ڈائری انٹری دسمبر
ڈائری ۔۔۔۔۔۔۔دسمبر کی شامییں
دسمبر کی آمد کے ساتھ ہی من بوجھل ہو جا تا ہے ۔ایسا لگتا ہے کوئ اپنا نہیں ۔اور ہم بس تنہا کھڑے ہیں ۔ زندگی کی ساری اداس شامیں دسمبر میں ہی یاد آتی ہیں ۔ دسمبر درخت سے بچھڑتے پتے کی یاد دلاتا ہے ۔شاخ سے ٹوٹے وہ زرد پتے نجانے کون کونسی دکھ بھری کہانی سناتے نظر آتے ہیں ۔ اپنوں کی بے گانگی ،بےحس جذبے یا بے مروتی ۔ادھر ادھر وہ زرد پتے بکھر کر کیا کچھ نا یاد دلاتے ہیں ۔
میں بھی چاے کا ایک گرم پیالہ لیۓ کھڑکی میں بیٹھی ہوں ۔اور مجھے وہ سب لوگ یاد آتے ہیں جن کے ساتھ میں نے وقت گذارا تھا ۔کچھ کھٹی میٹھی یادیں میرے دل کو چٹکیاں لیتی ہیں ۔ہاں ۔ان میں سے کچھ لوگ اب میرے ساتھ نہیں ۔ رشتوں کو کھونے کا دکھ بلکل ویسا ہی ہوتاہے جیسے پت جھڑ کا دکھ ۔
شاخ سے ٹوٹے پتے مجھے بہت رلاتے ہیں ۔ دسمبر ان تنہا پتوں کا دکھ لیکر آتا ہے ۔ جو اپنا غم کسی سے بیان نہیں کرتے ۔بس جدھر ہوا لے جاتی ہے چلے جاتے ہیں۔ بنا کسی کو تکلیف دیۓ۔کوئ ان پتوں سے نہیں پوچھتا کہ انکی منزل کہاں ہے ۔کوی ان پتوں کو اپنی مٹھیوں میں نہیں بھرتا ۔جو جھڑ جاتے ہیں وہ بس جھڑ ہی جاتے ہیں ۔انکا کوئ پرسان حال نہیں ہو تا ۔ ان کا کوی راستہ نہیں ہوتا ۔نا منزل ۔
پورے سال کے دکھ کا نچوڑ دسمبر بنتا ہے ۔اور میں سوچتی ہوں دسمبر کیوں آتا ہے ۔
دسمبر چھ ۔۔۔۔۔ایک سیاہ باب
چھ دسمبر ہندوستان کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے جس میں انتہا پسندوں نے چار سو سالہ مسجد صرف اس وجہہ سے ڈھادی کہ وہ ایک مندر تھا ۔
یہ مسلمانوں کے دل کا ایسا داغ ہے جو کبھی مٹ نہیں سکتا ۔اور مستقبل میں ایسا پھر کبھی نا ہو اس کے لیۓ مسلمانوں نے کوئ منصوبہ بھی نہیں بنا یا ۔نا صرف یہ کہ مسلمانوں نے مسجد کی حفاظت نا کر سکے بلکہ مسلمان نماز کی حفاظت بھی نہیں کر تے۔ انکے دل ایمان سے خالی ہو چکے ۔جذبہ مر چکا ۔غیرت جانے کہاں جا سوئ ۔اور اب ۔۔۔۔۔
ہر سال چھ دسمبر کو سیاہ جھنڈیاں لے کر نکلتے ہیں ۔کیا مسجد کے لیۓ یہ احتجاج کافی ہے ۔وہ ہماری مسجد تھی ۔ہمارا دین اسکے ستونوں پر کھڑا تھا اور لوگوں نے اس ستون کو ڈھا یا ۔تو اب ماتم کسکا ۔اپنی بےحسی کا یا اپنی ناکامی کا ۔
نماز ہمارے دین کا ستون ہے ۔اور جب تک ہم نماز کی حفاظت نہیں کرنگے ہماری مسجد کی حفاظت بھی نہیں ہو پاۓ گی۔
دسمبر۔۔۔۔۔۔۔۔کیا کھویا اور کیا پایا
دسمبر جا رہا ہے تو یہ خیال شدت سے پیدا ہو رہا ہے کہ اس سارے سال میں ہم نے کیا پایا اور کیا کھویا ۔یوں تو زندگی گزر ہی جاتی ہے ۔اچھی اور بری ۔ہم نے اپنے پیچھے کیا نشان چھوڑے ہیں یہ تو وقت ہی بتا ۓ گا۔
اس سارے سال بھی کووڈ کا قہر موت کا خوف دلوں میں جا گزیں رہا ۔لیکن یہ سال ویکسین لینے اور نا لینے کی بحث بھی چلتی رہی۔ کئ لوگوں نے ویکسین نا لینے کے لیۓ جھوٹی سرٹیفکٹ بھی بنائیں ۔لیکن یہ سمجھ نہیں آیا کہ ان جھوٹی سرٹیفکٹ سے انہیں کیا فائدہ پہنچے گا ۔ویکسین سے کیسس میں کمی ہوئ اور کووڈ کا خطرہ کم ہو گیا ۔اور لوگوں نے راحت کی سانس لی ۔
اب ایک اور ویرینٹ اومیکرون نے مارکٹ میں قدم رکھا ہے اب اسکا کتنا اثر ہم عوام پر ہو گا یہ تو آنے والا وقت ہی بتاۓ گا ۔ لیکن ویکسین لینے کی وجہہ سے ہمارے گھر میں راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے ۔
یہ سال اسکول کالج جانے والوں کے لیے بہت اہم ہے ۔مقابلہ جاتی امتحانات وغیرہ دیر سے ہی صحیح مگر ہونے والے ہیں اور کچھ کے ہو چکے ۔ کچھ طالب علموں کے لیۓ کامیابی ثھولی میں ڈال دی اور کچھ کی جھولی خالی ہی رہی ۔وجہہ لاک ڈاؤن ہی رہی ۔ کچھ بچوں نے لاک ڈاؤن کا فائدہ اٹھا یا اور کچھ غفلت میں پڑے رہے۔
الحمدللہ میرے بیٹے کو پچھلے سال ایم بی بی ایس میں اڈمشن ہو گیا اور اب ایک سال مکمل کر کے وہ ایم بی بی ایس سکنڈ ائر میں جاۓ گا ۔ہم سب گھر والوں کے لیۓ یہ بہت بڑی کامیابی رہی امید ہے کہ آنے والے سال میں بیٹی کو بھی ایم بی بی ایس میں اڈمشن مل جاۓ ۔۔یہ دہری خوشی ہوگی۔
ڈائری انٹری ۔۔۔۔۔۔جاتے دسمبر کا پیغام
ہر دن جب ختم ہو تا ہے تو ایک پیغام کے ساتھ ختم ہوتا ہے ۔اسی طرح ہر مہینہ بھی اختام کو پہنچتا ہے تو ایک پیغام دے کر جاتا ہے ۔دسمبر بھی سال کا آخری مہینہ ہے اور اس کا بھی ایک پیغام ہے کہ جو بیت گیا اسے رونے کے بجاۓ آنے والے وقت کو مثبت طور پر لے کر آگے بڑھنا ہے۔
ہار جیت قسمت کی بات ہو سکتی ہے مگر کوشش ،جدوجہد انسان کے ہاتھ میں ہے ۔اسکی مٹھی میں محنت کا سونا ہو تو انسان فتح و کامرانی حاصل کر ہی لیتا ہے۔ جسکی زندگی عزم و استقلال سے معمور ہو وہ وقت کا رونا نہیں روتے۔ وقت تو اس انسان پر مہربان ہوتا ہے جو کوشش کو اپنا شعار بناتا ہے ۔ہر جاتا سال ایک نئ امید کا سورج انسان کی جھولی میں ڈال کر چلا جاتا ہے ۔۔کہ آنے والا نیا سال آپ کو نئ صبح کی طرح روشن ہو ۔
میرے لیۓ بھی یہ سال کچھ آزمائشوں کا سال رہا ۔لیکن آزمایشوں میں بھی ثابت قدم رہنے کی کوشش رہی ۔اب جاتا دسمبر کچھ امید کے جگنو میری مٹھی میں دے کر جا رہا ہے اور کہہ رہا ہے ۔"حوصلہ رکھ ۔آنے والا سال خوابوں کے پورے ہو نے کا سال ہو گا ۔ "
دسمبر۔۔۔۔۔۔۔الوداع دسمبر الوداع
ہاں ۔اب دسمبر کو الوداع کہنے کا وقت آگیا ۔ان تلخ یادوں کو الوداع کہنے کا جو دلوں میں دکھ بھر دیتی ہیں۔ان لوگوں کو الوداع جو ہمارے ساتھ رہتے ہوے بھی ہمارا ساتھ نا دے سکے۔ان تلخ سچا ئیاں کو الوداع جن سے سامنا ہونا سواۓ تکلیف دہ رہتا ہے ۔اس جھوٹ کو الوداع جو جھوٹ رہتے ہوے بھی سچ بن جاتا ہے ۔اور لوگوں کو بد گمانیوں کے اندھے جنگلوں میں پہنچا دیتا ہے۔ ان بلندیوں کو الوداع جہاں انسان پہنچ کر اپنی اوقات ہی بھول جاتا ہے۔
الوادع دسمبر ۔وہ گذرے بے کار دن ۔وہ پل جو ہم نے بنا اللہ کو یاد کیۓ گذارے۔ وہ لمحے جن میں ہم نے کوتاہیاں کیں ۔خطاییں کیں ۔اور اب آنے والے وقت میں اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہیں کہ آنے والے سال ہمیں سچا پکا مسلمان بناۓ۔ صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرماۓ۔ آمین ثم آمین۔
۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں