رم جھم بارش ۔۔۔ساتویں قسط
وہ مجھے کمرے میں چھوڑ کر خود نیچے چلی گئ تھی ۔ میں کمرے کے بیچوں بیچ کھڑا پورے کمرے کا جائزہ لے رہا تھا۔
کمرے کو بہت خوبصورتی اور نفاست سے سجایا گیا تھا ۔لائٹ کلر کے پردے کمرے کو بہت بر سکون بنا رہے تھے ۔کمرے کے ایک کونہ میں خوبصورت منی پلانٹ رکھا تھا ۔ جبکہ کھڑکی سے لگا کر ایک چھوٹا موتیا کا گملا تھا ۔جس میں موتیا کے پھول مہک رہے تھے بلکہ سارا کمرا ہی مہک رہا تھا ۔ کنگ سائز بیڈ پر خوبصورت سی کڑھائ والی بیڈ شیٹ ڈالی تھی ۔ جسکے پھول قدرتی سے لگ رہے تھے ۔
ہ"مم ۔خوبصورت ۔بلکہ حیرت انگیز ۔۔۔"میں بڑ بڑایا .
"کیا یہ سب مامی نے کیا ہو گا "۔ میں سوچ میں پڑ گیا ۔
"نہیں" میں نے خود ہی رد کردیا ۔
"یا ماموں ۔ لیکن ماموں کو اتنی فرصت کہاں کہ وہ یہ سب کرتے پھریں" ۔ میں اپنے آپ میں ہی سوال جواب کر رہا تھا ۔
"تو کیا ندرت ۔۔۔"مجھے خود ہی حیرانی ہو ئ اور یقین بھی کہ یہ سب اس نے ہی کیا ہو گا ۔کیونکہ مامی قدیم طرز کی زندگی گذارنے کی عادی تھیں ۔ وہ آج کل کے نت نۓ فیشن ،سجاوٹ کے فن سے تقریباً نا بلد تھیں ۔
"واہ ۔کمال کا ذوق پایا ہے" ۔ میں نے دل ہی دل میں داد دی ۔۔
"چلو ۔اتنا تو پتا چل گیا "۔ میں نے اپنا تکیہ لیا ۔دیکھا صوفہ ندارد تھا ۔ مرتا کیا نا کرتا اسی بیڈ پر لیٹ گیا ۔تھکا ہوا تھا ۔اسی لیۓ کب نیند لکی اور ندرت کب آئ ۔مجھے پتا بھی نا چلا ۔
صبح حسب معمول میں ماموں کے ساتھ ناشتہ کر کے نکل گیا تھا ۔اور پھر وہاں سے آفس کے لیۓ نکل گیا ۔ ندرت سے میری کوئ بات نہیں ہوئ ۔ اب میں نے اپنا معمول بنا لیا تھا ۔ہر ویک اینڈ ماموں کے ہاں گزارتا اور پھر وہاں سے اپنے فلیٹ کو چلا جاتا ۔
میں نے پھر ندرت سے بات کرنے کی کوشش ہی نہیں کی ۔ نا ہی اس نے کسی قسم کا ردعمل دیا ۔میں جتنا وقت وہاں رہتا وہ کچن میں مصروف رہتی ۔یا پھر ٹی وی لکا لیتی ۔
اور رات میں اکثر اتنی لیٹ آتی کہ میں گہری نیند کے زیر اثر اسکی آمد کو محسوس بھی نا کر پاتا ۔
اس دن بھی میں ویک اینڈ بر آیا ہوا تھا ۔تو ماموں نے بتایا کہ دعوت ہے ۔ہم سب کو جانا ہے ۔
"آپ لوگ جائیں ۔مآموں میں تو تھک سا گیا ہوں" ۔میں نے آنا کانی کی ۔
"نہیں.. جانا ضروری ہے ۔ فصیح ۔ہم لوگ اب نکل رہے ہیں ۔تم اور ندرت تھوڑی دیر سے آجاؤ"۔ وہ کہتے نکل بھی گۓ ۔اور میں حیران حیران سا اوپر آیا تھا ۔
وہاں دیکھا تو ندرت بیڈ پر کپڑے ڈالے خود ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی بال بنارہی تھی۔
میں نے بیڈ پر تکیہ ٹھیک کیا اور ایک میگزین لیۓ نیم دراز ہو گیا ۔
جب پندرہ سے بیس منٹ ہوے تو میں نے میگزین چہرے سے ہٹائ ۔وہ اپنے لمبے بالوں میں الجھی ہوئ تھی۔
وہ بال سلجھاتی پھر بال کسی نا کسی انداز میں الجھ جاتے۔ وہ کافی چڑی ہوئ لگ رہی تھی ۔
میں نے کندھے اچکاۓ اور پھر میگزین اپنے سامنے کیا ۔لیکن گاہے بگاہے میگزینہٹا کر اسے بھی دیکھ رہا تھا ۔
وہ ہنوز بالوں کو سلجھانے کی نا کام کوشش کر رہی تھی ۔ میں نے وقت دیکھا ۔اور پھر ٹھنڈی سانس لیۓ اسکے ڈریسنگ ٹیبل کے پاس جا کر ٹہر گیا ۔
"ندرت ۔اتنی دیر کریں گی تو ماموں دعوت اٹنڈ کر کے واپس بھی آجا ئیں گے "۔میں اسکے پیچھے ٹہرا ہوا تھا ۔
وہ کچھ نہیں بولی ۔تب میں نے اسکے ہاتھ سے کنگھا لیا اور آہستگی سے بال سلجھانا شروع کیا ۔ یہ ایک بے اختیاری عمل تھا ۔
یہاں تک کے بال سلجھ گۓ اورمیں نے ہاتھ بڑھایا ۔
"کلپ ؟ "
اس نے سامنے سے اٹھا کر دیا اور میں نے لگا دیا ۔
"اب جلدی سے ڈریس چینج کر لیں ۔ ویسے بھی کافی دیر ہو گئ ہے" ۔میں نے اسکے کندھوں پر ہاتھ رکھا ۔
"میں نیچے گاڑی کے پاس ہوں ۔آپ جلدی آئیں" ۔ میں نے اپنے ہاتھ ہٹاۓ اور خود نیچے آگیا ۔ ۔۔
کچھ دیر بعد وہ آئ تو میں نے دیکھا اسکے چہرہ پر سرخی سی چھائ تھی ۔
دعوت میں میں بھی سب کے ساتھ شامل رہا ماموں کے ساتھ سب سے ملتے ملتے وقت کتنا گذر گیا پتا بھی نہیں چلا ۔ میں سب سے خوش مزاجی سے مل رہا تھا ۔ اور سب کے ہنسی مذاق کا ساتھ بھی دے رہا تھا ۔ دعوت جب اختتام کو پہنچی تو میں اپنے کزنز کے ساتھ بیٹھا تھا ۔وہ لوگ ماموں کے متعلق بات کر رہے تھے ۔
"تم نے سنا ماموں نے فہد کو کیا کہا" ۔ فہد ہمارا ایک مشترکہ کزن تھا وہ آج کل گھر بنانے میں کافی مقروض ہو گیا تھا "۔ کیا "۔۔میں نے سوالیہ انداز میں نعمان کو دیکھا ۔جس نے یہ بات چھیڑی تھی۔
"ارے بھئ ۔بے چارا گھر بنا رہا تھا۔ ۔اسے رقم کی ضرورت تھی تو ماموں سے کچھ رقم قرض لینے گیا تو ماموں نے اسکی تذلیل کی ۔اور کہا کہ وہ اپنے اوقات سے زیادہ کام کر رہا ہے ۔ اور اسے اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے چاہیۓ ۔ یہ میرا کزن فہد کا دوست بھی تھا ۔
"اب تم بتاؤ ۔فصیح کیا ان کا یہ طرز عمل صحیح تھا۔"
"بالکل صحیح تھا ۔"۔ میں نے جھٹ کہا ۔
میں خود وہاں موجود تھا جب فہد ماموں کے پاس آیا تھا ۔اسکا انداز ایسا تھا جیسے وہ قرض لینے نہیں دینے آیا ہو ۔ کافیغرور سے سے رقم مانگی تھی اس نے ۔
میں بتا رہا تھا ۔وہ سب سن رہے تھے۔
اور جب ماموں نے نرمی سے انکار کر دیا تو وہ الٹا ماموں سے تیز لہجے میں بات کرنے لگا ۔جس پر ماموں کو شدید غصہ آیا تھا" ۔
"تب ہی انہوں نے کہا تھا کہ وہ اپنی چادر دیکھ کر پیر پھیلاۓ"۔
اس بات پر وہ ہتھے سے اکھڑ گیا تھا اور ماموں کو عجیب عجیب القاب جیسے حاسد ،بخیل ،کنجوس کہتا چلا گیا تھا ۔ مجھے بھی کافی غصہ آیا تھا اسکے انداز پر ۔ میں ماموں کی حمایت میں بولتا چلا گیا تو وہ سب خاموش ہو گۓ ۔
تبھی میں نے دروازہ میں ندرت کو دیکھا تھا ۔وہ پتا نہیں وہاں کب آی تھی۔ شاید وہ چلنے کے لیۓ کہنے آئ تھی۔
"چلیں" ۔وہ پوچھ رہی تھی۔
میں بھی اٹھ گیا اور سب کو خدا حفظ کہتا باہر آیا ۔ وہ میری گاڑی پر بیٹھی تو اسکا ہاتھ میرے کندھوں پر تھا ۔میرے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ آئ تھی ۔
سفر ہوا کی طرح گذر گیا ۔۔
جاری ہے۔
۔
۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں