قید حیات ۔۔۔۔۔مزاحیہ تحریر
قید حیات
"افوہ ۔میں تمہیں بتانا بھول گیا۔آج دوستوں کو دعوت دی ہے بلکہ دی کیا ۔ان کو یاد تھا کہ آج ہماری شادی کی پچیسویں سالگرہ ہے۔ تو۔۔۔۔۔۔"یہ ہمارے شوہر تھے جو اخبار ہاتھ میں لیے ایسے کہہ رہے تھے جیسے کوی نیوز سنا رہے ہوں ۔
"کیا"۔ہمارا دماغ بھک سے اڑ گیا ۔کہاں ہم گھومنے پھرنے کا پلان کر کے بیٹھے تھے اور کہاں یہ دعوت ۔
"ہماری شادی کی سالگرہ اور یاد انکو رہی" ۔ہم نے تعجب سے انہیں دیکھا ۔
"پندرہ اگست ۔۔۔یوم آزادی ۔۔۔کیسے بھول سکتے تھے وہ ۔ بندہ ایک چھٹی کی خاطر نیشنل ہالی ڈے کو شادی رکھ لیتا ہے ۔تو چاہے ہمیں یاد ہو نا ہو لوگوں کو یاد ضرور رہتا ہے ۔" وہ اخبار میی سے ہی بولے ۔
"حالانکہ ۔قومی آزادی کے دن مجھے قید کر دیا گیا ۔اسکی کسی کو فکر ہی نہیں "۔ وہی اخبار کے اندر سے ہی کہا گیا ۔
"ااوہ" ۔ہم نے انہیں گھورا ۔مگر وہ اخبار کی اوٹ میں تھے بچ گۓ۔
"لیکن میں دس لوگوں کا پکوان کیسے کروں ۔ایک تو بچے امی کے یہاں چلے گۓ ۔اور ماسی کو بھی آج ہی چھٹی لینی تھی" ۔ ہم پر اچانک گرہست عورت حملہ آور ہوئ اور ہم بالوں کا جوڑا بناتے کچن میں آگۓ۔
فرج کھولا تو شکر تھا کہ وافر مقدار میں مرغ رکھا تھا ۔ہم نے مرغ نکالا اورکچن کیبنٹ میں سے گلاب جامن مکس نکالا۔ ۔اتنی اچانک دعوت کا سن کر ہمارے ہاتھ پاؤں سب پھول گۓ تھے ۔
آپ بھی کچھ کریں ناں ۔میں اکیلی کیا کیا کروں ۔ ہم اب واپس پھر سے ان کے سر پر جا پہنچے۔
میں کیا کر سکتا ہوں ۔بریانی تو بنا نہیں سکتا ۔تم کہو گی تو رائتہ بنا سکتا ہوں ۔اور بس ۔۔۔۔وہاں وہی انداز لا پرواہی تھا ۔ہم جلتے کڑھتے پھر سے کچن میں چلے گۓ ۔
مرغ دھویا اور بریانی کا مصالحہ لگا کر گوشت کو میرینیٹ کیا ۔اور پھر بھا گم بھاگ ڈرایینگ روم کی صفائ کرڈالی ۔ آپ ذرا دیکھیں تو ڈرایینگ روم کو۔سٹ ہو گیا کہ نہیں ۔
وہ اٹھے
"واہ ۔نۓ پردے ۔نۓ کشن کور ۔۔۔سب نیا نیا ۔۔"۔انہوں نے تعریف کی ۔
"لیکن تم پرانی پرانی لگ رہی ہو ۔کاش ۔۔۔۔۔۔"انکا انداز شراتی تھا ۔
ہم نے کچن میں ہی ایک برتن" کھٹ" سے رکھ کر انکی بات کا جیسے جواب دیا ۔
"گلاب جامن بنا لیتی ہوں ۔ جلدی بن جائیں گے ۔
"گلاب جامن ۔۔وہ تو ہمارے پڑوس کی فریدہ بھابھی اچھے بنا تی ہیں ۔انکے ہاتھ کے گلاب جامن ۔واہ ۔منہ میں پانی آگیا" ۔
"بڑی رال ٹپکارہے ہیں ۔ابھی بتاتی ہوں "۔ہم نے گلاب جامن بنانے شروع کۓ۔ساتھ ساتھ انکی باتوں کے جوابی حملے بھی سوچ رہے تھے۔
کام کرتے کرتے دن ڈھل گیا ۔سارا دن کام میں گزرا۔ کیا کیا نا سوچا تھا ۔نئی ساڑھی نئ ۔جیولری پہنیں گے۔ سارا موڈ ستیاناس کر دیا ۔ ہم کچن سے نکل کر باہر آۓ تو ۔۔۔۔
"اسلام علیکم ممی" ۔وہ ہمارے بچے تھے ساتھ میں امی بہنیں سب ہی مسکراتے ہمیں دیکھ رہے تھے ۔
"سرپرائز ۔۔۔۔شادی کی سالگرہ مبارک آپ دونوں کو" ۔۔وہ سب کورس میں بولے ۔
"قید حیات مبارک بولو ۔قید حیات ۔۔"۔یہ ہمارے میاں تھے جو ہنس کر ہمیں اور تاؤ دلا رہے تھے۔
"چلو ۔بیٹی جاؤ جلدی سے تیار ہو کر آؤ ۔یہ لو اپنی نئ ساڑھی۔ امی نے ہم دونوں کو کپڑے تھماۓ ۔
"ذرا جلدی تیار ہو جاؤ بھئ ۔ایسا نا ہو ۔ہوٹل والے بکڈ سیٹ کینسل کر دیں "۔
"کیا ۔ہوٹل۔ لیکن ہم نے تو گھر پر سب تیاری کر لی ہے "۔ ہمارا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا تھا ۔
"تو ٹھیک ہے ۔وہ بریانی کا مصالح فرج میں رکھو ۔اور گلاب جامن تو وہ تو کبھی بھی کھا سکتے ہیں یہ تو بس تمہیں بس ستانے کے لیۓ تھا ۔"۔وہ بڑے بھولے بنے کہہ رہے تھے۔
"اچھا ۔"اور وہ فریدہ بھابھی ۔۔ہم نے بھی اب انہیں ستانے کا سوچ لیا تھا ۔
"انکے شوہر نے پورے پانچ تولہ کا سونے کا ہار بنا یا تھا انکی شادی کی سالگرہ پر ۔۔آپ کب بنارہے ہیں" ۔ ۔
"ارے فریدہ بھابھی کی تعریف اتنی مہنگی پڑے گی۔ یہ میں نے سوچا بھی نہیں تھا "۔
"جی ہاں ۔بیوی کے سامنے کسی دوسری خاتون کی تعریف بیوی کبھی سستے میں نہیں چھوڑتی ."ہمارا جواب سنکر انہوں نے کانوں کو ہاتھ لگا یا۔
"ارے بھئ یہاں تو پوری شادی ہی مہنگی پڑ رہی ہے ۔ اب میں کیا شادی کی سالگرہ مناؤں ۔
مجھے تو یہ عمر قید تا حیات لگ رہی ہے ۔ وہ کہتے رکے نہیں ورنہ ہمارا نشانہ تو پکا تھا۔ ۔
ختم شد
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں