رم جھم بارش ۔۔۔۔آٹھویں قسط

 رم جھم بارش ۔۔۔۔آٹھویں قسط

گھر پہنچ کر میں اپنے بیگ پیک کرنے میں لگ گیا تھا ۔ندرت مجھے حیرانی سے دیکھ رہی تھی ۔جبکہ میں  بیگ میں کپڑے ڈالنے میں  مصروف تھا ۔

"آپ کہاں جا رہے ہیں "۔ ۔ ندرت نے بلآخر خاموشی توڑی۔ 

مجھے ہنسی آگئ ۔وہ ایسا پتھر تھی جسے جونک جلدی نہیں لگتی۔ 

"میں دراصل ایک ہفتہ کے لیۓ دبئ جا رہا ہوں ۔کمپنی کی طرف سے ۔چار دن میٹنگ کے اور دو دن آنے جانے میں لگیں گے ۔اب دو گھنٹے میں فلائٹ ہے میری۔ دیر نہیں کر سکتا ۔" میرا بیگ پیک ہو گیا تھا ۔ کپڑے بھی میں نے تبدیل کر لیۓ تھے ۔‌

"ماموں کو بابا کو بتانا بھول گیا ہوں ۔بعد میں بتادیں ۔" میں نے بیگ لیا اور اٹھ کھڑا ہوا ۔ 

"اوکے ۔خدا حافظ" ۔ میں نے اسے نہیں دیکھا مگر محسوس کر سکتا تھا وہ مجھے ہی دیکھ رہی تھی ۔ 

دبئ کی فلائٹ وقت پر آگئ تھی ۔ میں نے اپنا لگیج کلیر کر لیا تھا اور اب اپنی سیٹ پر بیٹھا تھا ۔مجھے رہ رہ کر وہ یاد آرہی تھی ۔ اسکے بال بہت ملایم تھے اور ان سے خوشبو پھوٹ رہی تھی۔ جو میرے دل دماغ میں رچ گئ تھی ۔ 

"تو اب کب تک فصیح" ۔میں اپنے آپ سے سوال کر رہا تھا ۔

وہ بہت ضدی ہے ۔اتنا تو جان ہی گیا تھا ۔ کچھ بھی ہو وہ خود سے کبھی نہیں کہے گی ۔نا پہل کرے گی۔ تو کیا مجھے ہی اسکو منانا پڑے گا ۔منت کرنی  پڑیں گی کہ میرے ساتھ فلیٹ میں رہ لو ۔ اور وہ کیوں مانے گی ۔ اگر سمجھتی تو ایسی فضول ضد نا باندھتی۔ ہممم ۔خیر ۔

"اب پہلے یہ سفر تو گذر جاۓ پھر سوچیں گے کہ ان محترمہ کا کرنا کیا ہے ۔" میں نے آنکھیں موند لیں ۔‌

دبئ پہنچا تو کمپنی کے ہو ٹل میں ٹہرا ۔یہاں آتے ہی میں مصروف ہو گیا تھا ۔آخر میٹنگ کی تیاری کرنی تھی۔ کمپنی کے بڑے مینیجر وغیرہ سے ملاقات طۓ تھی اس لیۓ میں نے کسی سے بھی بات نہیں کی ۔جس دن میٹنگ ختم ہوئ اس دن بابا کا فون آیا ۔

"کیسے ہو "۔ان کا انداز سنجیدہ تھا ۔

"جی ٹھیک ہوں ۔ دبئ میں ہوں" ۔ 

"ہممم ۔ندرت کہاں ہے" ۔ 

"وہ ماموں کے پاس ہے ۔"

"یہاں لا کر چھوڑ دیتے ۔کجھ دن ہمارے پاس بھی رہ لیتی"۔ 

"نہیں ان محترمہ کو کہیں اورنہیں رہنا تھا اس لیۓ نہیں لایا"۔میں نے دو ٹوک جواب دیا تو وہ خاموش ہو گۓ ۔ 

"ٹھیک ہے جب تم آؤ تو پھر بات کریں گے" ۔ انہوں‌نے فون رکھا تو میرا ماتھا ٹھنکا ۔ 

"یہ بابا.. ۔کہیں انہیں کچھ پتا تو نہیں چلا کہ۔۔۔۔  یا مامی نے کچھ کہہ دیا ہو" ۔ میں سوچ میں پڑ گیا ۔ دراصل کچھ دنوں سے مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ مامی مجھ سے کچھ کھنچی کھنچی سی رہ رہی تھیں ۔ کیا پتا انہوں نے ندرت سے کچھ پوچھا ہو ۔ اور ندرت نے انہیں سب کچھ بتا دیا ہو ۔  میں اپنے    دفاع میں کیا کہنا ہے یہ  سوچ رہا تھا ۔

دبئ کے ایک بڑے سے شاپنگ مال سے میں نے ندرت کے لیۓ کچھ ڈریسز لیۓ تھے اور باقی سب کو بھی تحائف لیۓ تھے۔ اتنے دنوں میں میں نے ناماموں سے نا ندرت سے کوئ بات کی تھی۔ میں سیدھا اپنے فلیٹ کے لیۓ نکل پڑا تھا ۔ وہاں اپنا بیگ رکھ کر میں فریش ہو گیا ۔چاۓ پی  اور سارے گفٹس لیۓ ماموں کے گھر روانہ ہوا تھا ۔ بڑا دروازہ کھلا ہی تھا ۔میں سیدھا اندر گیا تو ماموں کی تیز آواز آئ۔ وہ ندرت پر برس رہے تھے۔ 

 "دونوں نے سمجھ کیا رکھا ہے ۔یہ گھر ہے یا سراۓ۔ جس کے جب دل چاہا آیا اور چلا گیا ۔۔۔"۔۔وہ اتنے غصہ میں تھے کہ میں وہیں تھم گیا ۔

"برخوردار کو کمپنی کی طرف سے کال آتی ہے اور وہ اچانک چلے جاتے ہیں ۔اور یہ بھی بتا کر نہیں جاتے کہ واپسی کب ہے"۔ ماموں کی اواز بادلوں کی گھن گرج جیسی لگ رہی تھی۔

"ابو ۔انہوں نے مجھے کہا تھا بلکہ بتا کر گۓ تھے۔ کہ ارجنٹ ہے کسی کو بھی بتا نا پایا ۔" یہ ندرت تھی۔ میری دفاع میں کچھ کہتی ہو ئ۔

"اور تم اتنے دن سے یہاں ہو ۔ اس نے ایک فون کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی ۔ کیا فون کرنے کے لیۓ بھی کمپنی سے اجازت لینی ہو تی ہے" ۔ اف ماموں کا تلخ لہجہ ۔

"اور کیا فصیح کو اتنا نہیں پتا کہ جب شادی کرتے ہیں تو بیوی کے نان نفقہ شوہر کے ذمہ ہوتا ہے ۔ اس نے تمہیں یہاں لا کر چھوڑا اور خود عیش کر رہا ہے ۔ ماموں تو ایسا لگ رہا تھا سارے حساب بے باق کرنے پر تلے ہوں ۔"  میرا چہرہ سرخ ہو گیا ۔

"ابو ۔وہ "۔۔ندرت بے بسی کی تصویر بنی ہوئ تھی۔ 

"وہ تمہیں جانے سے پہلے ایک پھوٹی کوڑی بھی دے کر نہیں گیا اور تم اسکی حمایت کر رہی ہو ۔" وہ پھر غصہ میں بھڑکے تھے ۔

"ابو کیا میں آپ پر بوجھ ہوں" ۔وہ روہانسی ہوئ تھی۔

"نہیں ۔لیکن اب بن گئ ہو" ۔ وہ سفاکی سے بولے ۔

"آپ تو انہیں گھر داماد بنانا چاہ رہے تھے ۔ تب تو میں اور وہ یہیں رہتے ۔یہیں کھاتے پیتے ۔ تو کیا آپ جب بھی ایسے ہی کہتے۔ 

کیا ہمارا ایک ایک نوالہ گنتے" بھرائ ہوئ سی آواز میں ندرت نے کہا تھا۔۔ 

"جب شادی ہوتی ہے تو انسان کو ذمہ داری بھی لینی پڑتی ہے ۔‌اگر وہ گھر داماد بھی رہتا تو میں یوں اسے اسے ہر ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں کرتا۔  اس سے حساب سے پیسے لیتا ۔ ہر چیز کے"۔ وہ جس طرح  کہہ رہے تھے اس سے میں ان سے یکدم بد دل ہو گیا ۔ شاید لوگ جو انکے بارے میں کہتے ہیں وہ صحیح ہی ہو ۔ بھلا کوئ اپنی ہی بیٹی کا حساب کتاب کرتا ہے ۔

"میں آپکی اکلوتی اولاد ہوں اور آپ ایسے کہہ رہے ہیں" ۔ وہ اب باقائدہ رونے لگی تھی ۔

ماموں نے کوئ جواب نہیں دیا ۔ اور اندر غصہ سے چلے گۓ۔ 

جاری  

۔ 




 






 


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ