیکھنے لگے ۔"مجھے اس نک چڑھی سے بلکل بھی شادی نہیں کرنی ۔"
"تو کس نک چڑھی سے شادی کرو گے ۔ اگر اس سے نہیں کرنی" ۔
"کسی سے بھی ۔"
"تو بس یہی نک چڑھی ٹھیک ہے" ۔ وہ بھی میرے ہی انداز میں کہہ رہے تھے ۔
"نہیں کرنی مجھے ندرت سے شادی ۔ دماغ ساتویں بر رہتا ہے ۔ ماں کی لاڈلی ۔اکلوتی ۔ جسے گھر کیسے چلاتے ہیں ۔ چاۓ کیسے بناتے ہیں پتا نہی ۔اور سلیقہ رکھ رکھاؤ سے دور دور تک کوئ سابقہ نہیں ۔ نہیں کروں گا اس سے شادی ۔ بلکل بھی نہیں "۔ میں نے اتنی شدت سے کہا تھا کہ بابا خاموش ہو گۓ۔
اور کہا تو اتنا ۔
"تمہاری مرحومہ ماں کی خواہش تھی اسے بہو بنانے کی ۔کیا پھر بھی انکار کرو گے" ۔
میں ساکت ہو گیا تھا ۔ایک لفظ بھی تو نا نکل سکا منہ سے ۔
۔
۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں