عورت اور مزاح ۔۔۔۔۔ایک سنجیدہ تحریر

عورت اور مزاح
عورتوں نے مزاح میں کچھ نام پیدا نہیں کیا . ۔مرد کہتے ہیں۔کہ "مزاح میں جھنڈے انہوں نے ہی گاڑے ہیں" تو ہم کونسا آپگے گاڑے جھنڈے اکھاڑنے میں لگے ہیں ۔آپ نے وہ میدان مارا ہے جسے اوائل میں تیسرے درجہ کا ادب کہا جاتا تھا بلکہ شاید ابھی بھی کہتے ہو ں ۔عورت ہمیشہ نفیس طبعیت کی مالک ہو تی ہے ۔ایسی جگہ وہ اپنا قدم رکھنے سے پہلے کئ بار سوچتی ہے جہاں چھوٹتے ہی اسے چھچھورپن کا سامنا کرنا پڑے ۔مزاحیہ اداکاروں کو اکثر چھچھورے ہی کہتے تھے اور انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھا نہیں جاتا تھا۔تو بھلا عورت ایسی جگہ جاتی ہی کیوں جہاں اس پر مزاح کی آڑ میں ،جملے کسے جائیں۔اس لیۓ وہ اس سے دور رہی ۔لیکن اسکا یہ مطلب نہیں کہ وہ منہ بناے بیٹھی رہی ۔اس نے مزاح کو چھوڑ ہر جگہ اپنے قدم جماۓ اتنا کہ مرد بس دیکھتا رہ گیا ۔ایک ہاتھ میں قلم اور ایک ہاتھ میں بیلن لیۓ وہ کئ میدان سر کرنے لگی۔اور  آج تک کر رہی ہے ۔
لڑکیوں نے امی کی جوتی کو مزاحیہ استعمال کیا ۔حالانکہ اگر دیکھا جاۓ تو امی کی جوتی لڑکیوں کو کم ان‌جوا نوں کو زیادہ پڑتی ہے ۔(بچیوں کی تو اکثر لڑکی ہو نے کی وجہ سے بچت ہو جاتی ہے ۔لیکن‌لڑکے ۔۔۔۔۔ارررررے اف توبہ ۔ہر جگہ چاہے وہ امی ہوں کہ ابو ،انکا جوتیوں سے ہی استقبال ہو تا ہے ۔گھر ہو کہ گرلز کالج ،انکی اکثر جوتی ،یا چپلوں سے ہی تواضع ہو تی رہتی ہے ۔مگر چونکہ ڈھیٹ ابن ڈھیٹ ہو تے ہیں اس لیۓ لڑکیوں کو ،عورتوں کو ،چھیڑنے سے باز نہیں آتے۔جوتے ہوں کہ گالیاں ،کبھی کھا کر بے مزہ نہیں ہوتے۔
اب آتے ہیں "شوہر سے کی گئ بے عزتی کو مزاح بناتی ہیں "تو عورت وہیں سے شروع کرے گی جہاں سے اسے کاٹا گیا۔یہ کوئ قابل اعتراض بات تو نہیں ،اگر آپ مرد ہو کر بیویوں کے ذکر کرنا نہیں بھولتے ،نہیں بیوی نہیں بیویاں ،ہاں بیویاں کا ذکر کرے بغیر آپ کا مزاح مکمل نہیں ہوتا ،چا ر چار کے فراق میں مرے جا رہے ہو تے ہیں ۔نصیب ایک بھی نہیں ہوتی ،اگر ہو تو وہاں بھی ٹھیک ٹھاک زیرہ  بنے دال کھانے بگھار رہے ہوتے ہیں ۔مزاح کا تڑکا لگا لگا کر اپنی دال گلا رہے ہوتے ہیں ۔اور کہہ رہے ہو تے ہیں کہ ،کھانے کے دانت اور دکھانے کے دانت اور ۔۔۔۔۔
اور سب سے بڑھ کر ،اس سارے معاملے میں ایک دوسرے سے ایسے ہاتھ ملارہے ہیں جیسے کہ امریکہ برطانیہ سے ہاتھ ملارہاہو ۔شاید ڈر ہو کہ یہ مشرقی عورت انہیں صفحہ ہستی سے( اس میدان میں) مٹا نا دے ۔ہونہہہہہ 
اب اور کیا کہیں ،آخر میں کچھ سمجھ نا آۓ تو ہم پر لگایا گیا الزام کو خود ہی سچ کرتے ہو ۓ پوچھتے ہیں کہ اس پر ہنسنا تھا کیا ،تو آپ ہنسیۓ مت رو لیجیۓ ہم نے منع تھوڑی نا کیا ہے۔
ایک اور بات کہ ہم عورتوں میں اور آپ میں بس اتنا فرق ہے کہ آپ لوگوں کے پاس مشتاق احمد یو سفی ،شفیق الر حمن ،جیسی مثالیں ہیں ہمارے پاس نہیں ،اور اگر ہیں بھی تو وہ مقبول نہیں (یہ بھی سو چنے کی بات ہے کہ انہیں گمنامی میں کیوں ڈھکیلا گیا۔)۔آپ بھی ویسا ہی لکھ رہے ہیں جیسا کہ ہم ،تیر تو آپ نے بھی کو ئ نہیں مارے ،بس فیس بک کے دانشور بن کر تنقید کئے جارہے ہیں ۔اگر مشتاق احمد یو سفی ،شفیق الرحمن ،وغیرہ ہم پر اعتراض کرتے تو ہم بھی انکے سامنے سر تسلیم خم کرتے ۔جبکہ آپ لوگوں کو تو بس انگوٹھا ہی بتانے کو جی چاہتا ہے ۔
ختم شد 


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ