بارش کی شر انگیزی
بارش کی شر انگیزی
چلیں ،آخر بارش کا موسم آہی گیا ،بارش بھی ہمارے ملک کی ٹرین کی طرح اکثر دو تین مہینے لیٹ چلتی ہے ۔دیر سے آتی ہے اور شرمچاتے جاتی ہے ۔اب اس کو شر انگیزی نہیں تو اور کیا کہیں ہم نے ذرا سی بارش کیا دیکھی اور پکوڑے بنانے چلے گۓ اور ابھی بیسن لیا بھی نہیں کہ بارش کسی منچلی محبوبہ کی طرح ایک جھلک دکھا کر غائب ہو گئ ۔چونکہ اس پر دھوپ کڑی نظر رکھی ہو ئ ہو تی ہے ۔بارش کو کچھ مو قعہ ہی ملتا نہیں کہ کچھ اٹھکیلیاں کر سکے ۔اب جیسے بتا یا ناں ۔کہ پکوڑے بنانے تک بارش ختم بھی ہو جاتی ہے ۔اور ہم جل کڑھ کر صرف چاے پر اکتفا کر لیتے ہیں ۔جب چاۓ پی لیتے ہیں تب پھر موسلا دھار شروع ،مطلب ، وہ صرف ہمیں جلانے کا پروگرام بنا کر آتی ہے ۔
بارش جب جب آتی ہے محکمہ مو سمیات کی نوکری کے لالے پڑ جاتے ہیں۔اگر وہ شدید بارش کی پیشن گوئ کر دیں تو اس دن بارش ہی نہیں ہو تی ۔وہ بوندا باندی کہیں گے تو یہ موسلادھار بنجاتی ہے ۔وہ گرج چمک کہتے ہیں تو یہ گھپ اندھیرےکا سماں کرے گی۔وہ "موسم خشک رہے گا" تو یہ سارے ماحول کو تر بتر کرے گی ۔جیسے طنزیہ کہ رہی ہو ۔اور کرو پیشن گوئ ۔آخر میں موسمیات والے یہ کہہ کر جان چھڑالیتے ہیں کہ ہوا کے دباؤ ' موسم میں تغیرات کی وجہہ سے آب و ہوا میں تبدیلی آ رہی ہے ۔اس میں محکمہ موسمیات کا کوئ ہاتھ نہیں ۔بارش کی شر انگیزی کو مد نظر رکھتے ہوۓ محکمہ کو برالذ مہ سمجھا جاۓ۔لو جی چھٹی ہو گئ۔اب عوام ایک طرف بارش کو اور دوسری جانب محکمہ موسمیات کو دیکھ رہی ہو تی ہے۔
بارش ایک اچھے خاصے بندے کو فارغ العقل بنادیتی ہے وہ کیسے تو ایسے کہ وہ بندہ جب گھر سے نکلتا ہے تو سوٹڈ بوٹڈ ہو تا ہے ۔آدھے گھنٹے بارش اچانک ایک غصیلی محبوبہ کی طرح برس پڑتی ہے ۔بندہ بارش کے تیور دیکھ ،رینکوٹ پہنلیتا ہے ۔اب مزید آدھا گھنٹہ رین کوٹ میں گاڑی چلا رہا ہے ۔لیکن آگے ایسا ایریا آجاتا ہے وہاں بارش کا نام و نشان نہیں ۔سخت دھوپ اور خشک روڈ ،اب ایسے میں رین کوٹ پہنا ہوا یہ مرد کتنا عجیب نظر آتا ہو گا ۔لوگ اسے ایسی نظروں سے دیکھ رہے ہو تے ہیں جیسے پوچھ رہے ہوں ایسی دھوپ میں رین کوٹ کا کیا کام ،اس طرح اچھا خاصا مرد بے وقوف سا لگتا ہے ۔
یوں تو بارش کو شر انگیز کہنا بجا نہیں مگر اس کے سوا کوئ چارا بھی تو نہیں ۔بارش اسی وقت اچھی لگتی ہے جب ہم گھر میں ہوں ،کھلی کھڑکی ہو ،بارش کی رم جھم ہو اور ایک چاۓ کا کپ ہو ۔لیکناس وقت جب ہم باہر کسی سڑک پر ہوں ،بارش اور موریوں کا پانی باہم رضامندی سے بہہ رہا ہو ،سڑک پر جا بجا گڈھے ہوں ،آتی جاتی گاڑیاں آپ پر اپنے ٹائر سے سلام علیک کر رہے ہو ں اور آپکے کپڑے گڑھے کے پانی سے مصافحہ کر رہے ہو ں تو کہاں کی بارش ،اور کہاں کی شاعری ۔ایسے وقت جتنے کوسنے یاد آتے جاتے ہیں وہ سب ایسے شاعروں کو اور ایسی بارش کو دے دیۓ جاتے ہیں کہ بارش بھی کیا یاد کرے گی۔لیکن پھر بھی ہم سب یہی چاہیں گے کہ بارش شرارتا ہی سہی مگر آۓ ضرور ،بھلے سے ہم بھیگ بھیگ جائیں ،زکام زدہ ہو جائیں ،سڑکیں جھیل بن جائیں تو بن جائیں ،ہم کشتیاں لیکر روڈ پار کریں گے مگر بارش ہونی چاہیۓ ۔
بارش ایک اچھے خاصے بندے کو فارغ العقل بنادیتی ہے وہ کیسے تو ایسے کہ وہ بندہ جب گھر سے نکلتا ہے تو سوٹڈ بوٹڈ ہو تا ہے ۔آدھے گھنٹے بارش اچانک ایک غصیلی محبوبہ کی طرح برس پڑتی ہے ۔بندہ بارش کے تیور دیکھ ،رینکوٹ پہنلیتا ہے ۔اب مزید آدھا گھنٹہ رین کوٹ میں گاڑی چلا رہا ہے ۔لیکن آگے ایسا ایریا آجاتا ہے وہاں بارش کا نام و نشان نہیں ۔سخت دھوپ اور خشک روڈ ،اب ایسے میں رین کوٹ پہنا ہوا یہ مرد کتنا عجیب نظر آتا ہو گا ۔لوگ اسے ایسی نظروں سے دیکھ رہے ہو تے ہیں جیسے پوچھ رہے ہوں ایسی دھوپ میں رین کوٹ کا کیا کام ،اس طرح اچھا خاصا مرد بے وقوف سا لگتا ہے ۔
یوں تو بارش کو شر انگیز کہنا بجا نہیں مگر اس کے سوا کوئ چارا بھی تو نہیں ۔بارش اسی وقت اچھی لگتی ہے جب ہم گھر میں ہوں ،کھلی کھڑکی ہو ،بارش کی رم جھم ہو اور ایک چاۓ کا کپ ہو ۔لیکناس وقت جب ہم باہر کسی سڑک پر ہوں ،بارش اور موریوں کا پانی باہم رضامندی سے بہہ رہا ہو ،سڑک پر جا بجا گڈھے ہوں ،آتی جاتی گاڑیاں آپ پر اپنے ٹائر سے سلام علیک کر رہے ہو ں اور آپکے کپڑے گڑھے کے پانی سے مصافحہ کر رہے ہو ں تو کہاں کی بارش ،اور کہاں کی شاعری ۔ایسے وقت جتنے کوسنے یاد آتے جاتے ہیں وہ سب ایسے شاعروں کو اور ایسی بارش کو دے دیۓ جاتے ہیں کہ بارش بھی کیا یاد کرے گی۔لیکن پھر بھی ہم سب یہی چاہیں گے کہ بارش شرارتا ہی سہی مگر آۓ ضرور ،بھلے سے ہم بھیگ بھیگ جائیں ،زکام زدہ ہو جائیں ،سڑکیں جھیل بن جائیں تو بن جائیں ،ہم کشتیاں لیکر روڈ پار کریں گے مگر بارش ہونی چاہیۓ ۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں