سونی عمارت۔۔۔۔ایک مزاحیہ تحریر

 سونی عمارت ۔۔۔۔ایک مزاحیہ تحریر


یہ اتفاق ہی تھا کہ بھٹکتے بھٹکتے ہم  اس سونی عمارت میں داخل ہو گۓ ۔اب ہم ہیں اور وہ سونی عمارت ۔۔۔۔

ہم سنبھل سنبھل کر قدم رکھ رہے تھے اور اس سونی عمارت میں ہماری ہوائ چپلوں کی آوازیں عجب شور کر رہی تھیں ۔پہلے پہل تو ہم خود اپنی چپلوں کی بے ڈھنگی آوازوں سے ڈر گۓ ۔ 

اف ۔۔۔۔۔۔ہم ڈر کر رک گۓ ۔جب اندازہ ہوا کہ یہ ہماری ہی مطلب ہماری چپلوں کی پیدا کردہ آوازیں ہیں تو پھر سکون کی سانس لی ۔لیکن ہمارا سکون اسوقت غارت ہوا جب سررر کی آواز کے ساتھ سونی عمارت ہی ہم سے مخاطب ہو ئ ۔ سنو اے سنو ۔۔۔ 

ہاییں ۔یہ کیا ۔ہم نے اس بلند مینار کو دیکھا جو ہمیں جھک کر دیکھ رہا تھا ۔ 

یہ تمہاری چال کو کیا ہوا ۔ساری عمارت تمہاری بے ہنگم چال سے پریشان ہو گئ ہے ۔  تم ذرا ڈھنگ سے قدم نہیں رکھ سکتیں ۔ 

یہ لو ۔ہم نے ماتھے پر تاسف سے ہاتھ مارا ۔

تم اب ہماری چال چلن پر شک کروگے ۔ ہونہہ اپنی شکل تو دیکھ لو ۔بوڑھے مینار  ۔ ہم نے اسے گھورا ۔

خبردار ہمارا شمار آثار قدیمہ میں ہوتا ہے ۔ ایک لفظ بھی مت کہنا ہمارے خلاف ۔ 

ٹھیک ہے نہیں کہتے لیکن تمہاری حالت اور یہ تنہائ تو کچھ اور ہی کہانی سنارہی ہے ۔ہم نے طنزاً کہا ۔

اگلی وقتوں کی عمارت ہے ہمیں کچھ نا کہو ۔ وہ مینار تھا کہ غالب کا شاگرد ۔ہم نے اس پر کٹیلی نظر ڈالی ۔

جو کچھ بھی تھا وہ" تھا"  ۔اب تو کچھ بھی نہیں آج کی سونی عمارت صاحبہ ۔

یہاں تو بس سناٹے ہی سناٹے گونج رہے ہیں ۔تو فخر کس بات کا ۔

ہاں اب اس عمارت میں سناٹے ہی گونج رہے ہیں ۔لیکن ہر عمارت ہمیشہ سسنسان نہیں ہو تی ۔ہر عمارت کے نصیب میں رونقیں بھی ہو تی ہیں ۔ ۔ 

کبھی اس عمارت میں بھی انسانوں کی چہل پہل تھی ۔بچوں کی کلکاریاں گونجتی تھیں ۔محفلیں سجتی تھیں ۔رنگ و  روغن ہو تا تھا ۔ برقی قمقمے سجتے تھے ۔ اور یہ عمارت اس محلہ کی پر شکوہ حویلی کہلائ جاتی تھی ۔ہمہ وقت ملازموں کی فوج یہاں وہاں پھرتی تھی ۔

لیکن واۓ رے زمانہ کی سرد گرم ہوائیں ۔ اب کچھ باقی نا رہا ۔جس حویلی کے چرچے سارے شہر میں ہو تے تھے ۔اب ایک بوسیدہ عمارت میں بدل گی ہے ۔دیواریں شکستہ تو حوصلے پست ہو گۓ۔ اب میں ہوں اور میری یہ سونی عمارت ۔مینار کی افسردہ سی آواز پر ہم گنگ سے ہو گۓ ۔سچ کہا ہے کسی نے ۔

وقت سے دن اور رات 

وقت سے کل اور آج 

وقت ہے کانٹوں کا تاج 

آدمی کو چاہیۓ وقت سے ڈر کر رہے 

کون جانے کس گھڑی وقت کا بدلے مزاج 


 

۔



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ