سفر کا سامان ۔۔۔۔طنز و مزاح

 "شبو اے شبو "۔اماں کی پکار پر شبو سوتے سے اٹھ بیٹھی۔ 

"دیکھ! تیری خالہ کی مزاج پرسی کو گاؤں جانا ہے ۔ ۔تو میرا بیگ تیار کر دے "۔

"ااچھا اماں ۔لاؤ بیگ تو دو ۔" شبو گو کہ نیند میں تھی مگر اماں کی بات ٹالنے کا مطلب تھا ۔پے درپے سست کاہل کام چور نکمی جیسے القابات معہ تیز و تند نظروں کے ساتھ سننا ٬ شبو جیسی لڑکی کے پاس اتنا حوصلہ نا تھا ۔

"یہ چار جوڑ میرے ۔یہ چار جوڑ تیرے ابا کے "۔انہوں نے کپڑے اپنے بیگ کے قریب رکھے ۔ 

"اچھا ۔لائیں رکھتی جاتی ہوں" ۔ شبو نے کپڑے لیۓ اور اچھے سے تہہ کر کے رکھنے لگی۔ 

"یہ تیری خالہ کو ساڑی ،اور خالو کو کپڑے ۔اور اسکی بہو کے لیۓ سوٹ ۔۔۔۔۔۔"اماں تھیں کہ سامان کا ڈھیر لگارہی تھیں ۔اور شبو اس سامان کو بیگ میں ٹھونسنے کی کوشش میں سر گرداں ۔ 

اور یہ چادریں ۔تولیہ تو ہمارے لیۓ ۔اور میرے اسنو ،پوڈر کا ڈبہ ۔"اماں نے بیگ پر اور سامان دھرا ۔ 

"اری او !خوش بخت ۔ایسا سامان لے جارہی ہے جیسے نئ نویلی دلہن مائکہ جارہی ہے "۔۔تخت پر بڑی دیر سے ان دونوں کو دیکھتے ابا نے اماں کو لتاڑا ۔

"اسنو پاوڈر ۔۔۔۔۔"ابا نے نقل اتاری ۔ 

"دعوت میں جارہی ہے کیا ۔"

"اے دیکھو ۔کیسے کہہ رہے ہیں ۔اور جو پورا پاندان ساتھ جا رہا ہے وہ کس کی شادی کے لیۓ ہے"۔اماں کا جوابی حملہ ہمیشہ سامنے والے کو چاروں شانے چت کر دیتا تھا۔ 

"وہ تو میں اپنے جیب میں ڈال کر چلوں گا "۔ 

"ہونہہ ۔۔۔اگالدان بھی جیب میں ہی رکھ لینا تھا "۔اماں بڑبڑا ئیں تو شبو کو بے ساختہ ہنسی آئ تھی ۔

"اگالدان کون لے کر چل رہا ہے ۔کھڑکیاں ہو تی ہیں ناں ٹرین کی ۔اسی سے کام چلا لیں گے" ۔ ابا کی اپنی منطق تھی ۔ 

اور جو باہر کے مناظر سے لطف اندوز ہونے کے لیۓ کھڑکی کھلی رکھتے ہیں ۔ان کا تو اللہ ہی حافظ ہے ۔ شبو نے اخری تکیہ بھی بیگ میں ٹھونسا ۔

"ویسے کتنے ہفتوں کے لیے جارہے ہیں آپ لوگ"۔یہ شنو تھی ۔اماں کی نا  لایق نا  فایق بہو ۔۔

"دو دن کے لیۓ ۔"اماں نے سائیڈ کی زپ میں اپنا کنگھا گھسایا. 

"کیا صرف دو دن کے لیۓ ۔سامان تو آپ دو مہینے کا لینے جارہی ہیں" ۔ شبو نے ان کو اور سامان کو دیکھ کر کہا ۔

"تو کیا آپ جسم کے کپڑوں پر ہی چلے جائیں"۔  ۔اماں نے اسکی عقل پر ماتم کیا ۔

"سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں ۔ "شنو نے اپنی اردو دانی جھاڑی۔ اب اسے یہ پتا تھوڑی تھا کہ وہ اکثر غلط موقعہ پر اپنی اردو دانی کی دھاک بٹھانے کی کوشش کرتی ہے۔ 

بڑی مشکل سے زپ بند کرتی شبو نے ایک ترحم بھری نظر بیگ پر اور اپنی بھابھی پر ڈالی ۔ 

اب اسکے بعد شنو کو اپنی اردودانی کی قیمت کس طرح ادا کرنی پڑی ۔اسکا تو پورا ڈرامہ ہی بنے گا جو کہ یہاں بتانا ممکن نہیں ۔آج کے لیۓ اتنا ہی کافی ہے۔ 


 ۔

 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

دی ڈارک ڈیمن ہاؤس ۔۔۔

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

پاس ورڈ ۔۔۔۔۔ایک ہنستی مسکراتی تحریر