کافی یا چاۓ

 کافی یا چاۓ

وہ دونوں ابھی ابھی کسی گروسری مارکٹ سے سیدھی کچن کیبینٹ میں پہنچیں تھیں ۔ 

کہاں سے آئ ہو ۔وہ براون کلر کی کافی تھی جو چاۓ سے مخاطب تھی ۔

چین سے ۔چاۓ نے اسے گھور کر  جواب دیا۔ اسے کافی کا اس غرور سے پوچھنا اچھا نہیں لگا تھا ۔

ہمممم ۔کافی نے اداۓ بے نیازی دکھائ۔ 

ہونہہ ۔ایسے پوچھا جیسے میں گری پڑی ہوں ۔ 

اور تم ۔۔۔۔چاۓ نے لگے ہاتھوں اسکی اوقات جاننی چاہی ۔

افریقہ۔وہ ابھی بھی نخوت سے بولی تھی ۔ 

اور میری کئ اقسام ہیں ۔اور میں ایلیٹ کلاس سے بی لونگ کرتی ہوں ۔ اسکی اس بات پر تو چاۓ جلتے توۓ پر جا بیٹھی۔ 

تو میری بھی کئ اقسام ہیں ۔گنواؤں کیا ۔ 

اور میرے چاہنے والے تو بہت ہیں ۔کوئ گھر ایسا نہیں جہاں میری پکار نا ہو ۔ (اپنے آپ کو جانے کیا سمجھ رہی ہے ۔)۔

اوہ ۔ریئلی۔ لیکن میرے فین فالوونگ تو لاکھوں میں ہیں ۔کافی کی طنزیہ ہنسی اف۔۔  چاۓ جیسے کھولنے لگی۔ 

تمہیں لوگ صرف سردیوں میں منہ لگاتے ہونگے۔ میں تو ہر موسم کی رانی ہوں ۔ چاۓ اترائ۔ 

میرا تم سے کوئ مقابلہ نہیں ۔اس لیۓ پلیز تم تو چپ ہی رہو۔ اب کافی کے صبر کا پیمانہ چھلک گیا ۔

"بہت اعلی ذوق اور ہائ سوسائٹی کے لوگوں کی پسند کافی ہی ہو تی ہے"۔ 

"اور شاید تمہیں پتا نہیں کہ ایک چاۓ کی پیالی میں کیسے طوفان اٹھتے ہیں" ۔ چاۓ نے بڑی گرم جوشی سے کہا ۔

تب ہی گھر کی صاحبہ آئیں اور کافی نکالی اور دودھ لے کر کافی پھینٹنے لگیں ۔ 

کافی نے بہت تفاخر سے چاۓ کو جتاتی نظروں سے دیکھا ۔جیسے کہہ رہی ہو "۔دیکھا ۔میری اہمیت ۔" 

چاے نے منہ پھیر لیا ۔ وہ چلی گیئں ۔اس سے پہلے کہ کافی کچھ کہتی ۔ ایک اور گھر کی فرد کچن میں آئیں اور چولہے پر چاۓ چڑھا دی۔ 

چاۓ بہت خوشی سے پکنے لگی۔

چاے کے پانچ ،چھ کپ بنا کر وہ چلی گئیں ۔اور پھر تھوڑی تھوڑی دیر سے یہ سلسلہ چل نکلا ۔

ہر دو گھنٹے میں   چاۓ بن رہی تھی۔ جبکہ کافی کا ایک کپ ہی بنا تھا ۔اس  لیۓ  کافی بے زار سی بیٹھی تھی۔ 

چاۓ کافی کی درگت پر ہنسے جارہی تھی ۔ لیکن کچھ کہنے سے کافی اور کڑوی ہو جاتی ۔اس لیۓ خاموش رہی تھی۔ ۔

انکی بحث کو بہت دیر سے سنتی ماچس کی تیلی چپ نا بیٹھ سکی ۔اس نے قریب رکھے دودھ کے ڈبے کو کہنی ماری ۔

"چاۓ یا کافی ۔"

دودھ نے پہلے دونوں کو دیکھا پھر ہنس کر کہنے لگا ۔

"مجھے تو دونوں چلیں گی"۔ 

دودھ کی بات پر چاۓ کھول گئ ۔

"اوہ ۔ہیلو ۔ لیکن میں اکیلی بھی چل جاتی ہوں ۔اوکے "۔اسکی بات پر کافی کامنہ تک کڑوا ہو گیا ۔کیونکہ وہ شاید ایسے کچھ نہیں کہہ سکتی تھی ۔ 

اسکی بات پر دودھ کامنہ بھی بن گیا ۔اور وہ بھی بحث براۓبحث کرنے لگا ۔ماچس کی تیلی اپنا کام کر کہ مزے میں سو چکی تھی ۔ 

اور کچن میں ابھی بھی یہی بحث چل رہی تھی ۔کہ 

چاۓ یا کافی ۔۔۔۔۔

ختم شد ۔

اپنی راۓ ضرور دیں ۔



۔ 




تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ