مچھر
مچھر
ہمارا ایسا کوی ارادہ تو نہیں تھا کہ مچھر پر کچھ لکھیں ۔لیکن مچھر نے ہمیں مجبور کیا کہ ہماس پر لکھیں۔ہم نے بھی مچھر کو صاف کہہ دیا کہ" ہمیں کوئ تحریر نہیں لکھنی تم پر۔اب بھلا ہم تم پر لکھیں گےیعنی مچھر پر ۔"
اسکے بدلہ میں اس نے اپنا جو گیت گانا شروع کیا ناں تو ہم زچ ہو گۓ۔کانوں کے پاس آنا اور سارے گا ما پا شروع کر دینا۔
ہم مچھر پر لکھیں گے ضرور، مگر انکی اقسام وغیرہ پر نہیں، کیونکہ اس کے لیۓ تو گوگل موجود ہے ۔وہ آپ کو ہر قسم کی معلومات دے گا ۔ویسے بھی ہم خود کونسا خود سے کچھ بیانکر سکتے ۔ہم بھی گوگل سے ہی مدد لیتے۔ تو پھر ان سب پر کیوں وقت ضائع کریں۔انکی اقسام ہو ں تو ہوں ۔ہمیں کیا ۔اب کیا ہمپر اتنے برے دنآگۓ کہ مچھر اور انکی اقسام بیانکریں۔
لیکن ۔۔۔۔سر سری ہی سہی پر بتانا تو پڑے گاورنہ مچھر نے برا منانا ہے اور اسکی ناراضگی کے ہم فی ا لحال متحمل نہیں ہو سکتے ۔
مچھروں کی کئ اقسام ہیں اور ابھی نجانے کتنی آنی باقی ہیں ۔سب سے پہلے تو وہ مشہور و معروف مچھر جسے عرف عام میں ملیریا پھیلانے والا مچھر کہتے ہیں ۔ہماس مچھر کو کوسنے جانے ہی والے تھے کہ گوگل کرنے پر پتا چلا کہ اصل بیماری پھیلانے والا مچھر نہیں بلکہ اسکی مادہ ہو تی ہے۔ہم نے اس مادہ مچھر کو خوب داد دی کہ ۔کہ کسی کو کانوں کان خبر نا ہونے دی کہ اصل فساد کی جڑ وہ خود ہے۔بیچارہ نر مچھر تو مفت میں بدنام ہو ا جارہا تھا۔ہم نے گوگل کا بھی شکریہ ادا کیا ۔کہ اتنی اہم معلومات دیں ۔اور نر مچھر کو اسکی زن مریدی پر شاباشی بھی دی۔ذرا جو مادہ مچھر کو بدنام کیا ہو ۔سارا الزام اپنے آپ پر ڈالے وہ عظیم مرد ہونے کا کردار ادا کر رہا تھا۔
لیکن جب آگے گۓ تو پتا چلا کہ ایک اور مچھر ہے جو نر مچھر ہے ۔اللہ کا شکر کہ یہاں صنف نازک پر بیماری پھیلانے کا الزام نہیں آیا۔یہ مچھر ڈینگو ،چکون گنیا،زیکا وایرس جیسی کئ بیماریوں پر کام کر رہا ہے ۔اور ان بیماریوں کے پھیلانے کے لیۓ اسے نوبل امن پرایز دیۓ جانے کا امکان ہے ۔امن کا انعام اس لیۓ کہ بغیر کسی جنگ و جدل کے یہ مکمل امن کے ساتھ انسانوں کو صفحہ ہستی سے مٹارہا ہے ۔اس لیۓ اسکی کوششوں کو قابل قدر نگاہوں سے دیکھا جانا چاہیۓ۔
اس مچھر کی یہ بھی خاصیت ہے کہ یہ صاف پانی میں اپنا بسیرا کرتاہے ۔ہم حیران رہ گۓ کہ صاف پانی، صاف پانی تو ہم انسانوں کو پینے کے لیۓ بھی میسر نہیں ۔ان مچھروں کو کہاں سے نصیب ہو تا ہو گا۔بعد میں ہمارے اپنے ذرائع سے پتا چلا کہ عام طور پر نہیں خصوصی طور پر یہ سیلیبریٹیز کے یہاں پایا جاتا ہے ۔یہ موصوف بے وقت نہیں کاٹتے۔یہ دو سے چار کے درمیان میں ہی کاٹیں گے۔ان کا ٹایم سن کر ہی ہمیں ہنسی آئ۔کہ یہ کاٹنے کا ٹایم ہے یا سرکاری افسر کے لنچ کا۔ مطلب انکے کاٹے کے لیۓ ہمیں دو سے چار بجے تک گھر میں صاف پانی کے آس پاس رہنا چاہیۓ تب یہ موصوف ہمیں کاٹنے کی سعادت بخشیں گے۔ یہ سعادت پانے سے تو بندی بے سعادت ہی بھلی۔
آخر نا نا کر کے بھی ہم نے مچھروں پر ایک مضمون لکھ ہی لیا مگر اف اس سے پہلے کہ اٹھتے ایک مچھر نے ہمارے پیر پر کاٹا ۔ابھی ہم سنبھلے بھی نا تھے کہ دوسرے نے کان میں گانا شروع کیا۔ جو ذرا غور سے سنا تو ایسا ۔لگا جیسے وہ کہہ رہا ہو ۔
"میں تمہیں بھول جاؤں یہ ہو نہیں سکتا اور تم مجھے بھول جاؤ یہ میں ہو نے نہیں دوں گا۔"
سیدھے تھیٹر سے آۓ ہو ۓلگ رہے ہو ۔ہماری جان جل کر رہ گئ۔
"ہم تھیٹر کیا ہر جگہ ہی پاۓ جاتے ہیں محترمہ ۔تم نے ہماری مضر اقسام تو بتائیں لیکن یہ نہیں بتایا کہ مچھروں میں کتنی اعلیٰ صفات پائ جاتی ہیں ۔"
"اعلی صفات" ہمیں اچھو لگ گیا۔
"اتنے سے ہو اور اعلی صفات ۔"
"یہ ہماری اعلی صفات نہیں تو اور کیا ہے کہ ہم مسجد مندر نہیں دیکھتے۔ نا ہندو ،مسلمان ،ہماپنا فرض نبھاتے ہیں ہم مکمل طور پر سیکیو لر ہوکر اپنا کام کرتے ہیں ۔کبھی سنا کہ ایک مچھر نے ہندو کو زور سے کاٹا اور مسلم کو ہلکا۔
ہم بلا تفریق جنس کام کرتے ہیں ۔ہم عورت مرد میں فرق نہیں کرتے ۔نا بچے ،بوڑھے میں ۔ہم ہر ایک کو یکساں کاٹتے ہیں ۔اور یکساں بیماری پھیلاتے ہیں ۔ہم میں نسل پرستی بھی نہیں ۔ہم گوروں کو کاٹتے ہیں تو کالوں کو بھی نہیں بخشتے ۔ہمتو مساوات پر یقین رکھتے ہیں ۔امیر کو بھی ویسے ہی کاٹتے ہیں جیسے کہ غریب کو ۔کوئ اللہ کا بندہ ہمیں فرقہ پرست،مادہ پرست ،نسل پرست ،اور جتنے بھی پرست ہوں اس کا طعنہ نہیں دے سکتا ۔یہی تو ہماری وہ صفات ہیں جو آج کل انسانوں میں مفقود ہیں ۔انسانوں میں تو انسانیت ہی مفقود ہے "۔
مچھر کی اس حقیقت بیانی نے ہمیں سر جھکانے پر مجبور کیا۔ لیکن وہ انسان ہی کیا جو شرمندہ ہو جاۓ ۔
"جانے کا کیا لو گے۔"
"ہونہہ۔کر لو جو بن پڑے."
"اچھا۔" ہم اٹھے ۔اور اسپرے لے آۓ۔" اب بتاؤ۔کیسے بچو گے تم "
"۔اس دنیا میں اگر انسانیت کوئ نبھارہے ہیں تو وہ ہم کیڑے مکوڑے۔جنہیں تم اتنی حقارت سے اسپرے مار کر بھگاتے ہو ۔کاش ہم مچھر بھی کوئ ایسا اسپرے ایجاد کرتے جس سے تمہاری بے حسی دور ہو جاتی ۔لیکن ۔۔۔۔ "وہ اڑتے اڑتے ہمارے منہ پر جوتا سا مار گیا اور ہم دونوں ہاتھوں سے مچھر کو مارنے کے لیۓ تالی ہی پیٹتے رہ گۓ۔
مچھروں کی کئ اقسام ہیں اور ابھی نجانے کتنی آنی باقی ہیں ۔سب سے پہلے تو وہ مشہور و معروف مچھر جسے عرف عام میں ملیریا پھیلانے والا مچھر کہتے ہیں ۔ہماس مچھر کو کوسنے جانے ہی والے تھے کہ گوگل کرنے پر پتا چلا کہ اصل بیماری پھیلانے والا مچھر نہیں بلکہ اسکی مادہ ہو تی ہے۔ہم نے اس مادہ مچھر کو خوب داد دی کہ ۔کہ کسی کو کانوں کان خبر نا ہونے دی کہ اصل فساد کی جڑ وہ خود ہے۔بیچارہ نر مچھر تو مفت میں بدنام ہو ا جارہا تھا۔ہم نے گوگل کا بھی شکریہ ادا کیا ۔کہ اتنی اہم معلومات دیں ۔اور نر مچھر کو اسکی زن مریدی پر شاباشی بھی دی۔ذرا جو مادہ مچھر کو بدنام کیا ہو ۔سارا الزام اپنے آپ پر ڈالے وہ عظیم مرد ہونے کا کردار ادا کر رہا تھا۔
لیکن جب آگے گۓ تو پتا چلا کہ ایک اور مچھر ہے جو نر مچھر ہے ۔اللہ کا شکر کہ یہاں صنف نازک پر بیماری پھیلانے کا الزام نہیں آیا۔یہ مچھر ڈینگو ،چکون گنیا،زیکا وایرس جیسی کئ بیماریوں پر کام کر رہا ہے ۔اور ان بیماریوں کے پھیلانے کے لیۓ اسے نوبل امن پرایز دیۓ جانے کا امکان ہے ۔امن کا انعام اس لیۓ کہ بغیر کسی جنگ و جدل کے یہ مکمل امن کے ساتھ انسانوں کو صفحہ ہستی سے مٹارہا ہے ۔اس لیۓ اسکی کوششوں کو قابل قدر نگاہوں سے دیکھا جانا چاہیۓ۔
اس مچھر کی یہ بھی خاصیت ہے کہ یہ صاف پانی میں اپنا بسیرا کرتاہے ۔ہم حیران رہ گۓ کہ صاف پانی، صاف پانی تو ہم انسانوں کو پینے کے لیۓ بھی میسر نہیں ۔ان مچھروں کو کہاں سے نصیب ہو تا ہو گا۔بعد میں ہمارے اپنے ذرائع سے پتا چلا کہ عام طور پر نہیں خصوصی طور پر یہ سیلیبریٹیز کے یہاں پایا جاتا ہے ۔یہ موصوف بے وقت نہیں کاٹتے۔یہ دو سے چار کے درمیان میں ہی کاٹیں گے۔ان کا ٹایم سن کر ہی ہمیں ہنسی آئ۔کہ یہ کاٹنے کا ٹایم ہے یا سرکاری افسر کے لنچ کا۔ مطلب انکے کاٹے کے لیۓ ہمیں دو سے چار بجے تک گھر میں صاف پانی کے آس پاس رہنا چاہیۓ تب یہ موصوف ہمیں کاٹنے کی سعادت بخشیں گے۔ یہ سعادت پانے سے تو بندی بے سعادت ہی بھلی۔
آخر نا نا کر کے بھی ہم نے مچھروں پر ایک مضمون لکھ ہی لیا مگر اف اس سے پہلے کہ اٹھتے ایک مچھر نے ہمارے پیر پر کاٹا ۔ابھی ہم سنبھلے بھی نا تھے کہ دوسرے نے کان میں گانا شروع کیا۔ جو ذرا غور سے سنا تو ایسا ۔لگا جیسے وہ کہہ رہا ہو ۔
"میں تمہیں بھول جاؤں یہ ہو نہیں سکتا اور تم مجھے بھول جاؤ یہ میں ہو نے نہیں دوں گا۔"
سیدھے تھیٹر سے آۓ ہو ۓلگ رہے ہو ۔ہماری جان جل کر رہ گئ۔
"ہم تھیٹر کیا ہر جگہ ہی پاۓ جاتے ہیں محترمہ ۔تم نے ہماری مضر اقسام تو بتائیں لیکن یہ نہیں بتایا کہ مچھروں میں کتنی اعلیٰ صفات پائ جاتی ہیں ۔"
"اعلی صفات" ہمیں اچھو لگ گیا۔
"اتنے سے ہو اور اعلی صفات ۔"
"یہ ہماری اعلی صفات نہیں تو اور کیا ہے کہ ہم مسجد مندر نہیں دیکھتے۔ نا ہندو ،مسلمان ،ہماپنا فرض نبھاتے ہیں ہم مکمل طور پر سیکیو لر ہوکر اپنا کام کرتے ہیں ۔کبھی سنا کہ ایک مچھر نے ہندو کو زور سے کاٹا اور مسلم کو ہلکا۔
ہم بلا تفریق جنس کام کرتے ہیں ۔ہم عورت مرد میں فرق نہیں کرتے ۔نا بچے ،بوڑھے میں ۔ہم ہر ایک کو یکساں کاٹتے ہیں ۔اور یکساں بیماری پھیلاتے ہیں ۔ہم میں نسل پرستی بھی نہیں ۔ہم گوروں کو کاٹتے ہیں تو کالوں کو بھی نہیں بخشتے ۔ہمتو مساوات پر یقین رکھتے ہیں ۔امیر کو بھی ویسے ہی کاٹتے ہیں جیسے کہ غریب کو ۔کوئ اللہ کا بندہ ہمیں فرقہ پرست،مادہ پرست ،نسل پرست ،اور جتنے بھی پرست ہوں اس کا طعنہ نہیں دے سکتا ۔یہی تو ہماری وہ صفات ہیں جو آج کل انسانوں میں مفقود ہیں ۔انسانوں میں تو انسانیت ہی مفقود ہے "۔
مچھر کی اس حقیقت بیانی نے ہمیں سر جھکانے پر مجبور کیا۔ لیکن وہ انسان ہی کیا جو شرمندہ ہو جاۓ ۔
"جانے کا کیا لو گے۔"
"ہونہہ۔کر لو جو بن پڑے."
"اچھا۔" ہم اٹھے ۔اور اسپرے لے آۓ۔" اب بتاؤ۔کیسے بچو گے تم "
"۔اس دنیا میں اگر انسانیت کوئ نبھارہے ہیں تو وہ ہم کیڑے مکوڑے۔جنہیں تم اتنی حقارت سے اسپرے مار کر بھگاتے ہو ۔کاش ہم مچھر بھی کوئ ایسا اسپرے ایجاد کرتے جس سے تمہاری بے حسی دور ہو جاتی ۔لیکن ۔۔۔۔ "وہ اڑتے اڑتے ہمارے منہ پر جوتا سا مار گیا اور ہم دونوں ہاتھوں سے مچھر کو مارنے کے لیۓ تالی ہی پیٹتے رہ گۓ۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں