پاس ورڈ ۔۔۔۔۔ایک ہنستی مسکراتی تحریر
پاس ورڈ
ہماری شبو اور گوگل اسسٹنٹ کا تو آپ نے پڑھا ۔مگر شبو کی فیملی میں صرف اماں ،ابا ہی نہیں ہیں ۔انکی فیملی نمو نوں سے بھری پڑی ہے ۔اب اسکی بھابھی ہی کو لے لیں ۔انکا نام۔شاہانہ سا تھا جسکو ان لوگوں نے "شنو "کر فقیرانہ کر دیا۔اب آییۓ ٬شبو کے گھر چلتے ہیں۔
اماں صحن جھاڑ رہی ہیں ۔وہ جھاڑتے جھاڑتے شبو کے پاس آتی ہیں ۔
اے ،شبو ،"یہ تیرا فون کھل نہیں رہا ۔پتا نہیں کیوں ؟"
اماں "میں نے موبائل کو تالا لگا دیا ہے ۔"شبو نے احتیاطاً تالا کہا تاکہ وہ الجھن میں نا پڑیں ۔
"ہیں !تالا "
"مگر اس میں تو نے کونسا خزانہ رکھا ہے جو تالا لگانے کی ضرورت پڑ گئ۔"اماں کی حیرت واجبی تھی۔
"وہ اماں ۔۔۔۔۔"شبو مخمصہ میں پڑ گئ۔
"اگر لاک نا کریں تو کوئ بھی آپ کا فون کھول کر دیکھ سکتا ہے ۔فوٹوز وغیرہ 'اس لیۓ لگاتے ہیں ۔"
ا"اب کالج جاتی ہوں تو کئ لڑکیاں میرا فون کھول کر گھر کے ،آپ کے فوٹوز دیکھ لیتی ہیں ۔خوامخواہ کا مذاق بنتا ہے ۔"
"تو وہ کونسی کہیں کی حور پری ہیں ۔برتن بگونوں جیسے تو منہ ہیں سب کے " اماں نے برا سا منہ بنایا۔
اور "اماں نے موبائل کو الٹ پلٹ کر دیکھا۔
"اس میں تو کہیں تالا نظر نہیں آرہا۔کہاں لگایا تو نے تالا۔"
"اماں ۔وہ نمبرزوغیرہ کا پاس ورڈ لگاکر لاک کر دیتے ہیں ۔"شبو نے سمجھایا۔مگر اماں کو خاک جو سمجھ آیا ہو ۔مگر وہ خاموش ہو گئیں ۔
اتنے میں شنو صحن میں آ پہنچی۔
"شبو ۔ذرا میرے موبائل کو میرے چہرے کا لاک لگا کر دینا۔ "
اچھا تمہارا مطلب فیس لاک ".
ہوں "شبو نے اپنا بیل جیسا سر ہلایا۔
ااچھا۔ادھر دیکھو" ۔شنو نے اسکا موبائل لیا اور اسکے سامنے کیا۔
"شنو تمہاری عمر کیا ہے۔"وہ موبائل کو دیکھتی ہوئ پوچھنے لگی۔
"میں جب میٹرک میں تھی تب سولہ کی تھی۔میٹرک ہوتے ہی شادی ہی ہو گئ ناں" ۔شنو شرماتے ہوے بولی۔
"تو میٹرک پاس ہو تے ہوتے جو چار سال لگ گۓ اسکا کیا۔"شبو جل کر بولی تو شنو کھسیا گئ۔
"اچھا اب یہ موبائل کتنی عمر بتا رہا ہے میری"۔
"بیالیس" ۔شبو سنجیدگی سے بولی ۔
ہاۓ اللہ ! لیکن میری عمر تو ۔۔۔۔"وہ چلا پڑی۔
"جس طرح تم نے حلیہ بنایا ہے وہ یہی بتاۓگا۔"
"تو رک میں ابھی آتی ہوں" ۔وہ لپک کر اپنے کمرہ کی جانب بھاگی۔کچھ دیر بعد آئ تو ۔۔۔۔۔
"اے شنو !تو یوں ہولی کا میدان بن کر کیوں آگئ۔"اماں کی اس پر نظر پڑی تو وہ چپ نا رہیں۔آنکھوں میں ڈھیر سارا کاجل ،ہونٹوں پر سرخ لپسٹک ،جبکہ گال گہرے گلابی رنگ میں ڈوبے ہوے لگ رہے تھے ۔آنکھوں کو پرپل کلر کے شیڈز لگا کر وہ دبتے ہوے رنگ کے ساتھ کچھ کیا بہت عجیب لگ رہی تھی۔
"میں کیسی لگ رہی ہوں" ۔وہ اٹھلائ۔
"عجیب و غریب" ۔اماں نے بھر پور آواز میں کہا۔
"شبو ۔اب اب کیا عمر بتا رہا ہے ۔"
"باون "اب شبو بےچارگی سے بولی ۔
"جانے دے ۔وہ جو بھی بتاۓ۔کونسا مجھے اسکے ساتھ زندگی بسر کرنی ہے"۔شنو چڑ کر بولی۔
"بس تو وہ فیس لاک کر دے" ۔
"ٹھیک "۔
"فون نے شنو کو اچھی طرح دیکھ لیا اور فون لاک ہو گیا۔
ارے واہ فون تو لاک ہو گیا۔ "شنو خوشی سے اچھل پڑی ۔
اب کھلتا ہے یا نہیں ۔دیکھتے ہیں" ۔اس نے اپنا چہرہ موبائل کے سامنے کیا۔
فون ایک سکنڈ میں کھل گیا۔
"چلئے آپ کا کام تو ہو گیا" ۔شبو خوش ہو کر بولی۔
"ہاں ! چلو میں باورچی خانہ میں جاتی ہوں ۔پکانا ہے ناں" ۔وہ موبایل لیۓ اندر بھاگ گئ۔
"اماں آپ کو بھی اس طرح اسکے منہ پر نہیں کہنا چاہیے کہ وہ عجیب لگ رہی ہے" ۔شبو نے اماں کو سمجھانے کی کوشش کی۔
"تو اور کیا کہتی میں ۔پرسوں رات میں باورچی خانہ میں گئ تو یہ ٹہری تھی۔پیلے کپڑوں میں ،اور کالا دوپٹہ لیۓ۔منہ پر وہی کاجل اور پاؤڈر کی لیپا تھوپی،اندھیرے میں اسکے پیلے کپڑوں کے سوا کچھ نظر نا آیا ۔میں تو ڈر کے مارے چیختے چیختے رہ گئ۔چڑیل نا ہو تو ۔
"اب جانے دو اماں "۔وہ بھی اٹھ گئ۔
شام میں شنو پھر شبو کو پکار رہی تھی۔
"کیا ہوا بھابھی۔"
"آے ہاۓ شبو ۔یہ موا موبائل تو مجھے پہچاننے ہی سے انکار کر رہا ہے"۔
"کیوں! کیا آپ نے اسے کوئ قرضہ دیا تھا کیا جو یہ آپ کو پہچان نہیں رہا۔" شبو کو مذاق سوجھا۔
"نہیں تو ۔میں تو قرضہ صرف لیتی ہوں دیتی کسی کو نہیں ۔"
ا"چھا جیسی ساس ویسی بہو "۔
"ہائیں کیا بولی رے شبو تو ۔۔۔۔۔"اماں کے کان میں پڑی تو انہوں نے کان کھڑے کر لیۓ۔
"کچھ نہی اماں" ۔وہ بھولی بن گئ۔
"ہاے میرا فیس لاک ۔۔۔۔۔" شنو کی سوئ وہیں اٹک گئ ہو جیسے۔
"دیکھیں" ۔شبو نے موبائل انکے چہرہ کے سامنے کیا ۔مگر فون نہیں کھلا ۔ شبو نے کچھ دیر سوچا ۔ پھر انکے چہرہ کو غور سے دیکھا۔
"بھابھی ۔آپ چار گھنٹے سے کچن میں تھیں آپ کا سارا میک اپ بہہ گیا۔ اب صرف دور دور تک اسکے تھوڑے تھوڑے آثار نظر آرہے ہیں ۔جسکی وجہہ سے موبایل دھوکہ کھا گیا۔ وہ آپ کو پہچان نہیں پارہا "۔
"تو اب میں کیا کروں شبو" ۔شنو کی صورت رونے والی ہو گئ۔
"جا !پھر سے ہولی کا میدان بنکر آجا ۔پہچان لے گا وہ" ۔اماں قریب بیٹھیں تھیں جل کر بولیں ۔تو شبو کے چہرہ پر بےساختہ مسکراہٹ آگئ ۔انکے ہولی کا میدان کہنے پر ۔
"سچ میں شبو "۔شنو حیران پریشان تھی۔
"جی !اب اسکے سوا کوئ چارہ بھی تو نہیں ۔ "
شنو" اچھا "کہہ کر اندر بھاگی۔
"شبو ۔تو بھی یہ فیس لاک لگا کر دیکھنا تھا" ۔اماں کی آواز آئ۔
"نہیں اماں ۔پاس ورڈ ہی اچھا ہے" ۔وہ شنو کے کمرے کی جانب دیکھتی ہوی بو لی ۔
ختم شد
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں