دفتر اور وہ بھی سرکاری ہو تو سمجھیے بیڑہ غرق ،نہیں نہیں اسکا نہیں آپ کا،کیونکہ ایسے دفاتر ہو تے ہیں جنہیں دیکھ کر سوچنا پڑ تا ہے کہ یہ بنے تو کیوں بنے ۔سرکاری دفاتر میں جس انداز سے کسی بھی عام آدمی کی کھینچائ ہو تی ہے اس سے یہ بات ہم بخوبی کہ سکتے ہیں کہ یہ تو زحمت ہوگئ سہولت کے بجاۓ۔اگر کسی کو یقین نا آرہا تو کسی دن ان دفتروں کے چکر لگا آۓ اسے یقین آ جاۓ گا۔
ایسا ہی یقین پانے ہمارے میاں جی نے ہمیں سرکاری دفتر کا راستہ دکھایا۔ہمیں اپنے بچوں کے کاسٹ سرٹیفیکٹ بنانے تھے جو کہ آگے اعلیٰ تعلیم کے لیے ضروری تھے۔ساتھ کچھ رقم بھی دی اور ہدایات بھی کہ وقت پڑنے پر خرچ کر لو ۔
" زیادہ خوش مت ہوں ،شاپنگ کے لیےنہیں دے رہا ۔کاروائ کے دوران شاید ضرورت پڑے اس لیے دے رہا ہوں ۔" انکی اس بات پر ہم کھسیا گۓ خیر ،ہم سیدھے دفتر گۓ۔دفتر کا ماحول عجیب ہی تھا۔اس کیبن میں کل چار افراد بیٹھے تھے ۔ایک صاحب فارم چیک کر رہے تھے ۔جبکہ دوسرے صاحب پوری آفس کو چیک کر رہے تھے۔اگر کوئ غلطی سے بھی کچھ آواز کرتا تو یہ ضرور ٹوکتے"۔خاموش بیٹھیے ۔یہ آفس ہے آپ کا گھر نہیں"۔لیکن یہ خود اپنے ساتھیوں کے ساتھ گپ شپ کر رہے تھے ۔انہیں ٹوکنے والا کوئ نہیں تھا۔ایک اور ادھیڑ عمر مرد تھے جو پان کھاتے کھاتے پان سے نقش و نگار بھی بنارہے تھے۔ کہاں ،دیواروں پر بھئ۔ انکے قریب ایک لڑکی بیٹھی تھی جو کمپیوٹر پر کام کم کر رہی تھی اور سلفیز زیادہ لے رہی تھی ۔ہمیں سمجھ نہیں آیا کہ ہر دس منٹ میں سلفی لینے کی کیا تک ہے ۔جبکہ چہرہ تو وہی ہوتا ہے ۔چاہے دس منٹ بعد ہو یا ایک گھنٹہ بعد ۔۔خیر جب
ہماری باری آئ تو ان صاحب نے فارم دیکھ کر کہا
"بی بی آپ نے فام تو بھر دیا مگر تحصیل آفیسر کے دستخط چاہیے ۔وہ آپ نے نہیں لیے" ۔وہ فارم ٹیبل پر پھینکتے ہوۓ بولے تو ہم پریشان ہو گۓ۔
"تو اب ہمیں تحصیل آفس جانا ہو گا ۔یہ سوچکر ہی چکر آنے لگے۔"
"جی آپ نہیں تو کیا ہم جایئں" ۔وہ بے مروتی سے بولے تو ہم فارم اٹھاۓ آفس سے نکلے۔
آٹو رکشا لیا اور تحصیل آفس کو آگۓ ۔یہاں پہنچے تو پتا چلا صاحب لنچ کو چلے گۓ ۔ہم جو بھاگم بھاگ آۓ تھے ۔یہ سنتے ہی سارے جوش پر ٹھنڈا پانی پڑ گیا۔۔
"ہمیں صرف دستخط چاہیۓ" ۔ ہم نے کہا تو چپراسی گھور کر دیکھتے ہوۓ بولا۔
"اب آپ کے دستخط کے لیے میں صاحب کو کھانے پر سے اٹھاؤں" ۔اس نے اتنے رعب سے کہا کہ ہم چپ کر گۓ۔
اب ہم بیٹھے انتظار کر رہے ہیں۔آدھے گھنٹے سے اوپر ہو گیا مگر صاحب تھے کہ کھانے پر سے اٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔
"آخر کتنا "کھاتے "ہیں یہ سرکاری دفتر والے" ۔ہم نے غصہ سے کھولتے ہوۓ سوچا ۔ہم گھڑی دیکھتے اور اس بند دروازہ کو جو کہ کھلنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔یہاں ہمارے جیسے اور کئ لوگ تھے جو ہماری طرح صاحب کے" کھانا "ختم ہونے کی راہ دیکھ رہے تھے۔
"ارے او بھائ ذرا دیکھ لو شاید لنچ ہو گیا ہو "۔ایک دوسرے بندے نے اس چپراسی کو کہا۔
"کھانا ہو گیا اب چاۓ پی رہے صاحب "۔وہ سابقہ انداز میں بولا ۔اب کہ پھر سب چاۓ ختم ہونے کا انتظار کرنے لگے۔آدھا گھنٹہ ہو گیا ۔ ابھی تک "چاۓ" پی جارہی تھی۔
تبھی میاں جی کا فون آیا ۔ہم نے ساری بات بتائ ۔
'میں نے صبح جو پیسے دیۓ تھے وہ کیا کھیلنے کے لیے دیے تھے"۔ہم انکی بات پر سوچ میں پڑ گۓ ۔
"کیا ۔مگر وہ تو لنچ کے لیے بیٹھے ہیں ۔ہم سے کچھ طلب ہی نہیں کیا تو ہم کیوں دیں ۔ہمیں زیادہ تو نہیں ہو ۓ پیسے "۔ہم نے اپنی ازلی کنجوسی سے کہا تو وہاں سے پہلے خوب جھاڑ پلائ گئ پھر بتایا۔
"یہ لوگ مانگتے نہیں 'چونکہ "شریف" ہو تے ہیں لیکن اس طرح جان بوجھکر دیر کرتے ہیں کہ بندہ خود ہی سمجھ جاۓ اور انکے مطلوبہ رقم انہیں دے۔تم شام تک بھی بیٹھو گی تب بھی یہ" لنچ ،چاۓ" ہی کرینگے۔اس لیۓ پیون کو کچھ رقم دو اور بات آگے بڑھاؤ۔" یہ سب سنکر تو ہمیں اپنے آپ پر بڑا شدید غصہ آیا۔
"بے وقوفی کی بھی حد ہوتی ہے" ۔یہ سوچکر چپراسی سے بات کرنے گۓ۔اسکو پہلے دو سو دیۓ اور پھر فارم دیۓ اور کہا۔"بھائ صرف ساین کرناہے اور بس "۔پیسے لیتے ہی اسکا انداز بدل گیا اور معنی خیزی سے مسکراتے ہوۓ فارم لے لیا اور کہا۔"دیکھتا ہوں صاحب کی "چاۓ" ہو گئ ہو گی"۔ وہ اندر گیا اور دس منٹ میں باہر آیااور سرگوشی میں ہم سے کہا "وہ دو ہزار دے دیں تو ۔۔۔۔۔۔"
ہم نے جلدی سے رقم نکالی۔دینے کو دل تو نہیں چاہ رہا تھا۔مگر دینے پڑے۔اب جیسے ہی ساین لیۓ ،ہم پھر وہاں سے بھاگم بھاگ اپنی پہلی والی آفس گۓ اور وہاں جاکر دیکھا تو آفس ٹایم ختم ہوگیا تھا۔ اور آفس بند ہو گئ تھی۔
"اوہ نہیں" ہماری جان جل کر رہ گئ۔مگر اب ہم کیا کر سکتے تھے۔ اب ہمیں دوسرے دن نۓ سرے سے یہاں آ کر خوار ہونا تھا۔ ہم تھکے ہارے شام کو گھر پہنچے تو میاں جی سامنے ہی مل گۓ۔
"کیا ہوا "
"دفتر بندہوگیا تھا ۔اب کل پھر جانا ہو گا"۔ ہم تھکے تھکے سے بولے ۔
"او ہ "وہ ہھی افسوس کرنے لگے۔
"کچھ کھایا" انکی پریشان آواز آئ ۔
"ہاں ۔دھکے ""سرکاری دفتر کے دھکے"۔ہم نے بھوکے پیٹ کی صدا کو نظر انداز کرتے ،چکراتے سر کو تھام لیا۔
ختم شد
ہماری باری آئ تو ان صاحب نے فارم دیکھ کر کہا
"بی بی آپ نے فام تو بھر دیا مگر تحصیل آفیسر کے دستخط چاہیے ۔وہ آپ نے نہیں لیے" ۔وہ فارم ٹیبل پر پھینکتے ہوۓ بولے تو ہم پریشان ہو گۓ۔
"تو اب ہمیں تحصیل آفس جانا ہو گا ۔یہ سوچکر ہی چکر آنے لگے۔"
"جی آپ نہیں تو کیا ہم جایئں" ۔وہ بے مروتی سے بولے تو ہم فارم اٹھاۓ آفس سے نکلے۔
آٹو رکشا لیا اور تحصیل آفس کو آگۓ ۔یہاں پہنچے تو پتا چلا صاحب لنچ کو چلے گۓ ۔ہم جو بھاگم بھاگ آۓ تھے ۔یہ سنتے ہی سارے جوش پر ٹھنڈا پانی پڑ گیا۔۔
"ہمیں صرف دستخط چاہیۓ" ۔ ہم نے کہا تو چپراسی گھور کر دیکھتے ہوۓ بولا۔
"اب آپ کے دستخط کے لیے میں صاحب کو کھانے پر سے اٹھاؤں" ۔اس نے اتنے رعب سے کہا کہ ہم چپ کر گۓ۔
اب ہم بیٹھے انتظار کر رہے ہیں۔آدھے گھنٹے سے اوپر ہو گیا مگر صاحب تھے کہ کھانے پر سے اٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔
"آخر کتنا "کھاتے "ہیں یہ سرکاری دفتر والے" ۔ہم نے غصہ سے کھولتے ہوۓ سوچا ۔ہم گھڑی دیکھتے اور اس بند دروازہ کو جو کہ کھلنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔یہاں ہمارے جیسے اور کئ لوگ تھے جو ہماری طرح صاحب کے" کھانا "ختم ہونے کی راہ دیکھ رہے تھے۔
"ارے او بھائ ذرا دیکھ لو شاید لنچ ہو گیا ہو "۔ایک دوسرے بندے نے اس چپراسی کو کہا۔
"کھانا ہو گیا اب چاۓ پی رہے صاحب "۔وہ سابقہ انداز میں بولا ۔اب کہ پھر سب چاۓ ختم ہونے کا انتظار کرنے لگے۔آدھا گھنٹہ ہو گیا ۔ ابھی تک "چاۓ" پی جارہی تھی۔
تبھی میاں جی کا فون آیا ۔ہم نے ساری بات بتائ ۔
'میں نے صبح جو پیسے دیۓ تھے وہ کیا کھیلنے کے لیے دیے تھے"۔ہم انکی بات پر سوچ میں پڑ گۓ ۔
"کیا ۔مگر وہ تو لنچ کے لیے بیٹھے ہیں ۔ہم سے کچھ طلب ہی نہیں کیا تو ہم کیوں دیں ۔ہمیں زیادہ تو نہیں ہو ۓ پیسے "۔ہم نے اپنی ازلی کنجوسی سے کہا تو وہاں سے پہلے خوب جھاڑ پلائ گئ پھر بتایا۔
"یہ لوگ مانگتے نہیں 'چونکہ "شریف" ہو تے ہیں لیکن اس طرح جان بوجھکر دیر کرتے ہیں کہ بندہ خود ہی سمجھ جاۓ اور انکے مطلوبہ رقم انہیں دے۔تم شام تک بھی بیٹھو گی تب بھی یہ" لنچ ،چاۓ" ہی کرینگے۔اس لیۓ پیون کو کچھ رقم دو اور بات آگے بڑھاؤ۔" یہ سب سنکر تو ہمیں اپنے آپ پر بڑا شدید غصہ آیا۔
"بے وقوفی کی بھی حد ہوتی ہے" ۔یہ سوچکر چپراسی سے بات کرنے گۓ۔اسکو پہلے دو سو دیۓ اور پھر فارم دیۓ اور کہا۔"بھائ صرف ساین کرناہے اور بس "۔پیسے لیتے ہی اسکا انداز بدل گیا اور معنی خیزی سے مسکراتے ہوۓ فارم لے لیا اور کہا۔"دیکھتا ہوں صاحب کی "چاۓ" ہو گئ ہو گی"۔ وہ اندر گیا اور دس منٹ میں باہر آیااور سرگوشی میں ہم سے کہا "وہ دو ہزار دے دیں تو ۔۔۔۔۔۔"
ہم نے جلدی سے رقم نکالی۔دینے کو دل تو نہیں چاہ رہا تھا۔مگر دینے پڑے۔اب جیسے ہی ساین لیۓ ،ہم پھر وہاں سے بھاگم بھاگ اپنی پہلی والی آفس گۓ اور وہاں جاکر دیکھا تو آفس ٹایم ختم ہوگیا تھا۔ اور آفس بند ہو گئ تھی۔
"اوہ نہیں" ہماری جان جل کر رہ گئ۔مگر اب ہم کیا کر سکتے تھے۔ اب ہمیں دوسرے دن نۓ سرے سے یہاں آ کر خوار ہونا تھا۔ ہم تھکے ہارے شام کو گھر پہنچے تو میاں جی سامنے ہی مل گۓ۔
"کیا ہوا "
"دفتر بندہوگیا تھا ۔اب کل پھر جانا ہو گا"۔ ہم تھکے تھکے سے بولے ۔
"او ہ "وہ ہھی افسوس کرنے لگے۔
"کچھ کھایا" انکی پریشان آواز آئ ۔
"ہاں ۔دھکے ""سرکاری دفتر کے دھکے"۔ہم نے بھوکے پیٹ کی صدا کو نظر انداز کرتے ،چکراتے سر کو تھام لیا۔
ختم شد
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں