نازک سا پھول
نازک سا پھول
ایک بیٹی والدین کے باغ کا نازک سا پھول ہی تو ہوتی ہے ۔جسکی والدین اپنی جان سے زیادہ حفاظت کرتے ہیں ۔اسکو زمانہ کی سرد گرم ہواؤوں سے محفوظ رکھنے کے لیۓ جاں توڑ کوشش کرتے ہیں ۔والدین کبھی نہیں چاہتے کہ انکے نازک پھول کو کوئ نقصان پہنچے ۔وہ پھول کی حفاظت کرنے کے لیۓ خود کانٹے کی طرح سخت بن جاتے ہیں ۔ اس پھول کو کیا پتا کہ یہ کانٹے کس طرح اسکی حفاظت کرتے ہیں ۔ کیسے اسے محفوظ رکھنے کے لیۓ تگ ودو کرتے ہیں ۔
اسکی تازگی برقرار رکھنے کے لیۓ خود مرجھا جاتے ہیں ۔
اس کے رنگ محفوظ رکھنے کے لیۓ خود بے رنگ ہو جاتے ہیں۔
اسکی نزاکت کی حفاظت کے لیۓ خود پتھر بن جاتے ہیں ۔
انکی سختی آج کی دوشیزہ کو گراں گزرتی ہے ۔انکی پابندی اسے اپنی پرائیوسی میں خلل لگتی ہے۔
انکی روک ٹوک کو قید سمجھنے لگتی ہے۔ ۔
وہ ہواؤں میں خوشبو بن کر بکھرنا چاہتی ہے ۔
لیکن اس دوشیزہ کو پتا نہیں کہ خوشبو پھول ہی میں ہو تو محفوظ رہتی ہے۔ ہوامیں بکھری خوشبو اپنی شناخت کھو دیتی ہے ۔
اس لیۓ اے نازک پھول سی لڑکی ۔۔۔۔اپنا آپ یوں عیاں نا کر ۔
ایک سربستہ راز بن جا۔جسے ہر کوئ کھوجنا چاہے مگر کھوج نا سکے ۔
ایسا ہیرا بن جا جسے صرف جوہری پرکھ سکے ۔
ایسی موتی بن جا جو ہمیشہ سیپ میں محفوظ ہو ۔
اے نازک پھول ۔زمانہ کی ہوا بہت خراب ہے ۔پاوں تلے مسلنے والے بہت ہیں اور گلدستہ میں سجانے والے کم ۔
اس لیے اپنے والدین کی فرمانبرداری ہی کو اپنا شعار بنا ۔یہ مالی ہوتے ہیں انہیں پتا ہوتا ہے کہ کونسے پھول کی کونسے پودے کی کیسے دیکھ بھال کرنا ہے ۔
اس لیۓ اے نازک پھول ۔اپنے مالی کی پناہ گاہ میں ہی رہنے کو ترجیح دے۔ ۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں