ہارر ہاؤس

 ہارر ہاؤس 

"سب ٹھیک ہے نا جیمس۔" کیتھی نے تمام سامان پرنظر ڈالی ۔وہ سب ابھی ابھی اس گھر میں شفٹ ہو ے تھے ۔جم اور جونس دونوں گھر کے قریبی پارک میں جا چکے تھے۔

"ہاں ۔لگ تو سب ٹھیک ہی رہا  ہے" ۔جیمس نے اپنے کندھوں سے  آخری بیگ بھی رکھ دیا ۔

"ہمممم ۔۔ویری نائس ہاؤس" ۔اب وہ دونوں گھر کو دیکھنے لگے تھے ۔

"اتنے کم کرایہ میں اتنا اچھا گھر مل گیا "۔کیتھی نے مسکرا کر کہا۔ 

"آئ آیم سو لکی "۔کیتھی نے آنکھیں میچیں ۔

"یس مائ گڈ لک "۔جیمس نے اسکے ہاتھوں کو تھام لیا ۔اب وہ دونوں ھاتھوں میں ھاتھ دیۓ سیڑھیاں چڑھنے لگے ۔

یہ ایک بہت خوبصورت ڈبل اسٹور ی مکان تھا ۔گھر بہت اونچائ پر بنا ہوا تھا ۔نیچے صرف ہال اور کچن تھا ۔جبکہ اوپر دو بیڈروم اور سٹڈی تھی ۔

"یہ گھر ۔۔۔۔۔ "کیتھی نے بالکونی میں ٹہر کر آس پاس کے گھروں کو دیکھا ۔

ک"تنا اوڈ ون لگ رہا ہے سب سے الگ تھلگ ۔ "یہ گھر واقعی سب گھروں سے ہٹ کر بنا ہوا تھا ۔ گھر کی مشرقی سمت دیکھیں تو جنگل جیسا لگ رہا تھا ۔بڑے بڑے درخت سے سڑک بلکل چھپ گئ تھی ۔جبکہ مغربی جانب اکا دکا گھر تھے جو گھر سے قدرے نیچے محسوس ہو رہے تھے ۔

"اوہ ڈیر ۔اچھا ہے ۔ہمیں زیادہ پڑوسیوں کی کٹ کٹ نا سہنی نا پڑے گی"۔ جیمس کو پڑوسیوں سے زیادہ میل جول پسند نہیں تھا ۔

اوکے"۔۔۔ کیتھی پلٹ گئ ۔

"میں کچن میں جا رہی ہوں ۔چاۓ بنانے" ۔

اوکے ۔میں بچوں کے پاس ہو آتا ہوں" ۔جیمس سیڑھیاں پھلانگتا ہوا چلے گیا ۔

اس وقت وہ تمام ڈایینگ ٹیبل پر بیٹھے تھے ۔جم اور جونس نوڈلز  لیۓ تھے جبکہ جیمس اور کیتھی چاول سے لطف اندوز ہو رہے تھے ۔

مام اب ہم لوگ کارٹون دیکھنے جائیں ۔وہ دونوں ٹیبل سے اٹھے ۔

اوکے ۔لیکن زیادہ دیر تک نہیں ۔کیتھی نے انہیں تنبیہ کی۔ 

میں کافی تھک گیا ہوں ۔میں سونے جارہا ہوں ۔جیمس بھی اٹھا ۔

اوکے ۔ڈیر ۔میں بھی کچن صاف کر کے آتی ہوں ۔ کیتھی برتن سمیٹنے لگی ۔

وہ اسوقت ڈریسنگ ٹیبل پر بیٹھی لوشن لگارہی  تھی۔ چاروں طرف سناٹا ہی سناٹا تھا ۔ایسا لگ رہا تھا جیسے گھر میں کوی ذی نفس ہی نہیں ۔

کچن کا کام کرتے کرتے کافی زیادہ دیر ہو گئ  شاید ۔اس نے لوشن لیا ۔اچانک گہری خاموشی میں گھڑی نے بارہ بجاۓ ۔ٹن ٹن ٹن  ۔۔۔۔۔۔۔۔

اتنی تیز آواز آرہی تھی کہ کیتھی کو کانوں پر ہاتھ رکھنا پڑا ۔

"یہ کیا ہو رہا ہے ۔"اس نے خوفزدہ ہو کر آئینہ دیکھا ۔

اسے لگا جیسے آیینہ میں سے کوئ جھانک رہا ہے ۔

"کون ۔کون ہو تم" ۔کیتھی چیخی ۔

لیکن  آیینہ بدستور ویسا ہی لگا ۔وہ غور سے آیینہ کو دیکھنے لگی ۔کچھ قریب جا کر دیکھنا چاہا ۔مگر تب ہی وہ ایک زوردار چیخ مار کر پیچھے ہٹی ۔

"جیمس جیمس "۔وہ زور زور سے چیخنے لگی ۔

جیمس ۔دیکھو ذرا" ۔وہ حلق کے بل چیخی ۔ 

کیتھی کیتھی ۔جیمس ہڑبڑا کر اسکے قریب آیا ۔

کیتھی ۔وہ اسے دیکھ کر ششدر رہ گیا ۔کیتھی کے براؤن بال اب سفید ہو گۓ تھے ۔اور اسکا چہرے پر ہزار جھریاں پڑ گئیں تھیں ۔اسک آنکھوں کے نیچے گہرے حلقے پڑ گے تھے ۔وہ اچانک ستر سالہ بڑھیا نظر آرہی تھی۔ 

"جیمس جیمس وہ آیینہ ۔۔۔"۔ کیتھی نے اپنے چہرے کو دونوں ہاتھوں سے چھپا لیا ۔

جیمس نے پلٹ کر اس آیینہ کو دیکھا ۔وہاں اب صرف ایک سیاہ پتھر نظر آ رہا تھا ۔۔آیینہ پتھر بن گیا تھا۔ 

اس سے پہلے کہ وہ کچھ سوچتا ۔بچوں کے کمرے سے رونے کی آوازیں آنے لگیں ۔ 

"پپا پپا ۔پلیز ہمیں بچاؤ ۔" جیمس فوراً انکے کمرے کی جانب بھا گا ۔

دروازہ کھولا تو اسکی چیخ نکل گئ ۔

دونوں بچوں کے بیڈ زمین سے چھ فٹ اوپر تھے اور تقریباً چھت کو لگ رہے تھے ۔

"جم ،جونس کیا ہوا ۔"

"پاپا ۔ہم کارٹون دیکھ رہے تھے کہ تبھی ٹی وی سے کارٹون باہر آگۓ ۔اور اور ۔۔۔۔۔۔یہ سب کیا" ۔وہ رو رہے تھے ۔

"میں میں تم لوگوں کو نیچے اتارتا ہوں". ۔"جیمس آگے بڑھا ۔"نو پاپا ۔آپ ہمیں نہیں اٹھا سکتے ۔ ہم اپنا آپ کو بہت بھاری محسوس کر رہے ہیں" ۔جم چلایا ۔

"میں نیچے جاتا ہوں ۔کسی کو بلا کر لاتا ہوں "۔جیمس خوفزدہ سا باہر بھا گا ۔وہ جلد سے جلد سیڑھیاں اتر کر پڑوسی سے مدد مانگنا چاہ رہا تھا ۔مگر اسکی بدقسمتی کہ سیڑھیاں تھیں کہ ختم ہی نہیں ہو رہی تھیں ۔وہ اترتے اترتے تھک گیا ۔اسکی سمجھ میں کچھ بھی نہیں آ رہا تھا کہ یہ سیڑھیاں ختم کیوں نہیں ہو رہیں ۔

آخر تھک ہار کر اس نے واپس اوپر دوڑ لگائ ۔وہ دوڑتا دوڑتا آخری سیڑھی پر تھا اس سے پہلے کہ وہ قدم رکھتا ۔وہاں ایک گہری کھائ نظر آئ ۔ 

ایک قدم کی دیری تھی کہ وہ اس گہری کھائ میں گر پڑتا ۔ 

"کیتھی ۔کیتھی "وہ چیخنے لگا ۔

"جم جونس ۔۔۔۔"۔وہ سب کے نام لے لیکر پکارنے لگا ۔مگر کسی کی آواز نا آئ ۔

"ہیلو ۔کو ئ ہے" ۔پلیز! کوئ ہمیں بچاؤ "۔وہ ہر طرف سے مایوس ہو کر رونے لگا ۔اسکے رونے کی دیر تھی کہ سارا گھر رونے لگ گیا۔۔عجیب عجیب رونے کی آوازیں آنے لگیں .

ان آوازوں سے وہ اتنا ڈر گیا کہ اسکے سارے انسو حلق میں اٹک گۓ۔ پھر کتنی دیر گذر گئ ۔

اب ہنسنے کی آوازیں سنای دینے لگیں ۔ رونے اور ہنسنے کی آوازوں سے سارے گھر میں ڈراؤنا ماحول پیدا کر دیا تھا ۔ ٹن ٹن ٹن ۔۔۔۔۔۔۔گھڑی کی تیز آواز سے جیمس کی آنکھیں کھلیں ۔۔اس نے اپنے آپ کو بالکونی میں پایا ۔

"میں میں یہاں ۔۔۔۔"۔وہ بھاگتا ہوا کیتھی کے پاس پہنچا ۔وہ صوفہ پر بےسدھ  لیٹی ہوئ تھی ۔وہ اب بوڑھی نہیں تھی ۔اسکے بال بھی براؤن تھے اور چہرا بھی صاف تھا ۔ جیمس شکر کرتا بچوں کے کمرہ کی جانب بھاگا ۔

وہ دونوں بیڈ نیچے تھے ۔اور وہ بھی بے ہوشی کے عالم میں سوۓ لگ رہے تھے۔ ٹی وی آن تھا اور ابھی بھی کارٹون چل رہا تھا ۔وہ آگے بڑھا اور ٹی وی آف کیا اور باہر نکل گیا۔ وہ سیڑھیاں اترتے خوفزدہ سا تھا کہ پتا نہیں رات کی طرح نا ہو ۔مگر وہ جلد ہی باہر آ گیا ۔آس پاس سب گھر بند تھے ۔کہیں کوئ ذی نفس نظر نہیں آ رہا تھا ۔وہ ٹھنڈی سانس لیکر رات کے واقعات کے بارے میں سوچنے لگا۔اتنا تو اسے یقین تھا کہ وہ خواب نہیں تھا ۔اگر خواب نہیں تھا تو پھر کیا تھا ۔اسکی دماغ کی رگیں جیسے پھٹنے لگیں ۔

اس نے جیب سے سگریٹ نکالا ۔اور لایٹر پینٹ کی جیب میں تلاش کر نے لگا۔ 

تبھی کسی نے اسکی سگریٹ سلگائ۔ وہ چونکا ۔اسکے سامنے ایک خوبصورت لڑکی تھی ۔اسکے بال گولڈن براون اور آنکھیں سنہری تھیں ۔

"تھینکس "۔اس نے ایک کش لیا اور بنچ پر بیٹھ گیا ۔لڑکی بھی اسکے برابر میں بیٹھ گئ تھی۔

"کیا تم یہیں کہیں آس پاس رہتی ہو "۔اس نے گفتگو کا آغاز کیا ۔

اس نے کو ئ جواب نہیں دیا ۔

"کیا .تم اس گھر کے بارے میں کچھ جانتی ہو ."

"ہاں". اسکی آواز ایسے آئ جیسے کسی گہرے کنواں میں ہو ۔

"کیا ہوا تھا اس گھر میں ۔کچھ ایسا جو ۔۔۔۔۔"۔وہ بات ادھوری چھوڑ  کر اسے دیکھنے لگا ۔

"تم اس گھر سے چلے جاؤ ۔وہ تمہیں جینے نہیں دے گی۔ چلے جاؤ "۔ وہ ہزیانی انداز میں دہرانے لگی۔ 

"کون ؟کون ہے وہ. کیا تم جانتی ہو "۔جیمس نے  بے چینی سے پوچھا ۔

"وہ ایک خوبصورت لڑکی تھی ۔یہ اسکے باپ کی طرف سے ملا گھر تھا ۔وہ خوابیدہ انداز میں کہنے لگی۔

اسے ایک شخص نے دھوکا دیا ۔وہ یہ گھر ہتھیانا چاہتا تھا ۔اس نے دھوکہ سے شادی کی ۔دھوکہ سے  گھر اپنے نام کر لیا ۔اور پھر پھر ۔۔۔۔۔وہ رات آئ ۔ وہ چپ ہو گئ ۔

"کونسی رات "۔

"اس رات کو اس نے اسے زھر دے دیا ۔اس وقت ٹھیک بارہ بج رہے تھے ۔وہ تین گھنٹے تڑپتی رہی ۔درد سے ۔مگر وہ تماشا دیکھتا رہا یہاں تک کہ وہ ۔۔۔۔۔ "

"مرگئ .مر گئ وہ؟" ۔جیمس نے پوچھا ۔

"نہیں "۔وہ چلائ ۔

"اگر وہ مرتی تو شاید اچھا ہو تا مگر وہ روح بن گئ "۔

"بدروح "

۔وہ ہنسی تو ایک خوفناک لہر جیمس کے سینے سے اٹھی۔  رات کی ہنسی اور اس ہنسی میں کافی مماثلت تھی ۔

اب وہ کسی کو بھی اس گھر میں رہنے نہیں دیتی ۔وہ ٹھیک بارہ بجے آتی ہے ۔اور دو تین گھنٹے  گزارنے کے بعد چلی جاتی ہے ۔مگر اس وقت وہ کسی کو بھی برداشت نہیں کرتی ۔

"اس لیۓ کہہ رہی ہوں۔ چلے جاؤ ۔چلے جاؤ "۔ 

اسکی آواز کے ڈر سے جیمس اٹھا وہ اب یہاں ایک پل بھی نہیں رہنا چاہتا تھا وہ جاتے جاتے پلٹا اس لڑکی کا شکریہ ادا  کرنے مگر وہاں کچھ نہیں تھا ۔سواۓ ایک کاغذ کے۔ جیمس نے وہ کاغذ اٹھایا ۔وہ اسی  لڑکی کی تصویر تھی ۔جو اس گھر میں داخل ہوتے وقت دیکھ چکا تھا ۔۔ 

ختم شد 


۔

۔


 



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ