بھیڑ سے الگ ۔۔۔۔۔
سوچا ہے کہ کچھ الگ لکھیں ۔کچھ ایسا جو بھیڑ میں بھی ہماری شناخت بناۓ رکھے ۔انسان ساری زندگی لگی بندھی طرز زندگی کو ہی اپنا تا ہے ۔شاید اس لیۓ کہ یہ سہل ہو تا ہے ۔سب کے ساتھ چلنا زیادہ آسان ہو تا ہے بجاۓ اس کے کہ اپنی الگ راہ نکالنا ۔
وہ سب کزنز آنگن میں ایک دوسرے کے ساتھ لگ کر بیٹھی تھیں ۔فرح ،کنزی مہ جبین اور صفا ۔عرشیہ ۔
چلو لڑکیو ۔اب سب اپنی راۓ دو ۔اس ٹاپک پر ۔اچانک فرح اٹھی اور ہاتھوں کو مایک کے انداز میں لیا ۔
زندگی کیسی گزارنی چاہیۓ۔
تو بتائیۓ عرشیہ ۔آپ زندگی کیسی گزارنا پسند کریں گی۔
ہمممم ۔میرے خیال میں زندگی ہمیں ایک ہی دفعہ ملتی ہے تو اسکو پوری آزادی کے ساتھ انجواۓ کرتے ہوۓ گزارنی چاہئۓ۔ میری کوئ خواہش ادھور ی نا ہو ۔ڈھیر سارا پیسہ ہو اور مجھے ہر آرام نصیب ہو ۔ عرشیہ نے اپنے ہاتھوں میں ڈرائ فروٹ لے کر کھاتے ہوۓ کہا ۔تو سب ہنسنے لگیں ۔
اور ڈھیر سارے پیسے کے لیۓ ڈھیر ساری محنت بھی کرنی پڑتی ہے وہ کون کرے گا۔۔
جو میرے ساتھ زندگی گزارے گا وہ۔ ۔۔۔۔۔۔ اسکے اطمینان سے کہنے پر سب ہنسنے لگیں ۔
ہاں تو آپ لوگوں کو مس عرشیہ کے خیالات جاننے کو ملے ۔اب آپ بتائیۓ۔ فرح نے کنزی کو دیکھا ۔
بھئ زندگی کیسی گزارنی چاہئیۓ ۔اس پر میں گوگل کر کہ آپ کو بتاوونگی ۔ابھی تو معاف کردیں ۔ ۔۔۔کنزی نے کندھے جھٹکے تو وہ سپ اسکو مارنے کو دوڑیں ۔
ہر بات کے لئۓ گوگل۔کیا بنے گا اس لڑکی کا ۔
آپ بتائیۓ ماہ جبین ۔آپ زندگی کیسی گزارنی چاہیں گی۔
مجھے ہنسنا ہنسانا بہت اچھا لگتا ہے ۔تو میں زندگی بس ہنستے ہوۓ گزارنا چاہوں گی ۔
جی ۔ما ہ جبین ۔آپ کو رلانے کی کوئ کوشش کرے گا بھی نہیں کہ جب آپ ایک بار رونا شروع کرتی ہیں تو آپ کو چپ کروانے کے لیئۓ پوری فوج بلانی پڑتی ہے ۔فرح نے کہا تو سب ہنس کر ہاں میں ہاں ملانے لگیں ۔
چلئے مس صفا اب آپ کی باری ۔۔۔۔
جی نہیں ۔پہلے خود تو بتاؤ کہ آپ زندگی کیسی گزاروگی ۔ان تمام نے فرح کو جا پکڑا ۔
چونکہ مجھے تقریر کرنا پسند ہے ۔تو بس سسرال والوں کے سامنے تقریریں کر کہ انکے دماغ پکاؤں گی۔ اسکی بات سن کر تو سب لوٹ پوٹ ہو گئیں۔
جی صفا آپ کہیئے۔ آپ اتنی خاموش کیوں ہیں ۔
زندگی اللہ کی عطا کردہ ایک نعمت ہے ۔تو میں اس نعمت کا صحیح استعمال کرنا پسند کروں گی۔ یوں تو زندگی گزر ہی جاتی ہے ۔اچھی یا بری ۔مگر میں زندگی کو عزت کے ساتھ گزارنا پسند کروں گی۔اور۔۔۔۔
عزت آپ کو بیٹھے بٹھاۓ نہیں ملتی ۔عزت کے لیۓ محنت کرنی پڑتی ہے ۔اپنے آپ کو عزت کے قابل بنانا پڑتا ہے ۔صبر ،برداشت اور محبت سے اپنے آپ کو آراستہ کرنا پڑتا ہے ۔زندگی امتحان لیتی ہے ۔اور اس امتحان میں کامیاب ہونے کے لیۓ ہمیں اپنے آپ کو آزمآئشوں سے گزرنا پڑتا ہے ۔آزمائشوں سے گزر کر انسان کندن بن جاتا ہے ۔اور اور ۔۔۔۔۔
میں کندن بن کر زندگی گزارنا چاہتی ہوں ۔ زندگی پر پل صراط کی طرح گزرنا چاہتی ہوں ۔ہر لمحہ ڈر کہ غلط قدم نا اٹھے ۔کہ غلط قدم سے انسان رسوائی کی دلدل میں گر جا تا ہے ۔وہ خاموش ہوئ ۔پھر اس نے کہا ۔
میں زندگی بس عزت کے ساتھ گزارنا چاہتی ہوں ۔
صفا کی باتوں نے ان سب کو گنگ کر دیا ۔ان سب کو صفا سب سے الگ ۔۔۔۔۔بھیڑ سے الگ نظر آئ ۔
ختم شد
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں