رم جھم بارش ۔۔۔نویں قسط

 رم جھم بارش ۔۔۔۔نویں قسط

ندرت بھاگتے ہوۓ اوپر چلی گئ تھی۔ اس نے شاید مجھے نہیں دیکھا تھا ۔ میں بھی اس کے پیچھے چلا گیا ۔وہ کمرہ میں بیڈ بر گھٹنوں میں سر دیۓ ہوۓ تھی۔ شاید رو رہی تھی۔ 

"ندرت" ۔میں نے اسے پکارا ۔

اس نے سر نہیں اٹھایا۔ 

"کیا ہوا "۔ اب میں کچھ اور نزدیک آیا ۔تو اس نے جلدی سے اپنے آنسو پونچھے۔ 

"کچھ نہیں ۔" 

ایک  زخمی مسکراہٹ میرے لبوں پر آئ تھی ۔ کتنا بھرم رکھتی ہے یہ لڑکی۔ 

"چلو ۔قریب میں  ایک پارک ہے وہاں جاتے ہیں" ۔ میں نے نرمی سے کہا تو وہ نفی میں سر ہلا گئ۔ 

"پلیز ۔۔۔"۔میں نے عاجزانہ انداز میں کہا تو وہ خاموش ہو گئ۔ 

"آپ چلیں میں چادر لے کر آتی ہوں" ۔وہ اٹھی تو میں بھی باہر آگیا کچھ ہی دیر میں وہ بھی آگئ تھی ۔ 

ہم جب پارک میں پہنچے تو چار بج رہے تھے۔ موسم میں بہت حدت تھی اور حبس بھی زیادہ تھا۔

وہ خاموش چل رہی تھی ۔اور میں بھی اسکے ساتھ ساتھ قدم بڑھا رہا تھا۔ 

"وہ دراصل ندرت جھے تم سے سوری کرنی ہے "۔ میں نے ہی بات شروع کی۔ 

"معافی لیکن کس بات کی۔ اسکی آنکھوں میں حیرانی در آئ ۔ صاف شفاف رنگ بھیگی پلکیں اور رو رو کر سرخ ہوئ ناک ۔ میں نے بےساختہ نظریں چرا لیں ۔ 

"مجھے  جانے سے پہلے کچھ جیب خرچ دینا چاہیۓ تھا میں کچھ افراتفری میں نکل گیا تھا تو۔۔۔۔۔ "

"اسکی کوی ضرورت نہیں تھی"۔ وہ دھیمے لہجہ میں کہتی مجھ سے آگے نکل گئ تھی۔ 

"مجھے آپ کے ساتھ فلیٹ میں  رہنا ہے ۔ میں اب یہاں رہنا نہیں چاہتی۔"  وہ مجھے اس انداز میں حیران کرے گی۔ ایسا میں نے  سوچا نہیں تھا ۔

"کیوں "۔میں نے اسے حیرانی سے دیکھا ۔وہ چپ رہی ۔

"ندرت اگر تم ماموں کے غصہ کو لے کر اس طرح کہہ رہی ہو تو مجھے یہ بلکل بھی اچھا نہیں لگے گا ۔ وہ غلط نہیں ہیں "میں نے نرمی سے کہا ۔۔

"میں امی ابو کی وجہہ سے وہاں رہنا چاہ رہی تھی ۔اور اب ایسا لگ رہا ہے کہ اسکی کوئ ضرورت نہیں" ۔ وہ پارک کے درختوں پر نظریں جمائے  ہوۓ تھی۔ 

"ندرت" ۔میں نے اسے مخاطب کیا ۔ 

"ہر چیز کی ایک جگہ مقرر ہو تی ہے۔ جسکی جو جگہ ہو وہ وہیں اچھی لگتی ہے ۔پھول گلدان میں اور کوڑا کرکٹ کوڑے دان میں ہی اچھا لگتا ہے "۔

"اور عورت بیٹی ہو تو ماں باپ کے گھر اور بیوی ہو تو اپنے شوہر کے گھر ہی اچھی لگتی ہے ۔" 

"آپ یہ سب باتیں اس رات بھی کہہ سکتے تھے۔ مجھے سمجھا سکتے تھے۔" اس کے لہجہ میں شکوہ تھا ۔ 

"میں تم پر کوی زبردستی نہیں کرنا چاہتا تھا ۔ اور جس طرح تم نے میرا ہاتھ جھٹک دیا تھا ۔ اس سے مجھے غصہ بھی بہت آیا تھا" ۔ میں ہلکے پھلکے انداز میں اسے بتا رہا تھا ۔

"آی ایم سوری ۔" اس نے کہا ۔

"اٹس اوکے"۔ میں ہنسا ۔

"اب پکڑوں تو کیا پھر ایسے ہی جھٹک دوگی"۔ میں نے اسکی آنکھوں میں جھانکا ۔اور اسکے چہرہ پر نجانے کتنے قوس قزح بکھر گۓ۔ میں نے دیکھا موسم نے بھی اپنی جون بدل لی ۔گرمی کی شدت میں کمی آئ تھی۔ اور ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگیں تھیں۔ 

اس سے پہلے کہ ہم دونوں واپسی کی طرف قدم بڑھاتے ۔تیز بارش نے ہم دونوں کے قدم روک لیۓ ۔ بارش سے بچنے ہم دونوں سامنے کے درخت کی جانب بھا گے تھے۔ 

اف ۔اتنی تیز بارش۔۔   میں جو بچتے بچتے بھی کافی بھیگ گیا تھا۔ رومال سے اپناچہرہ صاف کرنے لگا ۔ 

وہ میری طرف پلٹی تھی اور پھر بے ساختہ ہنسنے لگی تھی۔ 

"کیا ہوا "۔مجھے اسکی ہنسی سے الجھن ہو ئ۔ 

"آپ کی ہیر ڈائ۔" وہ ہنستے ہوۓ میرے چہرے کی طرف اشارہ کر رہی تھی۔ 

اور میں سمجھ گیا کہ ناقص ڈای نے پھر سے اپنے نقوش چھوڑے ہیں ۔ 

"اف ۔یہ ڈائ۔ جانے سے پہلے افراتفری میں لگا لیا تھا "۔ 

"یہاں کچھ کچھ بال سفید ہیں تو لگا لیتا ہوں" ۔ میں نے اپنے سر کی طرف اشارہ کیا تو پھر ہنسنے لگی تھی ۔ 

"بارش ہو تو بھیگ ہی جاتے ہیں اور رنگ کچے ہوں تو بہہ ہی جاتے ہیں"۔ وہ پہلی ملاقات یاد کر رہی ٹھی۔ 

اور یہ بھی عجیب تھا ۔اس وقت اسکی ہنسی مجھے زہر لگی تھی ۔جبکہ آج میں خود بھی اسکے ساتھ ہنسنے لگا تھا۔" بس محبت کے رنگ کچے نا ہوں ۔۔۔"۔میری اس بات پر وہ محجوب ہوئ تھی ۔ 

"گھر چلیں ۔چاۓ بنا کر پلواؤوں گی" وہ شوخ ہوئ۔

"اچھا اس چاۓ کا حساب کتاب تو باقی ہے ۔ آخر کس بات پر مجھے وہ کالی مرچ والی چاۓ پلوائ جاتی تھی"۔ مجھے چاۓ پر یاد آیا ۔

"بچپن میں آپ نے مجھے جھاڑو سے مارا تھا" ۔وہ جیسے یاد دلانے لگی۔ 

"اوہ ہو ۔اس وقت  جب میں آنگن میں جھاڑو لگا رہا تھا تم آنگن میں چیختے چلاتے آئ تھیں کہ کاکروچ پیٹھ  پر چڑھ گیا ۔‌تم آنگن میں یہاں سے وہاں بھاگ رہی تھیں ۔

ماموں نے کہا تھا۔ 

"فصیح ۔وہ کاکروچ ۔"۔۔۔تو میں نے آؤ دیکھا نا تاؤ ۔کاکروچ پر جھاڑو سے ہی حملہ کر دیا ۔ میں جیسے جیسے یاد کر رہا تھا ۔مجھے ہنسی آرہی تھی ۔ 

بس ۔اسکے بعد سب میرا مذاق اڑاتھے تھے کہ فصیح نے ندرت کی  جھاڑوسے  تواضع کی۔ میں اس بات پر چڑ جاتی تھی۔او رسوچتی تھی  کسی نا کسی دن بدلہ ضرور لوں گی۔  وہ بھی ہنستے ہوۓ کہہ رہی تھی۔ 

"اچھا‌ ۔ اس چاۓ کے تو مجھے تم سے گن گن کر بدلے لینے ہیں ۔برداشت کر لو گی" ۔ میں نے اسے گہری نظروں سے دیکھا تو وہ بلش ہو کر رہ گئ ۔

"چلیں" ۔میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا تھا ۔

وہ اثبات میں سر ہلاتی میرا ہاتھ تھام چکی تھی ۔

*********************

"ہیلو ۔ ہیلو.. "۔‌ماموں نے فون اٹھا یا ۔

"کہیۓ جناب ۔خیریت۔ کہاں ہیں وہ دونوں" ۔ یہ بابا تھے ۔ 


"باہر گۓ ہیں ۔اب آتے ہونگے"۔ ماموں کہہ رہے تھے ۔  

"تو پلان کامیاب رہا ۔"

"پتا نہیں ۔لیکن میں نے کبھی ندرت کو اتنا ڈانٹا نہیں تھا" ۔ ماموں آزردہ سے تھے۔

"کبھی کبھی بچوں کو لاڈ و پیار کے ساتھ ساتھ چھڑی بھی دکھانی پڑتی ہے "۔ بابا بڑے  گمبھیر سے لہجے میں کہہ رہے تھے ۔ 

"ہاں .لیکن میں نے کبھی ندرت کو انگلی بھی نہیں لگائ تھی۔" 

"وہ مجھ سے بد ظن ہو گئ۔ اور اسکی بے رخی میں کیسے برداشت کروں گا۔ "ماموں کا لہجہ آزردہ تھا ۔

"فکر مت کرو ۔فصیح اسے سنبھال لے گا۔ "

"وہ ہر رشتے کو دل سے نبھاتا ہے وہ کبھی تم سے دور نہیں کرے گا ندرت کو ۔ دیکھنا ۔واپس آییں گے ہنستے مسکراتے تم سے گلے ملیں گے۔"  وہ ماموں کو تسلی دے رہے تھے۔ 

"وہ دونوں چاہے جہاں بھی رہیں تم سے کبھی غافل نہیں ہو نگے ۔ بے فکر رہو۔" بابا انہیں تسل دے رہے تھے۔ 

بارش اب تھم گئ تھی ۔موسم ہم دونوں کے سنگ حسین لگ رہا تھا ۔بارش کے ساتھ سارے گلے شکوے بھی دھل گۓ تھے۔ 

رم جھم بارش کے ساتھ ہم دونوں اپنے قدم بڑھا رہے تھے ۔اور رم جھم بارش محبتوں کے رنگ پکے کر رہی تھی۔ 

ختم شد 

۔






 ۔۔




تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ