سوۓ ہوۓ نصیب ۔۔۔

 سوۓ ہوۓ نصیب ۔۔۔۔جاگتا ہوا دل

وہ جب پیدا ہوئ تو اسے دیکھ کر سب کو دلی صدمہ ہوا ۔ اسکا رنگ اتنا کالا تھا کہ رات کا گمان ہو تا تھا ۔ ماں نے بیٹی کو اپنی آغوش میں لیا اور اسکی دینی تربیت میں مصروف ہو گئیں ۔ 

ایک تو بیٹی ،رنگ کالا اور غریبی ۔۔۔۔ایسی میں وہ جب جوان ہوی تو اس کے لیۓ رشتوں کا کال پڑ گیا ۔ گورے رنگ پر مر نے والے لوگ ۔ایک کم رنگ لڑکی کو کیوں بیاہ لے جاتے۔ 

بڑی مشکل  سے ۔ دور دراز کے لوگوں میں اسکا رشتہ ہوا ۔ لوگ بے حد جاہل  تھے ۔ بات بات پر گالی گلوج ۔کرنا معمول تھا ۔

وہ ماں کے دیۓ صبر کے سبق کو پڑھتی زندگی گذار رہی تھی۔

شوہر کچھ سال اچھا رہا پھر اس کے بھی رنگ ڈھنگ بدلنے لگے۔ 

ایک گوری عورت سے سابقہ پڑا اور وہ اسکی زلفوں کے اسیر ہو گیا ۔ 

نوکری سرکاری تھی۔ دو شادیاں کرنے پر ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا تھا ۔اس لیۓ اس پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جانے لکے ۔

مقصد آس کو گھر سے نکالنا تھا ۔مگر باپ کی غریبی اور عزت اسے گھر سے جانے کے لیۓ روک رہی تھی۔ اسکا کھانا بند کیا گیا اس پر بہتان الزام تراشی کی گئ ۔ مگر وہ صبر و استقلال سے ڈٹی رہی ۔ 

شوہر بنا نکاح کے اس عورت کو گھر میں لے آیا ۔ یہ خاموش رہی ۔ جب وہ حاملہ ہوئ تو اس کو برداشت نا ہوا ۔ 

صاف کہہ دیا ۔ ہماری یہاں حرام بچے پیدا نہیں کرتے ۔ 

بات شوہر کے دل کو لگی۔ اس نے شادی کر لی۔ 

آہ اسکے سوۓنصیب ۔۔

مگر جو دوسری عورت تھی اس کے بے حیائی کے رنگ جلد ہی واضح ہو گۓ۔ رقم کا مطالبہ کیا جانے لگا ۔پولس کی دھمکیاں اور غنڈہ گردی کی جانے لگی تو شوہر کی آنکھیں کھلیں ۔ 

وہ سیدھا بھاگے بھاگے اس بھاگوان کے ابا سے التجا کرنے لگا کہ مجھے اس حرافہ سے چھٹکارا دلادیں ۔ 

غریب تھے مگر باشعور تھے ۔چند لوگوں کو بلاکر طلاق دے دی گئ۔ 

اس کے سوۓ نصیب جاگ گۓ ۔جب شوہر ٹھیک ہوا تو گھر کے دوسرے لوگ بھی ٹھیک ہوۓ۔ ساس نے بیٹے پر بھروسا نا کیا مگر بہو پر بھروسہ کیا اور اپنا کھیت بہو کے نام کیا ۔ اب وہ ان جاہل لوگوں میں خوف خدا پیدا کر نے والی باپ کا فخر و غرور بن گئ۔ جسکے

نصیب تو سوۓ ہوۓ تھے مگر ضمیر جاگتا ہوا تھا ۔

بھلے سے نصیب سونے ہونے ہوں مگر دل اور ضمیر جاگتے رہنے چاہیۓ کیونکہ آگے زندگی میں اجالے انہی سے ہوتے ہیں ۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ