ڈائری انٹری
۔ ۔اکتوبر ۔۔
آج صبح صبح ڈائری لے کر بیٹھی تو سمجھ نہیں آیا کہ کہاں سے شروع کروں ۔
صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے
زندگی یونہی تمام ہوتی ہے
کیا سچ میں زندگی بس صبح شام کے دائرے میں ہی سمٹی ہوتی ہے ۔صبح جس میں ناشتہ کی پکار ،کالج اسکول جانے کی فکر ،لنچ باکس کی آوازیں اور وقت کے ساتھ دوڑتے بھاگتے لوگ ،
کسی گھر میں آوازوں کا شور ،تو کسی گھر میں خاموشی ،گلیوں میں گھروگھر چیزیں بیچنے والوں کی پکار ،کوئ پیاز پکار رہا ہے تو کوئ تازی ترکاری ،کوئ آلو لیۓ نکلا ہے تو کوئ ہرا دھنیا ۔صبح صبح یہ لوگ ان لوگوں کے لیۓ نعمت غیر مترقبہ ہو تے ہیں ۔جنہیں آفس وغیرہ جانا ہوتا ہے اور جو آفس آتے آتے ترکاری لانا بھول جاتے ہیں ۔
صبح صبح اخبار کھولتی ہوں تو وہ وہی گھسی پٹی خبریں بتاتا ہے ۔قتل اور غارت گری ،عصمت دری وغیرہ ۔آج سے بیس سال پہلے کی خبریں ایسی ہی ہوتی تھیں ۔لیکن اب خبر کچھ اور آگےبڑھ گئ ہے ۔اب معصوم بچیوں کے ساتھ زیادتی جیسے واقعات سے اخبار بھرے پڑے ہیں۔ پہلے صرف جھگڑے ہوتے تھے۔اب دو فرقوں کے درمیان جھگڑے ہو تے ہیں۔پہلے اردو صرف زبان ہوتی تھی اب مسلمانوں کی زبان بن گئ ہے۔ہر چیز میں تفرقہ ۔
آج سے بیس سال پہلے پاکستانی فنکاروں کی قدر کی جاتی تھی لیکن آج انکی تعریف کرنے پر بھی غدار کہہ دیا جاتا ہے ۔ہندوستانی فنکاروں کو پاکستان میں بے پناہ عزت سے نوازا جاتا تھا ۔اب دشمن ملک ہندوستان کے شہری کے القاب سے نوازا جاتا ہے۔
کتنا بدل گئ خبر ،کتی بدل گی سوچ ،
اور کتنے گر گۓ ہم سب انسانیت کے معیار سے۔
- ابھی اخبار رکھ کر اس رواداری محبت اور خلوص کو رو نا چاہتی ہوں جو ہماری زندگی سے چپکے سے نکل گے اور ہمیں پتا بھی نہیں چلا۔اور
ہمیں بھی پتا نہیں چلا کہ ہم نے کتنے خسارے کا سودا کر لیا۔
اکتوبر ۔۔ِ۔۔۔۔
- اکتوبر ۔۔۔۔۔۔اسکول کھل گۓ۔
آج کا اخبار آیا تو سب سے پہلے اسی سرخی پر نظر پڑی ۔کیا سچ میں اسکول کھل گۓ۔تقریبا ایک ڈیڑھ سال سے اسکول بند ہیں ۔کرونا نے اور کسی کا اتنا نقصان کیا نا کیا مگر تعلیم کے معاملہ میں اس نے بچوں کا کافی نقصان کیا۔
لیکن اس نقصان سے بچوں کو کوی خاص فرق نہیں پڑا ۔وہ ویسے ہی من موجی انداز میں روڈ پر ہر قسم کا کھیل کھیلتے ہو ۓ پا ۓ گۓ۔ گلی ڈنڈا تو دقیانوسی ہو گیا اسکی جگہ اب کرکٹ وغیرہ نے لے لی۔وہ دن بھر ہمارے گھروں کے باہر کرکٹ کھیلتے اور ہماری جان جلاتے جاتے۔ بچوں کو بال دے دے کر تو ہماری جان آدھی خاک ہو گئ تھی۔
ان بچوں کو مستقبل کی فکر تھی نا پریشانی ۔ایک سال اسکول نا پڑھیں تو ایسا کونسا نقصان ہو جاۓ گا۔اگلے سال پڑھ لیں گے۔۔۔۔۔مگر صرف ایک سال سے وہ کتنے پیچھے چلے جائیںگے۔انہیں اس کاانداذہ نہیں کہ زندگی کی دوڑ میں وہ ایک سال پیچھے رہ گۓ ہیں۔ ان بچوں کو تو چھوڑیں ،ان کے والدین کو بھی اس بات کی فکر نہیں کہ بچوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ سکتا ہے ۔وہ خود من موج انداز میں لاک ڈاؤن فل انجاوۓ کر رہے تھے۔ لاک ڈاون میں ہر چیز بند تھی سواۓ کھانے اور ٹی وی کے ۔ایسے میں ہر گھر میں روز ایک نی ڈش پک رہی تھی اور اسٹیٹس پر لگائ جارہی تھی۔ چکن اتنا سستا ہو گیا تھا کہ دس روپے' پندرہ روپے کلو بک رہا تھا ۔وجہ صرف وہ افواہ تھی کہ کرونا مرغی سے پھیل رہا ہے ۔بس کیا تھا ۔مرغی کی شامت آگئ۔کوئ مفت میں بھی کھانے کو تیار نہیں تھا ۔بیچاری مرغی مفت میں بدنام ہو گئ تھی۔
لیکن اب ایک سال کے گذرنے پر ساری فضول افواہیں بند ہو گئیں اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔مرغی کو اپنی کھوئ ہوئ عزت واپس مل گئ۔اب مرغ پھر سے ڈیڑھ سو روپے کلو بک رہا ہے ۔ساری روٹین پھر سے شروع ہو گئ ہے ۔وہی اسکول وہی ہنگامے اور وہی ہم سب ۔
از ۔۔۔نازنین فردوس ۔
اکتوبر ۔۔۔۔۔۔ ماہ ربیع الاول
ربیع الاول کا چاند نظر آگیا اور سارے عالم میں جیسے رنگ و نور کا سیلاب امنڈ آیا۔ گلی گلی محلے میں نعتیں سلام وغیرہ پڑھے جانے لگے ۔جلسے سیرت کانفرنس کی اپنی بہار تھی۔بڑے بڑے اسپیکرز پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نعتیں لگای جانے لگیں ۔عشق محمدی کے ترانے سنای دینے لگے ۔گلیاں سجای جانے لگیں ۔کچھ بچے ہمارے گھر بھی آۓ اور چندہ کے لیۓ پیسے مانگے ۔ہم ہر سال محلے میں ربیع الاول کے لیۓ خصوصی طور پر چندہ دے دےتے ہیں ۔میں نے پیسے دیۓ تو وہ لوگ چلے گۓ۔
لیکن کچھ دیر بعد مجھے خیال آیا۔ کہ یہ بچے نا نماز پڑھتے ہیں نا قرآن ۔انہیں دین کا کچھ پتا نہیں ۔جتنی محنت گلیاں سجانے میں لگتی ہے اتنے میں یہ کچھ دین کا علم سیکھتے تو اچھا ہو تا ۔یہ خیال اچانک آیا تھا ۔لیکن پھر ہم اپنے کام میں لگ گۓ تھے۔
صبح صبح اچانک بچوں کے شور سے آنکھ کھلی تو کھڑکی کھول کر دیکھا ۔ایک خوشگوار حیرت ہوئ یہ دیکھ کر کہ چھوٹے چھوٹے معصوم بچے اپنے ہاتھوں سے سبز سبز جھنڈیاں لگارہے تھے ۔بڑی ڈور کو کچھ بچوں نے پکڑا تھا اور کچھ بچے سبز جھنڈیاں چسپاں کر رہے تھے۔کوئ ڈوری لیۓ گلی کے گھر کے دروازوں کو باندھ رہے تھے تو کوئ روشنیاں کرنے کی کوشش میں سرگرداں تھا ۔جتنی بھی گلی سجی تھی ۔گلی کی رونق بڑھا رہی تھی ۔
ہم جو کل تک اسے غیر اہم۔سمجھ رہے تھے ۔یہ سب دیکھ کر آنکھو ں میں آنسو آگۓ۔بھلا ان بچوں کے دل کی کیفیت کو کون سمجھے ۔جو اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے حضور کی آمد کی خوشی میں گلی سجارہے ہیں ۔انکے معصوم۔سی محبت جو حضور کے لیۓ تھی وہ بے غرض تھی ۔بھلا کس نے کہا تھا انہیں یہ سب کرنے کے لیۓ ۔اور انہیں کیا مل رہا تھا یہ سب کرنے کے لیۓ۔ بس سب اپنی بساط بھر محبت کا اظہار کر رہے تھے اور کچھ نہیں ۔ان گلیوں میں یہ چھوٹے چھوٹے بلب حضور کی محبت کے چراغ ہیں جو ہر عاشق رسول کے دل میں جلتے ہیں ۔یہ سجی ہوئ گلیاں ان بچوں کے دل کی گلیاں ہیں جہاں حضور کی محبت بھی ایسی ہی سجی ہوئ ہے ۔محبت کے آگے تو ہر چیز ہیچ ہے ۔محبت کے لیے کوی دلیل کہاں سے لاۓ کہ یہ تو بس محبت ہے ۔
ڈائری ۔۔۔۔۔۔۔۔ تفریح ۔۔۔۔پہلے اور اب
آج صبح صبح مہمانوں کی آمد ہوئی اور سارے گھر میں ہلچل مچ گئ ۔دوپہر تک پکوان کے سلسلے اور گفتگو کی طویل نشست بیٹھی۔ اگلے پرانے زمانے کے قصے دہراۓ گۓ۔ تفریحات ترجیحات سب ہی تو بدل گئیں ۔ایک وہ زمانہ تھا جب تفریح کے لیۓ آج کی طرح نا تو موویز کا اتنا چلن تھا نا ایسے دھوم تننا۔۔۔۔۔۔جیسے سیریل۔
ہفتہ میں ایک یا دو بار فیملی فلم آتی تھی اور سب بیٹھ کر دیکھا کرتے۔اس زمانے میں تو بچے ٹی وی کے اشتہار بھی شوق سے دیکھا کرتے تھے ۔ہم تو صرف اشتہار دیکھ کر اٹھ جاتے تھے کہ اکتر فلم سیریل کی سمجھ ہی نہیں تھی۔
آج بچوں کو دن کے چوبیس گھنٹے ٹی وی فلم سب ہی کچھ میسر ہے ۔کوی روک ٹوک نہیں ۔یہاں تک کے" صرف بالغوں کے لیۓ "جیسی فلم۔بھی ان کی دسترس میں آ گئ ہیں ۔کوئ کہاں تک روک ٹوک کرے ۔اب تو دعا ہی کر سکتے ہیں کہ بچے اپنی حدود کو پہچانیں اور بے راہ ر وی سے بچیں ۔
انٹرنیٹ نے پوری دنیا کو ایک مٹھی میں قید کردیا ہے ۔بس ایک کلک کی دیر ہے اور آپ کے لیۓ پوری دنیا حاضر ۔۔۔ہر قسم کا مواد آپ کو مل جاۓ گا۔سوشل میڈیا نے تو رہی سہی کسر پوری کردی۔ آپ مشرق میں رہتے ہوۓ مغرب کی دنیا سے جان پہچان کر سکتے ہو ۔دوستی سے لیکر بات چیت ،اور بات چیت سے لیکر شادی تک بھی کر سکتے ہو ۔لیکن ایک المیہ یہ بھی ہے کہ آپ پوری دنیا سے باخبر رہتے ہوۓ اپنی دنیا سے کٹ جاتے ہو ۔اور آپ کواپنی ہی خبر ہی نہیں ہوتی۔سب کچھ مٹھی میں ہوتے ہوے بھی بہت کچھ مٹھی سے پھسل جاتا ہے ۔اس سے پہلے کہ اس انٹرنٹ کی دنیا میں ہم اپنا آپ کھو دیں ہمیں واپس آنا ہوگا ۔اپنی مٹی سے جڑے رہنے کے لیۓ کہ انسان اپنی جڑیں جہاں ہوتی ہیں وہیں سکون سے رہ پاتا ہے ۔۔اور قلبی سکون صرف اپنوں سے بات کرنے سے ،اپنے لوگوں سے جڑے رہنے سے ملتا ہے ۔
انہی باتوں پر ہماری نشست بھی برخواست ہوئ ۔
ڈائری ۔۔۔۔۔۔۔۔بارش کہاں برسی ۔
مو سم باراں کب شروع ہوا اور کب ختم پتا بھی نہیں چلا۔عام طور پر جون جولائ اگست بارش کے موسم ہوتے ہیں مگر چند سالوں سے موسمیاتی تغیرات سے گرمی میں بارش ،بارش میں گرمی اور سردیوں میں بارش والے موسم بن گۓ ہیں ۔اب اوایل سردی کے ایام میں تپتی دھوپ چل رہی ہے ۔اور فرج کے ٹھنڈے پانی سے پیاس بجھای جارہی ہے ۔ایسے موسم وبای امراض کو پھیلنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں ۔
ابھی بھی موسم کے ذد میں ہوں ۔فلو ہے کہ کم نہیں ہو رہا اور باوجود ویکسینیشن کے دل کو دھڑکا لگا ہوا ہے کہ کہیں کرونا ہی نا ہو ۔کرونا کی دہشت اب کم ہے اگرچیکہ کہ مگر پھر بھی کرونا تو کرونا ہے ۔اس سے ڈرنا ہی ہے ۔اب تین موسم کے ساتھ کرونا موسم بھی وجود میں آ چکا ہے ۔یہ مخصوص مہینہ میں عروج پر ہوتا ہے اور دھیرے دھیرے کم ہوتا ہے ۔اسکے لیۓ اسکی اپنی احتیاطیں ہیں ۔سماجی فاصلہ اور بار بار ہاتھ دھونا ۔۔۔۔۔۔ آج کل وہی اپناے ہوۓ ہوں ۔امید ہے جلد اس سے افاقہ ہو گا۔
۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں