عورت اور مزاح ۔۔۔۔۔ایک مزاحیہ تحریر
عورت اور مزاح ۔۔۔۔
ہم بہت سنجیدگی سے بیٹھے مزاح لکھ رہے تھے کہ ہمارے ایک کرم فرما مزاح نگار آۓ ۔انداز ایسا تھا جیسے جانا چاہتے کہیں ہوں اور غلطی سے آگۓ ہوں ۔ہم نے انپر ایک نگاہ ڈالی ۔وہ آۓ ،بیٹھے،پھر اٹھے،گرتے گرتے سنبھلے اور پھر گر گۓ ۔
"ارے! آپ اس طرح گری ہو ئ حرکتیں کیوں کر رہے ہیں "۔ہمارے منہ سے نکلا ۔
"ہم کوئ گرے پڑے نہیں ،مرد مزاح نگار ہیں" ۔وہ اٹھے ۔ہم مسکراۓ۔
"جی ،جی ،آپ گرےہوۓ مزاح نگار ہیں" ۔
"آپ کیا کر رہی ہیں"
"مزاح لکھ رہے ہیں" ۔
"مزاح خون جگر سے لکھا جاتا ہے" ۔
"ہم بھی تو سرخ روشنائ لے کر قلم کا خون کر رہے ہیں ۔"
"اونہہہہ ۔سرخی تو بس آپ اپنے چہرہ پر لگا لیں" ۔
"ہمیں سرخ رنگ پسند ہی نہیں" ۔
"آپ کے ہاتھوں میں بیلن سجتا ہے "۔وہ بھناۓ۔
"ہاں! جبکہ وہ سر پر بھی بجتا ہے" ۔ہم نے بھی ترکی بہ ترکی کہا۔
"آپ کو کوفتہ٫ بریانی٫ رس گلہ پر دھیان دینا چاہیۓ۔"
" اور آپ کو بھی تو کوفتہ٫ بریانی ٫رس گلہ پر ہی دھیان دینا چاہیۓ ۔کہیں کچھ غلطی سے کوفتے کچے ہوں تو بیوی آپ کو کچا نا چباچاۓ۔"
"آپ کو دیکھ کر کہنا پڑے گا کہ مزاح ارزاں ہو گیا ہے "۔وہ طنزیہ مسکراۓ۔
"آپ نے مزاح کی سیل جو لگائ ہے "۔
"آپ کی تحریر کے بیچ شو ہر آتے ہیں" ۔وہ ہنسے ۔
"شوہر کو بیچ بیچ میں آنے کی عادت ہو تی ہے ۔شاید اسی لیۓ۔"ہم بھی جوابا ہنسے ۔وہ یکدم چپ ہو گۓ۔
"نکیل ڈالا کریں" ،
"لیکن ہمارے پاس گھوڑا نہیں"
"میں شوہر کی بات کر رہا تھا".
"وہ ۔۔۔۔اڑیل ہیں اور کافی سڑیل بھی.مشکل ہے "۔
"تو مزاح بھی تو ایک اڑیل گھوڑا جیسا ہے ۔وہ آپ کے قابو میں کیسے آ سکتا ہے" ۔وہ بڑے فاتحانہ انداز میں مسکراۓ ۔"ہم سوچ رہے ہیں کہ مزاح کو اپنے پلو میں باندھ لیں ۔پھر آسانی ہو گی"۔
"اب مزاح پلو میں بندھے گا "۔ایک قہقہہ.
"جی !مزاح اور شوہر کو پلو میں باندھنا آتا ہے "۔ہم نے بھی جوابی قہقہہ لگا یا۔
"مزاح ہو کہ شوہر ،اڑیل ہو کہ سڑیل ،قابو میں کر لیتی ہے عورت" ۔ہم رکے ۔وہ لاجواب سے ادھر ادھر دیکھنے لگے۔
"آپ جو ڈھونڈ رہے وہ وہاں ہے "۔
"کیا "
"کھمبا!جو کہ اکثر کھسیانے ہو کر نوچا جاتا ہے ۔"
"جی! ایسی بات نہیں ،ہم پشتینی مزاح نگار ہیں ۔نسل در نسل یہ سلسلہ چل رہا ہے "۔وہ فخر سے بولے۔
"جیسے ؟"
"دیکھیۓ مشتاق احمد یوسفی وغیرہ کو ،ہم مزاح میں انہی کی نسل سے ہیں مطلب مرد مزاح نگاروں میں یہ ہمارے جد ہیں "۔انہوں نے فخریہ کہا۔
"تو وہ تو ہمارے بھی دادا ہیں ۔مطلب کہ صرف پوتے ہی کیوں ،پوتیاں نواسیاں بھی تو یہ سلسلہ چلا سکتی ہیں ۔آخر مزاح میں مشتاق یو سفی ہمارے دادا،پطرس ہمارے نانا،شفیق الر حمن ہمارے چاچا اور کرنل محمد خان ہمارے تایا بھی تو ہو سکتے ہیں ۔آخر ان سب پر صرف آپ ہی کا حق کیوں ۔"
"اور اور ۔۔۔۔عطا الحق قاسمی ہمارے چھوٹے ماموں اور گل نو خیز اختر ،ہماری چاچی بھی تو ہو سکتی ہیں ۔"
"وہ مذکر ہیں ۔وہ ہماری معلومات سے جیسے خوش نا تھے ۔
"نام تو چچی والا رکھا ہے تو بس اس لیۓ ۔۔۔۔۔۔"
وہ جانے کے لیۓ اٹھے ۔لیکن پھر پیٹ پکڑ کر بیٹھ گۓ ۔ہماری نظر انپر ہی تھی ۔
"اف !"بد ہضمی "وہ کراہے ۔
ہم گۓ ،فرج کھولا اور ایک بوتل نکالی۔
"آپ یہ پی لیجیۓ ۔شاید آپ کا ہاضمہ ٹھیک ہوجاۓ ۔عورت کے مزاح سے اکثر بد ہضمی ہو جاتی ہے "۔😁😁😁
۔
"ارے! آپ اس طرح گری ہو ئ حرکتیں کیوں کر رہے ہیں "۔ہمارے منہ سے نکلا ۔
"ہم کوئ گرے پڑے نہیں ،مرد مزاح نگار ہیں" ۔وہ اٹھے ۔ہم مسکراۓ۔
"جی ،جی ،آپ گرےہوۓ مزاح نگار ہیں" ۔
"آپ کیا کر رہی ہیں"
"مزاح لکھ رہے ہیں" ۔
"مزاح خون جگر سے لکھا جاتا ہے" ۔
"ہم بھی تو سرخ روشنائ لے کر قلم کا خون کر رہے ہیں ۔"
"اونہہہہ ۔سرخی تو بس آپ اپنے چہرہ پر لگا لیں" ۔
"ہمیں سرخ رنگ پسند ہی نہیں" ۔
"آپ کے ہاتھوں میں بیلن سجتا ہے "۔وہ بھناۓ۔
"ہاں! جبکہ وہ سر پر بھی بجتا ہے" ۔ہم نے بھی ترکی بہ ترکی کہا۔
"آپ کو کوفتہ٫ بریانی٫ رس گلہ پر دھیان دینا چاہیۓ۔"
" اور آپ کو بھی تو کوفتہ٫ بریانی ٫رس گلہ پر ہی دھیان دینا چاہیۓ ۔کہیں کچھ غلطی سے کوفتے کچے ہوں تو بیوی آپ کو کچا نا چباچاۓ۔"
"آپ کو دیکھ کر کہنا پڑے گا کہ مزاح ارزاں ہو گیا ہے "۔وہ طنزیہ مسکراۓ۔
"آپ نے مزاح کی سیل جو لگائ ہے "۔
"آپ کی تحریر کے بیچ شو ہر آتے ہیں" ۔وہ ہنسے ۔
"شوہر کو بیچ بیچ میں آنے کی عادت ہو تی ہے ۔شاید اسی لیۓ۔"ہم بھی جوابا ہنسے ۔وہ یکدم چپ ہو گۓ۔
"نکیل ڈالا کریں" ،
"لیکن ہمارے پاس گھوڑا نہیں"
"میں شوہر کی بات کر رہا تھا".
"وہ ۔۔۔۔اڑیل ہیں اور کافی سڑیل بھی.مشکل ہے "۔
"تو مزاح بھی تو ایک اڑیل گھوڑا جیسا ہے ۔وہ آپ کے قابو میں کیسے آ سکتا ہے" ۔وہ بڑے فاتحانہ انداز میں مسکراۓ ۔"ہم سوچ رہے ہیں کہ مزاح کو اپنے پلو میں باندھ لیں ۔پھر آسانی ہو گی"۔
"اب مزاح پلو میں بندھے گا "۔ایک قہقہہ.
"جی !مزاح اور شوہر کو پلو میں باندھنا آتا ہے "۔ہم نے بھی جوابی قہقہہ لگا یا۔
"مزاح ہو کہ شوہر ،اڑیل ہو کہ سڑیل ،قابو میں کر لیتی ہے عورت" ۔ہم رکے ۔وہ لاجواب سے ادھر ادھر دیکھنے لگے۔
"آپ جو ڈھونڈ رہے وہ وہاں ہے "۔
"کیا "
"کھمبا!جو کہ اکثر کھسیانے ہو کر نوچا جاتا ہے ۔"
"جی! ایسی بات نہیں ،ہم پشتینی مزاح نگار ہیں ۔نسل در نسل یہ سلسلہ چل رہا ہے "۔وہ فخر سے بولے۔
"جیسے ؟"
"دیکھیۓ مشتاق احمد یوسفی وغیرہ کو ،ہم مزاح میں انہی کی نسل سے ہیں مطلب مرد مزاح نگاروں میں یہ ہمارے جد ہیں "۔انہوں نے فخریہ کہا۔
"تو وہ تو ہمارے بھی دادا ہیں ۔مطلب کہ صرف پوتے ہی کیوں ،پوتیاں نواسیاں بھی تو یہ سلسلہ چلا سکتی ہیں ۔آخر مزاح میں مشتاق یو سفی ہمارے دادا،پطرس ہمارے نانا،شفیق الر حمن ہمارے چاچا اور کرنل محمد خان ہمارے تایا بھی تو ہو سکتے ہیں ۔آخر ان سب پر صرف آپ ہی کا حق کیوں ۔"
"اور اور ۔۔۔۔عطا الحق قاسمی ہمارے چھوٹے ماموں اور گل نو خیز اختر ،ہماری چاچی بھی تو ہو سکتی ہیں ۔"
"وہ مذکر ہیں ۔وہ ہماری معلومات سے جیسے خوش نا تھے ۔
"نام تو چچی والا رکھا ہے تو بس اس لیۓ ۔۔۔۔۔۔"
وہ جانے کے لیۓ اٹھے ۔لیکن پھر پیٹ پکڑ کر بیٹھ گۓ ۔ہماری نظر انپر ہی تھی ۔
"اف !"بد ہضمی "وہ کراہے ۔
ہم گۓ ،فرج کھولا اور ایک بوتل نکالی۔
"آپ یہ پی لیجیۓ ۔شاید آپ کا ہاضمہ ٹھیک ہوجاۓ ۔عورت کے مزاح سے اکثر بد ہضمی ہو جاتی ہے "۔😁😁😁
۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں