شفق

شفق 
ایک سچی کہانی 
"ایکسکیوزمی! ۔کیا مجھے آپ کے نوٹس مل سکتے ہیں" ۔میں جو لائبریری میں ایک کتاب لیۓ بیٹھی تھی ۔اس آواز پر میں چونک گئ۔میں نے سر اٹھایا ۔میں اسے جانتی تھی ۔بلکہ کالج کی ہر لڑکی اسے جانتی تھی ۔وہ بے حد مقبول لڑکی کالج کے اونر کی پوتی تھی ۔ان کا خاندان شہر کا سب سے معزز خاندان تھا ۔وہ ایک درگاہ کے سجادہ کی پوتی تھی۔ وہ مجھے نہیں جانتی تھی ۔لیکن میں اس سے واقف تھی ۔لیکن اس سے بات کرنے کا کبھی اتفاق نہیں ہوا تھا ۔
"اوہ! شیور؛یہ لیں" ۔میں نے اپنے نوٹس دیۓ تو وہ مسکراتے ہوۓ شکریہ کہتی چلی گئ۔
     یہ میری اسکی پہلی ملاقات تھی ۔دوسرے دن نوٹس واپس کرتے ہو ۓ اس نے مجھ سے میرے سبجیکٹس پوچھے ۔میں اکیلی کھڑی تھی جبکہ اسکے ساتھ اسکے ایک فرینڈ تھی۔میں نے اپنے سبجیکٹس بتاۓ تو اسکی فرینڈ ہنستے ہوۓ اسکی طرف دیکھنے لگی۔
"یہ تو پورے کے پورے تمہارے سبجیکٹس کامبی نیشن ہے شفق" ۔شفق یہ سنکر مسکرائ۔جوابا میں بھی مسکرائ ۔میں نے اسکی فرینڈ سے اسکے سبجیکٹس پوچھے تو اس نے ہسٹری بتایا۔
"ہسٹری ،میں ہسٹری نہیں لے سکتی تھی کیونکہ تاریخیں کبھی یاد ہی نہیں رہتیں " ۔میرا جواب بے ساختہ تھا۔
"وہی تو ۔میرا بھی یہی پرابلم تھا "۔شفق کھلکھلا کر ہنستے ہوے بولی ۔تو میں اسے دیکھتی رہ گئ۔کیونکہ ایسا لگا وہ نہیں ہنسی بلکہ کئ گلاب کھل کر ہنس پڑے ہوں ۔اتنا پیارا چہرہ اور اتنا ملکوتی حسن میں نے پہلی بار دیکھا تھا۔ وہ صرف خوبصورت نہیں بلکہ ایک منفرد حسن رکھتی تھی. جو شاید انکے اعلی گھرانہ کی ملکیت تھا۔ اسکی آنکھیں ایک ایسی سیاہ رات جیسی تھیں جس میں نورانی کیفیت ہو ۔ سیاہ بھی اور روشن بھی ۔چہرہ ایسا کہ دل دیکھتے رہنے کو چاہے اور دل نا بھرے ۔میں جیسے اسکے سحر میں جکڑ گئ۔
اب ہم روز ہی ملتے ۔چونکہ سبجیکٹ یکساں تھے ۔سب سے زیادہ مزہ تو تب آتا جب انگلش لیٹریچر کی کلاس ہوتی ۔انگلش لیٹریچر کے طلباء پہلے تو کم تھے یعنی دس بارہ ۔مستزاد اسکے ار ریگیولر ۔صرف ہم دو ہوتیں جو ریگیولر ہوتی تھیں ۔وہ منظر دیکھنے لایق ہوتا تھا ۔جب بڑے سے کلاس روم میں صرف دو اسٹوڈنٹ ہوتیں اور ایک لیکچرر میم ۔ہماری جب بھی کلاس ہوتی ۔لڑکیاں ہماری کلاس روم میں جھانکتی ۔اور پھر ہنستی ہوئ جاتیں ۔کبھی کبھی تو پرنسپل میم بھی ہماری کلاس کو دیکھ کر مسکراتے ہوۓ چلی جاتیں ۔کبھی بد قسمتی سے ہم میں سے کوئ ایک غیر حاضر ہوتا تو صرف ایک اسٹوڈنٹ اور ایک ٹیچر ہوتا جو کافی مضحکہ خیز لگتا۔
پہلے سال ہم دونوں کھینچے کھنچے رہے ۔میں چونکہ ریزرو  ٹائپ تھی اس لیۓ اس سے زیادہ فری نا ہو سکی ۔جبکہ وہ بھی شاید مجھے مغرور سمجھتے ہو ۓ دور دور ہی رہتی ۔ویسے بھی وہ کافی ہنس مکھ اور خوش مزاج لڑکی تھی ۔اسکا تو پورے کالج میں دوستانہ تھا۔وہ بس ہنسنا مسکرانا اور خوش رہنے پر ہی یقین رکھتی تھی ۔اور اسے دیکھ کر سچ مچ ایسا لگتا کہ جیسے اسے کسی غم نے چھوا بھی نا ہو ۔اعلی خاندان' خوبصورتی اور بے انتہا امیر ۔اس کے پاس کسی چیز کی بھی کمی نا تھی ۔لیکن اسکے باوجود اس نے کبھی غرور نا کیا تھا۔
دوسرے سال تک آتے آتے  اسکی کئ اچھی عادتیں اور اخلاق نےمجھے  اسکا گرویدہ کر لیا ۔وہ کبھی جھوٹ نہیں  بولتی ۔جو بھی ہو تا وہ سب سچ ہی کہتی ۔یوں تو وہ کبھی کلاس بنک نا کرتی ۔بلکہ پوری ذمہ داری سے ہر کلاس اٹینڈ کرتی۔ اگر کبھی اسے جلدی جانا ہو تا یا اسکی طبیعت خراب ہو تی تو وہ میم کو اطلاع دےکر چلی جاتی ۔میں نے اسے کبھی جھوٹ بولتے ہو ۓ نہیں دیکھا۔۔جبکہ اسکی ہی چھوٹی بہن تھی جو اکثر بنا کسی اطلاع دیۓ گھر چلی جاتی۔یہ اسکو ایسا کرنے سے منع کرتی" ۔یہ اچھی بات نہیں  ہے فاریہ ۔تمہیں اس طرح جانا نہیں چاہیۓ۔"
"تو کیا ہوا' یہ کالج ہمارا ہی تو ہے ۔اب کیا اتنی سی بات کے لیۓ ہم ان سے اجازت لیتے پھریں" ۔ اس جواب کو سنکر وہ نا خوش تو ہوتی پر کچھ نا بولتی ۔یہ اسکی اعلی ظرفی ہی تھی کہ  ہمیشہ بہت وقار کے ساتھ ،استادوں کا ادب و احترام کرتی تھی۔
ان خوبصورت یادوں کا ذکر تو بہت لمبا ہے مگر مختصر یہ کہ وہ ایک خوش مزاج ،ہنسنے ہنسانے والی لڑکی تھی ۔میں ہمیشہ اسکو دیکھ کر یہ سوچتی تھی کہ اسکو پانے والا بہت خوش نصیب ہو گا۔ ہم لڑکیاں ہو تے ہوۓ اسکے حسن‌کی دیوانی تھیں ۔پھر شوہر موصوف کا کیا عالم ہو گا۔مگر اسکے ساتھ چلتے پھرتے ،کلاسس اٹینڈ کرتے مجھے یا کسی کو بھی کیا پتا تھا کہ اتنی ہنس مکھ لڑکی کو بھی کوئ دکھ دے جاییگا۔کوئ اس پیاری لڑکی کو بھی اذیت دےگا ہمیں بالکل بھی اس کا اندازہ نہیں تھا۔
          وہ ہمیشہ ہم مڈل کلاس لڑکیوں کی طرح ڈریسنگ کرتی ۔وہ بھی ہماری طرح اپنے ڈریسس ہر ہفتہ دہراتی یوں جیسے کہ اسکے پاس اچھے کپڑے ہی نا ہوں ۔جبکہ وہ
 ہمیشہ کار  میں آتی جسکو چلانے کے لیۓ ڈرائیور بھی ساتھ ہو تا۔کبھی اگر کلاسس کے لیۓ دیر ہو تی تو وہ کئ لڑکیوں کو جنکے گھر دور دور ہو تے ۔خود ساتھ چل کر ڈراپ کرتی ۔مجھے بھی کئ بار اس نے گھر تک ڈراپ کیا تھا۔پہلی بار تو راستہ کی مسافت دیکھ کر ہی حیران ہو گئ تھی۔
"تم اتنا لمبا راستہ پیدل چل کر آتی ہو ۔مطلب بائ واک ؟"
میں نے صرف اثبات میں سر ہلایا تھا۔اب میں اسے کیسے بتاتی کہ کئ لڑکیاں تو اس سے زیادہ دگناراستہ طے کرتی ہو ئ آتیں تھیں ۔کم سے کم ایک گھنٹہ کی مسافت ۔جبکہ مجھے آدھا گھنٹہ لگتا تھا۔ کبھی کبھی دولت سے آپ کئ غموں ،فکرو‌ں  سے بے نیاز ہو تے ہیں ۔پتا بھی نہیں چلتا کہ لوگ چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیۓ کتنی تکلیفیں اٹھاتے ہیں ۔
گریجویشن کے ختم ہو نے تک ہم دونوں اچھی فرینڈز بن گئ تھیں ۔پھر جب میری شادی ہو ئ تو ہمارا رابطہ منقطع ہو گیا۔میں حیدرآباد میں آگئ اور اس نے آگے ایڈمشن لے لیا تھا۔ ایک دو بار بات ہو ئ اسکے بعد میں اپنی گھریلو زندگی میں مصروف ہو گئ اور جو کبھی کبھار فون پر بات ہو تی تھی وہ بھی ختم ہو ئ۔
ایک دن اچانک اسکا فون آیا ۔
"شفق تم کیسی ہو" میں خوشگوار حیرت سے پوچھ بیٹھی۔
"ہمیشہ کی طرح بہت اچھی" ۔وہ پھر کھلکھلائ۔
"مجھے اپنی شادی کا کارڈ دینا ہے."اس نے کہا تو میں نے پے درپے سوالات کی بو چھار کردی۔
"کون ہیں ۔کیا کرتے ہیں ۔وغیرہ وغیرہ" ۔
"کزن ہیں اور ڈاکٹر ہیں" ۔وہ بھی جواب در جواب کہنے لگی "۔میری اور فاریہ کی شادی ایک ہی دن ہے ۔اپنا ایڈرس دو ۔اور ضرور آنا" ۔اس نے کہا تھا ۔لیکن میں  کچھ گھریلو مصروفیات کی وجہ سے شادی میں نہیں جاسکی ۔لیکن اسکی شادی کا سن کر اسکے لیۓ ڈھیروں دعاییں دی تھیں ۔
"افففففف! وہ کتنی پیاری لگی ہو گی۔وہ تو بغیر میک اپ کے اتنی خوبصورت نظر آتی تھی ۔دلہن بن کر کیسی لگی ہو گی"۔میں نے اپنا آپ سوچا تھا.
۔ کالج میں اکثر بات کرتے تھے ۔کہ شفق کو میک اپ کی ضرورت ہی نہیں ۔اسکو تو ذرا دھوپ میں بٹھادو ۔وہ لال سرخ ٹماٹر بن جاتی ہے ۔اسے بلش لگانے کی ضرورت ہی کیا۔وہ صرف مسکرادے تو اسکے عارض گلاب جیسے ہو جاتے ہیں ۔ہم سب اسے دیکھ کر ہنستی ہوی کہتیں تو وہ اور ہنس دیتی تھی"۔ اب ایسا بھی نہیں ہے "۔
اسکے بعد نجانے کتنے مہینے یا پھر شاید دو سال بعد میں نے اسے فون کیا ۔
"کیسی ہو شفق ۔اور تمہارے میاں کیسے ہیں" ۔
"اچھی ہوں" ۔وہ مجھے تھو ڑی سنجیدہ لگی۔
"تم نہیں .اب تمہارے میاں جی کیسے ہیں ۔یہ بتاؤ ۔وہ بالکل تمہاری طرح ہو‌نگے۔ خوش مزاج اور ہنس مکھ ٹائپ "۔
"میں... اب ابا جی کے پاس  ہو ں "۔اس نے صرف اتنا کہا ۔
"مطلب" میرا ماتھا ٹھنکا ۔
"ہم دونوں میں علیحدگی ہو گئ ہے "۔اسکی اس بات نے مجھے جو شاک دیا تھا وہ بیان سے باہر تھا۔
"مگر کیوں ۔اور یہ کب ہوا "۔میری آواز جیسے حلق میں ہی اٹک گئ تھی۔
"دادا جی کے انتقال کے وقت " ۔اس نے اتنا ہی کہا اور مجھ سے آگے بات ہی نا کی گئ ۔میں اسے کیا کہتی ۔خود میرا دل جیسے رونے لگ گیا تھا۔
اس سے بات کرنے کے بعد میرا دل جیسے بس اڑ کر اسکے پاس جانا چاہ رہا تھا۔ جیسے ہی میں اپنے میکہ گئ ۔اسی دن میں نے اسے فون کیا تھا ۔
"میں تم سی ملنے آرہی ہوں "
۔اس نے بھی اچھا کہہ کر فون رکھ دیا تھا۔
"ہم کتنے دنوں بعد مل رہے ہیں ۔شفق "۔میں نے اسے گلے لگ کر کہا۔
"دن نہیں سال کہو ،سال "۔وہ ہنسی تو مجھے بھی خیال آیا کہ واقعی یہ دنوں کی نہیں سالوں کی بات ہے ۔
"اب کیسی ہو تم" میں ۔نے اسے پو چھا ۔تو وہ چپ سی ہو گئ۔
"کیوں کیا اس نے تمہارے ساتھ ایسا "۔میرا دل غم کے مارے جیسے پھٹا جا رہا تھا.
"اس کے بقول میں اس کو کسی بھی طرح اپیل نا کر سکی ۔وہ کہتا تھا ۔اسے مجھے دیکھ کر کوئ فیلینگ ہی نہیں پیدا ہو تیں ۔وہ مجھے پسند ہی نہیں کرتا تھا ۔پتا نہیں وہ بے حس تھا یا میں ۔ وہ سنجیدگی سے بولی ۔
"تو شادی کے وقت اس نے منہ میں لڈو رکھ لیۓ تھے ۔شادی کیوں کی ۔جب تم اسے پسند ہی نہیں تھیں" ۔میں غصہ میں بولی ۔
"اور کزن تھا وہ تمہارا ۔دیکھا تو تھا ہی ہو گا ۔پھر پہلے ہی کیوں نہیں کہا" ۔
"وہی تو ۔ہم سب یعنی ابا جی ،دادا ابا ،اسکو یہی کہتے رہے" مگر وہ طلاق دینے پر بضد رہا۔
"ابا جی' دادا ابو نے یہاں تک کہا کہ طلاق مت دو ۔اگر تم دوسری شادی کرنا چاہتے ہو تو کرلو ۔کیونکہ طلاق سے لڑکی کے کردار پر انگلیاں اٹھتی ہیں ۔مگر ۔۔۔۔۔۔۔
"وہ یہی کہتا رہا کہ امی کی زبردستی سے اسے شادی کرنی پڑی ۔ ورنہ وہ نا کرتا ۔"
"پھر سب نے کہا کہ اب کر لی ہے تو نبھاؤ ۔طلا ق مت دو "۔
"مگر اس نے اپنا کر دکھا یا ۔اب دو سال ہو گۓ ہیں" ۔ وہ بھراے لہجہ میں بولی تو مجھے بھی اس کے لیۓ رونا آیا ۔یہ وہ لڑکی تھی ۔جو ہنستی تھی تو سب اسے ٹھٹھک کر دیکھتے تھے ۔جس کے لب ہمیشہ ہنستے رہتے تھے ۔آج ایک شخص نے اسے کیا کر دیا ۔
میں اسے اب تسلی بھی دیتی تو کیا دیتی ۔
"تم عمرہ کو چلی جاؤ شفق جب وہاں جاتے ہیں تو ہمارے بگڑے کام بھی بن جاتے ہیں ۔"
"ہاں ۔ضرور جاؤونگی ۔ابو جی نے مجھے پوچھا ہے کہ کیا تم عمرہ کو  چلنا چاہتی ہو ۔میں نے کہا کہ وہاں جانے سے بھی کوی منع کرتا ہے کیا۔اگلے مہینے کو جارہی ہو ں" ۔وہ بولی تو میں اس کے گلے لگ کر اس کے بہتر مستقبل کی دعا کرتے ہوۓ چلی آئ۔
مجھے واپس آۓ ہوۓ شاید ایک سال ،یا ڈیڑھ سال ہوا ہو گا ۔میری اپنی مصروفیات تھیں جس کی وجہہ سے میں اس سے رابطہ کرنے میں قاصر تھی۔لیکن ہاتھ ہو تے تھے اور اسکے لیۓ دعائیں ۔مجھے اسکے ساتھ ہوئ ٹریجڈی سے کافی دکھ ہوا تھا۔اور اس شخص کے لیۓ افسوس کہ اس نے ایک سیدہ کے ساتھ غلط کیا تھا۔دولت کی کوئ کمی نا تھی ۔لیکن بات عزت کی بھی تو ہو تی ہے۔ کیا ایک لڑکی کو صرف اس لیۓ طلاق دینا کہ وہ اسے بیوی کے روپ میں پسند نہیں آئ تھی ۔صحیح تھا۔؟
مجھے ایک دن اسکی یاد آئ تو میں نے اسکے گھر فون کیا ۔فون انکی گھریلو خادمہ نے اٹھا یا۔
"میں شفق سے بات کرنا چاہتی ہوں" ۔میں نے کہا ۔
"جی لیکن شفق تو ۔۔۔۔۔۔"
"شفق تو ۔۔۔۔"۔میں نے دہرایا۔
"وہ کینیڈا میں ہیں"  ۔اس نے کہا
"کیا لیکن وہ وہاں کیوں گئیں" ۔میں نے حیرانی سے پو چھا
"انکی شادی ہو گئ" ۔خادمہ نے کہا تو مجھے حیرت آمیز خوشی ہوئ۔
"اچھا۔کیسی ہیں وہ "۔
"اچھی ہیں  اور خوش ہیں۔ایک بیٹا بھی تو ہے "۔خادمہ کی اس بات سے  میرے دل کی ساری کلفت خوشی میں بدل گئ۔
"اللہ اسے ہمیشہ خوش و آباد رکھے"۔ میں نے دعائیہ کلمہ پر بات ختم کی اور فون رکھ دیا۔
اس کے بعد میرا اس سے رابطہ نا ہو سکا۔ لیکن اس بات کی خوشی ہے کہ وہ یقینا خوش اور مطمئن زندگی گذار رہی ہو گی۔ بس وہ جہاں بھی رہے خوش رہے ۔یہی دعا ہے ۔
ختم شد





تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ