آپریشن ٹیبل
آپریشن ٹیبل
آپریشن ٹیبل ۔دیکھا نام سنتے ہی پسینے چھوٹ گۓ ۔آنکھوں میں اندھیرا چھا گیا۔ ان انسانوں کا کیا جو آپریشن ٹیبل پر لیٹے ہوتے ہیں ۔ڈاکٹر کے لیۓ وہ تختہ مشق بنتے ہیں تو دوسری جانب خود پھانسی کے تختہ پر لیٹے ہونے کی کیفیت میں مبتلا ہوتے ہیں ۔
ایک ایسے ہی مریض اور ڈاکٹر کے مابین مکالمہ سنیۓ۔
کیا ہوا ۔مرزا صاحب ۔سب خیریت سے ہیں ۔ڈاکٹر صاحب نے شگفتگی سے پوچھا ۔
خیریت ہو تی تو آپکے پاس کیوں آتا۔گھر پر ہی مزے سے رہتا ۔مرزا صاحب نے چڑ کر ڈاکٹر صاحب کو دیکھا۔
بھی میرا مطلب ہے ۔اب آپ کا بی پی ،شوگر وغیرہ نارمل ہوا یا نہیں ۔
اب تک تو نارمل ہی ہے لیکن آپ کا بل دیکھ کر کتنا بڑھے گا یہ کہہ نہیں سکتا۔
نرس انہیں آپریشن ٹیبل پر لٹائیں اور آپریشن کی تیاری کریں ۔
لیکن ڈاکٹر صاحب ۔ مرزا صاحب جیسے ہی آپریشن ٹیبل پر لیٹتے ہیں ان کا بی پی شوگر دونوں ہائ ہو جاتے ہیں ۔
نرس نے بڑی بے چارگی سے کہا۔
ہممم کیوں مرزا صاحب ایسا کیو ں
جناب آپ کا آپریشن ٹیبل جادوئ لگتا ہے ۔جب جب اس پر لءٹتا ہوں دل کی کیفیت ہی الگ ہو تی ہے ۔
مثلاً
خواہمخواہ آپریشن ٹیبل سے بھاگ جانے کو جی چاہتا ہے ۔اپنا آپ قربانی کا بکرا محسوس ہو تا ہے ۔ایسا لگتا ہے آپ اللہ اکبر کہہ کر میرے گلے پر چھری پھیر دینگے۔اسکے ساتھ ہی میرا بی پی شوگر دل کا دھڑکنا بڑھ جاتا ہے ۔مرزا صاحب نے صاف صاف کہہ دیا۔
اس طرح تو آپ کا آپریشن ہو نے سے رہا ۔
تو رہنے دیں نا ڈاکٹر صاحب ۔مرزا صاحب نے بے چارگی سے کہا۔
تو آپ کے آپریشن سے مجھے کوی فایدہ تو نہیں ہے۔آپ ہی کو تکلیف ہو گی۔
میں ہر تکلیف برداشت کر لوں گا ۔مگر آپریشن نہیں کر واوں گا۔میں نے اب تک زندگی میں ایک بھی آپریشن نہیں کر وایا۔یہ میرا پہلا آپریشن ہے۔
تو آپ اتنا کیوں گھبرا رہے ہیں یہ میرا بھی پہلا آپریشن ہے ۔میں اتنا نہیں گھبرا رہا جتنا کہ آپ ۔ڈاکٹر صاحب کے اطمینان پر مرزا صاحب کا بی پی پھر ہایئ ہو گیا۔
نرس نرس مرزا صاحب کو دیکھو ۔
ڈاکٹر صاحب ان کا بی پی شوگر پھر سے۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے اب انہیں آپریشن ٹیبل سے اتار دو ۔کل پھر سے ٹرائ کریں گے۔ ۔۔۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں