تیسرا پہر ۔۔۔۔۔۔

 تیسرا پہر ۔۔۔۔

اسکی اچانک آنکھ کھلی تھی اس نے وقت دیکھا تو تین  بج رہے تھے ۔ وہ اکثر عشاء پڑھے بغیر سو جاتی تھی ۔ ۔ یہ اسکی بہت بری عادت تھی ۔اور آج اس وقت آنکھ کھلی تو وہ باہر آگئ ۔آنگن میں بچھے تخت پر بیٹھی اور اسکی بے ساختہ نظر آسمان پر اٹھی ۔

واہ کتنا خوبصورت آسمان تھا۔ سیاہ رات کا فسوں چہار سو بکھرا تھا ۔سیاہ آسمان پر چمکتا چاند اتنا خوبصورت نظر آتا ہے یہ اس نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا۔ ٹمٹماتے تارے جیسے بادلوں کے ساتھ شرارت کررہے تھے۔تیسرے پہر کی رات اس سے جیسے ہمکلام تھی ۔رات خاموشی سے گفتگو کر رہی تھی ۔

اسے یاد آیا کہ اس نے عشاء نہیں پڑھی تھی ۔وضو کیا اور نماز کے لیۓ ٹہر گئ ۔ نماز ختم ہونے کے بعد وہ ایک سجدہ اللہ کے حضور ضرور کرتی تھی ۔

سجدہ میں گئ تو ایسا محسوس ہوا جیسے وہ اپنے رب سے ہمکلام ہے ۔یا رب اس سے ہم کلام ہے ۔ 

ایسا لگ رہا تھا جیسے اللہ کہہ رہا ہو ۔مانگ اے بندی ۔مانگ ۔کہ یہی وقت ہے مانگنے کا ۔اور اسی وقت میں اپنے بندوں سے سب سے زیادہ قریب ہو تا ہوں ۔ کیا چاہیۓ تجھے ۔کہ میں نے  آج سارے خزانے تیرے جیسے بندوں کے لیۓ کھلے رکھے ہیں ۔

مانگ لے آج اپنی مرادیں ۔

اور اسے اس پہر کا راز منکشف ہوا ۔اسکے دل کی عجب حالت ہوئ۔ اس رات اس پر اپنی  ذات کا ادراک ہوا ۔وہ رونے لگی اور روتے روتے اس نے  اپنے اللہ سے اسکی رضا چاہی ۔اسکی محبت مانگی ۔ اور  رات کا تیسرا پہراسکی جھولی بھرتا چلا گیا ۔وہ بہت مطمئن سی جا ۓ نماز سے اٹھی تھی ۔

بندے کی دعا کی معراج یہی ہے کہ وہ اللہ کی رضا پر سر تسلیم خم کرے ۔اور پھر جب بندہ اپنے آپ کو خدا کی رضا کے حوالے کرتا ہے تو اللہ تعالی بھی بندہ کی رضا چاہتا ہے ۔

خودی کو کر بلند اتنا ہر تقدیر سے پہلے 

خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے ۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ