سرکاری دفاتر. in complete
سرکاری دفتر
دفتر اور وہ بھی سرکاری ہو تو سمجھیے بیڑہ غرق ،نہیں نہیں اسکا نہیں آپ کا،کیونکہ ایسے دفاتر ہو تے ہیں جنہیں دیکھ کر سوچنا پڑ تا ہے کہ یہ بنے تو کیوں بنے ،اور اگر نا بنتے تو کیا عام آدمی کسی نقصان سے دوچار ہو تا ۔شاید ہاں اور یقیناً نہیں کہ سکتے ہیں ۔کیونکہ یہ دفاتر بنے تو عوام کی سہو لت کے لیے مگر عوام اس سے اتنی دل برداشتہ ہے کہ جل کر سوچتی ہے ۔" ایسی سہولت دینے سے تو اچھا تھا نا دیتے ۔ہم کیا مرے جارہے تھے ،سہولت ،آسانی کے لیے ۔یہ سرکاری دفاتر تو الٹا زحمت شدید دیتے ہیں۔عوام کو ۔بندہ اگر اچھے برانڈ کے جوتے پہنے تب بھی جوتے گھس جایئں گے مگر ہونے کا کام بھی نہیں ہو گا۔اسکی ضمانت ہم بھی دیں گے۔یقین نا آۓ تو کسی دن سرکاری دفتر کے چکر لگا کر آئیں۔آپ کو ہماری ہر بات کا یقین آ جائے گا۔
اس دن جب ہم کھانے بیٹھنے ہی والے تھے کہ میاں جی نے بڑے انداز سے پو چھا ۔
کچھ کھاؤ گی ؟
ہم دل ہی دل میں مسکرانے لگے ۔پتا نہیں کیا کھلانا چاہتے ہوں ۔شاید آیسکریم ،یا پھر گول گپے۔ہم اتنا ہی سوچ سکتے تھے کیونکہ اس سے آگے کبھی وہ گۓ ہی نہیں۔
"کیا "
دھکے ،میں چاہ رہا تھا کہ تمہیں سرکاری دفتر کے دھکے کھلا لاؤں ۔وہ بڑے آرام سے ہمیں جلتے توۓ پر بٹھا گۓ ۔
جی نہیں شکریہ ایسے کھانے آپ ہی کو مبارک ،ویسے بھی دھکے جوتے جیسی غذاؤں سے ڈاکٹر نے منع فرمایا ہے ۔جان جل کر کو ئلہ ہی تو ہو گئ ہماری۔( یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ ۔۔۔).
محترمہ اب اس ماہر طبیب نے آپ کے لیے ایک نسخہ تجویز کیا ہے وہ سن لیں۔چونکہ زمانہ قیامت کی چال چل رہا ہے ۔اس لیۓ ہم آپ کو کنویں کی مینڈکی بنی نہیں دیکھنا چاہتے ۔اس لیۓ آپ کو دفتر جانا پڑے گا اور جو بچوں کا کاسٹ سرٹیفیکٹ ہے وہ بنانا ہو گا آپ کو بنفس نفیس ۔انکی اس بات پر ہم اچھل پڑے۔
مطلب ،سرٹیفیکٹ بنانے ہمیں جانا ہو گا۔
ہاں میں چاہتا ہوں کہ تمہیں بھی ان دفتر کے ماحول سے واقفیت ہو۔یوں تو آپ مردوں کے خلاف تقریریں بہت کرتی ہیں ۔پتا بھی چلنا چاہیۓ کہ باہر کیسے کیسے مگرمچھوں سے نبردآزما ہو تے رہتے ہیں ہم ظالم مرد ۔آخر میں ان کا لہجہ طنزیہ سا ہو گیا۔
تو کیا اب آپ اپنی بہادری ثابت کرنے ہمیں کنویں میں ڈھکیلینگے۔
نہیں جی ۔اب اتنے بھی بہادر نہیں ۔آپ کو صرف اتنا کرنا ہو گا کہ یہ جو فارمس ہیں وہ سرکاری دفتر میں سب مٹ کر آنے ہیں۔انہوں نے کچھ کاغذات ہماری طرف بڑھاۓ۔
اور بس واپس آنا ہے ۔وہ کہتے اٹھے اور جاتے جاتے رکے۔یہ کچھ رقم رکھ لو ۔انہوں نے اپنے والٹ سے کڑکڑاتے نوٹ ہماری طرف بڑھاۓ۔نوٹ ہوں اور ہم نا پکڑیں ۔یہ تو ہو ہی نہیں سکتا۔
زیادہ خوش مت ہوں شاپنگ کے لیے نہیں دے رہا۔وہاں کام آینگے اس لیے دے رہا ہوں ۔پتا نہیں ہم جو سوچتے ہیں وہ اتنی جلدی کیسے سمجھ لیتے ہیں۔ہم کھسیا کر پیسے رکھتے ہوۓ سوچنے لگے۔
میاں جی نے سب کچھ سمجھا دیا تھا۔ہم ناشتہ کر کے نکل گۓ۔اور سیدھا آفس پہنچ گۓ۔ہمارا خیال تھا چونکہ ہم صبح صبح نکلے تھے تو غالب گماں یہی تھا کہ لوگ کم ہونگے اور ہم جلدی سے کام نبٹا لینگے۔لیکن جاتے ہی پہلا غالب گمان ہی غلط نکلا۔وہاں تو لمبی قطار لگی تھی۔جس میں مردوں کی الگ اور خواتین کی الگ تھی۔ہائیں ۔یہ ہمارا ملک کی ،اور یہاں کی عوام کی بھی تعریف کرنی ہو گی۔ہر ایکی جگہ جہاں قطار نہیں ہو نی چاہیۓ وہاں یہ لوگ ضرور قطار لگاتے ہیں۔قطار لگاینگے تو دوا خانوں میں ،سنیما تھیٹروں میں ،پارکوں میں اور جہاں ترقی ،علم اور ساینس کی بات ہو گی ،یہ ہماری عوام قطار سے ہی کٹ جاتی ہے ۔اور الگ تھلگ قوم بن جاتی ہے ۔احمق قوم نا ہو تو ۔
دفتر کا ماحول ،خدا جھوٹ نا بلواۓ تو عجب ہی سماں پیش کر رہا تھا۔ایک سیٹ پر مینیجر بیٹھے تھے اور دوسری جانب ایک طرح دار خاتون سکریٹری تھی جو بار بار سل سل فون کھولے سلفیاں لے رہی تھی ۔ہمیں تعجب ہو رہا تھا کہ وہ ہر دس منٹ میں ایک سلفی کیوں لے رہی ہے ۔جبکہ چہرہ تو وہی آنا تھا ۔چاہے دس منٹ میں لیں یا ایک گھنٹہ بعد۔دوسری جانب کچھ اور نمونے تھے جو کہ پان کھاتے ،پان کے نمونے دیوار پر پیش کر رہے تھے مانو سرکاری دفتر انکا اپنا ذاتی ڈراینگ روم ہو ۔
ہم اب بیٹھے بیٹھے آس پاس نظریں دوڑانے لگے ۔کیونکہ قطار چیونٹی کی رفتار سے ہٹ رہی تھی ایک خاتون نے اپنا فارم دیا تو اس لڑکی نے فارم دیکھ کر پوچھا۔
آپ کے شوہر کیا کرتے ہیں ۔
جی ،وہ تو ڈرائیور ہیں ۔لڑکی نے شرما کر کہا تو ہمیں ہنسی آئ کہ یہاں وہ شرما کیوں رہی ہے جبکہ یہاں کوئ اسکے سسرال والے تھوڑی نا بیٹھے ہیں۔وہی بات جہاں شر مانا تھا وہاں نہیں شرمائیں گی جہاں ٹھیک ٹھیک بولنا ہو گا انہیں بڑی شرم آئگی۔
تنخواہ کتنی ہے اس سکریٹری نے تو یوں ہی پوچھ لیا مگر اس لڑکی کو جانے کیا سمجھ آیا وہ اس سکریٹری سے لڑنے ٹہر گئ۔
تنخواہ ہوگی تو ہمارے میاں کی ہو گی تمہرا کیا سروکارکیا شادی کرنی ہے تمہیں ہمارے میاں سے
او میڈم یہ فارم بھرنے کے لیے پوچھ رہی تھی۔جانے کیسے کیسے آجاتے ہیں اونہہہہ وہ سر جھٹک کر رہ گئ۔
اب وہ لڑکی چلی گئ تو ہماری باری آگئ۔۔
اس دن جب ہم کھانے بیٹھنے ہی والے تھے کہ میاں جی نے بڑے انداز سے پو چھا ۔
کچھ کھاؤ گی ؟
ہم دل ہی دل میں مسکرانے لگے ۔پتا نہیں کیا کھلانا چاہتے ہوں ۔شاید آیسکریم ،یا پھر گول گپے۔ہم اتنا ہی سوچ سکتے تھے کیونکہ اس سے آگے کبھی وہ گۓ ہی نہیں۔
"کیا "
دھکے ،میں چاہ رہا تھا کہ تمہیں سرکاری دفتر کے دھکے کھلا لاؤں ۔وہ بڑے آرام سے ہمیں جلتے توۓ پر بٹھا گۓ ۔
جی نہیں شکریہ ایسے کھانے آپ ہی کو مبارک ،ویسے بھی دھکے جوتے جیسی غذاؤں سے ڈاکٹر نے منع فرمایا ہے ۔جان جل کر کو ئلہ ہی تو ہو گئ ہماری۔( یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ ۔۔۔).
محترمہ اب اس ماہر طبیب نے آپ کے لیے ایک نسخہ تجویز کیا ہے وہ سن لیں۔چونکہ زمانہ قیامت کی چال چل رہا ہے ۔اس لیۓ ہم آپ کو کنویں کی مینڈکی بنی نہیں دیکھنا چاہتے ۔اس لیۓ آپ کو دفتر جانا پڑے گا اور جو بچوں کا کاسٹ سرٹیفیکٹ ہے وہ بنانا ہو گا آپ کو بنفس نفیس ۔انکی اس بات پر ہم اچھل پڑے۔
مطلب ،سرٹیفیکٹ بنانے ہمیں جانا ہو گا۔
ہاں میں چاہتا ہوں کہ تمہیں بھی ان دفتر کے ماحول سے واقفیت ہو۔یوں تو آپ مردوں کے خلاف تقریریں بہت کرتی ہیں ۔پتا بھی چلنا چاہیۓ کہ باہر کیسے کیسے مگرمچھوں سے نبردآزما ہو تے رہتے ہیں ہم ظالم مرد ۔آخر میں ان کا لہجہ طنزیہ سا ہو گیا۔
تو کیا اب آپ اپنی بہادری ثابت کرنے ہمیں کنویں میں ڈھکیلینگے۔
نہیں جی ۔اب اتنے بھی بہادر نہیں ۔آپ کو صرف اتنا کرنا ہو گا کہ یہ جو فارمس ہیں وہ سرکاری دفتر میں سب مٹ کر آنے ہیں۔انہوں نے کچھ کاغذات ہماری طرف بڑھاۓ۔
اور بس واپس آنا ہے ۔وہ کہتے اٹھے اور جاتے جاتے رکے۔یہ کچھ رقم رکھ لو ۔انہوں نے اپنے والٹ سے کڑکڑاتے نوٹ ہماری طرف بڑھاۓ۔نوٹ ہوں اور ہم نا پکڑیں ۔یہ تو ہو ہی نہیں سکتا۔
زیادہ خوش مت ہوں شاپنگ کے لیے نہیں دے رہا۔وہاں کام آینگے اس لیے دے رہا ہوں ۔پتا نہیں ہم جو سوچتے ہیں وہ اتنی جلدی کیسے سمجھ لیتے ہیں۔ہم کھسیا کر پیسے رکھتے ہوۓ سوچنے لگے۔
میاں جی نے سب کچھ سمجھا دیا تھا۔ہم ناشتہ کر کے نکل گۓ۔اور سیدھا آفس پہنچ گۓ۔ہمارا خیال تھا چونکہ ہم صبح صبح نکلے تھے تو غالب گماں یہی تھا کہ لوگ کم ہونگے اور ہم جلدی سے کام نبٹا لینگے۔لیکن جاتے ہی پہلا غالب گمان ہی غلط نکلا۔وہاں تو لمبی قطار لگی تھی۔جس میں مردوں کی الگ اور خواتین کی الگ تھی۔ہائیں ۔یہ ہمارا ملک کی ،اور یہاں کی عوام کی بھی تعریف کرنی ہو گی۔ہر ایکی جگہ جہاں قطار نہیں ہو نی چاہیۓ وہاں یہ لوگ ضرور قطار لگاتے ہیں۔قطار لگاینگے تو دوا خانوں میں ،سنیما تھیٹروں میں ،پارکوں میں اور جہاں ترقی ،علم اور ساینس کی بات ہو گی ،یہ ہماری عوام قطار سے ہی کٹ جاتی ہے ۔اور الگ تھلگ قوم بن جاتی ہے ۔احمق قوم نا ہو تو ۔
دفتر کا ماحول ،خدا جھوٹ نا بلواۓ تو عجب ہی سماں پیش کر رہا تھا۔ایک سیٹ پر مینیجر بیٹھے تھے اور دوسری جانب ایک طرح دار خاتون سکریٹری تھی جو بار بار سل سل فون کھولے سلفیاں لے رہی تھی ۔ہمیں تعجب ہو رہا تھا کہ وہ ہر دس منٹ میں ایک سلفی کیوں لے رہی ہے ۔جبکہ چہرہ تو وہی آنا تھا ۔چاہے دس منٹ میں لیں یا ایک گھنٹہ بعد۔دوسری جانب کچھ اور نمونے تھے جو کہ پان کھاتے ،پان کے نمونے دیوار پر پیش کر رہے تھے مانو سرکاری دفتر انکا اپنا ذاتی ڈراینگ روم ہو ۔
ہم اب بیٹھے بیٹھے آس پاس نظریں دوڑانے لگے ۔کیونکہ قطار چیونٹی کی رفتار سے ہٹ رہی تھی ایک خاتون نے اپنا فارم دیا تو اس لڑکی نے فارم دیکھ کر پوچھا۔
آپ کے شوہر کیا کرتے ہیں ۔
جی ،وہ تو ڈرائیور ہیں ۔لڑکی نے شرما کر کہا تو ہمیں ہنسی آئ کہ یہاں وہ شرما کیوں رہی ہے جبکہ یہاں کوئ اسکے سسرال والے تھوڑی نا بیٹھے ہیں۔وہی بات جہاں شر مانا تھا وہاں نہیں شرمائیں گی جہاں ٹھیک ٹھیک بولنا ہو گا انہیں بڑی شرم آئگی۔
تنخواہ کتنی ہے اس سکریٹری نے تو یوں ہی پوچھ لیا مگر اس لڑکی کو جانے کیا سمجھ آیا وہ اس سکریٹری سے لڑنے ٹہر گئ۔
تنخواہ ہوگی تو ہمارے میاں کی ہو گی تمہرا کیا سروکارکیا شادی کرنی ہے تمہیں ہمارے میاں سے
او میڈم یہ فارم بھرنے کے لیے پوچھ رہی تھی۔جانے کیسے کیسے آجاتے ہیں اونہہہہ وہ سر جھٹک کر رہ گئ۔
اب وہ لڑکی چلی گئ تو ہماری باری آگئ۔۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں