گوگل اسسٹنٹ

گوگل اسسٹنٹ
آخر دو گھنے کی سزاۓ کالا پانی کے بعد شبو اپنی اماں کو سمجھا سکی کہ گوگل اسسٹنٹ اور گوگل انسان نہیں ہیں ۔گوگل محلہ کا لچا لفنگا لڑکا نہیں بس ساری دنیا کا انکل ہے۔یہ سب سن کر اماں کا تو منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
"تو یہ سب کا چاچے بناکیوں پھرتا ہے ۔"وہ شبو کے کمرہ میں بیٹھ گئیں۔
"اماں !بس یوں سمجھو اگر آپ کو کوئ بھی مسئلہ پوچھنا ہو تو آپ گوگل اسسٹنٹ سے پوچھ سکتی ہو"۔
"اچھا "۔وہ سوچنے لگیں ۔
"کچھ بھی پوچھ سکتی ہوں "......"۔اچھا! اس سے یہ تو پوچھ پڑوس کی رشیداں کی بکری کیسے مری "۔اماں کا سوال سن‌کر شبو کو تو جیسے ہزار وولٹ کا جھٹکا لگا۔
"اماں !۔آپ بھی ناں ۔میں آپ کو سمجھا کچھ رہی ہوں اور آپ سمجھ کچھ رہی ہیں" ۔ 
"ارے ۔تو نے ہی تو کہا کہ کچھ بھی پوچھ سکتی ہوں" ۔"اچھا تو پھر" ۔وہ پھر سوچنے لگیں۔
"آپ بیماری وغیرہ کا پوچھ سکتی ہو "۔اس نے اپنی طرف سے مدد دی۔
"اچھا !۔تو یہ پوچھ ,کہ میرے کمر کا درد کب جائیگا۔ہاۓ سالوں‌ اس درد سے پریشان ہوں "۔ہاۓ !میری کمر. ہاۓ! میری کمر‌ ۔۔ " 
"اففوہ یہ سب نہیں بتاۓگا وہ ۔اسنے یہ سب بتانا شروع کیا تو لوگ عامل گوگل بابا پکارنا شروع کر دینگے۔
"حد ہے آپ سے بھی."
"آپ گانا سن لو" اس نے مائک لگایا۔
"اوکے گوگل ۔۔۔۔۔۔۔کین یو سنگ آ سانگ ۔۔۔۔۔۔"
گوگل اسسٹنٹ گانے لگی۔"آی ایم.. یوور گوگل اسسٹنٹ ....پم پم پا۔۔۔۔۔ "
"یہ کیسا بے سرا گارہی ہے۔نا باجا نا راگ ۔اماں ناگواری سے بو لیں ۔اس سے تو اچھا میں گا لیتی ہوں ۔اماں کہتی ہوئیں گانا بھی گانے لگیں۔
"میں تیری دشمن تو میرا دشمن
 میں ناگن تو سپیراااااا
میں ناگن تو سپیراااااا
"ارے اماں! بسسسسسس ۔آپکے گانے سن کر تو گاؤں کے سارے سانپ اور سپیرے بھی آجاییں گے۔اس نے اماں کو جلدی سے روکا۔
"اے شرم نہیں آتی اپنے ابا کو سپیرا بولتے" ۔اماں نے اسے ڈانٹا۔
"میں انہیں سپیرا نہیں آپ کو ناگن کہہ رہی ہوں" ‌۔ وہ جل کر بولی۔ وہ اس رو میں اسپیکر پھر آن کر بیٹھی۔
"اس طرح کہے گی تو مجھے گالیاں آئیں گی گالیاں" ۔
اسسٹنٹ نے گالیاں کو گلیاں سمجھا اور گلیاں گلیاں کرنے لگی۔
"ارے! اسکو تو چپ کروادے۔ بے غیرت! گلیاں گلیاں کر رہی ۔نجانے کسکی گلی میں جا گھسی"۔
" شٹ اپ" ۔شبو نے اسے جھڑکا۔ اسسٹنٹ کو بھئ ۔

"اوکے"۔ وہ بڑی تابعداری سے خاموش ہو گئ۔
کتنی بے شرم ہے ۔  گالیاں کھا کر "اوکے "کہتی ہے ۔لگتا ہے تیری صحبت کا اثر ہے ۔
"بس کر اماں" ۔ شبو بیزاری سے بولی۔
"کیا گالیوں کی طرح کھانا بھی کھاتی ہے ۔یہ"
"اماں" وہ بے بس ہوگئ۔
"اچھا !اکیلی ہی ہے بہن‌بھائ نہیں ہیں اسکے" ۔
"وہ مشین ہے اماں ۔وہ ہم جیسے احساسات نہیں رکھتی ۔بے حس ہوتی ہے "۔
"بے حس تو ہم ہیں ناں رے شبو ۔اگر کوئ مرتا ہے تو ہمیں اسکے دکھ کا احساس بھی نہیں ہو تا۔ کوئ بھوکا ہے تو اسکی بھوک کا بھی احساس نہیں کرتے۔ کوئ روتا ہے تو ہم ہنستے ہیں کوئ گرتا ہے تو ہم اسے اور گرانے کی کوشش کرتے ہیں ۔اسے اٹھتا ہوا دیکھ کر اور ہنستے ہیں ۔بے حس تو ہم ہوۓ نا شبو ۔ مشین وہ ہے کہ ہم ۔"اماں کسی گہری سوچ میں بولے چلی گئیں۔
"شبو کی اماں ۔اب بس کر بس ۔ذرا فلمیں کم دیکھا کر ۔رات جو فلم دیکھی تھی ۔اس کا اثر ہے ۔یہ تو  نہیں اس فلم کے ڈایلاگ ہیں ۔جو تو مار  رہی ہے۔۔
اس سے پہلے کہ شبو اماں کے جذبات سے متاثر ہو تی ۔ابا نے دھماکہ آمیز انٹری دی۔
اماں ابا کو دیکھتے ہی کھسیانی ہو گئیں۔اور" تیرے اپا کے لئے چاۓ بنا تی ہوں" کہتی باورچی خانہ کی جانب بھاگیں ۔
"ابا! آپ کو بھی کچھ پوچھنا ہے کیا" ۔ شبو نے ابا کو بھی گوگل اسسٹنٹ سے بات کر نے کی پیشکش کی۔
"مجھے تو ایک ہی بات پوچھنا ہے بس" ۔ابا آرام سے اسکے برابر بیٹھتے ہو ۓ بولے۔
"کیا ابا"
"یہی کہ تیری اماں سے چھٹکارا کب ملے گا۔بتادیگی وہ ۔"
"کیا !!!"ابا آ پ بھی ناں" شبو  ہنسنے لگی۔اس کا تو ایک ہی جواب ہو گا ۔
"کیا"
"نو وے"
ابا کو ابھی اسکا مطلب نہیں پتا۔ شبو انکے پاس سے ہنستے ہو ۓ اٹھی تھی۔




تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ