مور کے پنکھ

 جی ہاں پھر آگۓ آپ تمام کو رلانے ۔۔۔۔ننہیں ہنسانے ۔

آپ کی مرضی ہے بھی چاہے تو ہنسیں ،چاہے تو روییں ۔

اب بھلا مور کے پنکھ کو لیکر ہم نے کیا لکھنا تھا ۔کہاں مور اور کہاں ہم ۔

مور ایک بہت خوبصورت پرندہ ہوتا ہے ۔اسکے پر اتنے پیارے اتنے رنگین ہوتے ہیں کہ دل چاہتا ہے ۔اسکے پر نوچ لیں اور خود لگا لیں ۔اب مور کی طرح ناچنے  سے تو رہے ۔ ہاں ۔جیسے آیا ویسے پھدکتے رہیں گے ۔یہ سوچکر کہ جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا ۔ 

مور کے پنکھ کو ہمارے ہاں چھپکلیوں کو بھگانے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں ۔ہم نے بھی ایسی کوشش کی مگر چھپکلیاں اتنی ڈھیٹ تھیں ۔مور کے پنکھ ہی گرادیے ۔مگر بھاگیں نہیں ۔ بلکہ ہمارے ہر کمرے میں دندناتی پھرتیں ہیں ۔اور ہم انہیں اور گرے ہوئے مور کے پنکھ کو دیکھتے ہیں ۔اب اگر کسی کے پاس کچھ اچھی ترکیب ہے تو بتائیں ورنہ رہنے دیں ۔

(سارا دن گذر گیا ۔اب جلدی جلدی میں لکھا ہے کہیں ٹاپک ہی نا آؤٹ  ہو جاۓ۔) 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

دی ڈارک ڈیمن ہاؤس ۔۔۔

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

پاس ورڈ ۔۔۔۔۔ایک ہنستی مسکراتی تحریر