شادی میں قتل

 شادی میں قتل

"آخر ایسا کیا ہوا کہ عین شادی کے دن دلہن نے خودکشی کر لی ۔"انسپکٹر فواد اپنی ٹیم کے ساتھ موجود تھا ۔وہ ابھی ابھی اس بنگلہ میں آیا تھا ۔اسے اطلاع ملی تھی کہ یہاں ایک دلہن نے خودکشی کر لی ہے ۔ 

"دیکھیۓ ۔انسپکٹر ۔۔۔"۔وہ دلہن کا بھائ تھا اس نے ہاتھ اٹھا کر انسپکٹر فواد کو بولنے سے منع کر دیا ۔

"یہ ہمارا ذاتی معاملہ ہے ۔اب کیا ہوا کیوں ہوا ۔یہ سب فضول ہے ۔یہ سیدھا سیدھا خودکشی کا کیس ہے ۔ آپ ایسے سوالات سے خوامخواہ الجھن  بڑھا رہے ہیں   ۔ اسکے چہرے پر اتنی کرختگی تھی کہ پتھر کا گمان ہو تا تھا

"مسٹر ۔آپ ہمیں مت سمجھائیں کہ مجھے کیا سوال کرنا چاہیۓ اور کیا نہیں ۔ "

"کیا یہ آپ بتا سکتے ہیں کہ دلہن کی اس شادی میں مرضی شامل  تھی کہ نہیں ۔"

"وہ یہاں شادی نہیں کرنا چاہ رہی تھی ۔ بس اس وجہہ سے اس نے ۔۔۔۔۔۔"

"ہمممم ۔تو آپ نے اس پر زبردستی یہ رشتہ تھوپا "۔ انسپکٹر فواد نے دلہن کے بھائ پر ایک تیز نظر ڈالی ۔

"ہاں ۔لیکن ہمیں نہیں پتا تھا کہ وہ اس طرح کا انتہای اقدام کر لے گی ۔" دلہن کے بھائ نے جلدی سے کہا ۔ 

"ہممم "انسپکٹر فواد دلہن کے بھای کو غور سے دیکھنے لگا ۔

"آپ کو کیا لگتا ہے آپ کی اس کہانی سے میں مطمین ہو جاؤوں گا ۔ دلہن کے بھا ئ نے پہلو بدلا .

"فیروز "اس نے اپنے حوالدار کو آواز دی ۔

"جی انسپکٹر" وہ فوراً آیا ۔ 

" دلہن کے بھائی اور باپ کو فوراً گرفتار کرو "۔ 

"دلہن کا باپ جو پاس بیٹھا رو رو کر ہلکان ہوا جارہا تھا ۔یکایک رونا بھول کر کھڑا ہو گیا .

"یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ "۔دلہن کے بھائ کا چہرا بھی سفید پڑ گیا ۔

"ہاں ۔کیونکہ یہ خودکشی نہیں قتل ہے قتل ۔انسپکٹر کی اس بات پر وہاں موجود سبھی افراد دم بخود رہ گۓ  

"قتل ۔لیکن کیسے "

"جیسا کہ بتایا گیا کہ دلہن نے پنکھے سے لٹک کر خودکشی کی ۔لیکن ......"

وہ رکا ۔

"ابھی ابھی پوسٹ مارٹم رپورٹ آ چکی ہے اور اس سے پتا چلا ہے کہ دلہن پر جسمانی تشدد کیا گیا ۔اس  کے جسم پر زخموں کے نشان تھے" ۔ انسپکٹر رکا 

"اس رپورٹ میں صاف صاف بتایا گیا ہے کہ دلہن پر پہلے تشدد کیا گیا اور پھر جب وہ انکی مار برداشت نا کر سکی اور مر گئ تو اس کو پنکھے سے لٹکا دیا گیا ۔تاکہ اسے خودکشی مان لیا جاۓ۔ "

"اب تم بتاؤگے کہ تم نے اپنی ہی بیٹی کے ساتھ یہ سب کیوں کیا ۔ بتاؤ ۔"انسپکٹر فواد  نے دلہن کے باپ سے پوچھا ۔

"ہاں ہاں ہم نے مارا اسے ۔نا مارتے تو وہ ہمیں جیتے جی  ماردیتی" ۔دلہن کا باپ  چلایا ۔

"وہ کسی اور کو پسند کرتی تھی ۔وہ لڑکا ہماری برادری کا نہیں تھا ۔اس لیے ہم نے منع کردیا ۔مگر وہ ضدی اپنی ضد پر اٹل رہی ۔اس نے ہمیں دھمکی دی کہ عین شادی کے دن وہ گھر سے بھاگ جاۓ گی ۔۔یہ ہمارے لیۓ بہت بڑی رسوائ تھی ۔اس لیۓ اس سے پہلے کہ وہ اس لڑکے ساتھ بھاگتی ۔ہم نے اسے قتل کر دیا۔" دلہن کے باپ کے منہ سے یہ سب سن کر سب سکتہ میں آگۓ۔ 

"ذات پات برادری ۔امیر غریب ۔۔۔۔کب تک ان فرسودہ رسم و رواج کو پکڑ کر اپنی ہی بیٹیوں کا قتل کرتے رہو گے ۔کب تک آج ایک بار پھر ایک  لڑکی غیرت کے نام پر قتل ہوئ ۔ایک بار پھر ۔۔۔۔۔۔۔ا"

نسپکٹر نے ملامتی نظروں سے دلہن کے باپ اور بھائ کو دیکھا اور حوالدار کو اشارہ کیا کہ وہ ان دونوں کو گرفتار کرے ۔

ختم شد ۔ 


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

دی ڈارک ڈیمن ہاؤس ۔۔۔

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

پاس ورڈ ۔۔۔۔۔ایک ہنستی مسکراتی تحریر