تنہائ کا ساحل ۔۔۔

 تنہائ کے ساحل 

یہ عنوان تھوڑا پیچیدہ سا لگا ۔یعنی تنہائ کے ساحل کیسے ہو تے ہیں ۔ 

لیکن آج صبح ہی اپنے وہاٹس ایپ گروپ میں مجھے نوٹی فکیشن آئ کہ فلاں نے گروپ میں کچھ پوسٹ کیا ہے۔ 

میں نے گروپ کھولا تو یہ ایک رشتہ گروپ تھا جس میں میں بھی ایڈ تھی ۔اپنے رشتے کے لیۓ نہیں کچھ اپنے بہن بھاییو ں کے لیۓ ۔ 😬

دراصل اس گروپ میں‌ایک بندہ شاید ابنی بیٹی یا بہن کے لیۓ رشتہ کے لیۓ بار بار اس افسانہ لڑکی کا بایؤ ڈیٹا ڈالتا ہے ۔اور میری  اکثر اس لڑکی کی پرو فایل پر نظر پڑ جاتی ہے ۔ 

پہلی بار میں میں نے اسے سر سری لیا تھا ۔ لیکن جب بار بار اس لڑکی کی پروفائل اس گروپ میں گردش کرنے لگی تو میں سوچنے پر مجبور ہو گئ  ہوں کہ لڑکیوں کی شادی کتنا بڑا مسءلہ بن چکی ہے ۔

یقینا اس بچی کے باپ بھائ  اس لڑکی کے رشتہ کو لیکر فکر مند ہونگے ۔ آخر ہم‌سب نے شادی بیاہ کو اتنا پیچیدہ کیوں بنا دیا کہ کئ لڑکیاں اپنی تمام عمر تنہائ کے ساحل پر گزارنے پر مجبور ہو گئ ہیں ۔

آخر اس  لڑکی "افسانہ " کا کچھ تو خوشگوار انجام ہو ۔یا یہ افسانہ بھی ادھورا رہ جائیگا ۔بے جا رسم و رواج  یا اعلی شادی کے معیار بنا کر ہم آخر کتنے بچے بچیوں کو تنہای کے ساحل پر اپنی زندگی گزارنے پر مجبور کریں گے۔ 

شادیوں کی عمر نکلی جارہی ہے اور ہم ہیں کہ نکاح کو آسان کرنے کے بجاۓ کھوکھلے معیار کی بنیاد پر کئ نوجوان‌لڑکے لڑکیو ں کی زندگیوں کو برباد کر رہے ہیں ۔ 

نکاح کا ایک ہی معیار ہونا چاہیۓ ۔ 

ایک سنت بھرا رشتہ ۔دین پر چلنے والا لڑکا اور باحیا فرمانبردار لڑکی ۔

کاش اس معیار پر رشتے پرکھے جائیں تو کسی لڑکا لڑکی کی زندگی تنہائ کے ساحل پر نہیں کٹے گی ۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ