رم جھم بارش ۔۔۔۔۔۔
رمجھم بارش
شادی میں آۓ تمام مہمانوں کو رخصت کرتے کرتے ایک بج گۓ ۔اور ہم سب بے حد تھک گۓ تھے۔ دلہن یعنی ندرت کو کمرہ میں پہنچا یا گیا تھا ۔میں ہال میں اپنے کزنز کے ساتھ تھا ۔وہ سب خوش گپیوں میں مصروف تھے ۔گاہے بگاہے وہ مجھے بھی اپنے مذاق میں گھسیٹ لیتے ۔
"۔اب کل سے آپ سب فصیح بھائ سے ماموں نامہ یا پھر ندرت نامہ سنیں گے ۔"یہ میرا خالہ ذاد بھائ نعمان تھا ۔
سب قہقہہ مار کر ہنسنے لگے۔
میں کب خاموش رہتا ۔
"جی نہیں ۔ اب کل سے آپ محترمہ ندرت سے شوہر نامہ سنیں گے" ۔
میری بات پر تو اور ہی قہقہہ پڑا ۔
"اچھا ۔چلو دیکھتے ہیں ۔ اب آپ محترمہ ندرت کو دیکھ لیں ۔ہم بھی آرام کرلیتے ہیں" ۔ بابا کو دیکھ کر وہ سب شرافت کے جون میں آتے اٹھ گۓ تھے اور میں بھی مسکراتا اپنے کمرہ میں آگیا ۔وہاں ایک قیامت کا سامنا جو کرنا تھا ۔
میرا خیال تھا وہ شرمای لجائ بیٹھی ہو گی ۔ مجھے گھونگٹ میں چھپی اپنی دلہن کو دیکھنا ہو گا ۔ مگر نہیں ۔ وہ سر اونچا کیے بیٹھی تھی ۔ سرخ اور سنہری رنگ کے دوپٹہ سر پر پڑا تھا ۔سفید رنگت ،خمدار پلکیں اور سارے چہرے کو ایک شان دیتی۔ وہ ستواں ناک ۔ میں ایک لمحہ مبہوت سا ہو گیا تھا ۔اور قریب جا کر بیٹھ گیا تھا ۔
"کیسی ہو" ۔میں نے بہت اپنائیت سے اس کا حنائ ہاتھ تھاما ۔
"میں یہاں نہیں رہ سکتی" ۔ اس نے میرا ہاتھ اتنی بے رخی سے جھٹکا کہ ایک لمحہ کو میں حیران ہو گیا ۔
"کیا ۔ مطلب ۔"
"مجھے یہاں نہیں رہنا ۔میں فلیٹ میں کبھی رہی نہیں ۔ میرا دم گھٹتا ہے اور میں امی بابا کو چھوڑ کر نہیں رہ سکتی" ۔ وہ نظریں نیچی کۓ شاید فرمان جاری کر رہی تھی
"ہر دلہن اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر شوہر کے ساتھ آتی ہے ۔آپ کچھ انوکھا نہیں کر رہی ہیں "۔ میرے لیۓ اسکا حکمیہ لہجہ برداشت کرنا مشکل تھا ۔
"اور رہی فلیٹ میں دم گھٹننے کی بات ۔۔۔تو میں ماموں کے جیسا ہوا دار آنگن والا گھر فی الحال تو خرید نہیں سکتا ۔ آپ کو یہیں ایڈجسٹ کرنا ہو گا ۔" شاید رات کا فسوں تھا میرا لہجہ نرم تھا ۔مگر وہ غصہ سے اٹھ کھڑی ہوئ تھی۔
"تو میں تب تک امی ابو کے گھر ہی رہوں گی آپ مجھے اس طرح زبردستی مجھے یہاں رہنے کے لیے مجبور نہیں کر سکتے ۔جس طرح آپ نے گھر داماد بننے سے انکار کیا میں بھی انکار کا حق رکھتی ہوں" ۔یہ بد تمیزی کی انتہا تھی ۔ وہ ہر حق سے انکاری ہو رہی تھی ۔ نکاح کے دو بول سے تو مجھے بہت سارے حقوق مل گے تھے پھر یہ انکار ۔
وہ بہت پیاری لگ رہی تھی ۔ لیکن اسکی اس بات نے مجھے اس سے اتنا بد ظن کیا کہ میں بھی اٹھ کھڑا ہوا ۔
"آپ کچھ دن گذارا کر لیں ۔جیسے ہی بابا وغیرہ رخصت ہو جائیں گے ۔میں آپ کو ماموں کے پاس چھوڑ دوں گا ۔" میں اسکے قریب جا کر رکا ۔
"اور ۔۔۔رہی بات حق کی۔ تو تسلی رکھیں ۔بہت سارے حق چاصل ہیں مگر اتنا تو ضبط میں بھی رکھتا ہوں کہ آپ پر کوی زبردستی نہیں ہو گی" ۔ میں نے اپنا تکیہ قریب رکھے صوفہ پر پھینکا اور خود بھی صوفہ پر لیٹ گیا ۔یہ دیکھے بغیر کہ اس کا ردعمل کیا تھا۔۔۔
صبح ہوئ تو ایسا محسوس ہوا جیسے صوفہ پر کانٹے اگ آۓ ہوں ۔میںبنا کہیں اور دیکھے باہر نکل گیا ۔اسکے بعد کیا ہوا میں نے جاننے کی کوشش نہیں کی۔
جب دو دن بعد بابا اور دوسرے مہمان رخصت ہوۓ تو میں نے ندرت کو بیگ پیک کرنے کے لیۓ کہا ۔
"آپ بیگ پیک کر لیں ۔میں ابھی آپ کو ماموں کے گھر چھوڑ آتا ہوں" ۔مجھے آفس بھی جانا ہے ۔
وہ تیار ہو کر آئ تو میں نے ایک ٹیکسی کرایہ کر لی ۔اور سیدھا ماموں کے گھر پہنچ گۓ ۔ نا اس نی کوی بات کی نا میں نے ۔ راستہ اس طرح کٹا جیسے قید کاٹتے ہیں ۔
ماموں کے گھر پہنچے تو ماموں نہیں تھے ۔ میں شکر مناتا مامی سے مجبوراً کچھ دیر بات کر تا رہا ۔ ۔مامی خوشی سے بچھ بچھ جا رہی تھیں ۔ مگر میں معذرت کرتا وہاں سے نکل آیا تھا۔
اس کے بعد میں نے کوئی رابطہ نہیں کیا ۔یہاں تک کہ ایک ہفتہ گذر گیا ۔ لیکن پھر ماموں کا فون آیا تھا ۔
"کیا ہوا فصیح ۔گھر کیوں نہیں آرہے "۔ انکے لہجہ میں تشویش سی تھی ۔
"کچھ نہیں بس ذرا جاب میں مصروف تھا "۔میں نے بہانہ گھڑا ۔
"جاب تو میں بھی کرتا ہوں لیکن اس طرح اپنے قریب کے لوگوں سے غافل تو نہیں ہو تا "۔ انکے لہجہ میں جو شکوہ تھا وہ میں سمجھ گیا تھا ۔
"ایسی کوی بات نہیں ہے ۔میں کل شام میں آرہا ہوں" ۔ میں نے کہا تو وہ مطمین سے ہو گۓ ۔
"ٹھیک ہے ۔آجاؤ میں انتظار کروں گا "۔ انہوں نے فون رکھا ۔تو میں شش و پنج میں پڑ گیا تھا ۔پتا نہیں مجھے کیا کرنا چاہیۓ" ۔اب کل جاؤں یا نہیں ۔"
"اگر نہیں گیا تو ماموں پھر سے فونکریں گے ۔ان کا سامنا تو کرنا ہی ہے ۔بھر ۔۔۔۔۔ خیر انکی خاطر تو مجھے جانا ہی ہوگا ۔ چلا ہی جاتا ہوں ۔" ایک فیصلہ پر پہنچ کر مجھے ایک سکون سا محسوس ہوا ۔
دوسرے دن شام میں بہنچا تو ماموں منتظر ہی بیٹھے تھے ۔مجھے دیکھا تو گرم جوشی سے گلے لگایا ۔
"کیسی چل رہی ہے جاب "۔ وہ میرے بیٹھتے ہی پوچھنے لگے۔
"بس اسکے ہی مسا ئل ہیں ۔ہر چیز مینیج کر نا مشکل ہو رہا ہے "۔ دراصل سارے مسائل انکی بیٹی ہی کے پیدا کردہ تھے۔مگر میں وہ کہہ نہیں سکتا تھا ۔
"ہمم ۔چلو اب سارے مسائل کو باہر ہی چھوڑ آیا کرو ۔بھئ ۔جب آپ باہر کی الجھنیں گھر میں لاؤگے تو پھر گھر الجھن کا شکار ہو جاتا ہے ۔ کیوں "۔ وہ سنجیدگی سے اپنی بات کہہ کر اب اپنی بیٹی کو آواز دے رہے تھے۔
وہ آگئ تھی "۔ جی ابو ۔ "
"بیٹے فصیح آیا ہے کھانا لگادو" ۔ میں نے اپنی نظریں نیچے گاڑ دی تھیں ۔مجھے اسے ایک نظر بھی دیکھنے کا شوق نہیں تھا۔
"جی ابو ۔" وہ کہہ کر جا رہی تھی کہ ماموں نے آواز دی ۔
"ندرت ۔"
"جی "۔ وہ پلٹی
"فصیح کو کم از کم سلام ہی کر لو ۔یہیں تو بیٹھا ہے وہ ۔" ماموں کی تنبیہہ پر وہ ایک لمحہ چپ ہوئ ۔
"جی ۔اسلام علیکم ۔"وہ کہتی پلٹ گئ تھی۔
میں نے بھی رکھا ئی سے جواب دیا
"وعلیکم اسلام ۔ "
کھانا لگا دیا گیا تھا ۔ماموں مجھے اصرار کر کے کھانے پر مجبور کر رہے تھے ۔ اور میں انکی محبت سے بے بس ۔
ندرت برتن سمیٹنے آئ تو ماموں نے کہا ۔
"ندرت ۔فصیح کو اوپر تمہارے کمرے میں لے جاؤ وہ آج رات یہیں رکے گا ۔ کیوں فصیح "۔ وہ میری طرف دیکھ رہے تھے ۔میں یکایک سے اس بات پر کچھ کہہ نا سکا ۔ میں کھانا ہوتے ہی جانے کا سوچ رہا تھا اور اب ۔۔۔سمجھ نہیں آیا کیا کروں ۔میںخاموش تھا ۔ندرت میری خاموشی کو میری رضامندی سمجھ کر اوپر کمرہ سٹ کرنے چلی گئ تھی شاید ۔
کچھ دیر بعد اس نے مجھے اوپر چلنے کے لیۓ کہا تھا ۔
میں اس کے پیچھے پیچھے سیڑھیاں چڑھنے لگا ۔
جاری
۔
۔
۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں