ساحل کے کنارے ۔۔۔

ساحل کے کنارے ۔۔۔۔۔عائشہ نے لکھی اپنی کہانی 

رک جاؤ عائشہ ۔کہاں ہو تم ۔ کچھ مت کرنا ۔دیکھو ۔ہم بات کر رہے ہیں ناں ۔رک جاؤ کہاں ہو ۔فون مت رکھو ۔ عائشہ" ۔ وہ فون پکڑے اپنی پیاری بیٹی سے بات کر رہے تھے ۔ 

عائشہ مایوسی کے عالم میں گھر سے نکل گئ تھی ۔ اس کے شوہر کی بے وفائ سے وہ دلبرداشتہ تھی ۔ 

گجرات کی سابرمتی ندی کے کنارے وہ ٹہر گئ تھی ۔اور فون اٹھا لیا تھا ۔

بابا اس سے بار بار منت کر رہے تھے ۔ 

گھر آ جاؤ  عائشہ ۔ کہاں چلی گئ ہو تم ۔ہم سب پریشان ہیں ۔ماں رو رہی ہیں ۔بیٹے ۔ گھر آجاؤ ۔ وہ اس سے التجا کر رہے تھے۔ 

بابا وہ سسک پڑی ۔ 

نہیں آؤوں گی اب واپس ۔بابا میں نے آپ سب کو بہت پریشان کیا ۔ اب نہیں کروں گی ۔ وہ رونے لگی ۔ 

نہیں عایشہ ۔تم کچھ نہیں کروگی ۔ میں آرہا ہوں تمہارے پاس ۔ تم کہاں ہو وہ اسکے ارادوں سے گھبراۓ ان کا دل دھڑ دھڑ کر نے لگا ۔ایسے لگا جیسے کچھ غلط ہونے جارہا ہے ۔

میں کیا کروں بابا ۔کیا کروں میں ۔میں تھک چکی ہوں ۔اب سکون چاہتی ہوں ۔میں ہوا کی طرح آزاد رہنا چاہتی ہوں ۔ میرے لیۓ دعا کرنا ۔ وہ فون رکھ چکی تھی ۔

اس نے اپنے شوہر کو کال کیا ۔

میں مر رہی ہوں ۔ 

مر جاؤ۔ ویسے بھی تمہیں مرنا ہی تھا ۔ وو سنگدلی سے بولا تھا ۔

مرنے سے پہلے ویڈیو بھیج دے ۔ وہ فون رکھ چکا تھا ۔ 

اس نے ویڈیو۔ بھیج دیا جو کچھ ہی دیر میں وائرل ہو گیا ۔ عائشہ نے مرنے سے پہلے اپنی ویڈیو بنائ تھی ۔ 

وہ سیاہ برقعہ میں تھی ۔اسکا چہرہ صاف شفاف تھا ۔ وہ پہلے روئ ۔ پھر مسکرا کر اس نے سب کو خدا حافظ کہا ۔ اس نے کہا۔ 

وہ ہوا کی طرح آزاد جینا چاہتی ہے ۔ 

مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا ۔ یہ اسکے آخری الفاظ تھے ۔ 

گجرات کی سابرمتی ندی کے ساحل کے کنارے اسکی چپلیں رکھی ہوئ تھیں اور پرس بھی ۔ 

یوں عائشہ نے ساحل کے کنارے اپنی کہانی ختم کی ۔



۔ 

۔ 


۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ